FIKRism

Showing posts with label Science. Show all posts
Showing posts with label Science. Show all posts

Monday, February 14, 2011

KZMARKA - Ryasat

خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز
فریڈرک انگلز


اقتباسات۔ ۳
۔(شرح و نقد)۔


کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے رومولس نے الگ الگ افراد کو ایک ہیکٹر فی کس کے حساب سے زمین بانٹی تھی۔ 128


پرانے گن دستور کو جس انقلاب نے ختم کیا وہ کب اور کیوں اور کیسے ہوا تھا۔ اس سلسلے میں یقین کے ساتھ ہم صرف ایک بات کہہ سکتے ہیں اور وہ یہ کہ اس انقلاب کی تہہ میں پلے بئیین اور پوپولس کی کشمکش کام کر رہی تھی۔ 136


انگریز سامراج
آئرلینڈ نے جہاں انگریزوں نے زبردستی گن نظام کو برباد کرڈالا، وہ آج بھی کم سے کم نیم شعوری طور پر لوگوں کے ذہن میں زندہ ہے۔ سکاٹ لینڈ میں وہ گذشتہ صدی کے وسط تک پوری توانائی کے ساتھ پایا جاتا تھا اور وہاں بھی اسے صرف انگریزوں کے ہتھیاروں، قوانین اور عدالتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں۔ 139


ویلز
مرد کے منہ سے بدبو آنا بھی طلاق دینے کی ایک کافی وجہ سمجھی جاتی تھی۔ 141


وقتی شادیوں کا وہاں (آئرلینڈ، ویلز) بھی رواج تھا۔ 141


ماموں اور بھانجے کا خون کا رشتہ باپ اور بیٹے کے رشتے سے زیادہ مقدس اور قریبی ہے۔ (تاسیت، میکسیکو، یونان)۔ 145


پرانے نارس گیت
۔"وولوسپا" (Voluspa).
یعنی وہ گیت جس میں دیوتاؤں کی آخری گھڑی اور قیامت یعنی دنیا کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک ٹکڑا اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن ہے چونکہ وہ آٹھ سو برس بعد کی چیز ہے۔ اس حصے میں جسے "غیب داں عورت کا کشف" کہا گیا ہے اور جس میں جیسا کہ بینگ اور بگے نے اب ثابت کردیا ہے، عیسائیت سے عناصر بھی ملے ہوئے ہیں، بتایا گیا ہے کہ قیامات سے پہلے عام فسق و فجور اور برائی اور بداخلاقی کا ایک زمانہ آئے گا۔ اس زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے ایک جگہ کہا گیا ہے:

"بھائی بھائی ایک دوسرے سے جنگ کریں گے اور ایک دوسرے کا خون بہائیں گے اور بہنوں کی اولاد خون کی قرابت داری کے تعلق کو توڑے گی۔" ۔ 146



غیرت
مادری حق کی ایک اور نشانی تھی جو کہ اس وقت تک مٹنے لگی تھی اور جو روم کے باشندوں کے نقطہ نظر سے سمجھ میں نہ آنے والی بات تھی، وہ یہ کہ جرمن لوگ عورتوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ جرمنوں سے اگر کسی وعدے کو پورا کرانا ہوتا تھا تو اس کا سب سے اچھا طریقہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شریف خاندانوں کی لڑکیوں کو ضمانت کے طور پر رکھ لیا جائے۔ جنگ کے وقت جرمنوں کی ہمت اور کسی چیز سے اس قدر جوش میں نہیں آتی تھی جتنی اس خوفناک خیال سے کہ اگر انہیں شکست ہوئی تو دشمن ان کی بہو بیٹیوں کو پکڑ لے جائیں گے اور اپنی باندیاں بنالیں گے۔ جرمن لوگ عورت کو مقدس مانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس میں مستقبل کو دیکھ لینے کی طاقت موجود ہے۔ چناچہ وہ سب سے اہم معاملوں میں عورتوں کی صلاح پر عمل کرتے تھے۔ 147

۔[ایسی 'عزت' ہمارے معاشرے میں بھی رائج ہے، لوگ اپنی عورتوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے مارنا تو پسند کریں گے پر دشمن کے ہتھے چڑھنے کو بالکل گوارا نہیں کریں گے، اور یہ بات عربوں میں بھی تھی جس کی مثال جنگ احد میں دیکھی جا سکتی ہے جب ابوسفیان نے تقریباً پورے مکّہ کو (عورتوں بچوں سمیت) میدانِ جنگ میں کھڑا کر دیا، تاکہ لڑنے والے مرد اپنے بیوی بچوں کے سامنے پیچھے بھاگنے اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کرسکیں، اور اس جنگ میں مسلمانوں کی شکست کھانی پڑی۔ باقی اس سوچ کے علاوہ ہم اور عربوں میں عورتوں کو کوئی عزت نہ دی جاتی چہ جائیکہ صلاح مشورہ میں پیش پیش رکھنا!۔
ایسا کیوں ہوتا ہے، کچھ کہنا بہت مشکل ہے، ایک قیاس یہ ہے کہ شاید جن معاشروں میں سیکس کی کھلے عام چھوٹ نہیں ہوتی اور جن معاشروں میں ماضی میں آزادنہ جنس روی نہیں پائی جاتی تھی، شاید وہاں ایسی سوچ کو پیدا ہونا ممکن ہو۔]۔



تقریباً سبھی قوموں میں شروع میں پورا گن اور بعد میں قدیم کمیونسٹی خاندان برادریاں مل کر کھیتی کرتی تھیں۔ ۔۔۔ بعد میں زمین تقسیم کرنے کا رواج ہوا اور تھوڑے تھوڑے دنوں بعد الگ الگ خاندانوں میں زمین نئے سرے سے بانٹ دیا جاتا تھا۔ 148

