Part 5. GUERRILLA WARS (1973)
Guerrilla Wars of Cuba, Vietnam, Afghanistan
http://www.dailymotion.com/video/xoo79_communism-5-of-6-guerrilla-wars_school
or
http://topdocumentaryfilms.com/communism/
Excerpts:
What happened in Cuba, became a Legend.
And much of the profit from gambling and prostitution was diverted to the Generals, who ran the country, with an army of 46,000 men under president Batista.
Soon Castro nationalized US interests and introduced socialist reform, Washington came to fear it had Communist Regime at his door step. The Cubans
Che Guarra showed them how, describing a way of war could be launched with a small group of activist. . . but his own theory failed him, he was trapped down and killed.
People’s War means all of the people participate in the war, older or young, each person has a task.
In a try to remove a cover of guerrillas forest,
Hundreds of Thousands of Tons of Date Palms, high explosive phosphorus bombs, dropped.
Vietnam might never have succeeded without they have support of outside country, the 500 miles jungle lied on north through of Laos and Cambodia,
By then 58,000 Americans have died.
Now the Communist Ideology that has sustained them through a war, will be tested against the problems poverty and construction the country faced.
Afghanistan (1978 Holy War)
Shia agreed to smuggle the weapon across the city
Like in Vietnams, the guerrilla fighters were not self sufficient, they depended on supplies of outside, .. from Pakistan, money and arms from other muslim countries, and the CIA.
In guerrilla war victory is seldom followed by easy peace. Success in war does not guarantee success in governing a country.
- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -
FIKRism
Showing posts with label America. Show all posts
Showing posts with label America. Show all posts
Friday, February 18, 2011
Sunday, February 13, 2011
KZMARKA - Gan - Zaati Milkiyat
خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز
فریڈرک انگلز
اقتباسات: حصہ ۲
۔(شرح و نقد)۔
امریکی انڈین
امریکہ انڈینوں کی بہت بڑی اکثریت کبھی بھی قبائلی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہمیں اس وفاق کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ صورت ایروکواس لوگوں میں ملتی ہے۔ ان کا ابتدائی وطن مسی سیپی کے مغرب میں تھا، جہاں غالباً وہ عظیم ڈکوٹا نامی نسل کا حصہ تھے۔ وہاں سے نکل کر وہ بہت دنوں تک گھومتے پھرتے رہے اور پھر اس علاقے میں آبسے جو آج کل نیویارک کی ریاست ہے۔ وہ پانچ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے۔ سینیکا، کایوگا، اوننڈگا، اونیڈا اور موہاوک۔ وہ مچھلی، شکار کیے ہوئے جانور اور بہت ہی بھدے قسم کی باغبانی کی پیداوار پر گزربسر کرتے تھے۔ وہ ایسے گاؤں میں رہتے تھے۔ جو زیادہ تر باڑوں سے گھرے ہوتے تھے ان کی تعداد کبھی بھی بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہوئی۔ 97
گن
گروٹ ہی نہیں بلکہ نیبور، مومسن اور قدیم کلاسیکی عہد کے سب سے پہلے کے مورخ بھی گن کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ یہ صحیح ہے کہ انہوں نے اس کی بعض نمایاں خصوصیات کا پتہ لگالیا تھا مگر گن کو وہ ہمیشہ خاندانوں کا ایک گروہ سمجھا کیے اور انہوں نے ایسی صورت حال پیدا کردی جس میں ان کے لیے گن کی نوعیت اور اس کی ابتداء کو سمجھنا ناممکن ہوگیا۔ گن کے دستور کے تحت خاندان کبھی بھی تنظیم کی اکائی نہیں رہا اور یہ ممکن بھی نہیں تھا کیونکہ شوہراور بیوی لازمی طور پر مختلف گنوں میں ہوتے تھے۔ گن بحیثیت مجموعی فریٹری (برادری) اور فریٹری قبیلے کے اندر تھی مگر جہاں تک خاندان کا تعلق ہے وہ آدھا شوہر کے گن میں اور آدھا بیوی کے گن میں بٹا ہوا تھا۔ 105
