FIKRism

Showing posts with label Sindh. Show all posts
Showing posts with label Sindh. Show all posts

Tuesday, November 29, 2011

RASOOM-E-AQWAM

RASOOM-E-AQWAM
by Ali Abbas Jalalpuri
1983


رسومِ اقوام

علی عباس جلالپوری
1983

۔مشمولات:۔
۔۱۔ ولادت
۔۲۔ بلوغت
۔۳۔ بیاہ
۔۴۔ طلاق
۔۵۔ موت
۔۶۔ مذہبی رسمیں
۔۷۔ اجداد پرستی
۔۸۔ صائبیت
۔۹۔ لنگ پوجا
۔۱۰۔ ناگ پوجا
۔۱۱۔ قربانی
۔۱۲۔ کھانا پینا
۔۱۳۔ چائے، کافی
۔۱۴۔ پان
۔۱۵۔ تمباکو
۔۱۶۔ منشیات
۔۱۷۔ لباس
۔۱۸۔ وضع قطع، زیبائش
۔۱۹۔ آداب و اطوار
۔۲۰۔ طبقاتِ معاشرہ
۔۲۱۔ تفریحات
۔۲۲۔ تہوار
۔۲۳۔ شاہیت
۔۲۴۔ جرم و سزا
۔۲۵۔ بردہ فروشی
۔۲۶۔ بنج بیوہار
۔۲۷۔ توہمات
۔۲۸۔ عصمت فروشی
۔۲۹۔ سادھو، سنت، فقیر
۔۳۰۔ طب
۔۳۱۔ حمام
۔۳۲۔ ٹے بُو
۔۳۳۔ ضمیمہ


دنیا کی رسم و رواج، خصوصاً سندھ و پنجاب کے رسم و رواج، ان کا سببِ ابتداء اور موجودہ زمانے میں ان کی معدومیت پر چھوٹی سی پر جامع کتاب۔




۔اقتباسات:۔

میری انتوانت
۔۔ نپولین سے پہلے فرانس میں رواج تھا کہ ملکہ برسرِ عام بچہ جنتی تھی۔ وضع حمل کے وقت محل کے دروازے کھول دیئے جاتے اور عورتیں مرد اندر ہجوم کر آتے، ملکہ میری انتوانت نے اِسی عالم میں سیکڑوں لوگوں کے سامنے بچے کو جنم دیا تھا۔ خیال یہ تھا کہ کسی کو یہ شک نہ ہو کہ بچہ بادشاہ کا نہیں ہے کسی دوسرے کا لاکر رکھ دیا ہے۔ 18

رُستم
۔۔ فردوسی شاہنامہ میں لکھتا ہے کہ پیدائش کے وقت رُستم غیر معمولی طور پر فربہ تھا جس سے وضع حمل میں بڑی دقت پیش آئی اور اُس کی ماں درد کی شدت سے نیم جاں ہوگئی۔ آخر خدا خدا کرکے بچہ پیدا ہوا تو اُس کی ماں نے شکر کرتے ہوئے کہا۔ رُستم "یعنی میں نے رہائی پائی۔" زال نے یہی اپنے بچے کا نام رکھ دیا۔ 18-19


بیاہ
۔۔ علم انسان کے طلبہ بتلاتے ہیں کہ شادی بیاہ کا آغاز پدری معاشرے میں ہوا جو زرعی انقلاب کے بعد صورت پذیر ہوا تھا۔ 27


متعہ
۔۔ بعض اوقات اعراب اپنی بیویاں تبدیل کرلیتے تھے۔ اسے نکاح البدل کہتے تھے۔
ایک نکاح المتعہ تھا یعنی مقررہ مدت کیلئے کسی عورت سے نکاح کرنا۔ اس مدت گزرجانے کے بعد جدائی ہوجاتی تھی۔ اسے صیغہ یا نکاح موقت بھی کہتے تھے، متعہ آنحضرت اور شیخ اول کے زمانے میں رائج تھا۔ شیخ ثانی نے اسے ممنوع قرار دیا لیکن کئی اکابر صحابہ اسے جائز سمجھتے رہے۔
مامون رشید نے متعہ کی حِلت کا علان کروایا تھا۔ جلال الدین اکبر نے ایک مالکی فقیہہ سے فتویٰ لے کر ایک ہی دن میں متعدد عورتوں سے مُتعہ کیا تھا۔ فیروز شاہ بہمنی نے متعہ کے جواز پر سنیوں اور شیعوں میں مباحثہ کرایا۔ شیعوں نے متعہ کی حلت کو ثابت کردیا تو فیروز شاہ نے ایک ہی دن میں تین سو جوان عورتوں سے متعہ کرکے اُنہیں اپنے حرم میں داخل کیا۔ شاہان اودھ واجد شاہ وغیرہ کے محلوں میں سیکڑوں ممتوعات رہتی تھیں۔ 31



۔۔ کالدیا میں مرد اپنی ہی برادری میں نکاح نہیں کرسکتا تھا۔ دوسری طرف بعض قبائل اپنی ہی برادری میں نکاح کرنے پر مجبور تھے، جیسا کہ یھودیوں اور برہمنوں میں رواج ہے۔ ہندوستان میں ذات پات کا ادارہ قائم ہوا تو مرد اپنی ہی ذات یا گوت میں شادی کرنے کا پابند ہوگیا۔ یہ پابندی آج بھی باقی و بحال ہے۔ 31


۔۔ ہندووں اور سکھوں میں رواج تھا کہ کسی عورت کو تصرف میں لانا مقصود ہوتا تو اس پر چادر ڈال دیتے تھے۔ 33
راجہ داھر والی سندھ نے اپنی سگی بہن پر چادر ڈال کر اس سے نکاح کیا۔ 34


ہبتہ النفس
۔۔ ارتھ شاستر میں لکھا ہے کہ کوئی شخص کسی عورت کو دشمنوں کے چنگل سے چُھڑائے یا سیلاب وغیرہ کسی آفت سے بچائے تو اُسے اُس عورت کے ساتھ جنسی ملاپ کا حق مل جاتا تھا۔
مصر جدید کے دیہات میں رواج ہے کہ اگر کوئی کنواری کسی نوجوان کو خلوت میں کہہ دے وھبت لک نفسی (میں نے اپنا آپ تمہیں بخش دیا) تو وہ بغیر گواہوں اور خطبہ نکاح کے خلوت میں جاسکتے ہیں۔ اسے ہبتہ النفس (پنجابی میں تن بخشائی) کہتے ہیں۔ اس کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 35


۔۔ چناچہ رنڈی کا معنیٰ کسبی کا بھی ہے اور بیوہ کا بھی۔ 37


۔۔ مصر میں عروسی کی شب کو لیلۃ الدخلہ کہتے ہیں۔ دُلہا دلہن کو ایک چٹائی پر بٹھا دیا جاتا ہے پھر دلہن کا پیراہن آگے پھیلا کر دُلہا دو رکعت نماز یوں ادا کرتا ہے کہ وہ دُلہن کے دامن پر سجدہ کرسکے۔ 49


برصغیر ہندوپاک کے شمالی مغربی علاقے میں بیاہ کی اکثر رسمیں ہندووں مسلمانوں میں مشترک ہیں بلکہ یہ کہنا قرین صحت ہوگا کہ بہت سی رسمیں ہندووں ہی سے لی گئی ہیں۔ 50


۔۔ مجوسیت میں عورت پر عبادت فرض نہیں ہے گویا اُسے نماز کے قابل ہی نہیں سمجھا جاتا۔ 52


۔۔ اسلام سے پہلے عرب اپنی زوجہ کو تین بار جدا جدا طلاقیں دیا کرتے تھے۔ 53


۔۔ ازروئے شریعت کوئی جرّہ (آزاد عورت) اپنے ہی غلام سے نکاح نہیں کرسکتی۔ 54-55


۔۔ جس طرح بعض سُنی فقہا متعہ کو ناجائز سمجھتے ہیں اسی طرح بعض شیعہ علماء حلالہ کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔ 55


۔۔ میت کو غسل دیتے وقت سنی نیم گرم اور شیعہ ٹھنڈا پانی استعمال کرتے ہیں۔ 58


عدم آباد
۔۔ قدیم مصری اور یونانی بھی ہندووں کی طرح مُردے کے مُنہ میں کچہ سونا یا کوئی سکّہ رکھ دیا کرتے تھے تاکہ عدم کا دریا عبور کرانے والا ملاح کشتی کاکرایہ وصول کرکے روح کو عدم آباد پہنچا دے۔ 59


گنبد
۔۔ فن تعمیر میں گُنبد تعمیر کرنے کا اسلوب بودھوں کی چھتریوں سے مستعار لیا تھا تھا۔ مسلمانوں کی قُبہ پرستی، مزاروں کی زیارت کو جانے اور وہاں منتیں ماننے اور اُن کے قریب اُگے ہوئے پیڑوؤں پر منت کی دھجیاں اور فیتے لٹکانے کی رسمیں بودھوں سے لی گئی ہیں۔ 59-60


ستی
۔۔ ستی کی رسم کا رگ وید میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ یہ رسم سکیتھیوں کے ساتھ ہندوستان میں آئی، سکیتھی اپنے سردار کی موت پر اُس کی زوجہ کو بھی اُس کی نعش کے ساتھ دفن کرتے تھے۔ راجپوت سکیتھیوں کی اولاد تھے۔ برہمنوں نے اُن کا شجرہ نسب سورج دیوتا اور چاند دیوتا سے ما ملایا۔ 63



اجداد پرستی
۔۔ پُرکھوں کی روحوں کی ضیافت بھی قدیم مذاہب سے یادگار ہے۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ دیوالی پر پُرکھوں کی روحیں اپنے اپنے گھر کا چکر لگاتی ہیں۔ اس لئے اس تہوار پر طرح طرح کے پکوان اور مٹھائیاں بنواکر اُن کی ضیافت کی جاتی ہے۔ برہمن منتر پڑھ کر یہ کھانے روحوں کو پہنچاتے ہیں اور پھر خود شکر سیر ہوکر کھاتے ہیں۔ ایران کے مجوسی ہمسپت سیدیا کے ایام میں کھانے پکوا کر دخموں اور گھروں کی چھتوں پر رکھتے ہیں تاکہ مُردے کی روحیں بھوکی پیاسی نہ لوٹ جائیں۔ مسلمان بھی فاتحہ پر روحوں کی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔ قسم قسم کے کھانے دسترخوان پر چُنے جاتے ہیں۔ مُلاجی اور اُن کے شاگرد فاتحہ کا ثواب رُوحوں کہ پہنچاتے ہیں اور کھانے خود کھا کر تن تازہ ہوتے ہیں۔ 71


شماس
۔۔ آفتاب کے پوجاریوں کو شماس کہتے تھے۔ جلال الدین اکبر بھی شماس تھا۔ وہ دن میں چار دفعہ صبح دوپہر شام اور رات کو سورج کی پوجا کرتا تھا۔ 74


صائبین کعبہ کو سورج کی پوجا کا سب سے بڑا مرکز سمجھتے تھے۔۔
کعبہ کی مشرقی دیوار میں ایک سرخی مائل سیاہ پتھر یعنی حجراسود نصب تھا۔۔
یہ پتھر ایک شہاب ثاقب تھا۔ جسے صائبین کے خیال میں سورج دیوتا نے آسمان سے اُن کے لئے بھیجا تھا۔ 75-76


ملتان ۔ مولستھان
۔۔ چاند کا ایک بڑا معبد ملتان ۔۔ اصل مُولستھان یعنی چاند کا مقام ۔۔ میں تھا۔
یہ بت لکڑی سے تراشا گیا تھا جس پر سرخ رنگ کا غلاف منڈھ دیا گیا تھا۔ 77


گاہ
صائیبن سورج کے طلوع و غروب اور اس کی حرکت کے مختلف مراحل کے ساتھ سات نمازیں پڑھتے تھے اور ان میں رکوع و سجود کرتے تھے۔
مجوسیوں کے پانچ نمازیں اُنہیں سے ماخوذ ہیں۔ جنہیں وہ گاہ بھی کہتے ہیں۔ پنج گاہ یا پنج گانہ کے الفاظ پانچ نمازوں کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ 72


۔۔ متھرامت کے پجاری دن میں تین مرتبہ سورج کی عبادت کیا کرتے تھے۔ پہلے پہر مشرق کی جانب مُنہ کرکے، دوپہر کو جنوب کی جانب رُخ کرکے اور شام کو مغرب کا رُخ کرکے رکوع و سجود کیا کرتے تھے۔ 74


جلال الدین اکبر کے لئے ایک زردشتی ایران سے مقدس آگ لایا تھا۔ اس عالم کا نام اردشیر تھا۔ اکبر نے اس آگ کو نورِخداوند سمجھ کر اس کا انتظام شیخ ابوالفضل کے سپرد کیا۔ 75


انصاب ۔ طواف
اسلام کی اشاعت سے پہلے کے عرب جہاں کہیں قیام کرتے وہیں ایک پتھر کھڑا کرلیتے اور اسے دیوتا سمجھ کر اُس کا طواف کرتے اور قربانی کرتے تھے۔ ان پھتروں کا انصاب کہتے تھے۔