۔[ہمارے دیہاتی معاشرے میں بھی بہت کم صورت میں صحیح پر یہ نظام موجود ہے اور اس کا سبب خود اس کا نتیجہ ہے، جب مشترکہ خاندان، مشترکہ زمین پر مشترکہ محنت کرتے تو پھر اس کا حاصل شدہ پیداوار بھی مشترکہ طور ضرورت کے مطابق بانٹی جاتی۔۔
گن نظا کی بچی کھچی نشانیاں ہمارے معاشرے کے گاؤں گوٹھوں میں اب بھی چلی آتی، ایک گوٹھ کے باشندے عموماً ایک مورثِ اعلیٰ (مرد) کی اولاد ہوتے اور اُسی مورثِ اعلٰی کے نام سے گوٹھ کا نام بھی ہوتا، ان کی زمینیں چاہے الگ الگ خاندانوں کے نام پر ہی کیوں نہ ہوں پر وہ سب مرد، عورتیں، چھوٹے بڑے مشترکہ طور پر ان پر محنت کرتے۔]۔



جب گھرانے کے ممبروں کی تعداد اتنی بڑھ گئ کہ پیداوار ی اس وقت جو حالت تھی اس میں مل کر کھیتی کرنا ناممکن ہوگیا، تب کہیں ان گھریلو برادیوں کا شیرازہ منتشر ہوا۔ پہلے جو ساجھے کے کھیت اورچراگاہیں تھیں، انہیں ان الگ الگ گھرانوں میں جو اس وقت تک بن چکے تھے، مروجہ طریقے کے مطابق بانٹ دیا گیا۔ شروع میں یہ بٹوارہ ایک مقررہ وقفے کے بعد بار بار ہوتا تھا، پھر کہ ایک بار ہمیشہ کے لیے ہوگیا لیکن جنگل، چراگاہ، ندی نالے اور تالاب سبھی کی مشترکہ ملکیت رہے۔ 150


غلامی کا خاتمہ
لیکن غلامی کا دم توڑتا ہوا نظام اب بھی اتنا جاندار تھا کہ پیداوارکا تمام کام بظاہر غلاموں کا کام معلوم ہوتا تھا جو آزاد رومنوں کے شایان شان نہیں تھا اور اب ہر شخص ایک آزاد رومن تھا۔ ایک تو وجہ کہ تھی جس سے غیر ضروری طور پر غلاموں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ غلام چونکہ ایک بوجھ بن گئے تھے اس لیے انہیں آزاد کر دیا گیا۔ دوسری طرف کولونی اور بھک منگے آزادوں کی تعداد بڑھی۔ 159

۔[۔۔ اور اس طرح بوجھ بنے غلاموں کو آزاد کرکے پھر انہیں غلام بنا دیا گیا، پر اب کی بار ان کی کفالت کا بوجھ اٹھانے کے بجائے محض تھوڑی سی قیمت پر اور وہ بھی 'آزادی" کے نام پر، اور جو طبقہ آگے چل کے پرولتاریہ بنا! غلامی کا خاتمہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ کہا جا سکتا ہے! اس لیے جو غلامی کے خاتمہ کی بات کرتے اور پرولتاریہ پر ڈھالے گئے ظلم پر ہمدردی کا اظہار بھی، وہ حقیقۃً دو متضاد باتیں کرتے۔ وہ 'سبب' پر لعنت کرتے پر 'نتیجہ' کہ گلے لگاتے۔ یعنی لعنت سے پیدا شدہ نتیجے کو گلے لگاتے، اب لعنت سے پیدا شدہ نتیجہ لعنتی ہی ٹھیرےگا!۔۔۔ یا پھر ہم یہ کہیں کے 'سبب'(غلامی) حقیقۃً لعنت ہی نہ تھا۔ ۔]۔


Gau
فرینک لوگوں کی سلطنت کو لیجیے۔ یہاں نہ صرف رومی ریاست کا وسیع علاقہ فاتح سالین جاتی کو مل گیا تھا بلکہ زمینکے تمام ایسے بہت بڑے بڑے قطعات بھی، خاص کر بڑے بڑے جنگل جو بڑے یا چھوٹے حلقے (گاو) اور مارک برادریوں میں نہیں بانٹے گئے تھے، انہیں مل گئے تھے۔ 161



جرمن ایک نہایت باصلاحیت آریائی قبیلے کے لوگ تھے۔ 165


حاکم و محکوم
گن نظام کی عظمت اور اسی کے ساتھ اس کی کمزوری بھی یہی تھی کہ اس میں نہ کوئی حاکم تھا اور نہ کوئی محکوم۔ 167


مویشی کرنسی
گلہ بان قبیلے تبادلے میں اپنے ہمسایوں کو جو خاص چیز دیتے تھے وہ مویشی تھے ۔۔۔ مویشی سے زر یا روپیہ کا کام لیا جانے لگا تھا۔ 169

جب مویشی پالنے، کھیتی اور گھریلو دستکاری غرضیکہ سبھی شاخوں میں پیداوار بڑھی تو انسان کی قوت محنت کو قائم رکھنے کے لیے جتنا پیدا کرنے کی ضرورت تھی، وہ اس سے زیادہ پیدا کرنے لگی۔ ساتھ ہی گن یا گھریلو برادری کے یا الگ الگ خاندان کے ہر ممبر کو روز جتنا کام کرنا پڑتا تھا، اس میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ کہیں سے اور استعداد محنت حاصل کی جائے، وہ جنگ سے حاصل ہوئی۔ جنگ میں جو لہگ پکڑے جاتے تھے اب ان کو غلام بنایا جانے لگا۔ 170