گن کا ایک مشترک مورثِ اعلٰی کی نسل سے ہونا، ایک ایسی پہیلی اور گتھی ہے جس سے 'تعلیم یافتہ کم نظروں' کا دماغ چکرا گیا ہے۔ (مارکس)۔ 106
اس نظام کی وجہ سے علم محفوظ رہا کہ گن کے سب لوگوں میں آپس میں کیا رشتہ ہے۔ یہ ان کے لیے بڑی اہم بات تھی جس کو وہ اپنے ابتدائی بچپن کے زمانے سے ہی سیکھ لیتے تھے۔ 106-107
قبیلوں، فریٹریوں اور گنوں کی اس باقاعدہ اور مفصل تقسیم کو دیکھ کر یہی خیال ہوتا ہے کہ اس نظام کی تشکیل تو خود بخود ہوئی تھی مگر بعد میں اس میں سوچ سمجھ کر اور باقاعدہ دخل اندازی کی گئی۔
۔[ہاں جب انسان کے پاس 'سوچ سمجھ' آگئی تو وہ اسے یقیناً استعمال بھی کرنے لگا!]۔
ریاستِ ایتھنز
ریاست کا ارتقا کیونکہ ہوا، نئے اداروں کے قائم ہونے کی وجہ سے کیونکر گن دستور کے کچھ ادارے بدل گئے اور کچھ مٹ گئے اور آخر میں کس طرح سارے پرانے اداروں کی جتہ پر صحیح معنی میں سکاری حکام آگئے اور دوسری طرف "ہتھار بند عوام" کی جگہ، جو خود اپنے گنوں، فریٹریوں اور قبیلوں کے ذریعے اپنی حفاظت کیا کرتے تھے، ہتھیار بند" سرکاری طاقت" (پولیس) قائم ہوئی جو ان حکام کے اشاروں پر چلا کرتی تھی اور اسی باعث جس سے عوام کے خلاف بھی کام لیا جا سکتا تھا۔ یہ تمام باتیں خاص کر اپنے ابتدائی دور میں جتنی صفائی کے ساتھ ایتھنز میں دیکھی جاسکتی ہیں، اتنی صفائی کے ساتھ اور کہیں نہیں دیکھی جاسکتیں۔ 113
امریکہ کے انڈین ترقی کی جس منزل تک پہنچے تھے، ایتھنز کے باشندے اس سے ایک قدم آگے بڑھ گئے۔ 114
ایتھنز کے طبقات
تھیستئیس کی طرف ایک اور بات منسوب کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس نے تمام لوگوں کو گن، فریٹری او رقبیلے کے فرق کو بھلا کر، تین طبقوں میں تقسیم کردیا: یوپٹیریڈیز یعنی امراء اور شرفا کا طبقہ، جیوموروئی یعنی زمین کی کاشت کرنے والے لوگ اور ڈیمی ارجی یعنی دستکار۔ سرکاری عہدیدار بننے کا حق صرف امرا اور شرفا کو دیا گیا۔ 114
Thestius = http://en.wikipedia.org/wiki/Thestius
پہلے جب لوگوں کی زندگی کے حالات گن دستور کے مطابق تھے، تب اس طرح کا انقلاب ناممکن تھا۔ لیکن اب یہ انقلاب ہوگیا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلاا کہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے ہوگئی۔ 116
پیداوار بہت محدود دائرے میں ہوتی تھی لیکن پیداوار کرنے والوں کا اپنے پیدا کیے ہوئے مال پر قبضہ ہوتا تھا۔ عہد بربریت کے طریقہ پیداوار کی یہ ایک بڑی خوبی تھی جو تمدن کے آتے ہی ختم ہوگئی اور فطرت کی قوتوں پر انسان کو جو زبردست قدرت حاصل ہوگئی ہے اور انسانوں میں آج جو آزاد تعاون ممکن ہے، اس کی بنیاد پر عہد بربریت کی پیداوار کی اس خصوصیت کو پھر سے حاصل کرنا ہی آنے والی نسلوں کا کام ہے۔ 117
۔[روس کے غریب کسان جنہیں 'کولاک' کہا جاتا ہے، اپنی 'قلیل' زمینوں کے 'مالک' ہوا کرتے تھے، اوپر دیے گئے پہلے جملے کے مصداق، پر روسی کمیونسٹ انقلاب کے بعد ان سے وہ زمینیں جبراً چھین لی گئین اور 'حکم' نہ ماننے کے پاداش میں تیس لاکھ قتل کردیے گئے یا جیلوں میں مرگئے اور ستر لاکھ افلاس کی وجہ سے مرگئے۔۔۔ اینگلز کے الفاظوں میں (کولاک) عہد بربریت کی بہت بڑی خوبی تھے جو تمدن (کمونزم) کے آتے ہی ختم ہوگئے!]۔
زر کی ایجاد
جنسِ تبادلہ کی پیداوار کے ساتھ ساتھ انفرادی کھیتی بھی شروی ہوگئی۔ لوگ الگ الگ اپنے فائدے کے لیے زمین جوتنے لگے۔ اس کے تھوڑے عرصے بعد زمین پر انفرادی ملکیت قائم ہوگئی۔ پھر زر یا روپیہ یعنی وہ چیز آگئی جس کا دوسری سبھی چیزوں کے ساتھ تبادلہ ہوسکتا تھا۔ 117
عوام کو پہلی بار خون کے رشتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ علاقے کے مطابق، بودباش کی مشترک جگہ یعنی ایک ہی جگہ بسے ہوئے ہونے کی بنیاد پر، الگ الگ بانٹ دیا گیا تھا۔ 119
لوگوں کو نہیں بلکہ علاقوں کو تقسیم کیا گیا۔ 122
پولیس
پولیس اتنی ہی پرانی چیز ہے جتنی پرانی ریاست۔
