FIKRism

Showing posts with label Ali Abbas Jalalpuri. Show all posts
Showing posts with label Ali Abbas Jalalpuri. Show all posts

Tuesday, November 29, 2011

RASOOM-E-AQWAM

RASOOM-E-AQWAM
by Ali Abbas Jalalpuri
1983


رسومِ اقوام

علی عباس جلالپوری
1983

۔مشمولات:۔
۔۱۔ ولادت
۔۲۔ بلوغت
۔۳۔ بیاہ
۔۴۔ طلاق
۔۵۔ موت
۔۶۔ مذہبی رسمیں
۔۷۔ اجداد پرستی
۔۸۔ صائبیت
۔۹۔ لنگ پوجا
۔۱۰۔ ناگ پوجا
۔۱۱۔ قربانی
۔۱۲۔ کھانا پینا
۔۱۳۔ چائے، کافی
۔۱۴۔ پان
۔۱۵۔ تمباکو
۔۱۶۔ منشیات
۔۱۷۔ لباس
۔۱۸۔ وضع قطع، زیبائش
۔۱۹۔ آداب و اطوار
۔۲۰۔ طبقاتِ معاشرہ
۔۲۱۔ تفریحات
۔۲۲۔ تہوار
۔۲۳۔ شاہیت
۔۲۴۔ جرم و سزا
۔۲۵۔ بردہ فروشی
۔۲۶۔ بنج بیوہار
۔۲۷۔ توہمات
۔۲۸۔ عصمت فروشی
۔۲۹۔ سادھو، سنت، فقیر
۔۳۰۔ طب
۔۳۱۔ حمام
۔۳۲۔ ٹے بُو
۔۳۳۔ ضمیمہ


دنیا کی رسم و رواج، خصوصاً سندھ و پنجاب کے رسم و رواج، ان کا سببِ ابتداء اور موجودہ زمانے میں ان کی معدومیت پر چھوٹی سی پر جامع کتاب۔




۔اقتباسات:۔

میری انتوانت
۔۔ نپولین سے پہلے فرانس میں رواج تھا کہ ملکہ برسرِ عام بچہ جنتی تھی۔ وضع حمل کے وقت محل کے دروازے کھول دیئے جاتے اور عورتیں مرد اندر ہجوم کر آتے، ملکہ میری انتوانت نے اِسی عالم میں سیکڑوں لوگوں کے سامنے بچے کو جنم دیا تھا۔ خیال یہ تھا کہ کسی کو یہ شک نہ ہو کہ بچہ بادشاہ کا نہیں ہے کسی دوسرے کا لاکر رکھ دیا ہے۔ 18

رُستم
۔۔ فردوسی شاہنامہ میں لکھتا ہے کہ پیدائش کے وقت رُستم غیر معمولی طور پر فربہ تھا جس سے وضع حمل میں بڑی دقت پیش آئی اور اُس کی ماں درد کی شدت سے نیم جاں ہوگئی۔ آخر خدا خدا کرکے بچہ پیدا ہوا تو اُس کی ماں نے شکر کرتے ہوئے کہا۔ رُستم "یعنی میں نے رہائی پائی۔" زال نے یہی اپنے بچے کا نام رکھ دیا۔ 18-19


بیاہ
۔۔ علم انسان کے طلبہ بتلاتے ہیں کہ شادی بیاہ کا آغاز پدری معاشرے میں ہوا جو زرعی انقلاب کے بعد صورت پذیر ہوا تھا۔ 27