ہم یہ آج تک نہیں جان سکے ہیں کہ جانوروں کے ریوڑ اور جھنڈ کب اور کیونکہ قبیلے یا گن کی مشترکہ ملکیت سے نکل کر الگ الگ خاندانوں کے سرداروں کی ملکیت بن گئے۔ ۔۔ مویشی کے گلوں اور دولت کے اور دوسرے نئے سامان کی بدولت خاندان میں ایک انقلاب نمودار ہوا۔ روزی حاصل کرنا ہمیشہ مرد کا کام ہوا کرتا تھا۔ وہی ذرائع زندگی پیدا کرتا تھا اور وہی ان کا مالک ہوتا تھا۔ 170



عورت کی آزادی
عورتوں کی آزادی اور مردوں کے ساتھ ان کی مساوات اس وقت تک ناممکن ہے اور ناممکن رہےگی جب تک عورتوں کو سماجی پیداوار کے کام سے الگ رکھ کر خانہ داری کے کام تک جو کہ نجی کام ہے، محدود رکھا جائےگا۔ عورتوں کی آزادی اسی وقت ممکن ہوگی جب عورتیں ایک بڑے سماجی پیمانے پر پیداوار میں حصہ لے سکیں گی اور جب گھریلو کاموں پر انہیں بہت کم دھیان دینا پڑے گا اور یہ اب محض بڑے پیمانے کی صنعت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، جو نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لیے بہت بڑی تعداد میں پیداوار کے کام میں حصہ لینے کی گنجائش پیدا کرتی ہے، بلکہ سچ پوچھئے تو اس پر زور دیتی ہے اور اس کے علاوہ نجی گھریلو کام کو بھی ایک عام صنعت بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ 171

۔[اگر میرا گھر 'ایک عام صنعت' بن جائے تو ایسی کمیونزم مجھے نہیں چاہیے!
اگر عورت کی آزادی یہ ہے کہ فیکٹریوں میں کام کرے، تو ایسے آزادی ۔۔۔ اب یہ عورتوں پر چھوڑا ہوا ہے ۔۔۔ انہیں کونسی آزادی پسند ہے!؟
اور اگر کمیونزم سے مراد یہ ہے کہ مرد بھی فیکٹریوں میں کام کرے اور عورت بھی فیکٹریوں میں کام کرے، عورت گھریلو کام پر کم دھیان دے، ۔۔۔ تو مطلب انسان کی کوئی نجی زندگی بچے گی ہی نہیں۔ کمیونزم معاشرہ میں مرد اور عورت کا کام محض صبح اٹھ کر فیکٹریوں میں کام کرنے کے علاوہ کچھ نہ رہےگا۔ بچے 'بچہ گھروں' میں پلہ کریں گیں، کھانا 'کھانا گھروں' میں ملا کرےگا، سیکس جس سے چاہے کرو (اگر وہ راضی ہوجائے)، اور بس بتائے گئے رولس کو فالو کرتے ہوئے روبوٹس کی طرح 'کام' کرو۔۔۔ یہ ہے کمیونزم۔]۔

۔[پہلے آزادی اور غلامی کا کانسیپٹ ہوا کرتا تھا، اور اب صرف اور صرف 'غلامی' بچےگی، (نہ اختلاف رائے کی گنجائش، اور ہر بچہ پیدا ہوتے ہی کمیونسٹ!)۔۔ ہاں اپٓ اسے 'آزادی' بھی کہ سکتے ہیں، کیوں کہ جدلیاتی تھیوری کی رو سے چیزوں کو اُن کی ضد سے پہچانہ جاتا ہے، جب 'ضد' ہی کو مار ڈالا جائیگا تو اب بچی ہوئی کیفیت کی پہچان ناممکن ہوجائگی۔۔ ۔۔
اور یہاں سے یہ بھی پتہ چلتا کہ 'غلامی' کا کانسپٹ اس لیے دیا گیا تھا تاکہ 'آزادی' کی ہمیشہ پہچان و قدر رہے، اگر غلامی کو ختم کردیا گیا تو وقت گذرنے سے قوموں کی قومیں غلام بن جائیں گی، پر انہیں پتہ تک نہ چلےگا۔۔۔ اورغلام بن کر اس وہمِ بےجا میں مبطلا ہوںگی کہ وہ آزاد ہیں!]۔

۔[جب ایک بچہ جیل میں پیدا ہو، اور جیل میں ہر آنے جانے ولی چیز کو مانیٹر کیا جائے اور اُسے اپنے ڈھنگ میں ڈھال کے پیش کیا جائے، اور اُسے بچپن سے ہی یہ پڑھایا جائے کہ جیل کی زندگی ہی تمہارے لیے سُکھ و چین کی زندگی ہے (پھر چاہے کتنی ہی مشکلوں میں کیوں نہ ہو)، جبکہ جیل سے باہر خونخوار بھیڑیوں کی دنیا ہے جو تمھیں کانٹ کھائیںگے۔ تو پھر ایسے ماحول میں پلنے والے بچوں کی حالت ان سے مختلف نہیں ہوگی جو ہمارے معاشرہ میں خود کو خودکش بموں میں اُڑا دیتے ہیں۔ پھر آزادی تو درکنار آزادی فکر کے مفہوم ہی سے وہ ناآشنا رہیں گے۔]۔


دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن یہ الگ الگ افراد کی دولت تھی۔ 172
۔[اس 'دولت' کو اگر 'محنت' سے تبدیل کیا جائے تب بھی غلط نہ ہوگا۔]۔