اس طرح اپنی ریاست قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ایتھنز کے باشندوں نے اپنی پولیس بھی بنا ڈالی جس کو تیر کمان سے لیس پیدل اور سواروں کا دستہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ جنوبی جرمنی اور سوئٹزلینڈ کی زبان میں کہا جائے تو ایتھنز والوں نے اپنی لہنڈجاگر بنا ڈالی تھی۔ اس پولیس کے سپاہی سب غلاموں میں سے تھے۔ ایتھنز کے آزاد شہری پولیس کا کام یتنا نیچ سمجھتے تھے کہ ایک ہتھیار بند غلام کے ہاتھوں تو گرفتار ہونا انہیں پسند تھا مگر یہ پسند نہ تھا کہ خود اس نفرت انگیز کام کو کریں۔ 123-124
۔[۔۔۔ اور اسی طرح لینن و اسٹالن نے بھی اپنی 'ریاست' کی بچا و بقا کے لیے ایک سیکریٹ پولیس تشکیل دی، جس سے 'اینیمل فام' والے جنگلی کتوں کی طرح کام لیا جانے لگا۔ تاکہ کہیں سے بھی 'مخالفت' کی آواز اٹھنے نہ پائے اور (آواز کا اٹھنا تو دور کی بات) صرف پوٹیشل رسک ہی کو وہیں کا وہیں دبا دیا جائے!]۔
_________________________
Wednesday, May 26, 2010
iNQILAB-e-iRAN - Ch.5
iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan
Chapter: 5 - Amrici Amal Dakhal
Excerpts:
Sibte Hassan
Chapter: 5 - Amrici Amal Dakhal
Excerpts:
باب: ۵: امریکی عمل دخل
مغربی تہذیب
۔۔ مغربی تہذیب کوٹ پتلون پہننے، کانٹا چُھری استعمال کرنے یا نائٹ کلب میں ناچنے کا نام نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب و تمدن کی اصل اساس صنعتی انقلاب ہے، یعنی فیوڈل ازم کے پیداواری طریقوں اور سماجی رشتوں کی تنسیخ اور مشینی صنعتوں اور سرمایہ داری رشتوں کی ترویج۔ مغربی تہذیب عبارت ہے جمہوری طرزِ حکومت اور عوام کے شہری حقوق سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی اندازِ فکر و عمل سے اور اگر ان لوازمات کو معاشرے سے خارج کردیا جائے تو پھر مغربی تہذیب خالی خولی شعبدہ بازی رہ جاتی ہے۔ 122
۔۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے امریکی سرمایہ داروں کی مخصوص شکارگاہ جنوبی امریکہ تھا اور مشرقِ قریب کو برطانیہ کی اجارہ داری خیال کیا جاتا تھا۔ مصر، فلسطین، اردن، یمن، عراق اور خلیج فارس کی ریاستیں سب برطانیہ کی زیر نگین تھیں۔ ایران کے تیل کے چشمے انگریز کمپنیوں کے تصرف میں تھے حتٰی کہ سعودی عرب کو بھی جو، اب دنیا کے سب سے دولت مند ملکوں میں شمار ہوتا ہے، برطانیہ کی طرف سے سالانہ وظیفہ ملتا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران میں ایک طرف برطانیہ کی اقتصادی اور سیاسی قوت روز بروز گھٹتی گئی۔ دوسری طرف امریکہ کی صنعتی پیداوار بالخصوص اسلحوں کی پیدواور میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور تیل کی مانگ بھی بہت بڑھ گئی۔ لہذا نئے علاقوں کو زیر اثر لانا 'ضروری' ہوگیا۔ 123
۔۔ امریکہ کی فوجی امداد ایشیا اور افریقہ میں ہر جگہ عوامی تحریکوں کو کچلنے ہی کے کام آئی ہے۔ 125
خارجہ حکمت عملی
۔۔ بات یہ ہے کہ سامراجی طاقتیں اپنی خارجہ حکمت عملی وضع کرتے وقت دوسرے ملکوں کے عوام کو اور ان کے جذبات و احساس کو بالکل خاطر میں نہیں لاتیں۔ وہ تو فقط یہ دیکھتی ہیں کہ فلاں ملک کے پاس فوج اور پولیس کتنی ہے؟ اس کو اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ اس کے حکمراں طبقے کا جھکاو کدھر ہے؟ اوراس کے فوجی اور سویلین افسروں کے سیاسی نظریات کیا ہیں؟ اگر یہ سماجی عناصر جمہوریت اور سوشلزم کے مخالف ہوں تو سامراجی طاقتیں ان کو مزید تقویت پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ عوام ان سماجی عناصر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس سے سامراجی طاقتوں کو چنداں سروکار نہیں ہوتا۔ مگر جو خارجہ حکمت عملی عوامی قوتوں کو نظر انداز کرکے وضع کی جاتی ہے وہ ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔ چناچہ امریکی سامراج نے یہی غلطی ویت نام میں کی۔ یہی غلطی کیوبا اور انگولا میں کی اور یہی غلطی ایران میں کی۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اس حکمت عملی کے سوا کوئی دوسری حکمت عملی اختیار ہی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اگر عوام کے حقوق، مفادات اور جذبات و احساسات کا احترام کرے تو وہ سامراجی طاقت نہیں رہ سکے گا۔ 136