طواف سے ایک اور رسم وابستہ ہے۔ ایران اور ترکستان میں کوئی شخص بیمار پڑ جاتا تو غلاموں سے کہتے کہ مریض کے پلنگ کے گرد چکر لگا کر باہر نکل جائیں۔ کہتے تھے باہر جانے والے مرض اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور میرض شفایاب ہوجاتا ہے۔ شاہجہاں بیمار پڑا تو اس کی بیٹی جہاں آراء نے کئی لونڈیوں غلاموں سے کہا کہ بادشاہ کے پلنگ کا چکر لگا کر باہر چلے جائیں۔ گلبدن بیگم لکھتی ہے کہ اُس کا بھائی ہمایوں بیمار پڑگیا۔ اُس کی حالت دگرگوں ہوگئی تو ظہیرالدین بابر نے اضطراب کی حالت میں جناب مولا علی ابن ابی طالب کا تصور کرکے اپنے بیٹے کےپلنگ کا طواف کیا چناچہ ہمایوں شفایاب ہوگیا اوربابر چل بسا۔
یونانی برھنگی کی حالت میں طواف کیا کرتے تھے کیوں کہ ان کے ہاں برھنگی صداقت کی علامت تھی۔
سکندراعظم نے جنگ ٹرائے کے ہیرو اکیلیس کی قبر کا طواف مادر زاد برہنہ ہوکر کیا تھا۔ 79



ڈاڑھی مونچھ
۔۔ رومن کیتولک پادری دھرتی دیوی کے پجاریوں کے طرح ڈاڑھی مونچھ کا صفایا کراتے ہیں، سر کے بال گول تھالی کی شکل میں مونڈواتے ہیں، عمر بھر کنوارے رہتے ہیں، رنگ برنگ کے ریشمیں کپڑے پہنتے ہیں۔۔۔ 78-79


ہندوستان۔ عجائب گھر
۔۔ ہندوستان واحد "مہذب" ملک ہے جہاں انسانی شعور کے ارتقاء کے جملہ مراحل ترتیب وار ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس ملک کو قدیم ترین متول، جادو کے ٹونے ٹوٹکوں، دیومالائی ریتوں، اجدادپرستی، بُت پرستی، قبر پرستی، تبرکات پرستی کے ساتھ ساتھ توہمات و خرافات کا عجائب گھر سمجھا جا سکتا ہے جس کی سیر آنے والے وقتوں میں علم انسان اور تقابلی مذہب کے طلبہ کے لئے دلچسپی کا باعث ہوتی رہے گی۔ 83


بت ۔ بُدھ
۔۔ بودھوں نے گوتم بُدھ کے بت تراشنا شروع کئے جیسا کہ گندھارا فنِ سنگ تراشی سے مفہوم ہوتا ہے۔ یاد رہے لفظ بُت بُدھ ہی کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ 84



ممنوعہ پھل
۔۔ بنو اسرائیل کے ہاں ناگ خرد و دانش کا نشان بھی تھا جس نے حوا کو شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کی ترغیب دی تھی۔ اُن کے خیال میں ممنوعہ پھل کھانا آدم اور حوا کا جنسی مقاربت کرنا ہی تھا۔ 89


گندم
۔۔ گندم اُگانے کا راز سب سے پہلے عورت نے عراق میں دریافت کیا جہان یہ پودا وسطی ایشیا، شمالی افریقہ اور یورپ کو پہنچا۔ باغ عدن کی روایت دوآبہ دجلہ و فرات ہی سے وابستہ ہے۔ 96



چاول
چاول وادی سندھ سے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو گیا۔ دنیا میں سب سے پہلے اسی وادی میں پہلے چاول کی کاشت کی گئی تھی۔ ہڑپا اور موئن جو دڑو کے کھنڈروں سے چاول کے دانے دستیاب ہوئے ہیں۔ 97



گوشت
۔۔ گوشت انسان کی اولین غذائوں میں سے ایک ہے۔ اس کی دو معروف قسمیں ہیں، سُرخ اور سفید، گائے، بیل، بکرے، دنبے، بھیڑ کا گوشت سُرخ کہلاتا ہے۔ سفید گوشت مُرغے، تیتر وغیرہ پرندوں کا ہوتا ہے جو زیادہ زُود ہضم اور مُقوی ہوتا ہے۔ 98


۔۔ برہمن گوشت اور انڈا نہیں کھاتے حتی کہ شلجم سے بھی پرہیز کرتے ہیں کہ اس کا رنگ گوشت جیسا ہوتا ہے۔ 99


بُدھ کی موت
ہندوؤں کے برعکس بودھ شروع سے گوشت کھاتے رہے ہیں۔ خود گوتم بُدھ کی موت سور کا گوشت زیادہ مقدار میں کھالینے سے ہوئی تھی۔ 99


سموسہ
سنبوسہ (سموسہ سندھ سے لیا گیا تھا)۔ 101


چھری کانٹا
۔۔ مغربی ممالک میں ۔۔ چُھری کانٹا کا رواج وسطی زمانے کے یورپ میں ہوا۔ وینس کے ایک حاکم ڈوگے کی بیوی دومی نیکو سلویا نہایت نازک مزاج تھی۔ کھاتے وقت شوربے سے انگلیاں لتھڑنا یا ہاتھ سے گوشت کے قتلے اُٹھانا اُسے ناگوار گذرتا تھا۔ یہ دیکھ کر اُس کے شوہر نے اُس کے لئے سونے کا ایک کانٹا بنوادیا جس سے وہ کھانے میں کام لینے لگی۔ بعد میں فرانس کے امیر مونتاسیر نے کانٹے پر چُھری کا اضافہ کیا اور یہ طریقہ مغرب میں ہر کہیں پھیل گیا۔ 102


۔۔ کھانے سے پہلے دعا مانگنے کی روایت مصری ہے۔ 102


مفت خور
۔۔ عرب مفت خوروں کو طفیلیہ کہتے تھے۔ کوفہ میں ایک شخص طفیل نامی رہتا تھا جو کسی نہ کسی بہانے دعوتوں میں شریک ہوجاتا تھا۔ اُسی کے نام پر مفت خوروں کا طفیل خوار یا طفیلیہ کہنے لگے۔ 104


چائے
۔۔ چین میں قدیم زمانے سے ناشتے کے ساتھ چائے پی جاتی تھی۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہل کار سترھویں صدی کے اوائل میں چائے کو مغربی ممالک میں لائے۔ اس سے پہلے اہل مغرب ناشتے میں بئیر یا چاکولیٹ پیا کرتے تھے۔ 1645ء میں چائے پینے کا رواج انگلستان بھر میں ہوگیا۔ چین میں چائے اُس پانی کو کہتے ہیں جس میں پتیاں اُبالی جاتی ہیں۔ مغرب میں پتیوں کو چائے کہنے لگے۔
چین اور جاپان میں چائے بغیر شکر اور دودھ کے پی چاتی ہے۔ اس میں دودھ اور شکر ملانے کا رواج ہندوستان میں ہوا۔ 105


پان
۔۔ پان سندھ کے طبیب اسے دربار بنوعباس میں لے گئے جہاں اس میں لونگ کا اضافہ کیا گیا۔ 107


جام جمشید
۔۔ فردوسی کہتا ہے کہ جمشید شاہِ ایران نے شراب کشید کرنے کا طریقہ دریافت کیا اور اس کے پینے کا آداب وضع کئے تھے۔ جامِ جمشید اور جامِ جم کی تلمیح فارسی سے اردو شاعری میں آئی۔ 110


۔۔ سکاٹ لینڈ کی وسکی، روس کی واڈکا، جاپان کی ساکی، انگلستان کی جِن تیز نشہ لاتی ہیں۔ 110


نبیذ
۔۔ عربوں کے ہاں نبیذ پینے کا رواج رہا ہے جو کشمش اور خرما کا غیساندہ ہے۔ ۔۔۔ کہتے ہیں کہ نبیذ حرارت عزیزی کو بحال رکھتی ہے اور بڑھاپے کی کمزوری سے بچاتی ہے۔ عراق کے فقہاء نے نبیذ کی حلت کا فتوی دیا تو اس کے پردے میں شراب نوشی کا رواج عام ہوگیا۔ 111


کپاس
۔۔ کپاس کا پودا سب سے پہلے سندھ میں کاشت کیا گیا۔ موئن جو دڑو اور ہڑپا کپاس بیلنے، سُوت کاتنے اور کپڑا بننے کے مرکز بن گئے۔ ان کا بُنا ہوا سوتی کپڑا عراق کے شہروں کو برآمد کیا جاتا تھا۔ سوتی کپڑا بُننے کی صنعت وادی سندھ ہی سے عراق کو پہنچی تھی۔ 116


۔۔ صلیبی جنگوں سے پہلے عیسائی سلاطین و امراء ننگ دھڑنگ سویا کرتے تھے، شب خوابی کا لباس عربوں کی دیکھا دیکھی اختیار کیا۔ 119


خیاطی در ہند
۔۔ مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندو کمر سے لنگوٹی باندھتے تھے اور ننگے پاؤں ننگے سر رہتے تھے عورتیں ایک بے سلی چادر کمر سے باندھ کر اس کا پلو سر پر ڈال لیتی تھیں۔ اسے ساری کہتے ہیں۔ بابر کی تزک سے معلوم ہوتا ہے کہ ہند میں خیاطی کا ہنر نہیں تھا۔ خیاط مسلمان حملہ آوروں کے ساتھ ایران اور خراسان سے آئے تھے۔ 120


نقاب
۔۔ ایران، خراسان اور ترکستان میں عورتیں چہروں پر نقاب ڈال لیتی تھیں۔ لیکن آنکھیں کُھلی رکھتی تھیں۔ تاجیک عورتیں گھوڑے کی دُم کے بالوں کا نقاب اوڑھتی تھیں جسے رُوبند کہا جاتا تھا۔
پرانے زمانے میں نظر بد سے بچنے کے لئے عورتیں اور خوبصورت مرد نقاب اوڑھا کرتے تھے۔ محمد بن عمرہ کندی شاعر نقاب پہن کر باہر نکلتا تھا۔ امین الرشید نقاب کے بغیر دربار میں نہیں آتا تھا۔ تنجہ اور الجزیرہ کے ملثمین (لثام یا نقاب اوڑھنے والے) کھلے منہ باہر نہیں نکلتے تھے حالاں کہ اُن کی عورتیں کھلے منہ باہر جاتی تھی۔ 120


شلوار
۔۔ شلوار ایران سے آئی، عربوں نے اسے سروال بنالیا، سکھ عورتوں نے سُتھنا کہہ کر اسے اپنا لیا۔ 121


۔۔ انیسویں صدی میں مغربی عورتوں کالباس ٹخنوں تک ہوتا تھا پھر جو گھٹنا شروع ہوا تو بیسویں صدی کے اوائل میں گھٹنوں کے اوپر تک گیا اور اب جنوبی ممالک میں چڈی کی صورت اخیتار کرتا جا رہا ہے۔ 122


۔۔ سکندر اعظم نے تاریخ میں پہلی بار اپنے سپاہیوں کی ڈاڑھیاں مونڈا دیں کہ لڑائی میں ڈاڑھی سے دشمن کے قابو میں نہ آجائیں۔ 124


۔۔ ابن بطوطہ کہتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان عورتیں کان نہیں چھدواتیں جب کہ ہندو عورتیں کان چھدوا کر بالیاں پہنتی ہیں۔ 125


الفیہ
۔۔ کشیدہ قامت عورت (عربوں کی الفیہ یعنی ا کی طرح سیدھی، ایرانیوں کی سروِرواں) جس کے ہاتھ پاؤں چھوٹے چھوٹے اور گداز ہوں خاص طور سے خوبصورت سمجھی جاتی ہے۔ 126


عشق مشک
نپولین کی ملکہ اپنا رومال مُشک میں بسائے رکھتی تھی۔ سیمی رامیس، یزبل، میسالینا، ہیلن، دلائلہ، تائیس، تھیوڈورا، اور کلیوپیٹرا کی بے پناہ جنسی کشش کا راز عطریات ہی میں تھا۔ شیکسپیئر کلوپییٹرا کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ اپنا بدن اور لباس اسقدر مُعطر رکھتی تھی کہ ہوائیں بھی اس کے عشق کی مستی میں گرانبار ہوجاتی تھیں۔ فرانس کی ایک حسینہ جبریلے نے شاہ ہنری چہارم کو پسینہ پونچنے کے لئے اپنا مشک میں بسایا ہوا رومال دیا تو وہ اس کے عشق میں دیوانہ ہوگیا۔ ترکستان اور ایران میں غالیہ، ند، مُر، عود، اور عنبر بہت مقبول خوشبوئیں تھیں۔ 128


کاجل
۔۔ ہمارے ہاں عورتیں زیبائیش کے لئے آنکھوں میں کاجل لگاتی ہیں۔ ابتداء میں کاجل بدروحوں کو بھگانے کے لئے لگایا جاتا تھا۔ 129


مساگ
۔۔ پنجابی عورتیں ہونٹوں اور دانتوں پر اخروٹ کے درخت کی چھال ملتی ہیں جسے سندھ میں مُساگ اور پنجچاب میں چھوڈا یا سکڑا کہا جاتا ہے۔ اس سے دانت صاف ہوکر چمکنے لگتے ہیں اور ہونٹوں پر سرخی کالالکھا جم جاتا ہے۔ 129


مصافحہ
۔۔ قدیم زمانے میں ہاتھ اُٹھا کر یا مصافحہ کر کے ملنے سے یہ جتلانا مقصود ہوتا تھا کہ میرے ہاتھ خالی ہیں اور میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے جس سے کسی قسم کا خطرہ ہوسکتا ہو۔ یہ رواج اُس دور سے یادگار ہے جس ہر وقت ہر شخص سے جان کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔ 130


۔۔ جلال الدین اکبر نے زمین بوس کا رواج دیا یعنی اُس کے سامنے جاکر لوگ زمین چومتے تھے۔ ۔۔۔۔ لکھنو اور دلی میں شرعی سلام علیک ترک کردیا گیا اور ایک دوسرے کو آداب یا تسلیمات کہنے لگے۔ 131