تاجر
محنت کا اضافہ۔۔۔ اس نے ایک ایسے طبقے کو جنم دیا جو عمل پیداوار میں قطعی کوئی حصہ نہیں لیتا اور محض پیداوار کا تبادلہ کیا کرتا ہے۔ یہ تاجروں کا طبقہ ہے۔ ۔۔۔ اس نے بحیثیت مجموعی پیداوار کے سارے انتظام کو اپنے قبظے میں کرلیا اور پیدا کرنے والوں کو اقتصادی طور پر اپنی حکمرانی میں لے لیا۔ یہ ایسا طبقہ ہے جو دو قسم کا مال پیدا کرنے والوں کے درمیان کی ایک ضروری اور لازمی کڑی بن جاتا ہے اور دونوں کا استحصال کرتا ہے۔ پیدا کرنے والوں کے تبادلے کی پریشانی اور اس کے خطروں سے بچانے کے بہانے، ان کے مال کے لیے دور دور کے ملکوں میں منڈی تلاش کرنے کے بہانے اور اس طرح سماج کا سب سے کارآمد طبقہ ہونے کا دعویٰ کرکے طفیلیوں کا ایک طبقہ سامنے آتا ہے۔ یہ سچ مچ سماجی سالیسوں کا گروہ ہے جو حقیقت میں نہایت معمولی خدمتوں کے عوض ملک کے اندر اور باہر کی پیداوار کا سب اچھا حصہ دودھ کے بالائی کی طرح خود نکال لیتا ہے، تیزی سے کثیر دولت کا مالک بن بیٹھتا ہے اور اسی کی مناسبت سے سماجی اثر پیدا کرتا ہے اور اسی وجہ سے تمدن کے عہد میں اسے نت نئے اعزاز ملتے رہتے ہیں اور پیداوار پر اس کی گرفت زیادہ سخت ہوتی جاتی ہے حتی کہ آخر میں وہ خود بھی اپنی ایک چیز پیدا کرتا ہے، میعادی تجارتی بحران۔ 175



تجارت کی توسیع، سکہ کا چلن، سودخوری، زمین پر نجی ملکیت اور رہن کا رواج۔ ان سب چیزوں کے ساتھ ایک طرف ایک چھوٹے سے طبقے کے ہاتھ میں دولت کا اجتماع اور ارتکاز ہوتا رہا اور دوسری طرف عام لوگوں کا افلاس بڑھتا گیا۔ اور گداگروں اور مفلسوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ 177



اس اقتدارِ عامہ کو قائم رکھنے کے لیے شھریوں سے پیسہ وصولنا یعنی ٹیکس لینا ضروری ہوگیا۔ 180

۔[ریاست خود کو چلانے کے لیے ٹیکس وصولی کرتی تھی، پر کمینوزم ٹیکس وصول نہیں کریں گی، بلکہ وہ آپ سے آپ کا سب کچھ وصول کرےگی تاکہ ٹیکس جیسی چیز کی نوبت ئی نہ آئے۔]۔


چونکہ ریاست طبقاتی تضاد کو دبائے رکھنے کی ضرورت سے پیدا ہوئی لیکن اسی کے ساتھ وہ ان طبقوں کی کشمکش کے دوران پیدا ہوئی، اس لیے وہ عام طور پر سب سے زیادہ طاقتور، اقتصادی طور پر سب سے زیادہ ذی اقتدار طبقہ بن جاتا ہے اور اس طرح مظلوم طبقے کو دبائے رکھنے اور اس کا استحصال کرنے کے نئے ذرائع حاصل کرتا ہے۔ 181



تاریخ میں ابھی تک جتنی ریاستیں ہوئی ہیں، ان میں زیادہ تر شہریوں کو ان کی دولت کے مطابق کم یا زیادہ حقوق دئیے جاتے ہیں۔ اس سے یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ ریاست ملکیت والے طبقوں کی ایک تنظیم ہے جو محروم ملکیت طبقے سے ان کی حفاظت کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ 182

ریاست کی اعلٰی ترین شکل یعنی جمہوری ریپبلک جو سماج کے موجودہ حالات میں روز بروز ایک لازمی ضرورت ہوتی جا رہی ہے اور جو ریاست کی وہ تنہا صورت ہے جس میں پرولتاریہ اور برژوا طبقے کی آخری فیصلہ کن جدوجہد ہوسکتی ہے۔ وہ جمہوری ریپبلک سرکاری طور پر ملکیت کے فرق کو نہیں مانتی۔ اس میں دولت بالواسطہ طریقے سے مگر اور بھی زیادہ کارگر ڈھنگ سے اپنا اثر ڈالتی ہے۔ ایک تو دولت سے سرکاری عہدیداروں کے سیدھے سیدھے رشوت دی جاتی ہے۔ اس کی ٹھیٹ مثال امریکہ ہے۔ دوسرے، حکومت اور سٹاک ایکسچینج میں گٹھ بندھن ہوجاتا ہے۔ 182


ریاست Antique
جوسماج مال پیدا کرنے والوں کے آزاد اور مساوی تعاون کی بنیاد پر پیداوار کو منظم کرےگا وہ سماج ریاست کی پوری مشین کو اٹھا کر وہاں رکھ دے گا جہاں تب اس کا رکھا جانا زیب دے گا، یعنی وہ ریاست کو ہاتھ کے چرخے اور کانسے کی کلہاڑی کی طرح آثارِ قدیمہ کے عجائب گھر میں رکھ آئے گا۔ 183