روحِ انسانی
۔۔ 'امریکائی اگورت را از ایران گم کن'،'نابود باد اتحاد نظامی با امریکہ۔' 'جاسوسان سیا (سی۔آئی۔اے) را از ایران بیرون کنید'،'امریکہ حق مداخلہ در ایراں ندادرد' جیسے نعروں سے گونجنے لگے تو امریکی مبصرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نپولین نے ایک بار کہا تھا کہ دنیا میں فقط دو طاقتیں ہیں، ایک تلوار اور دوسرے روحِ انسانی۔ ان کے درمیان جب تصادم ہوتا ہے تو ہار آخرکار تلوار کی ہوتی ہے۔ ایران میں امریکہ کی شکست کا اصل سبب یہی تھا کہ وہ روحِ انسانی سے برسر پیکار تھا۔ 137
_______________
مغربی تہذیب
۔۔ مغربی تہذیب کوٹ پتلون پہننے، کانٹا چُھری استعمال کرنے یا نائٹ کلب میں ناچنے کا نام نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب و تمدن کی اصل اساس صنعتی انقلاب ہے، یعنی فیوڈل ازم کے پیداواری طریقوں اور سماجی رشتوں کی تنسیخ اور مشینی صنعتوں اور سرمایہ داری رشتوں کی ترویج۔ مغربی تہذیب عبارت ہے جمہوری طرزِ حکومت اور عوام کے شہری حقوق سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی اندازِ فکر و عمل سے اور اگر ان لوازمات کو معاشرے سے خارج کردیا جائے تو پھر مغربی تہذیب خالی خولی شعبدہ بازی رہ جاتی ہے۔ 122
۔۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے امریکی سرمایہ داروں کی مخصوص شکارگاہ جنوبی امریکہ تھا اور مشرقِ قریب کو برطانیہ کی اجارہ داری خیال کیا جاتا تھا۔ مصر، فلسطین، اردن، یمن، عراق اور خلیج فارس کی ریاستیں سب برطانیہ کی زیر نگین تھیں۔ ایران کے تیل کے چشمے انگریز کمپنیوں کے تصرف میں تھے حتٰی کہ سعودی عرب کو بھی جو، اب دنیا کے سب سے دولت مند ملکوں میں شمار ہوتا ہے، برطانیہ کی طرف سے سالانہ وظیفہ ملتا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران میں ایک طرف برطانیہ کی اقتصادی اور سیاسی قوت روز بروز گھٹتی گئی۔ دوسری طرف امریکہ کی صنعتی پیداوار بالخصوص اسلحوں کی پیدواور میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور تیل کی مانگ بھی بہت بڑھ گئی۔ لہذا نئے علاقوں کو زیر اثر لانا 'ضروری' ہوگیا۔ 123
۔۔ امریکہ کی فوجی امداد ایشیا اور افریقہ میں ہر جگہ عوامی تحریکوں کو کچلنے ہی کے کام آئی ہے۔ 125
خارجہ حکمت عملی
۔۔ بات یہ ہے کہ سامراجی طاقتیں اپنی خارجہ حکمت عملی وضع کرتے وقت دوسرے ملکوں کے عوام کو اور ان کے جذبات و احساس کو بالکل خاطر میں نہیں لاتیں۔ وہ تو فقط یہ دیکھتی ہیں کہ فلاں ملک کے پاس فوج اور پولیس کتنی ہے؟ اس کو اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ اس کے حکمراں طبقے کا جھکاو کدھر ہے؟ اوراس کے فوجی اور سویلین افسروں کے سیاسی نظریات کیا ہیں؟ اگر یہ سماجی عناصر جمہوریت اور سوشلزم کے مخالف ہوں تو سامراجی طاقتیں ان کو مزید تقویت پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ عوام ان سماجی عناصر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس سے سامراجی طاقتوں کو چنداں سروکار نہیں ہوتا۔ مگر جو خارجہ حکمت عملی عوامی قوتوں کو نظر انداز کرکے وضع کی جاتی ہے وہ ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔ چناچہ امریکی سامراج نے یہی غلطی ویت نام میں کی۔ یہی غلطی کیوبا اور انگولا میں کی اور یہی غلطی ایران میں کی۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اس حکمت عملی کے سوا کوئی دوسری حکمت عملی اختیار ہی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اگر عوام کے حقوق، مفادات اور جذبات و احساسات کا احترام کرے تو وہ سامراجی طاقت نہیں رہ سکے گا۔ 136
روحِ انسانی