متعہ
۔۔ بعض اوقات اعراب اپنی بیویاں تبدیل کرلیتے تھے۔ اسے نکاح البدل کہتے تھے۔
ایک نکاح المتعہ تھا یعنی مقررہ مدت کیلئے کسی عورت سے نکاح کرنا۔ اس مدت گزرجانے کے بعد جدائی ہوجاتی تھی۔ اسے صیغہ یا نکاح موقت بھی کہتے تھے، متعہ آنحضرت اور شیخ اول کے زمانے میں رائج تھا۔ شیخ ثانی نے اسے ممنوع قرار دیا لیکن کئی اکابر صحابہ اسے جائز سمجھتے رہے۔
مامون رشید نے متعہ کی حِلت کا علان کروایا تھا۔ جلال الدین اکبر نے ایک مالکی فقیہہ سے فتویٰ لے کر ایک ہی دن میں متعدد عورتوں سے مُتعہ کیا تھا۔ فیروز شاہ بہمنی نے متعہ کے جواز پر سنیوں اور شیعوں میں مباحثہ کرایا۔ شیعوں نے متعہ کی حلت کو ثابت کردیا تو فیروز شاہ نے ایک ہی دن میں تین سو جوان عورتوں سے متعہ کرکے اُنہیں اپنے حرم میں داخل کیا۔ شاہان اودھ واجد شاہ وغیرہ کے محلوں میں سیکڑوں ممتوعات رہتی تھیں۔ 31



۔۔ کالدیا میں مرد اپنی ہی برادری میں نکاح نہیں کرسکتا تھا۔ دوسری طرف بعض قبائل اپنی ہی برادری میں نکاح کرنے پر مجبور تھے، جیسا کہ یھودیوں اور برہمنوں میں رواج ہے۔ ہندوستان میں ذات پات کا ادارہ قائم ہوا تو مرد اپنی ہی ذات یا گوت میں شادی کرنے کا پابند ہوگیا۔ یہ پابندی آج بھی باقی و بحال ہے۔ 31


۔۔ ہندووں اور سکھوں میں رواج تھا کہ کسی عورت کو تصرف میں لانا مقصود ہوتا تو اس پر چادر ڈال دیتے تھے۔ 33
راجہ داھر والی سندھ نے اپنی سگی بہن پر چادر ڈال کر اس سے نکاح کیا۔ 34


ہبتہ النفس
۔۔ ارتھ شاستر میں لکھا ہے کہ کوئی شخص کسی عورت کو دشمنوں کے چنگل سے چُھڑائے یا سیلاب وغیرہ کسی آفت سے بچائے تو اُسے اُس عورت کے ساتھ جنسی ملاپ کا حق مل جاتا تھا۔
مصر جدید کے دیہات میں رواج ہے کہ اگر کوئی کنواری کسی نوجوان کو خلوت میں کہہ دے وھبت لک نفسی (میں نے اپنا آپ تمہیں بخش دیا) تو وہ بغیر گواہوں اور خطبہ نکاح کے خلوت میں جاسکتے ہیں۔ اسے ہبتہ النفس (پنجابی میں تن بخشائی) کہتے ہیں۔ اس کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 35


۔۔ چناچہ رنڈی کا معنیٰ کسبی کا بھی ہے اور بیوہ کا بھی۔ 37


۔۔ مصر میں عروسی کی شب کو لیلۃ الدخلہ کہتے ہیں۔ دُلہا دلہن کو ایک چٹائی پر بٹھا دیا جاتا ہے پھر دلہن کا پیراہن آگے پھیلا کر دُلہا دو رکعت نماز یوں ادا کرتا ہے کہ وہ دُلہن کے دامن پر سجدہ کرسکے۔ 49


برصغیر ہندوپاک کے شمالی مغربی علاقے میں بیاہ کی اکثر رسمیں ہندووں مسلمانوں میں مشترک ہیں بلکہ یہ کہنا قرین صحت ہوگا کہ بہت سی رسمیں ہندووں ہی سے لی گئی ہیں۔ 50


۔۔ مجوسیت میں عورت پر عبادت فرض نہیں ہے گویا اُسے نماز کے قابل ہی نہیں سمجھا جاتا۔ 52


۔۔ اسلام سے پہلے عرب اپنی زوجہ کو تین بار جدا جدا طلاقیں دیا کرتے تھے۔ 53


۔۔ ازروئے شریعت کوئی جرّہ (آزاد عورت) اپنے ہی غلام سے نکاح نہیں کرسکتی۔ 54-55


۔۔ جس طرح بعض سُنی فقہا متعہ کو ناجائز سمجھتے ہیں اسی طرح بعض شیعہ علماء حلالہ کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔ 55