۔۔ چہار زانو نشست کو فرعونی کہا جاتا تھا۔ 132


طبقاتی معاشرہ
۔۔ زرعی انقلاب کے بعد ریاست صورت پذیر ہوئی جس کے ساتھ معاشرہ انسانی مختلف طبقات میں بٹ گیا۔ بادشاہوں اور اُن کے حاشیہ نشینوں نے اقتدار پر قبضہ جمالیا۔ محنت کش کاریگر اور کسان ان کے لئے عیش و عشرت کے سامان فراہم کرنے پر مامور ہوئے۔ اس طرح دو بڑے طبقات معرض وجود میں آگئے۔ سلاطین، اُمراء اور پروھتوں کا طفیل خوار مقتدر طبقہ اور محنت کش عوام جن کا استحصال وہ کرتے تھے۔ قدیم مصر میں فرعون، اُس کے درباریوں اور پروھتوں کا سب سے طاقتور طبقہ تھا۔ اُن کے بعد بتدریج گوالے، سورچرانے والے، تاجر، ملاح اور کسان آتے تھے۔ کنفیوشس نے چین میں جس معاشرے کی طرح ڈالی اۡس میں عالموں کی عظمت قائم کی۔ وہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ان کے بعد کسان، کاریگر اور تاجر تھے۔ تاجروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیوں کہ کاریگر اور کسان محنت مشقت کر کے روزی کماتے ہیں جب کہ تاجر اجناس اور مصنوعات کا محض تبادلہ کرکے دولت سمیٹ لیتے ہیں۔ ۔۔ عرب تجارت کو شریف تریں پیشہ سمجھتے تھے اور کسانوں کے حقیر جانتے تھے۔ 134


۔۔ عربی موسیقی اصلاً عجمی ہے۔ خسروپرویز کے سرباری گویوں بارپد اورنگیسا نے ایرانی موسیقی کو بامِ کمال تک پہنچا دیا۔ نو مسلم عجمیوں نے ایرانی دُھنوں کو عربی اشعار میں منتقل کیا۔ اکابر مغنی سیاط، فلیح، زلزل، ابراہیم موصلی، اسحٰق موصلی، طولیس، زریاب سب عجمی تھے۔ 140


سازینہ یا آرکیسٹرا
۔۔ سازینہ یا آرکیسٹرا سب سے پہلے ہارون الرشید کے عہد میں ترتیب دیا گیا۔ اُس کے سامنے عود، چنگ، صنج اور دف بجانے والی کنیزیں اپنے اپنے ساز لے کر الگ الگ پرلے باندھ کر کھڑی ہوجاتی تھیں اور باری باری یا مل کر اپنے اپنے ساز بجاتی تھیں۔ ۔۔۔
ایک ماہر موسیقار ہاتھ میں قضیب (چھوٹی سی چھڑی) لئے اسے کے اشاروں سے کنیزوں کو ہدایت دیا کرتا تھا۔ جیسا کہ مغرب کے آرکیسٹر میں کنڈکٹر کرتا ہے۔ بعد میں سازینہ کا یہ اسلوب دوسرے ممالک میں بھی رواج پا گیا۔ 141


سرکس کے شیر
۔۔ نواب اور مہاراجے کسی سرکس کا شیر جنگل میں چوڑ دیتے اور صاحب بہادر اُسے مار کر اپنی بہادری کا چرچا کیا کرتے تھے۔ 145


پولو
۔۔ عربوں کے واسطے سے چوگان، یورپ تک پہنچ گیا۔ آج کل اسے پولو کہا جاتا ہے۔ 146


۔۔ فٹ بال اور تاش چین کی دین ہے۔ 146-147


شطرنج
۔۔ شطرنج اصل میں چترانگ (چار پہلو) تھا جو ہندو راجاؤں کی فوج کے چار شعبوں پیدل، پیلا (فیل)، گھڑسواروں اور رتھوں کی رعایت سے ایجاد کیا گیا۔ اس کی ایجاد سندھ کے ایک بودھ سوامی سسّہ سے منسوب ہے۔ نوشیرواں کا وزیر برزویہ اسے ایران لے گیا جہاں سے عربوں نے اسے مغرب تک پہنچادیا۔ بنو عباس شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ ہارون رشید نے ہاتھی دانت کا ایک خوبصورت شطرنج شارلیمان شاہِ فرانس کو بھجوایا تھا جو آج بھی پیرس کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ بعض سلاطین سونے کے جڑواؤ مُہر بنواتے تھے جن میں فیل، گھوڑے، رتھوں اور پیدلوں کی صورتیں بنوائی جاتی تھیں۔
ہندوستان کا منتری ایران جاکر فرزین (مشیر وزیر) بن گیا۔ اہلِ مغرب نے اسے ملکہ بنادیا کیوں کہ ان کے دربار میں ملکہ بادشاہ کے ساتھ تخت پر بیٹھا کرتی تھی اور بڑی صاحبِ اخیتار ہوتی تھی۔ اس کی ایک مثال فرڈینیڈ شاہ ہسپانیہ کی ملکہ ازابیلا پیش کرتی ہے۔ شطرنج کے مُہروں کی چال معین ہے۔ بادشاہ پر کسی مُہرے کی زد پڑے تو کھیلنے والا آواز دیتا ہے "شہ" یا شکست اور بادشاہ کے لئے چال چلنے کا کوئی خانہ نہ رہے تو اسے شہ مات یا مات کہتے ہیں۔ بعض مغل بادشاہ زندہ شطرنج کھیلتے تھے۔ حسین کنیزیں ہتھیاروں سے مُسلح مُہرے بن کر اپنے اپنے خانوں میں کھڑے ہوجاتی تھیں اور تیغ زنی کے جوہر دکھاتی تھیں جب کوئی مُہرہ پٹ جاتا تو اُس کی کنیز بساط سے باہر نکل جاتی تھی۔ شطرنج ایک نہایت پیچیدہ کھیل ہے جس کے عُقدے سُلجھانے پر بہترین دماغوں کا زور صرف ہوتا رہا ہے۔ آج کل روسی عورتیں مرد اس کے بہترین کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کھیل پر بڑی بڑی صخیم کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ 147-148



۔۔ ہمارے ہاں کے بچوں اور بچیوں کے پسندیدہ کھیل: گڑے گڑیا کا بیاہ، آنکھ مچولی، چیل جھپٹّا، باگھ بکری، دب دبولی، کِیڑکڑانگا، گلی ڈنڈا، قاضی مُلّا، سِت کُدی، ٹھیکری مار، شاہ شٹاپوُ، ٹہنا تھال، گیڑیاں، چیچو چیچ گھچولیاں وغیرہ۔ 150


نوروز
۔۔ ایک روایت کے مطابق یہ جشن جمشید نے پہلی بار منایا تھا۔ 151


جرمنی کے بعض دیہات میں کرسمس کے بعد چوتھے روز بچے ماں باپ کی پٹائی کرتے ہیں۔ بلغاریہ میں اس روز نوکر اپنے آقا پر حکم چلاتے ہیں۔ اس سے ملتی چلتی ایک رسم ایران میں تھی جسے مردِ گیراں کہتے تھے۔ ایک روز کے لئے عورتوں کے حکومت مردوں پر قائم ہوجاتی تھی اور مرد کو عورت کی ہر فرمائش پورا کرنی پڑتی تھی۔ 153


بسنت
۔۔ ماگھ کی پانچویں کو بسنت یا بہار کی آمد کاتہوار منایا جاتا ہے۔ چاروں طرف گانے بجانے کی آوازیں آتی ہیں، ایک دوسرے پر گلال پھینکتے ہیں۔ پنجاب میں اس روز رنگ برنگ کی پتنگیں اُڑائی جاتی ہیں۔ بچے جوان بوڑھے پتنگ بازی کے مقابلوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔ عورتیں بسنتی جوڑے یعنی سرسوں کے پھولوں کے رنگ کا زرد بلاس پہنتی ہیں۔ 154


بادشاہ
۔۔ بادشاہوں کی اکثریت کم سواد، بے شعور اور برخود غلط احمقوں پر مشتمل تھی۔ وہ اپنے آپ کو زمین پر خدا کا نائب سمجھتے تھے۔ چنگیز خاں کہا کرتا تھا۔ "اُوپر خدا نیچے خان"۔۔۔ 159


۔۔ جلال الدین اکبر صبح سویرے درشن کے جھروکے میں کھڑا ہوتا تھا اور ہزاروں آدمی اُسے دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑتے تھے۔ 160


سکندر کے سینگ
۔۔ سکندر اعظم اپنے تاج پر مصر کے دیوتا آمن رع کے مقدس بیل کے سینگوں کا نشان پہنا کرتا تھا۔ 160


عمر قید کی سزا
۔۔ (ارتھ شاستر میں قانون کی ایک شق۔۔) کنواری لڑکی جس کی نسبت کہیں نہ ٹھری ہو اگر اپنی مرضی سے کسی شخص کے ساتھ خلوت میں جاتی تو سزا کے طور پر دونوں کو بیاہ کردیا جاتا تھا گویا عمر قید کی سزا دی جاتی تھی۔ 169

۔۔ رومہ میں چوری کی سزا یہ تھی کہ چور موقع پر پکڑا جاتا تو اسے صاحب خانہ کی غلامی میں دے دیا جاتا تھا۔ 170


گوبھی کا پھول
۔۔ اُنیسویں صدی کے اواخر تک انگلستان میں گوبھی کا پھول یا بھیڑ چرانے کی سزا موت تھی۔ بچوں کو بھی معاف نہیں کیا جاتا تھا۔ 170


۔۔ آٹھویں نویں صدیوں میں برہمنوں نے بودھوں کا استحصال اس بے رحمی سے کرایا کہ بُدھ مت جو ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل چکا تھا حرفِ غلط کی طرح مٹادیا گیا۔ بودھوں کے ستوپے اور دیہارے آگ لگا کر خاکستر کردئیے گئے اور بودھوں کو اُونٹتے ہوئے تیل میں پھکوا دیا گیا۔ 170


۔۔ اورنگزیب نے دکن کے شیعہ مملکتوں پر کئی سال حملے جاری رکھے اور انہیں برباد کرکے دم لیا۔ 171


۔۔ مذہبی اختلاف کی بنا پر قتل کرنا زیادہ عبرت ناک ہے کہ اِس جُرم پر قاتل کی ضمیر اُسے پریشان نہیں کرتی۔ 171


۔۔ آقاؤں اور غلاموں کی آویزش بعد میں جاگیرداروں اور مزارعوں کی چپقلش میں بدل گئی۔ 174


مولیٰ/ موالی
۔۔ آزادی خریدنے کے بعد غلام اپنے آقا کا مولیٰ بن جاتا تھا، عرب باپ اور لونڈی ماں کے بیٹے ہجین (دوغلے) کہلاتے تھے جنہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ غلام کو اس کے نام لے کر بلانا معیوب تھا۔ اسے تالی پیٹ کر بلایا کرتے تھے۔ 174-175
مولیٰ کا درجہ حُر اور غلام کے بین بین تھا۔ موالی اپنے آقا کے قبیلے سے وابستہ رہتے تھے۔ 176


۔۔ یونان میں دینار سونے کا اور درہم چاندی کا سکہ تھا۔
درہم کا معنی ہے 'مٹھی بھر' (جَو یا گندم) ایک دینار دس درہم کے برابر تھا۔ 178


روپیہ
۔۔ مُغلوں نے روپیہ (رُوپا بہ معنیٰ چاندی) چلایا جو چالیس دام کے برابر تھا۔
جلال الدین اکبر کے حکم پر ٹنکہ اور مُہر پر تاریخ الف ثبت کرائی گئی۔ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ایک ہزار سال گذر چکے ہیں اور اسلام کا دور گذر چکا ہے، اب دینِ الٰہی کا دور ہے۔ 179


مرزا کا جنازہ
۔۔ بعض اوقات قرض کی وصولی کے لئے مقروض کا جنازہ روک لیا جاتا تھا۔ جب تک گھر والے قرض ادا نہ کرتے جنازہ اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی جیسا کہ مرزا غالب کی وفات پر ہوا تھا۔ 180


وادی سندھ
۔۔ وادی سندھ میں دنیا بھر میں سب سے پہلے چاول اور کپاس کی فصلیں اُگائی گئیں۔ انہیں کشتیوں مین لدوا کر عراق کو برآمد کیا جاتا تھا۔ موئن جو دڑو اور ہڑپا کے شہروں سے سُمیریا کی کچھ مُہریں دستیاب ہوئی ہیں جو سکّوں کے بطور استعمال کی جاتی تھیں۔ دراوڑوں سے جو باٹ ملے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لین دین کے کھرے تھے۔ 180


شمن مت
۔۔ شمن (لغوی معنی بزرگ، سیانا) مت میں علاجِ امراض اور غیب کی حال بتلانے کے لئے روحوں سے رجوع لاتے تھے۔ ترکستان اور ملایا میں شمن انسانوں اور روحوں کے مابین ضروری واسطے سمجھے جاتھے تھے۔ شمن ہمیشہ وجد و حال کے عالم میں پیش گوئی کیا کرتا تھا۔ عقیدہ یہ تھا کہ ازخود رفتگی کے عالم میں شمن کی زبان سے روحیں کلام کرتی ہیں۔ اس حالت میں شمن کی روح اپنے بدن سے جُدا ہوکر کسی مُردہ آدمی یا جانور کے قالب میں منتقل کی جاسکتی ہے۔
شمن اور جادوگر میں فرق ہے۔ شمن ہمزاد کی مدد سے بدروحوں کو بھگادیتا ہے جب کہ جادوگر منتروں کے زور سے بدارواح پر قابو پالیتا ہے۔ 185


۔۔ کہتے ہیں جن نمک، لوہے، حرمل، مہندی، اور چمڑے سے دور بھاگتے ہیں۔ تیز روشنی کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ 186


۔۔ سندھ میں عام کسبی کو رنگیلی کہتے ہیں 189

(کسبیوں کے دھندوں سے) جو محصول لیا جاتا تھا اس سے پولیس والوں کو تنخواہیں دی جاتی تھی۔ 189


۔۔ اُمراء اپنے بیٹوں کو آداب محفل سکھانے کے لئے طبقے کے ڈیروں پر بھیجا کرتے تھے۔ اس ضمن میں یونان کی ہٹیرا، جاپان کی گیشا، ہند کی ویشیا اورلکھنو کی ڈیرہ دار طوائف قابلِ ذکر ہیں۔ 190


۔۔ عیسائی راہبوں اور راہبات کو ایک بات دوسروں بے شرع و بے قید لوگوں سے ممتاز کرتی تھی۔ وہ عمر بھر غسل نہیں کرتے تھے کہ ان کے خیال میں بدن کی صفائی سے نفسانی خواہشات غلبہ پالیتی ہیں۔ وہ جوؤں کو "خدا کے موتی" کہا کرتے تھے۔ 195


۔۔ سندھ سے منکہ، بہلا اور فلبرفل جیسے معالج بنو عباس کے دربار میں باریاب ہوئے اور آیورویدک اور طب یونانی کا امتزاج عمل میں آیا۔ 198

_______________________________________________

Saturday, May 1, 2010

Marx Aur Mashriq - Ch.3

Marx aur Mashriq
Part.1
Chapter.3
Marx aur Mashraqi Tariqeh Pedawar

Summary and Excerpts:

Summary:

Zamin
Jamood
Syasi Dhancha (Feudalism n Capitalism)
Behri Tijarat

Is Ch me Hindustan (Barsagheer o Mazafat) per mentiond tags per behs hy.
Pehle Hindustan ki Zamin per k aya us ki kya halat thi, aya kul Badshah ki milkiyat hoti thi, ya hr ksi ki Zati, ya poore gaon ki mushtarka.