۔۔ 'امریکائی اگورت را از ایران گم کن'،'نابود باد اتحاد نظامی با امریکہ۔' 'جاسوسان سیا (سی۔آئی۔اے) را از ایران بیرون کنید'،'امریکہ حق مداخلہ در ایراں ندادرد' جیسے نعروں سے گونجنے لگے تو امریکی مبصرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نپولین نے ایک بار کہا تھا کہ دنیا میں فقط دو طاقتیں ہیں، ایک تلوار اور دوسرے روحِ انسانی۔ ان کے درمیان جب تصادم ہوتا ہے تو ہار آخرکار تلوار کی ہوتی ہے۔ ایران میں امریکہ کی شکست کا اصل سبب یہی تھا کہ وہ روحِ انسانی سے برسر پیکار تھا۔ 137
_______________
Saturday, May 22, 2010
iNQILAB-e-iRAN - Tamheed
iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan
1979
Tamheed:
Excerpts:
Sibte-e-Hassan
1979
Tamheed:
Excerpts:
تمہید:
۔۔ ۔۔ تاریخ بھی کوئی شے ہے جو ہر فرد کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاریخ کا یہی شعور قومی آزادی اور قومی تشخص کا محرّک بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں ماضی کی عظمتوں کی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور ہم کو اپنے قومی زوال، پستی اور ذلّت کے لمحے کانٹے کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ 7-8
ایران و پاکستان:
۔۔ ایران اور پاکستان کے معاشرتی حالات میں جو مماثلت پائی جاتی ہے وہ کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایرانی معاشرے کا وہ کون سا پہلو ہے جو ہمارے ۳۲ سالہ تجربوں سے مختلف ہے۔ زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے وہی خواب اور وہی ان کی ہیبت ناک تعبیریں، انسانی حقوق کی وہی پامالی، کبھی جمہوریت کے نام پر ، کبھی مذہب کے نام پر، دولت و اقتدار کی وہی ہوس اور ہوس کی ہوی بے شرمیاں، دیواستبداد کی وہی سفاکیاں اور گیرودار کی وہی رسمِ کہن، وہی درباری سازشیں اور ملکی مفاد کے وہی سودے، عوام کے مسائلِ زیست سے وہی غفلت، ضمیرِ انسانی کی وہی خرید و فروخت اور وقارِ انسانی کی وہی بے حرمتی، جلوت میں اخلاق و ایمانداری کے وہی وعظ اور خلوت میں وہی ان وعظوں کی نفی، طاقت کا وہی نشہ اور اس طاقت کے لازوال ہونے کا وہی غرّہ، غرضیکہ بصیرت کی آنکھوں سے دیکھو تو ایران کی گزشتہ ۳۵ سالہ تاریخ میں اپنے گھر کی بربادی کا نقشہ صاف نظر آجائے گا۔
یوں بھی ایران ہمارا دوست اور ہمسایہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے رشتے ہزاروں سال پرانے ہیں۔ ہماری زبانیں ایک ماں کی اولاد ہیں۔ ایرانی علوم وفنون سے ہم نے بہت کچھھ سیکھا ہے۔ فارسی تقریباً آٹھ سو برس تک ہمارے ملک کی سرکاری درباری زبان رہی ہے جس کی وجہ سے فارسی کے بے شمار الفاظ، محاورے، اصطلاحیں، تلمیحیں، علامتیں اور استعارے ہمارے ادب کا جز بن گئے ہیں۔ حتٰی کہ ہماری گرامر بھی فارسی گرامر کا چربہ ہے اور ہمارا رسم الخط بھی فارسی ہے۔ ہم نے امیرخسرو، مرزا عبدالقادر بیدل، غالب اور اقبال جیسے عظیم القدر شاعر پیدا کیے ہیں۔ ہمارے صوفیوں کی تعلیمات اور تصنیفات کی عظمت کا اعتراف اہلِ ایران بھی کرتے ہیں۔ ان حالات میں ایران سے موجودہ تاریخ سے ہماری دلچسپی قدرتی امر ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ گزشتہ ۳۲ سال میں ہمارے کسی مورخ، کسی مبصر، کسی دانش ور، کسی صحافی نے ہم کو ایران کے صحیح حالات سے باخبر کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔ فارسی داں بزرگوں نے باربار ایران کی سیاحت کی، طلبا وہاں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے گئے اور کئی کئی سال وہاں مقیم رہے، بے شمار سرکاری وفد بھی ایران جاتے رہے لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ واپس آکر ایران کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر کچھ لکھتا، جو لوٹا اس نے شاہ کی مدح وثنا پر اکتفا کی اور شاہ کی مہمان نوازیوں کا قصیدہ لکھا۔ دراصل ملوکیت پرستی ہماری رگ و پے میں کچھ اس طرح سرایت کر گئی ہے اور ہم معاشرتی زندگی کو شخصیتوں کے حوالے سے دیکھنے کے اس درجہ خوگر ہوگئے ہیں کہ ہم فرد ہی کو جماعت تصور کرنے لگے ہیں اور فرد بھی وہ جو جماعت سے بلند و بالا ہو۔ چنانچہ رضا شاہ کو ہم نے قومی ہیرو کا درجہ دے رکھا تھا۔ کسی کی مجال نہ تھی جو ایک حرف ان کے خلاف زبان سے نکال سکتا۔ وہ جب سرکاری دورے پر یہاں آتے تھے تو ان کا خیر مقدم یو ہوتا تھا گویا پاکستان کے نجات دہندہ وہی ہیں۔ اسی غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ شاہ پاکستان کو اپنی کالونی سمجھنے لگے تھے۔ شاہِ ایران تو رخصت ہوگئے لیکن ہماری شخصیت پرستی میں کمی نہیں آئی ہے۔ پہلے شاہ ہمارے ہیرو تھے اب وہی مقام ہم نے امام خمینی کو دے دیا ہے۔ 9-11