۔۔ میت کو غسل دیتے وقت سنی نیم گرم اور شیعہ ٹھنڈا پانی استعمال کرتے ہیں۔ 58


عدم آباد
۔۔ قدیم مصری اور یونانی بھی ہندووں کی طرح مُردے کے مُنہ میں کچہ سونا یا کوئی سکّہ رکھ دیا کرتے تھے تاکہ عدم کا دریا عبور کرانے والا ملاح کشتی کاکرایہ وصول کرکے روح کو عدم آباد پہنچا دے۔ 59


گنبد
۔۔ فن تعمیر میں گُنبد تعمیر کرنے کا اسلوب بودھوں کی چھتریوں سے مستعار لیا تھا تھا۔ مسلمانوں کی قُبہ پرستی، مزاروں کی زیارت کو جانے اور وہاں منتیں ماننے اور اُن کے قریب اُگے ہوئے پیڑوؤں پر منت کی دھجیاں اور فیتے لٹکانے کی رسمیں بودھوں سے لی گئی ہیں۔ 59-60


ستی
۔۔ ستی کی رسم کا رگ وید میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ یہ رسم سکیتھیوں کے ساتھ ہندوستان میں آئی، سکیتھی اپنے سردار کی موت پر اُس کی زوجہ کو بھی اُس کی نعش کے ساتھ دفن کرتے تھے۔ راجپوت سکیتھیوں کی اولاد تھے۔ برہمنوں نے اُن کا شجرہ نسب سورج دیوتا اور چاند دیوتا سے ما ملایا۔ 63



اجداد پرستی
۔۔ پُرکھوں کی روحوں کی ضیافت بھی قدیم مذاہب سے یادگار ہے۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ دیوالی پر پُرکھوں کی روحیں اپنے اپنے گھر کا چکر لگاتی ہیں۔ اس لئے اس تہوار پر طرح طرح کے پکوان اور مٹھائیاں بنواکر اُن کی ضیافت کی جاتی ہے۔ برہمن منتر پڑھ کر یہ کھانے روحوں کو پہنچاتے ہیں اور پھر خود شکر سیر ہوکر کھاتے ہیں۔ ایران کے مجوسی ہمسپت سیدیا کے ایام میں کھانے پکوا کر دخموں اور گھروں کی چھتوں پر رکھتے ہیں تاکہ مُردے کی روحیں بھوکی پیاسی نہ لوٹ جائیں۔ مسلمان بھی فاتحہ پر روحوں کی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔ قسم قسم کے کھانے دسترخوان پر چُنے جاتے ہیں۔ مُلاجی اور اُن کے شاگرد فاتحہ کا ثواب رُوحوں کہ پہنچاتے ہیں اور کھانے خود کھا کر تن تازہ ہوتے ہیں۔ 71


شماس
۔۔ آفتاب کے پوجاریوں کو شماس کہتے تھے۔ جلال الدین اکبر بھی شماس تھا۔ وہ دن میں چار دفعہ صبح دوپہر شام اور رات کو سورج کی پوجا کرتا تھا۔ 74


صائبین کعبہ کو سورج کی پوجا کا سب سے بڑا مرکز سمجھتے تھے۔۔
کعبہ کی مشرقی دیوار میں ایک سرخی مائل سیاہ پتھر یعنی حجراسود نصب تھا۔۔
یہ پتھر ایک شہاب ثاقب تھا۔ جسے صائبین کے خیال میں سورج دیوتا نے آسمان سے اُن کے لئے بھیجا تھا۔ 75-76


ملتان ۔ مولستھان
۔۔ چاند کا ایک بڑا معبد ملتان ۔۔ اصل مُولستھان یعنی چاند کا مقام ۔۔ میں تھا۔
یہ بت لکڑی سے تراشا گیا تھا جس پر سرخ رنگ کا غلاف منڈھ دیا گیا تھا۔ 77