Phr Hindustan k Jamood per behs hy k aya Kya waja thi k Hindustan Gautam Budh k dor se lekar Angrezon ki amad se pehle tk ek hi daggar per chal rha tha; Per Marx ki is theory ko Sibte Hasan rad krte hyn, aur mukhtalif muhaqqaqin (Dr. Aijaz Ahmed) k quotations de kr sabit krte hyn k Hindustan apni jaga Taraqqi ki rahon per gamzan tha. (page. 64) (han ye alag bt ho skti hy k Taraqqi us raftar se nahin thi jis raftar se Europe kr rha tha.) Lekin Sibte Hassan is bt ko taslim krte hyn k Sarmayadari ko Farangi hi Hindustan laye the,(chek page. 68-70) -- jo k Taraqqi ki rahon me Next Step hy (Feudalisn k bad)-- aur is ke jawaz me ye dalil pesh krte hyn k Angrez Hindustan me qadam rakhne k qarib 200 sal bad 1842 me Sindh me qadam rakhte hyn , per Sindh us waqt tk Jagirdari ki daggar pr chl rha tha.
“Is Main Koi Shuba Nahin Ke Salatin-E-Dehli Ke Dor Main Sanat O Harfat Main Numayan Taraqqi Hui. Khud Badshahon Ne Shahi Khandan Ki Zarooraton Ke Liye Bare Bare Sanati Idare Qaim Kar Rakhe The Jn Ko ‘Karkhana’ Kehte The. Sultan Alaoddin Ke Karkhanon Main Satrah Hazar Kareegar Mulazim The. Un Ko Tankhwah Shahi Khazane Se Milti Thi. … Magar Ye Karkhane Bazar Main Maal Bech Kar Nafa Kamane Ke Khatir Nahin Banaye Gai The Bulke In Main Shahi Khandan Aur Lawahiqeen Ke Zaati Istemal Ki Cheezen Tayar Hoti Thin. Lehaza In Karkhanon Ki Kar Guzari Mian Wo Awamil Aur Muharrakat Hi Sirre Se Mafqood The Jo Doosre Sarmayadaron Se Muqable Main Sabqat Hasil Karne Aur Nafa Ki Shirah Barhane Ki Khatir Sarmayadar Tabqe Ko Majboor Karte Hyn. …”. 68
“Hindustan Main Jo Tijarati Aur Sanati Shehr Samandr Se Door The Wo Behri Tijart Ke Taqazon Ko Mehsoos Nahi Karsakte The Albatta Junoobi Hind Balkhasoos Gujrat, Sahil Malabar, Sindh Aur Khaleeje Bangal Ke Maroozi Halat Behri Tijart Ke Haq Mian Buhut Sazgar The Aur 14ven Sadi Main In Elaqon Pr Feudal Taqaton Ka Ghalba Na Hua Hota Aur Wahan Ke Tijarati Shehron Ke Khud-Mukhtari Barqarar Rahti To Ain Mumkin Hy K Jald Ya Bader Kam Az Kam Junoobi Hind Aur Sindh Main Tijarati Sarmayadari Sanati Sarmyadari Ki Shikl Ikhtayar Kar Leti.” 69
“Ye Mafrooza Bhi Qabil-E-Qabool Nahin Ke Agar Farangi Taqaton Ka Ghalba Na Hota To Der Sawer Yahan Sarmaya Dari Nizam Az Khud Qaim Hojata. Purtgali Ameer Ul Bahr Ne1510 Main Goa Per Qabza Kia Jo Sultan Bejapur Ka Jazira Tha. Bambai, 1668 Main East India Company Ke Hissy Main Aya. Madras Ko Angrezon Ne 1638 Main Abad Kia. Magar Sindh Ko 1842 Main Fatah Kia. Goya Sindh Farangiyon Ke Warid Hone Ke Do So Baras Tak Azad Aur Khud Mukhtar Raha. Magar Maghrabi Taqaton Ne 17ven Aur 18ven Sadi Main Sindh, Punjab, Sarhad Aur Balochistan Main Koi Mudakhilat Nahi Ki Thi. In Elaqon Main Ager Feudalism Ko Khatam Karne Ki Salahiyat Hoti To Is Ke Liye Do Sadiyan Nakafi Na Thin.” 70

>Phr mukhtalif hawalon se Syasi Dhancho per behs hoti hy k yahan ki Kharid Farokht, Tijarat, Sanat, Badshahi Nizam waghera k hawale se Asia aur Europe me faraq tha.
"Europe auq Hindustan ki Tijarati Shahron Ki Noiyat me Bara Faraq Tha. Europe ke Tijarati aur Sanati Shehr.. ya to Azad aur Khudmukhtar Republic the jn per Feudal Quwaten Asar Andaz Nahi Ho Sakti thin ya .. Feudal Taqaton se Baqaida Lar Kar Shehri Huqooq aur Tijarati Charterd Hasil Kiye the..
Magar Hindustan me Zamana Peeche ki taraf Dora. 13ven 14ven me Hindustan ke Tijarati Aur Sanati Shehr jo zyada tr Junoobi Hind ya Samandr k Kinare waqe' the Bari Had tk Khud Mukhtar the." 67

> iske bad Behri Tijarat ki taraf Nishan Dahi hy jo "Sarmayadari Nizam Ke Farogh Main Behri Tijarat Ne Bara Ehm Kirdar Ada Kiya Hy." 69
per Behr per Purtagaliyo ka qabza tha aur Hindustan k Mughul Empire ne kbhi is taraf tawajjuh markooz nahi ki. Hatta k Am Insan to Am Insan"Shahi Khandan Ke Afrad Bhi Purtgali Jahazon Hi Ke Zariye Haj Karne Per Majboor Hote The.." 69
.

Excerpts:


باب ۳۔۔
۔۔ یہ اصول کہ زمین راجہ/ریاست کی ملکیت ہے ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے ہزاروں برس پہلے رواج پا چکا تھا، مسلمانوں کی ایجاد بندہ نہیں۔ 53

۔۔ (مارکس) اس نے 7 جون 1853ء کے خبر نامے میں سر چارلس ووڈ کی تقریر کا یہ اقتباس نقل کیا تھا کہ 'ہندوستان میں ایسی نسل کے لوگ آباد ہیں جو تبدیلی کے معاملے میں بڑے سست ہیں اور مذہبی تعصّبات اور فرسودہ رسوم میں گرفتار ہیں۔ حقیقت میں یہی باتیں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔' ۔ 59

۔۔ سرمایہ داری نظام کے فروغ میں بحری تجارت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، بحرِاوقیانوس (اٹلانٹک اوشن)، بحرِہند (انڈین اوشن) اور بحرالکاہل (پئسفک اوشن) جیسے سمندروں کو آسانی سے عبور کرنے کے لیے آلاتِ جہازرانی میں اصلاح و ایجاد نہایت ضروری تھی چناچہ برطانیہ کے صنعت کاروں نے سب سے پہلے اسی جانب توجہ دی۔
ہندوستان میں تجارتی اور صنعتی شہر سمندر سے دور تھے وہ بحری تجارت کے تقاضوں کو محسوس نہیں کر سکتے تھے البتہ جنوبی ہند بالخصوص گجرات، ساحل ملابار، سندھ اور خلیج بنگال کے معروضی حالات بحری تجارت کے حق میں بہت سازگار تھے اور چودھویں صدی میں ان علاقوں پر فیوڈل طاقتوں کا غلبہ نہ ہوا ہوتا اور وہاں کے تجارتی شہروں کی خود مختاری برقرار رہتی تو عین ممکن ہےکہ جلد یا بدیر کم از کم جنوبی ہند اور سندھ میں تجارتی سرمایہ داری صنعتی سرمایہ داری کی شکل اختیار کر لیتی۔

بحری تجارت اور جہازرانی کی صنعت کے فروغ نہ پانے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ۱۶ویں صدی کی ابتدا ہی سے بحر عرب پر پُرتگالی جہازوں کا غلبہ ہوگیا۔ یہ جہاز توپوں تفنگوں سے مسلح ہوتے تھے جب کہ مغلوں نے بحری طاقت کی طرف کبھی توجہ نہ دی تھی۔ ۔۔ 69

۔۔ سترہویں صدی کے اواخر اور ۱۸ویں صدی کے آغاز میں دہلی کا فیوڈل مرکز کمزور ہوا تو سندھ، بنگال بہار، اودھ اور دکن کے صوابیداروں نے اپنی اپنی خودمختار ریاستیں قائم کرلیں۔ جنوب مغربی ہند میں مرہٹہ اور پنجاب اور سرحد میں سکھ بھی آزاد ریاست بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ مرکز سے کٹ کر جو خود مختار ریاستیں بنیں وہ بھی مروجہ فیوڈل نظام کے دائرے ہی میں رہیں۔ یہ ساری شکست و ریخت ہندوستان میں فرنگیوں کا عمل دخل ہونے سے بہت پہلے شروع ہوگئی تھی ۔۔ 70


Marx Aur Mashriq - Ch.1

Marx Aur Mashriq
Part-1
Chapter-1
Mashriq aur Magrib ke Taluqat


SUMMARY AND EXCERPTS


SUMMARY:

Pehla Ch. Europe aur Asia k Sayasi, Tijarati aur Ilmi taluqat ke daur ko qarib Sikandar Azam (356-323 BC) se 17ven sadi tk (yane Hindustan me Angrezon ki Amad tk) ko cover krta hy.
Is Mashriq Magrib k Melap me zyada tr ‘Garam Medan’ Mashraqi Europe aur Magrabi Asia ka raha, per 1492 me Columbus ka Hindustan ki Mutabadil Raston ki Talash me Amrica me namoodar hona, aur 1498 me Vasco Da Gama ka Hindustan k mutabadil raste talash krne se Magrabi Europe ka taluq South Asia aur Mashraqi Asia se hone laga.
Is Mashriq Magrib Melap me kis ne kis se Seekha, kon kis se Bara, kon kis se Qadim, (Kon Kis Ka Dada!) ka muakhiza krna buhut mushkil hy! Yaqinan E. Gibbin likhte hyn: "Un Dinon Mashriq Funoon Aur Samane Aish O Asaish Ka Malik Tha. Ehle Magrib Kheti Bari Se B Nabalad The Ya Zaraat Ko Haqarat Se Dekhte The. Hewanat Aur Nibatat Ki Jitni Qismen Assia Aur Misr Se Europe Me Raaij Huin Un Ka Shumar Mumkin Nahin... Masalan Tamam Phool, Jari Bootiyan Aur Phal Jo Europi Baghon Me Pai Jate Hyn Mashraqi Hyn." 22
Short Cut me itna kaha ja sakta hy 15ven sadi se pehle tk Maghrib ne Mashriq se Seekha, aur 15ven sadi k bad Mashriq Magrib ke Rehm Karam per hy!
Chapter ko following tags me banta ja skta hy:

>Sikandare Azam apni Yunani Tehzib Sindh tk Leke Aye (4thi Sadi QM).
"Bakhtar Ke Yunaniyon ne Wadiye Sindh per Agarche 100 Sal Tak Hukumat ki Magar Unhon ne Yahan ki Tehzib per Apne Gehre Nuqoosh Chhore hyn." 18

> Sikandar k Bad Ptolemy (Batlimoosi) ki hukumt ayi, "Batlimoosi Badshahon ne Misr per Pone Teen So Sal (304-30 BC) Hukumat Ki. Inke Ehde Urooj me Sham, Phalastin, Qabrs, Quret aur Mashraqi Behre Rom k Dusre Jazire Misr ke Zere Nagin the." 19 (1hli Sadi QM se qabl tk)

> "Pehli Sadi QM Batleemoosiyon ke Zawal aur Roma ke Urooj ka Zamana tha." 21. Yane 1hli sadi QM k bad Greece Down hogaya aur Rome Up hogaya. "Iske Bad Mashriq, Sahile Furat se Sahile Nile blke Libya aus Aljazais tk, 700 Sal tk Romatul Kubra ke Tabe' raha." 21

> 4thi Sadi Eesvi me Shahanshahe Rome Qustantin Awwal (274-337) K Eesai Hojane se Rome ka Zawal aur Eesaiyat ka Urooj shuru hua.