امریکا کا مفاد
۔۔ امریکہ کا مفاد دراصل امرکیک کمپنیوںکا مفاد ہے جو سعودی عرب اور امارتوں کے تیل پر قابض ہیں۔ (ان امریکی کمپنیوں کو ۱۹۷۹ء کے پہلے نو مہینوں میں ۲۵/ ارب ڈالر کا خالص نفع ہوا۔) اس علاقے کے تیل کی یومیہ پیداوار ساڑھے تین کروڑ پیپے ہیں۔ امریکہ، مغربی یورپ اور جاپان میں جتنا تیل استعمال ہوتا ہے اس کا ایک تہائی انھیں ملکوں (سعودی عرب، عراق، کویت، بحرین اور عرب امارات) سے جاتا ہے۔ 12
۔۔ 'عرب ممالک میں نظامِ حکومت کی تبدیلی مغرب کے مفاد کے خلاف ہوگی کیونکہ عرب بادشاہتیں اور امارتیں ہمیشہ مغرب نواز اور کمیونسٹ دشمن رہی ہیں۔' 12
امام خمینی ۔ جمہوریت دشمنی منطق
۔۔ امام خمینی کا یہ ارشاد بجا ہی کہ ایران کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ لہذا ہم اس سے لڑیں گے لیکن وہ ان جمہوریت پسند عناصر سے بھی آمادہ پیکار ہیں جو امریکی امپیرئل ازم سے جنگ میں ان کے سب سے معتبر اور مستعد رفیق ہوسکتے ہیں۔ امام خمینی کو اس تضاد کو حل کرنا پڑے گا اور جمہوریت کو از سرِ نو بحال کرنا ہوگا کیونکہ امریکی سامراج کو جمہوری طاقتوں کی مدد ہی سے شکست دی جاسکتی ہے اور اگر جمہوری عناصر بدستور موردِ عتاب رہے تو امام خمینی کی جمہوریت دشمنی کی منطق ایران کو ایک نہ ایک دن امپیرئل ازم سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردےگی۔20-21
امام خمینی کی تھیوکریسی
۔۔ بہرحال امام خمینی کی تھیوکریسی جس کو اب آئینی شکل دے دی گئی ہے، ایران کے اقتصادی اور سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے تو مسائل اور پیچیدہ ہوجائیں گے اور ایران کے دشمنوں کو سازش کے نئے موقعے ہاتھ آئیں گے۔ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ ایرانی محبّانِ وطن کی بہت بڑی تعداد نیک نیتی سے یہ سمجھتی ہے کہ تھیوکریسی کا نفاذ ایرانی معاشرے کے حق میں روڑا ثابت ہوگا۔ وہ بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ 'ولایت فقیہہ' کی آڑ میں لوگوں کو انسانی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور شخصی حکومت کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے۔ تھیوکریسی کے خلاف یہ بدگمانی بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ قرونِ وسطٰی میں تھیوکریسی کا مشرق و مغرب دونوں میں یہی کردار رہا ہے۔ اور آج بھی مشرق، وسطٰی میں جن ملکوں میں تھیوکریسی رائج ہے وہاں درحقیقت شخصی حکومت ہی کا دور دورہ ہے، ریاست کا سیاسی ڈھانچہ خالص آمرانہ ہے، سربراہِ ریاست کو ریاست کے باشندے منتخب نہیں کرتے بلکہ یہ منصب اس کو ورثے میں ملتا ہے گویا ریاست اس کی ذاتی ملکیت ہے۔ نہ رعایا کی چنی ہوئی مجلسِ قانون ساز، نہ رعایا کے روبرو جواب دہ وزارتیں، نہ انسانی حقوق کی کوئی ضمانت، نہ تحریر، تقریر اور تنظیم کی آزادی۔ ایسے نظامِ مملکت کو آمرانہ نہ کہیے تو کیا کہیے۔ شرعی عدالتیں قائم کرنے اور شرعی سزائیں دینے سے اس آمریت کی نوعیت نہیں بدل سکتی۔ 21-22
دورِ حاضر کی تھیوکریسی:
۔۔ دورِ حاضر کی تھیوکریسی کا اقتصادی ڈھانچہ بھی ایسا نہیں جس سے عوام کو فیض پہنچتا ہو بلکہ خالص سرمایہ دارانہ ہے۔ صنعتی اور تجارتی کاروبار، فیکٹریاں اور کارخانے، بینک اور بیمہ کمپنیان، دکانیں اور دفاتر غرضیکہ دولت پیدا کرنے اور اس کو تقسیم کرنے کا سارا نظام سرمایہ داری اصولوں پر چلتا ہے۔ دولت اور دولت آفرینی کے ذرائع کا وہی چند ہاتھوں میں ارتکاز اور وہی اپنے ہم مذہب محنت کاروں کی قوت کا آزادانہ استحصال، جو سرمایہ داری کی خصوصیت ہے تھیوکریٹک ریاستوں میں بھی پوری شان و شوکت سے جلوہ گر ہے۔ یہی آمرانہ اور امیرانہ تھیوکریسی خمینی صاحب تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ ایران میں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایرانیوں نے اپنی جانیں اس لیے تو قربان نہیں کی تھیں کہ ایک آمر کو ہٹا کار دوسرے آمر کو اپنے اوپر مسلّط کرلیں۔ 22