گاہ
صائیبن سورج کے طلوع و غروب اور اس کی حرکت کے مختلف مراحل کے ساتھ سات نمازیں پڑھتے تھے اور ان میں رکوع و سجود کرتے تھے۔
مجوسیوں کے پانچ نمازیں اُنہیں سے ماخوذ ہیں۔ جنہیں وہ گاہ بھی کہتے ہیں۔ پنج گاہ یا پنج گانہ کے الفاظ پانچ نمازوں کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ 72


۔۔ متھرامت کے پجاری دن میں تین مرتبہ سورج کی عبادت کیا کرتے تھے۔ پہلے پہر مشرق کی جانب مُنہ کرکے، دوپہر کو جنوب کی جانب رُخ کرکے اور شام کو مغرب کا رُخ کرکے رکوع و سجود کیا کرتے تھے۔ 74


جلال الدین اکبر کے لئے ایک زردشتی ایران سے مقدس آگ لایا تھا۔ اس عالم کا نام اردشیر تھا۔ اکبر نے اس آگ کو نورِخداوند سمجھ کر اس کا انتظام شیخ ابوالفضل کے سپرد کیا۔ 75


انصاب ۔ طواف
اسلام کی اشاعت سے پہلے کے عرب جہاں کہیں قیام کرتے وہیں ایک پتھر کھڑا کرلیتے اور اسے دیوتا سمجھ کر اُس کا طواف کرتے اور قربانی کرتے تھے۔ ان پھتروں کا انصاب کہتے تھے۔

طواف سے ایک اور رسم وابستہ ہے۔ ایران اور ترکستان میں کوئی شخص بیمار پڑ جاتا تو غلاموں سے کہتے کہ مریض کے پلنگ کے گرد چکر لگا کر باہر نکل جائیں۔ کہتے تھے باہر جانے والے مرض اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور میرض شفایاب ہوجاتا ہے۔ شاہجہاں بیمار پڑا تو اس کی بیٹی جہاں آراء نے کئی لونڈیوں غلاموں سے کہا کہ بادشاہ کے پلنگ کا چکر لگا کر باہر چلے جائیں۔ گلبدن بیگم لکھتی ہے کہ اُس کا بھائی ہمایوں بیمار پڑگیا۔ اُس کی حالت دگرگوں ہوگئی تو ظہیرالدین بابر نے اضطراب کی حالت میں جناب مولا علی ابن ابی طالب کا تصور کرکے اپنے بیٹے کےپلنگ کا طواف کیا چناچہ ہمایوں شفایاب ہوگیا اوربابر چل بسا۔
یونانی برھنگی کی حالت میں طواف کیا کرتے تھے کیوں کہ ان کے ہاں برھنگی صداقت کی علامت تھی۔
سکندراعظم نے جنگ ٹرائے کے ہیرو اکیلیس کی قبر کا طواف مادر زاد برہنہ ہوکر کیا تھا۔ 79



ڈاڑھی مونچھ
۔۔ رومن کیتولک پادری دھرتی دیوی کے پجاریوں کے طرح ڈاڑھی مونچھ کا صفایا کراتے ہیں، سر کے بال گول تھالی کی شکل میں مونڈواتے ہیں، عمر بھر کنوارے رہتے ہیں، رنگ برنگ کے ریشمیں کپڑے پہنتے ہیں۔۔۔ 78-79


ہندوستان۔ عجائب گھر
۔۔ ہندوستان واحد "مہذب" ملک ہے جہاں انسانی شعور کے ارتقاء کے جملہ مراحل ترتیب وار ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس ملک کو قدیم ترین متول، جادو کے ٹونے ٹوٹکوں، دیومالائی ریتوں، اجدادپرستی، بُت پرستی، قبر پرستی، تبرکات پرستی کے ساتھ ساتھ توہمات و خرافات کا عجائب گھر سمجھا جا سکتا ہے جس کی سیر آنے والے وقتوں میں علم انسان اور تقابلی مذہب کے طلبہ کے لئے دلچسپی کا باعث ہوتی رہے گی۔ 83