> 7vi Sadi Eesvi me Islam ke Zahoor k bad kahani ne alag rukh liya. Aur Arbon ka Sikka chalne laga. "Arbon se Pehle Spain Kya Poore Europe me Taleem Kalisa Ki Jageer Thi." 28, Arbon ki Futoohat se hi Europe Apni Neend se Jaga, per Ise Poori trah Hosh me Ane me 8 Das Sadyan aur lagni thin!

> Quroone Wasta me Musalman/Arab Sciendanon hi ki Talimat chalne lagi, aur Ehle Magrib ko philosophically Ibne Rushd aur Abu Bakr Rhaze ne buhut mutasir kiya.

> SALEBI Jangen (1095-1291):

> aur phr 1492 aur 1498 me Amrica aur Hindustan ki Daryaft se Sarmayadari ka Beej bua. (boya gya.)

> Ch ka Akhri chnd Siffat Marx per hyn k jb wo peda hua aur jawan hua to aya use kesa mahol mila, jis me wo pinepa.


Excerpts:

اقتباسات:
باب ۱

۔۔ اس اثنا میں ایک اور یونانی شہزادہ بدخشاں سے قسمت آزمائی کرتا ہوا ٹیکسلا پہنچا۔ اس کا نام مناندر تھا۔ مناندر نے اگاتھوکلیس کی بیٹی سے شادی کی اور شمال مشرقی پنجاب فتح کرنے نکل کھڑا ہوا اس نے ساکلا یعنی سیالکوٹ کو اپنی راجدھانی بنایا اور رفتہ رفتہ دریائے جمنا تک سارے علاقے پر قابض ہوگیا۔ مناندر بڑا روشن خیال اور وسیع مشرب فرماں روا تھا۔ اس نے بدھ مت اختیار کرلیا اور آخری عمر میں راج پاٹ چھوڑ کر بھکشو ہوگیا۔ بدھ مت میں اس کے اقوال اور فرمودات کو بہت اونچا مرتبہ حاصل ہے۔
مناندر کے بیٹے اپالوڈوٹس نے باپ کی سلطنت کو مزید وسعت دی اور سندھ، کاٹھیاواڑ اور گجرات بھی اس کے زیرِنگیں ہوگئے مگر اس کی وفات (۹۰ق۔م) کےبعد یونانی سلطنت کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی اور تقریباً پچاس برس تک وادئ سندھ میں کوئی مضبوط حکومت قائم نہ ہوسکی۔ تب ۳۰ ق۔م کے قریب ترکستان کی جانب سے ساکاؤں نے یلغار کی اور یونانی اقتدار کی شمع ہمیشہ کے لیے بجھ گئی۔ 18

۔۔ بطلیموسی فرماں روا علم و حکمت بالخصوص سائنسی علوم کے بڑے دلدادہ تھے۔ ان کے گماشتے یونان، ایشیاء کوچک، شام و فلسطین میں انجینئروں، ریاضی دانوں، فلکیات کے عالموں، ریاضی، ہئیت، طب اور جغرافیہ کے عالموں کی تلاش میں رہتے اور ان کو اسکندریہ کی دعوت دیتے۔ بطلیموس اول نے تو فلسطین سے ایک ہزار یہودی عالموں کو زبردستی پکڑ بلوایا اور اسکندریہ میں آباد کیا تھا۔ 19
نتیجہ یہ ہوا کہ اسکندریہ بہت جلد علم و دانش کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ اسکندریہ کے شاہی کتب خانے کو جو بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی اس کی تو نظیر نہیں ملتی۔ اس کتب خانے کو جو بہ یک وقت دارالتحقیق و تجربہ اور درس گاہ بھی تھا بطلیموس اول نے ۲۹۰ق۔م میں ارسطو کی درس گاہ لائی سیتم کے اصولوں پر قائم کیا تھا۔ اسکندریہ کے کتب خانے میں ۵ لاکھ ۳۲ ہزار مخروطے تھے جن کی فہرست ۱۲۰ دفتروں پر محیط تھی۔ ان مخروطوں کو بڑی بڑی رقمیں خرچ کر کے حاصل کیا جاتا تھا۔ مثلاً بطلیموس سوئم کو پتہ چلا کہ ایتھنز میں کسی کے پاس یونان کے قدیم ڈرامہ نویسوں ایس کائی لس، سوفوکلیز اور یوری پڈیز کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ڈرامے موجود ہیں۔ بادشاہ نے ۹۰ ہزار ڈالر بطور ضمانت ادا کیے اور وعدہ کیاکہ ڈراموں کو نقل کرکے اصل دستاویزیں واپس کر دی جائیں گی لیکن ڈرامے ہاتھ آگئے تو اس نے اصل خود رکھ لی اور نقل مالک کو بھجوادی اور کہلا دیا کہ زرِ ضمانت بے شک ضبط کرلو۔ درس گاہ میں معلموں کی تعداد ایک سو تھی۔ ان کو تنخواہ سرکاری خزانے سے ملتی تھی۔ درس گاہ سے ملحق ایک رصدگاہ تھی، ایک چڑیا گھر تھا، ایک باغ تھا جس میں انواع واقسام کے درخت، جڑی بوٹیاں، پودے اور پھول موجود تھے اور ایک عمارت چیر پھاڑ کرنے کی تھی۔ درس گاہ میں انجینئرنگ، ریاضی، فلکیات، طب اور جغرافیہ کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔ 20

۔۔ خلفائے بنی عباس بالخصوص ہارون رشید و مامون رشید نے یوانانیت کے احیاء میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔ 26

۔۔ یورپ کو اندیرے سے اُجالے میں لانے والے اسپین کے عرب فاتح تھے۔ 27
۔۔ عربوں سے پہلے اسپین کیا پورے مغربی یورپ میں تعلیم کلیسا کی جاگیر تھی۔ 28
۔۔ یورپ میں تعلیم عام نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اہلِ مغرب کاغذ سازی کے ہنر سے ناواقف تھے۔ یہ فن عرب مراکش سے اپنے ہمراہ لائے اور تب کتابوں کی اشاعت نے پہلے اسپین میں اور پھر دوسرے ملکوں میں رواج پایا۔ 28
۔۔ غرضیکہ یورپ میں تہذیب نو کی نشو نما کے لیے حالات اسپین اور سسلی کے عربوں نے پیدا کیے چناچہ پروفیسر فِشر کے سے متعصب مورخ کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ 'بارہویں صدی میں روشنی کی جو کرنیں یورپ میں پہنچیں وہ یونان سے نہیں بلکہ اسپین کے عربوں کے ذریعے آئیں۔ 28-29

۔۔ یورپ میں سائنسی تجربوں کا دور عربی تصانیف کے لاطینی ترجموں کے بعد شروع ہوا۔ 32

۔۔ جارج سیل نے 1734ء میں قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا۔ 36

۔۔ لسانیات کے جرمن عالم ہرڈر (1784) نے یہ دعویٰ کیا کہ دنیا کی سب سے پرانی تہذیبیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ 36

۔۔ شیلیگل نے تو یہاں تک کہ دیا کہ مشرقی مذہب (ہندو دھرم، بدھ مت، زرتشتی مسلک اور اسلام) کے تعاون کے بغیر نہ تو مادیت اور جمہوریت کا زور توڑا جا سکتا ہے اور نہ یورپ کی روحانی احیاء ممکن ہے۔ 36

۔۔ کرسٹین ٹامسن ایک فرانسیسی عالم نے 1836ء میں سماجی ارتقا کے تین مدارج متعین کے اور آلاتِ پیداوار کو ان مدارج کی پہچان قرار دیا۔ اس کے نزدیک پہلا دور پتھر کا تھا جب انسان پتھر لکڑی اور ہڈی کے آلات و اوزار استعمال کرتا تھا۔ دوسرا دور تانبے اور کانسی کا تھا اور تیسرا دور لوہے کا جو ابھی تک جاری ہے۔ 38


Saturday, April 17, 2010

Tareekh-e-Sindh

تاریخ سندھ
حصہ اول
اعجاز الحق قدوسی
اشاعت بار دوم: فروری 1976
ناشر: مرکزی اردو بورڈ، لاہور




اقتباسات:


سندھ
۔۔ تیرہ سو سال پہلے سندھ کا اطلاق جس علاقے پر ہوتا تھا وہ بہت لمبا اور چوڑا تھا۔ اسلام سے پہلے راجا داہر کی حکومت کے زمانے میں جس ملک کو سندھ کے نام سے موسوم کرتے تھے، وہ سمت مغرب میں مکران تک، جنوب میں بحر عرب اور گجرات تک، مشرق میں موجودہ مالوہ کے وسط اور راجپوتانے تک اور شمال میں ملتان سے گزر کر جنوبی پنجاب کے اندر تک وسیع تھا اور عرب مورخین اسی سارے علاقے کو سندھ کہتے تھے۔
پہر یہ ملک اتنا قدیم ہے کہ اس کے متعلق یہ بھی نہیں بیان کیا جا سکتا کہ کب سے ہے اور اس کے نام میں کیا تبدیلیاں ہوئیں۔ صرف تاریخ سے اتنا پتا چلتا ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے جب آریہ اس ملک میں آئے تو اُنھوں نے اس کا نام 'سندھو' رکھا، کیونکہ وہ اپنی زبان میں دریا کو 'سندھو' کہتے تھے۔ ابتداء وہ اس ملک کو سندھو کہتے رہے، مگر آہستہ آہستہ وہ اسے سندھ کہنے لگے۔ یہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہزاروں سال گزر جانے پر بھی اس کا نام سندھ ہی ہے۔ کہتے ہیں کہ شروع میں آریوں نے سندھ کے ادھر جتنے ملک فتح کیے، انھوں نے سب کا نام سندھ ہی رکھا۔ یہاں تک کہ پنجاب کی سرحد سے آگے بڑھ گئے، مگر نام میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ جب گنگا تک پہنچ کر رک گئے تو اُس کا نام آریہ ورت رکھا، مگر ہندوستان سے باہر اس نام کو شہرت حاصل نہ ہوئی۔
ایرانیوں نے اپنے لہجے میں سندھ کو ہند کر ڈالا اور یونانیوں نے 'ھ' کو اس کے قریب المخرج حرف ہمزہ سے بدل کر اند کر دیا، رومن میں یہ لفظ اند سے اندیا ہو گیا اور انگریزی زبان میں چونکہ 'دال' نہیں اس لیے وہ انڈیا بن گیا۔ page- 1-2


قبل از اسلام
۔۔ اسلام سے پہلے سندھ میں جو راجا حکومت کرتے تھے وہ رائے کہلاتے تھے، جناب سرور کائنات صلی اللھ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت سے پہلے یہاں رائے حکومت تھی اور حکومت ایک سو سینتیس سال تک رہی۔ اس حکومت کے پانچ راجا گزرے ہیں جو عقیدتاً بدھ مذہب کے پیرو تھے،
اُن کے نام یہ ہیں:
۱۔ رائے ڈیوانچ
۲۔ رائے سیھرس
۳۔ رائے ساہ سی
۴۔ رائے سیھرس ثانی
۵۔ رائے ساہ سی ثانی
Page. 4


نجومیوں کی پیشنگوئی اور بہن بھائی کی شادی:
۔۔ الور کے برہمنوں اور نجومیوں کا ایک وفد بھی راجا داہر سے ملا اور واپسی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نجومیوں نے کہا، مہاراج کو خدا سلامت رکھے، ہم نے آپ کا اور آپ کے بھائی بہن کا زائچہ بنایا ہے۔ آپ دونوں بھائیوں کے زائچے میں کسی قسم کی خرابی نظر نہیں آتی لیکن آپ کی بہن مائین رانی کے زائچے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی اس سے شادی کرے گا، وہ سندھ کے تاج و تخت کا مالک ہوگا اور ہمیں اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مائین رانی سندھ سے باہر نہیں جائے گی۔ 43

بدہیمن وزیر کی رائے:
آپ (داہر) اپنی بہن سے شادی کر کے اس کو اپنے ساتھ تخت نشین کر لیں، لیکن ازدواجی تعلقات سے کنارہ کش رہیں۔ اس طرح وہ آپ کی بیوی بھی کہلائے گی اور سندھ کا تاج و تخت بھی آپ کے پاس رہے گا۔ 44

داہر کی اپنی بہن سے شادی:
داہر نے پھر پانچسو سرداروں کو بلایا اور انہیں سمجھا بجھا کار کہا کہ میرے اور مائیں کے درمیان گٹھ بندھن کی رسم ادا کر دی جائے۔۔۔ اس طرح رسماً میری رانی اور میں یہاں کا راجا رہوں گا۔ لیکن ہم میں میاں بیوی کے تعلقات قائم نہ ہوں گے۔ ۔۔ شادی کی رسم باقاعدہ برہنوں نے ادا کی اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ 45-46


ہندوستان میں اسلام کی آمد:
۔۔ ہندوستان میں اسلام محمد بن قاسم کے حملے سے بہت پہلے داخل ہوچکا تھا۔ ہندوستان میں اسلام کا سب سے پہلا مرکز جسے قرار دیا جا سکتا ہے، وہ جنوبی ہند میں ملابار ہے۔ سرور کائنات صلی اللھ علی وآلہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں ملابار میں بودھ مذہب، برہمنی مذہب اور عیسائی و یہودی پائے جاتے تھے۔ لیکن ان میں باہمی مذہبی تعصب نہ تھا۔ 56