__________
۔۔ ۔۔ تاریخ بھی کوئی شے ہے جو ہر فرد کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاریخ کا یہی شعور قومی آزادی اور قومی تشخص کا محرّک بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں ماضی کی عظمتوں کی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور ہم کو اپنے قومی زوال، پستی اور ذلّت کے لمحے کانٹے کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ 7-8
ایران و پاکستان:
۔۔ ایران اور پاکستان کے معاشرتی حالات میں جو مماثلت پائی جاتی ہے وہ کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایرانی معاشرے کا وہ کون سا پہلو ہے جو ہمارے ۳۲ سالہ تجربوں سے مختلف ہے۔ زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے وہی خواب اور وہی ان کی ہیبت ناک تعبیریں، انسانی حقوق کی وہی پامالی، کبھی جمہوریت کے نام پر ، کبھی مذہب کے نام پر، دولت و اقتدار کی وہی ہوس اور ہوس کی ہوی بے شرمیاں، دیواستبداد کی وہی سفاکیاں اور گیرودار کی وہی رسمِ کہن، وہی درباری سازشیں اور ملکی مفاد کے وہی سودے، عوام کے مسائلِ زیست سے وہی غفلت، ضمیرِ انسانی کی وہی خرید و فروخت اور وقارِ انسانی کی وہی بے حرمتی، جلوت میں اخلاق و ایمانداری کے وہی وعظ اور خلوت میں وہی ان وعظوں کی نفی، طاقت کا وہی نشہ اور اس طاقت کے لازوال ہونے کا وہی غرّہ، غرضیکہ بصیرت کی آنکھوں سے دیکھو تو ایران کی گزشتہ ۳۵ سالہ تاریخ میں اپنے گھر کی بربادی کا نقشہ صاف نظر آجائے گا۔
یوں بھی ایران ہمارا دوست اور ہمسایہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے رشتے ہزاروں سال پرانے ہیں۔ ہماری زبانیں ایک ماں کی اولاد ہیں۔ ایرانی علوم وفنون سے ہم نے بہت کچھھ سیکھا ہے۔ فارسی تقریباً آٹھ سو برس تک ہمارے ملک کی سرکاری درباری زبان رہی ہے جس کی وجہ سے فارسی کے بے شمار الفاظ، محاورے، اصطلاحیں، تلمیحیں، علامتیں اور استعارے ہمارے ادب کا جز بن گئے ہیں۔ حتٰی کہ ہماری گرامر بھی فارسی گرامر کا چربہ ہے اور ہمارا رسم الخط بھی فارسی ہے۔ ہم نے امیرخسرو، مرزا عبدالقادر بیدل، غالب اور اقبال جیسے عظیم القدر شاعر پیدا کیے ہیں۔ ہمارے صوفیوں کی تعلیمات اور تصنیفات کی عظمت کا اعتراف اہلِ ایران بھی کرتے ہیں۔ ان حالات میں ایران سے موجودہ تاریخ سے ہماری دلچسپی قدرتی امر ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ گزشتہ ۳۲ سال میں ہمارے کسی مورخ، کسی مبصر، کسی دانش ور، کسی صحافی نے ہم کو ایران کے صحیح حالات سے باخبر کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔ فارسی داں بزرگوں نے باربار ایران کی سیاحت کی، طلبا وہاں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے گئے اور کئی کئی سال وہاں مقیم رہے، بے شمار سرکاری وفد بھی ایران جاتے رہے لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ واپس آکر ایران کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر کچھ لکھتا، جو لوٹا اس نے شاہ کی مدح وثنا پر اکتفا کی اور شاہ کی مہمان نوازیوں کا قصیدہ لکھا۔ دراصل ملوکیت پرستی ہماری رگ و پے میں کچھ اس طرح سرایت کر گئی ہے اور ہم معاشرتی زندگی کو شخصیتوں کے حوالے سے دیکھنے کے اس درجہ خوگر ہوگئے ہیں کہ ہم فرد ہی کو جماعت تصور کرنے لگے ہیں اور فرد بھی وہ جو جماعت سے بلند و بالا ہو۔ چنانچہ رضا شاہ کو ہم نے قومی ہیرو کا درجہ دے رکھا تھا۔ کسی کی مجال نہ تھی جو ایک حرف ان کے خلاف زبان سے نکال سکتا۔ وہ جب سرکاری دورے پر یہاں آتے تھے تو ان کا خیر مقدم یو ہوتا تھا گویا پاکستان کے نجات دہندہ وہی ہیں۔ اسی غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ شاہ پاکستان کو اپنی کالونی سمجھنے لگے تھے۔ شاہِ ایران تو رخصت ہوگئے لیکن ہماری شخصیت پرستی میں کمی نہیں آئی ہے۔ پہلے شاہ ہمارے ہیرو تھے اب وہی مقام ہم نے امام خمینی کو دے دیا ہے۔ 9-11