بت ۔ بُدھ
۔۔ بودھوں نے گوتم بُدھ کے بت تراشنا شروع کئے جیسا کہ گندھارا فنِ سنگ تراشی سے مفہوم ہوتا ہے۔ یاد رہے لفظ بُت بُدھ ہی کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ 84



ممنوعہ پھل
۔۔ بنو اسرائیل کے ہاں ناگ خرد و دانش کا نشان بھی تھا جس نے حوا کو شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کی ترغیب دی تھی۔ اُن کے خیال میں ممنوعہ پھل کھانا آدم اور حوا کا جنسی مقاربت کرنا ہی تھا۔ 89


گندم
۔۔ گندم اُگانے کا راز سب سے پہلے عورت نے عراق میں دریافت کیا جہان یہ پودا وسطی ایشیا، شمالی افریقہ اور یورپ کو پہنچا۔ باغ عدن کی روایت دوآبہ دجلہ و فرات ہی سے وابستہ ہے۔ 96



چاول
چاول وادی سندھ سے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو گیا۔ دنیا میں سب سے پہلے اسی وادی میں پہلے چاول کی کاشت کی گئی تھی۔ ہڑپا اور موئن جو دڑو کے کھنڈروں سے چاول کے دانے دستیاب ہوئے ہیں۔ 97



گوشت
۔۔ گوشت انسان کی اولین غذائوں میں سے ایک ہے۔ اس کی دو معروف قسمیں ہیں، سُرخ اور سفید، گائے، بیل، بکرے، دنبے، بھیڑ کا گوشت سُرخ کہلاتا ہے۔ سفید گوشت مُرغے، تیتر وغیرہ پرندوں کا ہوتا ہے جو زیادہ زُود ہضم اور مُقوی ہوتا ہے۔ 98


۔۔ برہمن گوشت اور انڈا نہیں کھاتے حتی کہ شلجم سے بھی پرہیز کرتے ہیں کہ اس کا رنگ گوشت جیسا ہوتا ہے۔ 99


بُدھ کی موت
ہندوؤں کے برعکس بودھ شروع سے گوشت کھاتے رہے ہیں۔ خود گوتم بُدھ کی موت سور کا گوشت زیادہ مقدار میں کھالینے سے ہوئی تھی۔ 99


سموسہ
سنبوسہ (سموسہ سندھ سے لیا گیا تھا)۔ 101


چھری کانٹا
۔۔ مغربی ممالک میں ۔۔ چُھری کانٹا کا رواج وسطی زمانے کے یورپ میں ہوا۔ وینس کے ایک حاکم ڈوگے کی بیوی دومی نیکو سلویا نہایت نازک مزاج تھی۔ کھاتے وقت شوربے سے انگلیاں لتھڑنا یا ہاتھ سے گوشت کے قتلے اُٹھانا اُسے ناگوار گذرتا تھا۔ یہ دیکھ کر اُس کے شوہر نے اُس کے لئے سونے کا ایک کانٹا بنوادیا جس سے وہ کھانے میں کام لینے لگی۔ بعد میں فرانس کے امیر مونتاسیر نے کانٹے پر چُھری کا اضافہ کیا اور یہ طریقہ مغرب میں ہر کہیں پھیل گیا۔ 102


۔۔ کھانے سے پہلے دعا مانگنے کی روایت مصری ہے۔ 102


مفت خور
۔۔ عرب مفت خوروں کو طفیلیہ کہتے تھے۔ کوفہ میں ایک شخص طفیل نامی رہتا تھا جو کسی نہ کسی بہانے دعوتوں میں شریک ہوجاتا تھا۔ اُسی کے نام پر مفت خوروں کا طفیل خوار یا طفیلیہ کہنے لگے۔ 104


چائے
۔۔ چین میں قدیم زمانے سے ناشتے کے ساتھ چائے پی جاتی تھی۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہل کار سترھویں صدی کے اوائل میں چائے کو مغربی ممالک میں لائے۔ اس سے پہلے اہل مغرب ناشتے میں بئیر یا چاکولیٹ پیا کرتے تھے۔ 1645ء میں چائے پینے کا رواج انگلستان بھر میں ہوگیا۔ چین میں چائے اُس پانی کو کہتے ہیں جس میں پتیاں اُبالی جاتی ہیں۔ مغرب میں پتیوں کو چائے کہنے لگے۔
چین اور جاپان میں چائے بغیر شکر اور دودھ کے پی چاتی ہے۔ اس میں دودھ اور شکر ملانے کا رواج ہندوستان میں ہوا۔ 105