شق القمر:
ملابار کے راجا نے جس کا نام زمورن یا سامری تھا، اُس نے شق القمر کا معجزہ ملابار میں اپنی آنکھ سے دیکھا تھا۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو اس نے حکم دیا کہ اس کا اندراج روزنامچے کے سرکارے رجسٹر میں کرلیا جائے۔ پھر اُسے عرب کے لوگوں سے معلوم ہوا کہ عرب میں ایک رسول پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے یہ معجزہ دکھایا ہے۔ راجا نے فوراً ہی اسلام قبول کر لیا اور تخت سلطنت اپنے الیعہد کے سپرد کرکے کشتی میں سوار ہوکر ملک عرب کی طرف روانہ ہوا تا کہ رسول صلی اللھ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو۔ لیکن اُس نے راستے ہی میں وفات پائی اور یمن کے ساحل پر مدفون ہوا۔ 56


۔۔ خلیفہ ثانی کے زمانے میں مکران تک مسلمانوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ جس وقت مسلمانوں نے مکران کو فتح کیا تو ایرانیوں کے ساتھ مل کر سندھیوں نے بھی مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔ 59
[جب مسلمان ایران کی تاخت و تاز میں مصروف تھے، اس وقت ایران اور سندھ میں صلح تھا اور سندھی ایرانیوں سے مل کر مسلمانوں کا مقابلہ کرتے تھے، ایران کی فتح کے بعد عربوں کے لیے یہ ایک ٹھوس وجہ بنی کہ سندھ پر چڑھائی کی جائے۔]


سرزمین سندھ پر پہلی نماز جمعہ:
۔۔ متواتر کوچ کرتے ہوئے جمعہ کے دن 92ھ کو محمد بن قاسم دیبل پہنچے۔ سرزمین سندھ پر سب سے پہلے یہیں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ 94


برہمن آباد / بہمن آباد
۔۔ (حاشیہ 183-184)
چچ نامہ میں اس شہر کے نام کا رسم الخط برہمن آباد ہے، اس نام کے آخری لفظ "آباد" سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اصل میں ایرانی نام ہے، تاریخی نقطہ نظر سے خیال ہوتا ہے کہ یہ شہر غالباً ایران کے بادشاہ بہمن اردشیر کے حکم سے تعمیر کیا گیا تھا، اس لحاظ سے اس کا اصل نام "بہمن آباد" تھا۔ بہمن اردشیر نے اپنی وسیع مملکت میں تین شہر اس نام سے آباد کیے تھے، ایک بہمن آباد خراسان میں تھا جو رے اور نیشاپور کے درمیان میں تھا، دوسرا سواد عراق میں تھا، جس کو پہلے "ابیذ اردشیر" کا نام دیا گیا، مگر بعد میں وہ "بہمنیا" کہلانے لگا، اور خود مورخ طبری کے زمانے (۸۷۸۔ ۹۳۲ء) میں موجود تھا (طبری جلد ۱ ص ۶۸۷)

چونکہ سندھ کو بھی اردشیر نے فتح کرکے اپنی مملکت میں شامل کر لیا تھا، اور اُس کے دور حکومت میں سندھ میں یکے بعد دیگرے اس کے گورنر یہاں مقرر ہوتے رہے (حمزہ اصفہانی سنی ملوک الارض والابنیاء، ص ۱۲۔ ۱۳) اسی لیے سندھ میں بھی اُس کے نام سے یہ شہر آباد ہوا ہوگا، ہمارے اس خیال کی تصدیق "مجمل التواریخ" سے بھی ہوتی ہے۔ مجمل التواریخ میں ہے کہ بہمن اردشیر نے اس طرف (سندھ میں) بھی شہر تعمیر کرائے تھے، ایک تو ترکوں اور ہندووں کی سرحد ظاہر کرنے کے لیے قندابیل (گنداوا) اور دوسرا بدھیہ کے علاقے میں بہنب آباد، جو اب منصورہ کے نام سے مشہور ہے (مجمل التواریخ ص ۱۱۷۔ ۱۱۸)

غالباً اس شہر کے آباد ہونے کے طویل عرصے کے بعد، جب سندھ میں برہمن برسر اقتدار آئے تو انھون نے بہمن آباد کا نام بدل کر برہمن آباد رکھا، برہمنوں کا سندھ پر قبضہ چونکہ تعصب سے خالی نہ تھا، اس لے ہندوستان کے برہمن راجا "قضند" نے اپنے بھائی "سامید" کو سندھ پر لشکر کشی کے لیے مقرر کیا ، اور بہمن آباد مین آتشکدے کی جگہ بتکدہ تعمیر کروایا (مجمل التواریخ ص ۱۱۹) اس شہر کے نام کی تبدیلی یا تو اس برہمنی تعصب کی بنا پر ہوئی، یا برہمنوں کے طویل تسلط کی وجہ سے اس شہر کانام برہمن آباد پڑا۔۔۔

گیارہویں صدی کے شروع میں بھی اس شہر کا نام "بہمنوا" لکھا ہوا ملتا ہے، جس سے اس شہر کے نام کے متعلق ایرانی نام ہونے کی اور بھی تائید ہوتی ہے، البیرونی نے یہ بھی لکھا ہے کہ "برہمن آباد" در حقیقت "بہمنوا" ہے (کتاب الہند)

چچن نامہ سے ظاہر ہے کہ برہمن آباد رائے گھرانے کی حکومت زے زمانے میں لوہانی پرگنے کا مرکزی شہر اور وہاں کے حاکم اگھم کا دارالسلطنت تھا۔
۔۔۔
برہمن آباد نئے تعمیر شدہ شہر منصورہ سے دو فرسنگ کے فاصلے پر تھا، دوسرے یہ کہ اس کے مشرق جانب "جلوالی" نامی نہر بہتی تھی، محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے ۱۹۲۰۔ ۱۹۲۲ء میں جو کھدائی ہوئی تھی اس سے یہ امر یقینی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ شہداد پور سے تقریباً ۸ میل جنوب مشرق کی طرف نہر جمڑاو کے قریب مشرق کی طرف دلور کا مشہور ٹیلہ اور وسیع کھنڈرات درحقیقت عرب دور کے مشہور شہر منصورہ کے کھنڈرات ہیں۔ ۔۔۔
قدیم برہمن آباد کو اس شہر منصورہ کے کھنڈرات سے کوئی دو فرسنگ فاصلے پر تلاش کرنا چاہئے۔
منصورہ سے شمال مشرق کی طرف "جراری" نامی بستی ہے، جس کانام نہر قدیم جلوالی کی ایک یادگار ہے۔
183-187


محمد بن قاسم کا ماتم:
سندھیوں نے محمد بن قاسم کی وفات کی خبر سن کر بڑا ماتم کیا، اور وہ اُن کے اخلاق و اوصاف کو یاد کر کے روئے، اور شہر کیرج میں ان کی یاد تازہ رکھنے کے لیے اُنھوں نے محمد بن قاسم کا ایک اسٹیچو بنا کر نصب کیا۔ 224-225


۔۔ [محمد بن قاسم کو خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے حکم سے کچے چمڑے میں بند کر کے لے جایا جانا من گھڑت قصہ ہے، عرب مورخین نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ صفحہ۔ 228-229]


مربی و محسن: حجاج یوسف:
۔۔ محمد بن قاسم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے ہر منزل و موقع پر اپنے مربی و محسن حجاج بن یوسف سے مشورہ لیا، حجاج بن یوسف اگرچہ تاریخ اسلام کی ایک بدنام شخصیت ہے لیکن سندھ کے معاملے میں اس کی ہداہت و مشوروں کو پڑھ کر اس کے تدبر، ہوشمندی اور اس کے اعلیٰ سیاستدان ہونے کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ 230


سندھ اور عمر بن عبدالعزیز:
۔۔ سندھ میں جس قدر اسلام حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں پھیلا، اس کی مثال کسی دوسرے خلیفہ کے زمانے میں نہیں ملتی۔ 239


نفس ذکیہ، عبداللھ الاشتر:
۔۔ 144 ھ خلافت کے بارے میں اہلبیت و غیر اہلبیت کی نزاع جو بنی امیہ کے عہد سے چلی آرہی تھی، اس سیاسی کشمکش نے شدت اختیار کی، اور حسنی سادات میں سے عبداللھ بن حسن مثنیُ بن حسن بن علی بن ابی طالب کے صاحبزادوں میں محمد نے جو "نفس ذکیہ" کے لقب سے مشھور تھے، اور ان کے بھائی ابراہیم نے عباسی حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے۔ 260-261

نفس ذکیہ نے انے بھائیوں اور صاحبزادوں کو اپنا نمائمندہ بنا کر مختلف ممالک میں بھیجا تھا تاکہ وہ علوی حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
اس سلسلے میں 144 ھ (761-762ء) میں سندھ میں انھوں نے اپنے صاحبزادہ عبداللھ بن محمد کو جو عبداللھ الاشتر کے نام سے مشھور تھے روانہ کیا۔ 262

سندھ میں شیعیت کی ابتداء: ندوی
جب عبداللھ الاشتر کے قیام کی خبر عام ہوئی تو اُن کے بھی خواہ بھی اطراف سے آکر اُن کے گرد جمع ہونے لگے، عباللھ الاشتر اپنا وقت سیر و شکار میں گزارتے اور زیدیہ فرقے کے عقاید کی تبلیغ کرتے تھے، مولانا ابوظفر ندوی کا خیال ہے کہ سندھ میں شیعیت کی ابتدا اُسی وقت سے ہوئی۔


حساب ہندی:
۔۔ اسی کے زمانے میں(151ھ) ایک سندھی وفد جس میں بڑے بڑے علماء شامل تھے منصور کے دربار میں باریاب ہوا، غالباً ہندوستان کے علماء کا عربوں سے یہ پہلا ربط تھا، اس وفد میں سنسکرت کا ایک بہت بڑا عالم بھی تھا جس نے سدہانت کو خلیفہ کے سامنے پیش کیا، پھر خلیفہ کے فرمان پر ابراہیم فراری ریاضی دان نے اس کا ترجمہ عربی میں کیا۔

یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ عربوں نے ۹ تک کے حسابی رقم (ہند سے) کے لکھنے کا طریقہ ہندووں سے سیکھا، اس لیے اہل عرب اس کو حساب ہندی یا ارقام ہندیہ کہتے ہیں۔ 267


سندھ کا بہترین عرب دور حکومت:
۔۔ عرب دور کے گورنروں میں جنید (105-111ھ) کے بعد اس کی (دائود بن یزید) (184-205ھ) کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور حکومت کو بہترین دور حکومت کہا جاتا ہے۔۔277


قرآن کا پہلا سندھی ترجمہ:
۔۔ اسی کے زمانے میں ( عبداللھ بن عمر بن عبد العزیز ہباری ۔ 279ھ!) ایک ہندو نے جس کا نام مہروک تھا، عبداللھ بن عمر ہباری سے درخواست کی کہ سندھی زبان میں مذہب اسلام کی تعلیم لکھ کر بھیج دے، اس زمانے میں منصورہ میں عراق کا ایک عالم رہتا تھا، جس کی پرورش منصورہ میں ہوئی تھی، وہ بہت ذہین، سمجھدار اور شاعر تھا، اور یہاں کی مختلف زبانیں جانتا تھا، عبداللھ بن عمر ہباری نے راجا کی خواہش کا ذکر اس سے کیا، اُس نے اُن کی زبان میں ایک قصیدہ تیار کر کے راجا کو بھیج دیا، راجا نے اُس قصیدے کو سنا تو بہت پسند کیا، اور عبداللھ سے درخواست کی کہ اس شاعر کو اس کے دربار میں بھیج دیا جائے، چناچہ عبداللھ نےاس کو بھجوا دیا، وہ راجا کے دربار میں تین برس رہا اور اس کی خواہش سے اس عالم نے قرآن مجید کا ترجمہ سندھی زبان میں کیا، راجا روزانہ ترجمہ سنتا تھا اور اس سے بے حد متاثر ہوتا تھا، قرآن مجید کا یہ پہلا ترجمہ تھا جو سب سے پہلے سندھی زبان میں ہوا، اس عالم کا یہ بھی بیان ہے کہ راجا نے چھ سو من سونا اسے تین دفعہ دیا۔ 285-286


تین فرقے؛ قرامطہ، اسماعیلیہ، ملاحدہ:
۔۔ (حاشیہ) حضرت امام جعفر صادق کی وفات کے بعد شیعوں میں دو فرقے ہوگئے تھے، ایک نے امام جعفر صادق کے صاحبزادے، حضرت موسیٰ کاظم کو امام اور اُن کا جانشین تسلیم کیا، دوسرے فرقے نے امام جعفر صادق کے صاحبزادے حضرت اسماعیل کو ان کا امام و جانشین مانا، حضرت اسماعیل کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت امام محمد امام قرار پائے، پھر حضرت احمدوفی ان کے جانشین ہوئے، اُن کے قائم حضرت محمد تقی الحبیب ہوئے، ان کے جانشین حسن الرضی ہوئے، اُن کے خلیفہ عبداللھ المہدی ہوئے جنھوں نے افریقہ میں حکومت فاطمیہ کی بنیاد رکھی، اس فرقے کو اسماعیلیہ کہتے ہیں ۔ (مولف)۔۔ 288-289

(حاشیہ) قرمطی فرقے کا بانی حمدان نامی عرف قرمط تھا جو 278ھ اطراف کوفے کے ایک مقام نہرین میں ظاہر ہوا۔ وہ صرف سات ائمہ کا قائل تھا، 300ھ کے لگ بھگ قرامطہ بحرین یعنی ساحل خلیج فارس سے فلسطین تک اور بصرہ سے مکہ معظمہ تک چھا گئے۔ 303