انسان نے ابھی تبادلہ شروع ہی کیا تھا کہ اس کا بھی تبادلہ کیا جانے لگا۔ 185


تمدن کا عہد جنس تبادلہ کی پیداوار کی جس حالت سے شروع ہوا اس کی اقتصادی خصوصیتیں یہ تھیں: ۱۔ دھات کے بنے ہوئے سکے استعمال ہونے لگے تھے اور اس لیے زر کی شکل میں سرمائے کا، سود اور سودخوری کا رواج بھی ہوچکا تھا۔ ۲۔ پیدا کرنے والوں کے بیچ میں تاجر درمیانی آدمی کا کام کرنے لگے تھے۔ ۳۔ زمین پر افراد کی نجی ملکیت قائم ہوگئی تھی اور ہن کا رواج ہوچکا تھا۔ ۴۔ پیداوار کی مروجہ شکل غلاموں کی محنت تھی۔ تمدن کے عہد سے مطابقت رکھنے والی خاندان کی شکل جو اس عہد میں یقینی طورپر مروجہ شکل بن چکی تھی، یک زوجگی ہے جس میں عورت پر مرد کا غلبہ ہوتا ہے اور الگ الگ ہر خاندان سماج کی اقتصادی اکائی ہوتا ہے۔ متمدن سماج کو باندھ کر رکھنے والی قوت ریاست ہے، جو ہر نمائندہ عہد میں محض حکمراں طبقے کی ریاست ہوتی ہے اور جو بنیادی طور پر ہمیشہ مظلوم اور استحصال کیے جانے والے طبقے کو دبا کر رکھنے والی مشین کا کام کرتی ہے۔ تمدن کی دوسری خصوصیتیں یہ ہیں: سماجی محنت کی پوری تقسیم کی بنیاد کے طور پر شہر اور دیہات میں مستقل تصاد قائم ہوجاتا ہے۔ دوری طرف وصیت ناموں کا رواج ہوجاتا ہے جس کے ذریعے جائیداد کا مالک اپنی موت کے بعد بھی اپنی جائیداد کو جسے چاہے دے سکتا ہے۔ یہ رواج جس نے قدیم گن دستور پر براہ راست کاری ضرب لگائی، سولون کے زمانے تک ایتھنز میں نہیں پایا جاتا تھا۔ روم میں بہت شروع میں ہی اس کا رواج ہوگیا تھا لیکن ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ کب۔ جرمنوں میں وصیت کو پادریوں نے رواج دیا تاکہ بھولے بھالے خوش عقیدہ جرمن بلا کسی دشواری کے اپنی جائیداد کلیسا کو دے جائیں۔ 186


سائنس اور فن
اگر نصب العین کو پورا کرنے کی کوشش کے دوران میں سائنس نے زیادہ سے زیادہ ترقی کی اور فن کے انتہائی عروج کے دور بھی بار بار آتے رہے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ دولت بٹورنے میں آج جو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ سائنس اور فن کی ان کامیابیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔ 186-187

Wednesday, January 26, 2011

IKIK-Excerpts-10-Khird Afrozi

۹باب۔
دنیائے اسلام میں خرد افروزی کی ضرورت

موالی
۔۔ محدّثین کے فکری احتساب کے باوجود عقلی علوم کی اشاعت کو روکا نہ جاسکا۔ بنواُمیہ کو عسکری مہمات اور سیاسیات کے علاوہ کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ اس لئے علوم و فنون کی پرورش ایرانی موالیوں کے ہاتھوں ہوئی۔ رفتہ رفتہ یہ حالت ہوگئی کہ نقلی علوم کی اجارہ داری بھی موالیوں کو حاصل ہوگئی۔ چناچہ حدیث، اسماءالرجال، فقہ، لغت، سیروسوانح، صرف و نحو کے مشاہیرِ ائمہ بھی ایرانی نژاد ہی دکھائی دیتے ہیں۔ 216


۔۔ علامہ زمخشری جن کی تفسیر کشاف گھر گھر پھیلی ہوئی ہے، چونکہ معتزلی تھے، اپنے ملک میں چین سے رہنے نہیں پائے تھے۔ مجبوراً مکہ چلے گئے۔ 219


۔۔ امام غزالی نے کسی زمانے میں ابن سینا اور اخوان الصفا کی تکفیر کی تھی بعد میں ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے فقہاء نے خود امام غزالی کی کافر قرار دیا۔ کہ انھوں نے مسائل شرعیہ کے اثبات میں عقلی استدلال کیا تھا۔ خرد دشمنی کا یہ سلبی رجحان مکاتب و مدارس کے دوش بدوش صوفیہ کی خانقاہوں اور زادیوں میں بھی پروان چڑھتا رہا۔ خرد دشمنی اور تصوف شروع سے لازم و ملزوم رہے ہیں۔ صوفیا اس عقیدے کی تبلیغ بڑے شدومد سے کرتے رہے ہیں کہ صرف مکاشفہ ہی سے حقیقت کا ادراک ممکن ہے یہ بات عقل و خرد کے بس کی نہیں ہے، متکلمین نے عقل کو علم کلام کی کنیز بنادیا تھا۔ صوفیہ نے اسے کشف و اشراق کی غلامی میں دے دیا۔ 222-223


۔۔ سائنس کے انکشافات اور فلسفہ جدید کے اجتہادات کو ذہنی طور قبول کرنے کے بجائے ہمارے متکلمین نے دوبارہ قدیم متکلمین کی کتابوں کی طرف رجوع کیا۔ 223
اس دور کے عقدوں کو سلجھانے کے لئے ان قدیم تصانیف سے رجوع لانا گویا ایک ممّی کا خون کسی زندہ شخص کے جسم میں داخل کرنا ہے۔ 224
____________________________