امریکا کا مفاد
۔۔ امریکہ کا مفاد دراصل امرکیک کمپنیوںکا مفاد ہے جو سعودی عرب اور امارتوں کے تیل پر قابض ہیں۔ (ان امریکی کمپنیوں کو ۱۹۷۹ء کے پہلے نو مہینوں میں ۲۵/ ارب ڈالر کا خالص نفع ہوا۔) اس علاقے کے تیل کی یومیہ پیداوار ساڑھے تین کروڑ پیپے ہیں۔ امریکہ، مغربی یورپ اور جاپان میں جتنا تیل استعمال ہوتا ہے اس کا ایک تہائی انھیں ملکوں (سعودی عرب، عراق، کویت، بحرین اور عرب امارات) سے جاتا ہے۔ 12
۔۔ 'عرب ممالک میں نظامِ حکومت کی تبدیلی مغرب کے مفاد کے خلاف ہوگی کیونکہ عرب بادشاہتیں اور امارتیں ہمیشہ مغرب نواز اور کمیونسٹ دشمن رہی ہیں۔' 12
امام خمینی ۔ جمہوریت دشمنی منطق
۔۔ امام خمینی کا یہ ارشاد بجا ہی کہ ایران کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ لہذا ہم اس سے لڑیں گے لیکن وہ ان جمہوریت پسند عناصر سے بھی آمادہ پیکار ہیں جو امریکی امپیرئل ازم سے جنگ میں ان کے سب سے معتبر اور مستعد رفیق ہوسکتے ہیں۔ امام خمینی کو اس تضاد کو حل کرنا پڑے گا اور جمہوریت کو از سرِ نو بحال کرنا ہوگا کیونکہ امریکی سامراج کو جمہوری طاقتوں کی مدد ہی سے شکست دی جاسکتی ہے اور اگر جمہوری عناصر بدستور موردِ عتاب رہے تو امام خمینی کی جمہوریت دشمنی کی منطق ایران کو ایک نہ ایک دن امپیرئل ازم سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردےگی۔20-21
امام خمینی کی تھیوکریسی
۔۔ بہرحال امام خمینی کی تھیوکریسی جس کو اب آئینی شکل دے دی گئی ہے، ایران کے اقتصادی اور سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے تو مسائل اور پیچیدہ ہوجائیں گے اور ایران کے دشمنوں کو سازش کے نئے موقعے ہاتھ آئیں گے۔ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ ایرانی محبّانِ وطن کی بہت بڑی تعداد نیک نیتی سے یہ سمجھتی ہے کہ تھیوکریسی کا نفاذ ایرانی معاشرے کے حق میں روڑا ثابت ہوگا۔ وہ بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ 'ولایت فقیہہ' کی آڑ میں لوگوں کو انسانی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور شخصی حکومت کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے۔ تھیوکریسی کے خلاف یہ بدگمانی بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ قرونِ وسطٰی میں تھیوکریسی کا مشرق و مغرب دونوں میں یہی کردار رہا ہے۔ اور آج بھی مشرق، وسطٰی میں جن ملکوں میں تھیوکریسی رائج ہے وہاں درحقیقت شخصی حکومت ہی کا دور دورہ ہے، ریاست کا سیاسی ڈھانچہ خالص آمرانہ ہے، سربراہِ ریاست کو ریاست کے باشندے منتخب نہیں کرتے بلکہ یہ منصب اس کو ورثے میں ملتا ہے گویا ریاست اس کی ذاتی ملکیت ہے۔ نہ رعایا کی چنی ہوئی مجلسِ قانون ساز، نہ رعایا کے روبرو جواب دہ وزارتیں، نہ انسانی حقوق کی کوئی ضمانت، نہ تحریر، تقریر اور تنظیم کی آزادی۔ ایسے نظامِ مملکت کو آمرانہ نہ کہیے تو کیا کہیے۔ شرعی عدالتیں قائم کرنے اور شرعی سزائیں دینے سے اس آمریت کی نوعیت نہیں بدل سکتی۔ 21-22
دورِ حاضر کی تھیوکریسی:
۔۔ دورِ حاضر کی تھیوکریسی کا اقتصادی ڈھانچہ بھی ایسا نہیں جس سے عوام کو فیض پہنچتا ہو بلکہ خالص سرمایہ دارانہ ہے۔ صنعتی اور تجارتی کاروبار، فیکٹریاں اور کارخانے، بینک اور بیمہ کمپنیان، دکانیں اور دفاتر غرضیکہ دولت پیدا کرنے اور اس کو تقسیم کرنے کا سارا نظام سرمایہ داری اصولوں پر چلتا ہے۔ دولت اور دولت آفرینی کے ذرائع کا وہی چند ہاتھوں میں ارتکاز اور وہی اپنے ہم مذہب محنت کاروں کی قوت کا آزادانہ استحصال، جو سرمایہ داری کی خصوصیت ہے تھیوکریٹک ریاستوں میں بھی پوری شان و شوکت سے جلوہ گر ہے۔ یہی آمرانہ اور امیرانہ تھیوکریسی خمینی صاحب تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ ایران میں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایرانیوں نے اپنی جانیں اس لیے تو قربان نہیں کی تھیں کہ ایک آمر کو ہٹا کار دوسرے آمر کو اپنے اوپر مسلّط کرلیں۔ 22
__________
Subscribe to:
Posts (Atom)