حقیقت یہ ہے کہ تین فرقوں کے نام اس طرح گڑبڑ ہوگئے ہیں کہ یہ گتھی الجھی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ تینوں فرقے قرامطہ، اسماعیلیہ، اور ملاحدہ ہیں۔ اگرچہ یہ تینوں اسماعیلی شیعیت ہی کی قسمیں ہیں لیکن ان میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے اور ان تینوں فرقوں کی پیدائش کی تاریخ بھی الگ الگ ہے۔ سب سے پہلے قرمطی تیسری صدی ہجری کے آخر میں بحرین، خلیج فارس اور عراق میں ظاہر ہوئے۔ فرقہ اسماعیلیہ 356ھ میں پیدا ہوا، اور 356ھ میں یہ مصر آئے۔ ملاحدہ جن کو باطنیہ بھی کہتے ہیں جس کا سر گروہ حسن بن صباح تھا 483ھ کے بعد خراسان میں ظاہر ہوا۔

ان تینوں فرقوں میں سے ملتان میں برسوں اقتدار آیا وہ اسماعیلی شیعہ تھے۔۔ 303


سمہ اور لاکھا قومیں:( قریب: 366ھ) (976-977ء)
۔۔ سمہ اور لاکھا قومیں وحشی قومیں تھیں جو لوٹ مار کا بازار گرم رکھتی تھیں۔


سندھ میں عربوں کے بسائے شہر:
۔۔ سندھ میں عربوں نے جو شہر آباد کیے افسوس کہ آج ان میں سے کوئی بھی موجود نہیں۔ 310
دیبل، منصورہ، بیضاء، جندرور


سکھر
۔۔ عربوں نے اپنے زمانہ حکومت میں سندھ میں رفاہ عام کے متعلق بھی خاصے کام انجام دیے، دریائے سندھ پر عربوں نے عوام کی آمد و رفت کے لیے ایک پل تعمیر کیا، جس کا نام انھوں نے سکرالمید رکھا تھا، جو سکھر کے پاس تھا۔ 313


سندھ میں اردو زبان کی ابتدا: (محمود غزنوی، 413ھ)
۔۔ سندھ میں عربوں کی فتوحات کے بعد سندھی زبان میں بہت سے عربی الفاظ شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ آبلہ، سیراف اور شیراز کے جتنے بھی تاجر سندھ آتے تھے اُن کی زبان فارسی تھی۔ اس لیے ملتان، مکران اور منصورہ میں فارسی زبان تجارتی تعلقات کی وجہ سے کچھ نہ کچھ رائج تھی۔ منصورہ، ملتان اور مکران میں تجارتی کاروبار کے لیے فارسی زبان استعمال ہوتی تھی۔ عربوں میں یہ بھی رواج تھا کہ وہ جس ملک میں رہتے وہاں کی زبان کو عربی حروف میں لکھتے تھے۔ غزنوی حکومت کا قبضہ سندھ میں 552ھ (1186-1187ء) تک رہا۔ غزنوی فوجوں میں افغان، ترکی، بلوچی، ایرانی اور ہندی سپاہی تھے۔ ان سب کے میل جول سے ایک نئی زبان نے جنم لیا۔ قیاس چاہتا ہے کہ یہ نئی زبان اردو زبان کی ابتدائی شکل ہوگی۔ اس کے علاوہ غزنوی دور کے شاعر حکیم سنائی، مسعود سعد سلیمان کے اشعار میں بھی ہییں بعض ہندی الفاظ ملتے ہیں۔ سلطان محمود غزنوی نے اپنی سلطنت میں جو ہندووں کی ریاستیں باقی رکھی تھیں ان ریاستوں میں جو سلطان نے سکہ جاری کیا تھا اس سکے پر عبارت ہندی تھی۔۔ 330-331


سندھ کی پہلی تاریخ : چچ نامہ:
۔۔ ناصر الدین قباچہ ہی کے زمانے میں علی بن حامد بن ابوبکر کوفی کو عربی میں لکھی ہوئی ایک تاریخ "منھاج المسالک" (تاریخ سندھ و ہند) الور اور بھکر کے ایک خستہ حال خاندان کے ایک بزرگ قاضی اسماعیل بن علی بن محمد طائی کے ذریعے سے ملی۔ قاضی صاحب موصوف الور کے قاضی موسیٰ بن یعقوب کے پڑپوتے تھے۔ قاضی موسیٰ محمد بن قاسم کے ساتھ سندھ تشریف لائے تھے جنھیں فتح الور کے بعد محمد بن قاسم نے الور کا قاضی مقرر کیا تھا۔ اُن کی اولاد میں پشت با پشت تاک مسلسل الور اور بھکر کی قضاوت چلی آتی رہے۔

عل بن حامد کوفی نے تاریخ منھاج المسالک کا 613ھ (1216ء) میں اُچ ہی میں عربی سے فارسی میں ترجمہ کیا جس کا نام چچ نامہ رکھا۔ یہ سندھ کی پہلی اسلامی تاریخ ہے جس سے ہمیں سندھ میں عربوں کی فتوحات کے متعلق حالات ملتے ہیں۔ 346


۔۔ رضیہ سلطانہ (دختر التمش) 637ھ
صفحہ : 349-350


سندھ : پناھگاہ:
۔۔ تاتاریوں کے حملوں کی وجہ سے خراسان، عراق اور عجم کے علما نے سندھ کو اپنا وطن بنایا۔ بکھر اور سیوھن علوم کے مرکز بنے۔ 363


اردو کا پہلا فقرہ:
۔۔ اردو کا پہلا فقرا جوکہ سندھ میں بولا گیا:
سندھی سلطان فیروز کے ٹھٹھہ سے ناکام گجرات جانے کے بعد اپنی کامیابی کو سندھ کے مشہور بزرگ حضرت پیر پٹھو کی کرامت قرار دیتے ہوئے کہا کرتے تھے:
برکت شیخ پٹھا ، اک موا اک نٹھا

اک موا سے اُن کا اشارہ سلطان محمد تغلق کی طرف تھا، جس نے ٹھٹھہ ہی میں وفات پائی تھی اور اک نٹھا سے ان کا اشارہ سلطان فیروز کی طرف تھا جو ٹھٹھے سے ناکام گجرات کی طرف چلا گیا تھا کہا جاتا ہے کہ نثر میں یہ اردو کا پہلا فقرہ ہے جو سندھ میں بولا گیا۔ صفحہ: 402


تیمور۔ 801ھ (1398ء)
۔۔ تیمور کے قبضے کے بعد اہل سندھ کی حکومت کی ماتحتی کا تعلق ہندوستان کی حکومت سے بالکل ختم ہوگیا، اور اسکے بعد سندھیوں کی ایک خود مختار حکومت کی بنیاد پڑی۔ 411


سمہ!
۔۔ فارسی مورخین نے سمہ کو جمع کی صورت میں سمگان لکھا ہے، بعض لوگوں نے ان کا نام سماس لکھا ہے، اگرچہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ شروع میں مسلمان تھے یا بعد میں مسلمان ہوئے، مگر یہ مذہباً مسلمان تھے، ان کا صدر مقام ٹھٹھہ تھا، اور سرکاری لقب جام تھا، ان کا نام ہندی اور عربی ملا ہوتا تھا۔۔ 440-441

تاریخ فرشتہ اور آئین اکبری میں ان کو جام کے لقب کی وجہ سے ایرانی بادشاہ جمشید کی اولاد سے بتایا گیا ہے۔۔ 441


جام سمہ!:
۔۔ سندھ کے زمینداروں کی دو قسمیں تھیں، ایک کو سومرہ اور دوسری کو سمہ کہتے تھے، سمہ اپنے بزرگوں کو جام کے لقب سے یاد کرتے تھے، شاہ محمد تغلق کے آخر عہد میں مسلمانوں کی کوشش اور مدد سے حکومت سومروں کے ہاتھوں سے نکل کر سمہ خاندان کے ہاتھ میں آئی، اس خاندان کے اکثر سردار مسلمان تھے، اور اکثر اوقات شاہاں دہلی کے مطیع اور باجگزار تھے، لیکن کبھی کبھی علم مخالفت بھی بلند کر بیٹھتے تھے، یہ اپنے آپ کو جمشید کی طرف منسوب کرتے تھے، اس لیے یہ اپنے سرداروں کو جام کے لقب سے ملقب کرتے تھے۔

اسلام کے زمانے میں پہلا شخص جو ان میں سے حکومت سندھ پر فائز ہوا وہ جام اُنر تھا۔۔ 443-444
(حوالہ: تاریخ فرشتہ جلد دوم در بیان برخی از احوال سمگان کہ زمیندارن ملک سندھ اند)


جام نظام الدین ثانی (جام نندہ) (1461-1508ء) (866-914ھ)
۔۔ جام نندہ کے دور میں سندھ کے اندر اطمینان و دلجمعی کی لہر دوڑ گئی، اور اس فرمانروا نے دینی اور دنیوی علوم کو اپنے ملک میں غیر معمولی فروغ دیا۔۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ وسط ایشیا میں سخت بد امنی اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ اس لیے وہاں کے علما بھی سندھ کے وطن کو ایک نعمت غیرمترقبہ سمجھ کر آئے۔ 471

سمون کا دور حکومت ۔ سات درویش:
۔۔ سموں کی دور حکومت (1350-1520ء) علم و فضل اور معیاری سندھی زبان کے ارتقا اور سندھی شاعری کی ابتدائی ترقی کے اعتبار سے ایک اہم دور ہے، ان ہی کے زمانے میں، سندھی زبان اور شاعری میں قوت بیان کو ترقی ملی، انھیں کے زمانے میں لسانی سرمائے میں وسعت پیدا ہوئی، انہیں کے زمانے میں سب سے پہلے سات درویشوں کے سندھی کے وہ اشعار ملتے ہیں، جو انہوں نے جام تماچی کے دور میں بطور پیش گوئی کے جنہیں ماموئی یا ساموئی کے اشعار کہا جاتا ہے، کہے ماموئی دراصل لفظ معما کی بگڑی ہوئی صورت ہے، غالباً معمائی سے ماموئی بنایا گیا ہے، یہ پیشین گوئیاں ہر درویش نے اپنے اپنے شعر میں جام تماچی سے ناراض ہوکر سندھ کے مستقبل کے متعلق اس وقت کی تھیں، جب جام تماچی نے انھیں قتل کرنے کا حکم دیا تھا، اُن کے ان اشعار کا ترجمہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔

پہلا درویش:
دریائے ھاکڑا بہت زور و شور سے بہے گا
اور اروڑ کا بند ٹوٹ جائے گا اور "بہ"
مچھلی اور "لوڑ" جیسی سوغاتیں سمہ
خاندان سے چلی جائیں گی۔

دوسرا درویش:
ملک میں پیار و محبت کے بادل برس برس
کر آخر ختم ہو جائیں گے، اور بلوچوں
کا بچہ صرف پانچ درم میں بکنے لگے گا۔

تیسرا درویش:
"کارا" اور "کاہارا" کے علاقوں میں آٹھوں
پہر جھگڑا فساد جاری رہے گا، آخر شرم و
حیا کا دیوالہ نکال کر سندھ پھر سے
سر سبز ہوگا۔

چوتھا درویش:
شرم و حیا کا دیوالہ نکل جائے گا، شرم و
حیا کے متعلق کیا پوچھتے ہو، عورتوں
کے دوپٹے نیچے لٹکے ہوئے ہوں گے،
اور کالے بال اوپر کو اُبھرے ہوئے۔

پانچواں درویش:
"لاڑ" کے علاقے سے بغاوت کے شعلے
اٹھیں گے اور اس کا اثر سرے (شمالی سندھ)
پر پڑےگا، اے سندھ! تجھے آخر مشرق
کی طرف سے نقصان پہنچے گا۔

چھٹا درویش:
نیلے اور دبلے گھوڑے شمال کی طرف سے
آئیں گے۔ لہنکا پہننے والی عورتیں راستے
میں تقسیم ہوتی ہوتی نظر آئیں گی، اور
اس کے بعد تاجانی قبیلے کی نوبت بجنے
لگے گی۔

ساتواں درویش:
اے لوگو! اپنی منزل کے بھروسے
پر آباد ہونا کیونکہ (عنقریب) تمھاری
بستیاں کھنڈرات بن جائیں گی اس لیے تم
مکانات تعمیر نہ کرنا

حاشیہ: ان ساتوں درویشوں کے متعلق ایک طویل قصہ مشہور ہے، چونکہ اس کا ہمارے موضوع سے کوئی تعلق نہیں اس لیے ہم نے اسے یہاں نقل نہیں کیا ہے۔
[اس قصہ کے بارے میں اگر کسی کو معلوم ہو تو خدارا مجھے ضرور بتایا جائے: ابڑو]۔

Saturday, February 27, 2010

Wadiye Sindh Aur Tehzeeben_Excerpts

وادئ سندھ اور تہذیبیں
سرمورٹیمروھیلر
اشاعت: ستمبر2003





موہن جو دڑو
۔۔ در حقیقت یہ باقاعدہ شہری منصوبہ بندی کی اب تک ظاہر ہونے والی سب سے پرانی مثال ہے۔ 12

۔۔ قدیم ایشیا میں یہ طرز کا سب سے مکمل نمونہ ہے۔ سارے شہر سے یہ عیاں ہے کہ اس کے عروج کے وقت وہاں خوشحال متوسط طبقہ آباد تھا اور بلدیاتی نظام بڑے جوش و خروش سے چلایا جاتا تھا۔ 12

۔۔عام طور سے یہاں بادشاہ اور مذہبی پیشواؤں کی جس ملی جلی طرزِ حکومت کا اندازہ ہوتا ہے۔ 11