IKIK-Excerpts-09-Islaaf Parasti

اقبال کا علم کلام
باب ۸
علم کلام کے اثرات و نتائج

پدرِمن سلطان بود!۔
۔۔ اقبال نے جدید فلسفے اور سائنس کے افکار بالخصوص برگساں، لائڈمارگن اور الگزنڈر کے ارتقائی نظریات اور آئن شٹائن کے نظریہ اضافیت کے مآخذ قرآن اور قدماء کی کتابوں میں تلاش کرنا شروع کئے۔ ہندوستان آزاد ہوتا تو جاپانیوں کی طرح اہلِ ہند بھی حال کے تقاضوں کو ماضی کی روایات پر قربان نہ کرتے اور نئی قدروں کو شکستہ پیمانوں سے جانچنے کی کوشش نہ کرتے لیکن غلامی کی حالت بے بسی کی حالت تھی۔ اس لئے حقائق کی تلخی سے گریز کرکے بزرگوں کع عظیم کارنامے گنانا اہلِ علم کا محبوب مشغلہ قرار پایا۔ 194


۔۔ سائنس فرنگی زاد نہیں ہے لیکن اسے عربی زاد بھی نہیں کہا جاسکتا۔ 198
۔(ہر بزرگی اپنی ہی کوشش سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ آباؤاجداد کا نام لینے سے اور آباؤاجداد بھی نام لینے کے قابل جبھی ہوتے ہیں کہ ان میں شرافت ہو)۔ 198


۔۔ جس طرح علمِ کلام نے دنیائے اسلام میں فلسفے کا خاتمہ کردیا تھا، اسی طرح شبلی نعمانی کی مقصدی تاریخ نویسی نے تاریخ کو اپنے مقام سے گِرادیا۔ 199


۔۔ مقصدی تاریخ نویسی کا ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے، ہمارے مؤرخینِ تاریخ تمدّن پر قلم اٹھاتے ہیں تو اس کا آغاز صدرِاسلام سے کرتے ہیں اور ماقبل اسلام سارے زمانے کو دورِ جاہلیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا آغاز سید امیر علی کی تاریخ اسلام سے ہوا تھا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ظہورِ اسلام کے وقت اکثر متمدن اقوام تنزّل کا شکار ہوچکی تھیں، چھٹی اور ساتویں صدیاں (ق۔م) اس ہمہ گیر زوال کی آئینہ دار ہیں لیکن ولادت جناب مسیح سے کم و بیش چار ہزار برس قبل سے لے کر تیسری صدی بعد از مسیح تک اور، مصر، بابل، اشوریا، فینیقیہ، کریطس، یونان، رُوم، چین اور ہند میں مختلف تمدن اپنی اپنی بہار دیکھ چکے تھے۔ اور ان اقوام کے علمی و فنی کارناموں نے نوعِ انسان کی تمدنی میراث کو مالامال کر دیا تھا۔ سُمیریوں نے سب سے پہلے دن رات کو چوبیس گھنٹوں میں تقسیم کیا، ہفتے کے سات دن اور مہینے کے تیس دن قرار دئیے، تحریر کا فن ایجاد کیا۔ بابل اور اشوریا میں علمِ ہئیت کی بنیاد رکھی گئی۔ مصریوں نے ریاضی، ہندسہ، جرثقیل، موسیقی، تعمیر اور مجسمہ تراشی کے علوم و فنون کو ترقی دی۔ فینیقیوں نے حروفِ ابجد کو ترتیب دے کردنیائے علم میں انقلاب برپا کیا۔ نیز جہازرانی اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا۔ یونانیوں نے کائنات کے مظاہر میں محققانہ غوروفکر کا آغاز کیا۔ نظری سائنس اور فلسفے کی تاسیس کی اور ڈرامہ اور مجسمہ تراشی کی تکمیل کی۔ رومیوں اور ایرانیوں نے مُلک داری اور جہانبانی کے اُصول وضع کئے اور مختلف اقوام پر حکومت کرکے ان میں لچک اور وسعت پیدا کی۔ چینیوں نے کاغذ، بارود، چھاپہ خانہ اور قطب نما کی ایجادات پیش کیں۔ مقابلے کے امتحان شروع کئے، کاغذ کا سَکّہ چلایا اور ریشم بنانے کا فن سکھایا۔ ہندیوں نے کسرِاعشاریہ اور ہندسوں سے عربوں کو روشناس کرایا۔ القصہ سُمیریوں سے لے کر ظہورِ اسلام تک کم و بیش پانچ برس تک یہ مختلف تمدن فروغ پاتے رہے اور مِٹ مِٹ کر ابھرتے رہے۔ جب عربوں نے ایران، شام، مصر، شمالی افریقہ اور ہسپانیہ کے ملک فتح کئے تو ان قدیم تمدنوں کی علمی، فنی، صنعتی، سیاسی اور اقتصادی روایات ان کو ورثے میں ملیں۔ ان تمدنوں کو انسان کے زمانہ جالہیت سے تعبیر کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہمارے مؤرخین تاریخِ تمدن سے نا آشنا ہیں۔ یا شاید ہے کہ ان تمدنی روایات کا ذکر کیا گیا تو مسلمانوں کے کارنامے ماند پڑجائیں گے۔ 200-201


۔۔ بردہ فروشی ۔۔۔ 202

۔۔ سرسیداحمدخاں اور اقبال جیسے زعمائے ملت نے بھی عورت کی اعلیٰ تعلیم کی مخالفت کی ہے۔ 203