۔۔ سرکاری غلہ گودام موجود تھے اس گودام کی حیثیت ایک جدید قومی بینک جیسی تصور کی جاسکتی ہے۔ 11
۔۔ اناج کے گوداموں کے فرشوں کا کل رقبہ کوئی ۹ ہزار مربع فٹ تھا۔ 14

۔۔ موہن جو داڑو میں صفائی کے اعلٰی انتظامیات پر آج بھی دنیا کے بہت سے حصوں میں رشک کیا جاسکتا ہے۔ 28

۔۔ (صابن؟) مٹی کے بنی تکونے ڈھیلے غالباً جسمانی صفائی کے کام آتے تھے۔ 29


۔۔ پچھلے چار ہزار برسوں میں ان علاقوں پر وقتاً فوقتاً جو حملے ہوئے ہوں گے وہ یقیناً ایسے لوگوں نے کیے ہوں گے جو جسمانی ساخت کے لحاظ سے ان لوگوں سے ملتے جلتے یا پھر یہ حملےاتنے چھوٹے پیمانے پر ہوئے کہ ان کی وجہ سے جسمانی خصوصیات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ ہوسکی۔ بہتات لمبے والوں کی
dolichocehalic
تھی۔
[اس اعتبار سے یہ 'حملے' بیرونی نہیں تھے بلکہ ان کے آپس میں لڑائیوں اور پھڈوں کی وجہ تھے۔ ابڑو]

۔۔ بظاہر یہ قبرستان عام شہریوں کا تھا۔ اس میں کوئی 60 ڈھانچے ملے ہیں۔ ڈھانچے اس طرح قبرستان میں دفنائے گئے ہیں کہ ان کا سر شمال کی جانب تھا اورہر ایک کے ساتھ اوسطاً 15 یا 20 مٹی کے برتن دبائے گئے تھے جن سے سندھ کے تمدن کے بختہ دور کا پتہ چلتا ہے۔ 33

۔۔ بالغان قد میں پانچ فٹ پانچ انچ سے پانچ فٹ آٹھہ انچ تک کے ہوتے تھے۔ 34
لوگوں کا اوسط عرصہ حیات کم تھا۔ (20-40 سال)

۔۔ بیشتر مہروں پر کچھ تصویری تحریر
(Pictograghic Script)
بھی ہے لیکن غیر معمولی کاوشوں کے باوجود ابھی تک اس تحریر کو پڑھا نہیں جا سکا ہے۔ یہ تصویری تحریریں میسوپوٹیمیا اور مصر کی تصویری تحریروں سے اتنی ہی مختلف ہیں جتنی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ ایک محدود وقت اور علاقے کے اندر ارتقا پانے والی تین عظیم تہذیبوں نے تین قطعاً مختلف اسالیبِ تحریر کی تخلیق کی۔ 36

۔۔ ۔۔۔ ان مہروں کے مکمل مقصد کا صرف موہن جو داڑو میں 1200 سے زیادہ ایسی مہریں ملی ہیں لیکن ان کے مقصد و مصرف کی یقینی طور سے تب تک کوئی تعین نہیں کیا جا سکتا جب تک ان پر کندا تحریر کو سمجھ نہیں لیا جاتا۔ ۔۔۔ ان میں سے کچھ پر لوگوں کے ذاتی نام کندہ ہیں۔ ایک دشواری یہ ہے کہ ایک ہی تحریر والی ایک سے زائد مہریں بہت کم پائی گئی ہیں۔ لیکن اس سے کم از کم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی مذہبی یا بیانیہ نوعیت کی تحریر نہیں تھی۔ ۔۔۔ برتنوں یا ٹھیکریوں پر بھی یہی تحریر کندہ پائی گئی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوگا کہ سندھ کی آبادی خاصی حد تک خواندہ تھی۔ 37

۔۔ میسوپوٹیمیا والے مجسمے اُلو کی طرح گھورتے
(Owl Like Staring)
دکھائے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے سندھ کی تہذیب کے مجسمے ان سے بہت مختلف ہیں کیونکہ ان میں غوروفکر کی محویت نظر آتی ہے۔
دراصل دونوں خطوں کی مجسمہ سازی میں کوئی چیز نمایاں طور سے مشترک نہیں۔ 37-38

۔۔ یہ امر قبلِ غور ہے کہ بیلوں کے مجسمے ہیں گایوں کے نہیں ہیں، مرغیوں کے ہیں مرغوں کے نہیں ہیں، ظاہر ہے کہ بوجھہ ڈھونے والے بیل اور انڈے دینے والی مرغی کو ترجیح حاصل تھی۔ 38

۔۔ سندھ کی تہذیب اس بات کی مثال مہیا کرتی ہے کہ گہنوں اور طلسمی تعویذوں (یا ان کے نمونوں) کا ایک سے دوسری تہذیب میں تبادلہ ہوتا رہتا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ تکنیکی طور پر بنیادی آزادروی بھی تھی۔ یہ مثال بالکل واضح ہے مگر اس کی مثال نہیں ہے۔ 40-41

۔۔ سندھ کی تہذیب کے مٹی کے برتنوں سے عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ بڑی کاریگری سے ساتھ انہیں بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا تھا۔ 41
[کیا بڑے پیمانے پر تیار کرنے کا مقصد انہیں بیچنا یا درآمد کرنا ہوتا تھا؟ یا فارغ وقت میں یہ ان کے محبوب مشاغل میں سے تھا؟۔۔ ابڑو]

۔۔! سندھ کی وادی کی تہذیب ایسی نہیں تھی کہ وادی کے اندر یا کہیں اور دوسرے تمدنوں کو فوراً ہی اپنے اندر سمیٹ کر جذب کرے۔ 44

۔۔ سب سے پہلے اس بات پر زور دینا ہوگا کہ کسی تجسس پسند ذہن کے لیے وادئ سندھ پرکشش بھی ہے اور اسے عقدہ کشائی کے لیے للکارتی بھی ہے۔ اُس وقت میں یہ کچھ حد تک دلدلی جنگلوں کا علاقہ تھا جہاں آزارکن درندے بستے تھے۔ ان ہی درندوں کی شبیہیں سندھ کی مہروں کی زینت بنیں۔ اس وادی کے میدان دور دور تک زرخیز تھے۔ ۔۔۔
ذہنی طور پر اس تہذیب کے بانیوں کو ایک بڑی برتری حاصل تھی۔ ان سے کچھ ہی پہلے دو عظیم دریائی تہذیبیں وجود میں آچکی تھیں۔ میسوپوٹیمیا اور مصر میں۔ مادی اعتبار سے ان دونوں میں سے کوئی بھی تہذیب اس کی جنم داتا یا فوری منبع نہیں سمجھی جاسکتی، سندھ کی تہذیب کے اپنے انفرادی اسالیب ہوتے تھے اور طرزِتحریر، اس کی نوعیت جداگانہ تھی اور یہ مغرب کی محض نوآبادی نییں تھی، ۔۔۔ 47-48، 65

۔۔ متعدد ٹیڑھے میڑھے مجسموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موہن جو داڑو میں پکائی مٹی کی مورتیاں بنانے والے مزاحیہ طبیعت کے تھے۔ 64 (تصویر)

۔۔ موہن جو داڑو میں وقتاً فوقتاً سیلاب آنے کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو مگر ان سیلابوں سے زمین اور عمارتوں کی حالت برابر خستہ ہوتی گئی۔ اس عمل سے یقیناً یہ سیلاب وہاں کے باسندوں کے حوصلے پست کرنے میں معاون ہوئے۔ ۔۔۔ موہن جو داڑو کےانجام کے بارے میں ایک بات بالکل عیاں ہے۔ اپنے خاتمے سےپیشتر یہ شہر دھیرے دھیرے مرتا رہا تھا۔ 79

۔۔ تہذیب سندھ کے بہت سے مقامات پر پائے گئے منکے اور زیورات سے مغرب کی قدیم تہذیبوں کے ساتھ تعلقات کا صاف پتہ چلتا ہے۔ 84 (تصویر)

۔۔ تہذیب سندھ کے مٹی کے برتن اکثر بہت نفیس قسم کے ہوتے ہیں اور بیشتر چاک پر بنے ہیں۔ 85 (تصویر)

۔۔!!! برسوں پہلے میں نے قیاس پیش کیا تھا کہ برصغیر کے شمال مغرب پر یلغار کرنے والے آریہ لوگ اس تہذیب کی آخری تباہی کا باعث تھے۔ یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا اور بالکل غلط بھی ہوسکتا ہے۔ 97

۔۔ جن کروڑوں لوگوں نے اس جنس (چاول) کو اپنی خوراک کا سب سے بڑا حصہ بنایا ہے ان کی جسمانی اور ذہنی ساخت پر اس کے اثر کو جتنی بھی اہمیت دی جائے کم ہے ۔۔۔ مذہب کے اِکادُکا ناطوں یا کچھ عام معیاروں کے باوجود گیہوں کھانے والے پنجابی کسان اور چاول کھانے والے بنگالی کسان کے درمیان اختلافات نمایاں ہیں۔ 108

۔۔ ٹیکسلا (بھیر ٹیلا سکاپ) پے پائی گئی بہت سی اشیاء میں فارس والوں، یونانیوں اور پارتھینیوں کا غیر ملکی تاثر عیاں ہے۔ 127 (تصویر)

۔۔ ہیروڈوٹس نے تھوڑے عرصے بعد (486 ق م) "انڈیا" کو سلطنتِ فارس کا سب سے آخری اور خوشحال صوبہ بیان کیا ہے۔ 137

۔۔ چناچہ اس سرحدی علاقے (ٹیکسلا، پشکلاوتی) میں چھٹی صدی قبل مسیح کے بعد کے حصے میں یا اس سے بھی پہلے لوہے کا ستعمال ہونے لگا تھا۔ 140

۔۔ تب 327 ق م میں سکندر اعظم کی آمد ہوئی، وسطی ایشیا میں اس کی مداخلت صرف چند مہینوں کا واقعہ تھا لیکن اس کے سیاسی اور تمدنی نتائج بہت عظیم تھے۔ اس کے بعد کے واقعات انقلابانہ نوعیت کے تھے سیاسی طور پر اس سے شمال میں اتنے بڑے پیمانے پر ہندوستانی قومی بیداری عمل میں آئی جس کی پہلے کوئی مثال نہ تھی۔
نقطہ آغاز 330 ق م سمجھا جاسکتا ہے جب آخری دارا کو فاتح کی حدِشنوائی کے اندر قتل کیا گیا تھا اور(اصطخر پولس) کےاس کے محل کو جلا دیا گیا تھا ۔ فارس کے عظیم بادشاہوں کا دور ختم ہو چکا تھا۔ سکندر نے انسانیت اور ذاتی مفاد کے مخلوط مقاصد کے زیرِاثر فارس کے مفتوحہ شہروں کی حفاظت کرنے اور اپنے آپ کو خودساختہ وارث مقرر کرکے اکائمینی حکومت کو دوام بخشنے کی خواہ کتنی ہی کوشش کی مگر وہ زمانے کی رَو کو پلٹ ہی نہیں سکتا تھا۔
سلطنتِ موریہ
اس کے بعد جو کچھ ہو اس کا نقشہ کھینچنا مشکل نہیں ہے۔ سکندر پنجاب سے مغرب کی طرف لوٹ گیا ور 323 ق م میں بابل میں مر گیا۔ ادھر اس کے مشرقی وارث سلوکس کے مقابلے میں ہندوستانی قومیت حیران کن حد تک بیدار ہوگئی۔ اس قومیت کا فائدہ گنگا کنارے کی ایک چھوٹی سی ریاست مگدھ کا حکمران چندرگپت تھا۔ جو مریہ خاندان کا پہلا راجہ تھا۔ 142-143

۔۔ چندر گپت (موریا) کے پوتے اشوک اعظم نے بودھ مذہب اختیار کرنے کےبعد تیسری صدی ق م کے وسط میں (یادگار ستون) نصب کروائے تھے۔ 159

۔۔ پہییہ جسے شیروں نے اٹھایا ہوتا تھا شہنشاہی حکومت کی ایک علامت تھی۔ بعد میں اسے بدھ نے بودھ دھرم چکر کے روپ میں اپنا لیا۔ 160 (تصویر۔ 150۔ یہ اشوک نے قریب 250 ق م میں نصب کروایا اور اب یہ جمہوریہ ہند کا سرکاری نشان ہے۔)

۔۔ سلطنت فارس کے زوال اور سکندر کے یہاں سے گزرنے کے بعد کی صدی نے برصغیر کے تمدن پر جتنا اثر ڈالا شاید اس سے زیادہ اثر ویسے ہی کسی اور عہد نے نہیں ڈالا ہوگا۔ یوں تو ان واقعات کے ظہور پذیر ہونے سے پیشتر ہی شمالی ہند میں گنگا کے شہروں میں تہذیب کے بہت سے مادی عناصر موجود تھے، لیکن اس کے بعد ہی کے دور میں چندرگپت اور اشوک کی قوی ذہانت نے، جس پر اشوک کے معاملے میں ہندوستانی روحانیت کا شدید تسلط تھا، نئے دھاگوں کو جمع کر کے ان کا ایسا تانابانا بُنا کہ ایک طرح کے قومی انداز کی تخلیق ہوئی، اس عمل کا نتیجہ ہے کہ 2000 برس کے بعد ایک بڑے حصے میں ایک یکجہتی تہذیب وجود میں آئی۔ 162-163

مشرق، وسطی و جنوبی ہندوستان
۔۔ اس بات پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ وسطی ہند میں تہذیب اچانک طور پر ظہور میں آئی۔ ۔۔۔ یہ عمل پانچویں صدی قبل مسیح کی ابتدا تک ظہور پذیر ہوچکا تھا۔ 169


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...