اسلاف پرستی
۔۔ اسلاف پرستی کا ایک نتیجہ جو ہمارے خیال میں سب سے زیادہ اندیشہ ناک ہے، خود اطمینانی اور زعمِ بےجا کی صورت میں رونما ہوا ہے۔ ہر شخص اپنی عظمتِ رفتہ کے تصور میں مگن ہے۔ اُسے اس بات کا یقین دلایا گیا ہے کہ اہلِ مغرب فلسفہ و سائنس کی دنیا میں لاکھ انکشافات و اجتہادات کرتے رہیں ان کے تمام کارنامے بہرصورت ہماری ہی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ اور ان کی حکمت و دانش ہماری ہی متاعِ گم گشتہ ہے جو سُوءِ اتفاق سے اُن کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ اہلِ مغرب جب کوئی ایجاد کریں گے ہم جھٹ اس کا کھوج اپنی کتابوں میں لگا لیں گے۔ ہمیں تحقیق و کاوش کی ضرورت ہی کیا ہے۔ سائنس کے عقدے پر برسوں محنتِ شاقہ برداشت کرنا فعلِ عبث ہے، جبکہ ہم لُغت کی کتاب سامنے رکھ کر کسی نہ کسی لفظ کا کوئی نہ کوئی معنی ضرور ایسا پالیں گے جو سائنس کے تازہ ترین انکشافات کا ماخذ ثابت ہوگا۔ اس طرح علمِ کلام نے صدیوں سے ہماری ذہنی سہل انگاری اور تن آسانی کی پرورش کی ہے۔۔ 204


۔۔ اسٹرونومی کا مطالعہ انسان کو پست ہمت کردیتا ہے، میں ہمیشہ نوجوانوں کو اس سے منع کرتا ہوں (اقبال)
مسلمانوں کو موجودہ حالات میں فلسفے اور لٹریچر کی چنداں ضرورت نہیں۔
اقبال کے خیال میں یہ چیزیں خودی کو کمزور کرتی ہیں اور جوشِ عمل اور یقین محکم کے ضعف کا باعثِ ہوتی ہیں۔ 206


نظریاتی و تجرباتی سائنس
۔۔ شیخ محمد اکرام فرماتے ہیں : "جدید فلسفے کو اخذ کرنے کی اتنی ضرورت نہیں جتنی جدید سائنس اور صنعت و حرفت کی۔"
اگر ہمیں مغرب سے صرف تکنیکی سائنس اخذ کرنے کی ضرورت ہے تو اس کا مطب یہ ہوا کہ ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مغرب کی تکنیکی غلامی قبول کرنا پڑے گی کیونکہ جب تک ہم فطری سائنس کی تحصیل نہیں کرے گے ہم تکنیک میں بطور خود کوئی ایجان نہیں کرسکیں گے۔ اور اگر ہم جدید فلسفے کی تحصیل نہیں کریں گے تو وہ وسعتِ نظر، وہ اجتہادِ فکر، وہ ذوقِ تجسس کہاں سے ائےگا۔ جو سائنس کے فروغ کا باعث ہواکرتا ہے۔
بنوعباس کے دورِ حکومت میں بھی ہمارے سائنسدانوں نے فقہأ کے خوف سے نظری سائنس کو فروغ دینے سے گریز کیا تھا اور ان کی تمام سائنسی سرگرمیاں کیمیا اور علم المناظر کے تجربات تک محدود ہوکر رہ گئی تھیں۔ نظری سائنس کو تجرباتی سائنس سے جُدا کرنے کا یہ تنیجہ ہو کہ عرب سائنس دان ہُنرور اور کاریگر بن کر رہ گئے۔ 207-208


۔۔ چند کلوں کی ساخت کو سمجھ لینے اور انھیں چلانے کا فن سیکھ لینے سے ہم ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتے۔ زمانے کا تقاضا یہ ہے کہ اربابِ وطن کے طرزِ فکر و نظر میں تبدیلی پیدا کی جائے اور ان کے علمی تجسس اور تحقیق کی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا جائے۔ 208


۔۔ اقبال بالطبع شاعر تھے اور اس میں شک نہیں کے وہ بہت بڑے شاعر تھے۔ (جلالپوری) ۔ 211

Friday, November 13, 2009

Type Zero Civilization

According to Physicists, Astronomers Human Civilizations are categorized in type 0, 1, 2, 3 and now 4 on the base of amount of usable energy a civilization has at its disposal, and the degree of space colonization.



But WE are still living in Type 0 Civilization (0.73 precisely on Kardeshev Scale)
Theory is basically proposed by the Soviet Russian astronomer Nikolai Kardashev in 1964. In general terms, a Type 1 civilization has achieved mastery of the resources of its home planet, Type 2 of its solar system, and Type 3 of its galaxy. Human civilization is currently below Type 1, as it is able to harness only a portion of the energy that is available on Earth.
But soon (within 100 years according to Kaku) we will transit to type 0 to type 1, But this transition will be fatal, and in this transition Earth will become Lifeless ...

Sagan used the formula:
Japanese-American theoretical physicist Michiuo Kaku says that the transition form type 0 to type 1 civilization could the most dangerous period that a civilization can face, mathematicians says that could be thousands of Type 1 Civilization in the galaxy, and if is so, why we have not seen them yet?

Kaku says that in one hand we have cultural tolerance, a good scientific growth, integration, but in other hand we have nuclear weapons, terrorism that works as obstacles to reaching Type I Civilization status. Perhaps no other civilization could make it to transform itself from a Type 0 into a Type I.

"In an interview with local media, Dr Kaku elaborated on his vision of mankind's future. Kaku considers terrorism one of the main threats in man's evolution from a Type 0 civilization to Type 1." (http://en.wikipedia.org/wiki/Michio_Kaku)

If we are to continue to survive and evolve as a species, we must strive to control the planetary forces critical for our survival.
According to Michio Kaku, we are only 1 or 2 hundred years away from becoming a Type-1 civilization.
This will not happen unless we start now; otherwise we will go the way of all species that lose their niche.

Kaku defines:
A Type 1 civilization as one that is truly a planetary society, who has mastered all forms of terrestrial energy. Their energy output is much greater than ours. It would take at least 3,200 years to reach Type 2.

A Type 2 civilization is a civilization who have an energy output of a small star. They would be so advanced that they could build a sphere around their planet to maximize their energy output.

A Type 3 civilization is so advanced that they have begun colonizing other star systems. Their energy output is massive compared to ours. A civilization this advanced would be able to bend space and time at will. They would probably be capable of interdimensional travel and even time travel.

So where are we here on planet Earth? Well, we are Type 0. We still get our energy from dead plants. Pretty pathetic, if you ask me. I could only imagine what an advanced alien civilizations thinks of us. With our racism, wars, and class struggles we will be luck if we ever get to a Type 1. At the current rate, in my opinion the human race is headed toward extinction. ...


_____________________________________________

Toward a Type 1 civilization

by Michael Shermer, LA Times

Along with energy policy, political and economic systems must also evolve.

Our civilization is fast approaching a tipping point. Humans will need to make the transition from nonrenewable fossil fuels as the primary source of our energy to renewable energy sources that will allow us to flourish into the future. Failure to make that transformation will doom us to the endless political machinations and economic conflicts that have plagued civilization for the last half-millennium.

We need new technologies to be sure, but without evolved political and economic systems, we cannot become what we must. And what is that? A Type 1 civilization. Let me explain.

In a 1964 article on searching for extraterrestrial civilizations, the Soviet astronomer Nikolai Kardashev suggested using radio telescopes to detect energy signals from other solar systems in which there might be civilizations of three levels of advancement: Type 1 can harness all of the energy of its home planet; Type 2 can harvest all of the power of its sun; and Type 3 can master the energy from its entire galaxy.

Based on our energy efficiency at the time, in 1973 the astronomer Carl Sagan estimated that Earth represented a Type 0.7 civilization on a Type 0 to Type 1 scale. (More current assessments put us at 0.72.) As the Kardashevian scale is logarithmic -- where any increase in power consumption requires a huge leap in power production -- we have a ways before 1.0.

Fossil fuels won't get us there. Renewable sources such as solar, wind and geothermal are a good start, and coupled to nuclear power could eventually get us to Type 1.

Yet the hurdles are not solely -- or even primarily -- technological ones. We have a proven track record of achieving remarkable scientific solutions to survival problems -- as long as there is the political will and economic opportunities that allow the solutions to flourish. In other words, we need a Type 1 polity and economy, along with the technology, in order to become a Type 1 civilization.

We are close. If we use the Kardashevian scale to plot humankind's progress, it shows how far we've come in the long history of our species from Type 0, and it leads us to see what a Type 1 civilization might be like:



Type 0.1: Fluid groups of hominids living in Africa. Technology consists of primitive stone tools. Intra-group conflicts are resolved through dominance hierarchy, and between-group violence is common.

Type 0.2: Bands of roaming hunter-gatherers that form kinship groups, with a mostly horizontal political system and egalitarian economy.

Type 0.3: Tribes of individuals linked through kinship but with a more settled and agrarian lifestyle. The beginnings of a political hierarchy and a primitive economic division of labor.

Type 0.4: Chiefdoms consisting of a coalition of tribes into a single hierarchical political unit with a dominant leader at the top, and with the beginnings of significant economic inequalities and a division of labor in which lower-class members produce food and other products consumed by non-producing upper-class members.

Type 0.5: The state as a political coalition with jurisdiction over a well-defined geographical territory and its corresponding inhabitants, with a mercantile economy that seeks a favorable balance of trade in a win-lose game against other states.

Type 0.6: Empires extend their control over peoples who are not culturally, ethnically or geographically within their normal jurisdiction, with a goal of economic dominance over rival empires.

Type 0.7: Democracies that divide power over several institutions, which are run by elected officials voted for by some citizens. The beginnings of a market economy.

Type 0.8: Liberal democracies that give the vote to all citizens. Markets that begin to embrace a nonzero, win-win economic game through free trade with other states.

Type 0.9: Democratic capitalism, the blending of liberal democracy and free markets, now spreading across the globe through democratic movements in developing nations and broad trading blocs such as the European Union.

Type 1.0: Globalism that includes worldwide wireless Internet access, with all knowledge digitized and available to everyone. A completely global economy with free markets in which anyone can trade with anyone else without interference from states or governments. A planet where all states are democracies in which everyone has the franchise.

The forces at work that could prevent us from making the great leap forward to a Type 1 civilization are primarily political and economic. The resistance by nondemocratic states to turning power over to the people is considerable, especially in theocracies whose leaders would prefer we all revert to Type 0.4 chiefdoms. The opposition toward a global economy is substantial, even in the industrialized West, where economic tribalism still dominates the thinking of most politicians, intellectuals and citizens.

For thousands of years, we have existed in a zero-sum tribal world in which a gain for one tribe, state or nation meant a loss for another tribe, state or nation -- and our political and economic systems have been designed for use in that win-lose world. But we have the opportunity to live in a win-win world and become a Type 1 civilization by spreading liberal democracy and free trade, in which the scientific and technological benefits will flourish. I am optimistic because in the evolutionist's deep time and the historian's long view, the trend lines toward achieving Type 1 status tick inexorably upward.

That is change we can believe in.


Michael Shermer is an adjunct professor in the School of Politics and Economics at Claremont Graduate University, the publisher of Skeptic magazine and a monthly columnist for Scientific American. His latest book is "The Mind of the Market."

______________________________________

--> So will we ever succeed to transit to type 1 ?
--> Or Life after Qayamt is actually type 2..3 civilizations ...?
--> Are aliens (some kind of species who), were created first, tested, and resurrected... and living now in type 2/3 civilizations ... and sometimes visit us to check how we are going !!!
--> Is this last century ???

______________________________________
Further Readings:

http://en.wikipedia.org/wiki/Kardashev_scale
http://richarddawkins.net/articles/2899
http://www.scienceagogo.com/
civilization in 3 steps
Toward a Type 1 Civilization
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...