پان
۔۔ پان سندھ کے طبیب اسے دربار بنوعباس میں لے گئے جہاں اس میں لونگ کا اضافہ کیا گیا۔ 107


جام جمشید
۔۔ فردوسی کہتا ہے کہ جمشید شاہِ ایران نے شراب کشید کرنے کا طریقہ دریافت کیا اور اس کے پینے کا آداب وضع کئے تھے۔ جامِ جمشید اور جامِ جم کی تلمیح فارسی سے اردو شاعری میں آئی۔ 110


۔۔ سکاٹ لینڈ کی وسکی، روس کی واڈکا، جاپان کی ساکی، انگلستان کی جِن تیز نشہ لاتی ہیں۔ 110


نبیذ
۔۔ عربوں کے ہاں نبیذ پینے کا رواج رہا ہے جو کشمش اور خرما کا غیساندہ ہے۔ ۔۔۔ کہتے ہیں کہ نبیذ حرارت عزیزی کو بحال رکھتی ہے اور بڑھاپے کی کمزوری سے بچاتی ہے۔ عراق کے فقہاء نے نبیذ کی حلت کا فتوی دیا تو اس کے پردے میں شراب نوشی کا رواج عام ہوگیا۔ 111


کپاس
۔۔ کپاس کا پودا سب سے پہلے سندھ میں کاشت کیا گیا۔ موئن جو دڑو اور ہڑپا کپاس بیلنے، سُوت کاتنے اور کپڑا بننے کے مرکز بن گئے۔ ان کا بُنا ہوا سوتی کپڑا عراق کے شہروں کو برآمد کیا جاتا تھا۔ سوتی کپڑا بُننے کی صنعت وادی سندھ ہی سے عراق کو پہنچی تھی۔ 116


۔۔ صلیبی جنگوں سے پہلے عیسائی سلاطین و امراء ننگ دھڑنگ سویا کرتے تھے، شب خوابی کا لباس عربوں کی دیکھا دیکھی اختیار کیا۔ 119


خیاطی در ہند
۔۔ مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندو کمر سے لنگوٹی باندھتے تھے اور ننگے پاؤں ننگے سر رہتے تھے عورتیں ایک بے سلی چادر کمر سے باندھ کر اس کا پلو سر پر ڈال لیتی تھیں۔ اسے ساری کہتے ہیں۔ بابر کی تزک سے معلوم ہوتا ہے کہ ہند میں خیاطی کا ہنر نہیں تھا۔ خیاط مسلمان حملہ آوروں کے ساتھ ایران اور خراسان سے آئے تھے۔ 120


نقاب
۔۔ ایران، خراسان اور ترکستان میں عورتیں چہروں پر نقاب ڈال لیتی تھیں۔ لیکن آنکھیں کُھلی رکھتی تھیں۔ تاجیک عورتیں گھوڑے کی دُم کے بالوں کا نقاب اوڑھتی تھیں جسے رُوبند کہا جاتا تھا۔
پرانے زمانے میں نظر بد سے بچنے کے لئے عورتیں اور خوبصورت مرد نقاب اوڑھا کرتے تھے۔ محمد بن عمرہ کندی شاعر نقاب پہن کر باہر نکلتا تھا۔ امین الرشید نقاب کے بغیر دربار میں نہیں آتا تھا۔ تنجہ اور الجزیرہ کے ملثمین (لثام یا نقاب اوڑھنے والے) کھلے منہ باہر نہیں نکلتے تھے حالاں کہ اُن کی عورتیں کھلے منہ باہر جاتی تھی۔ 120


شلوار
۔۔ شلوار ایران سے آئی، عربوں نے اسے سروال بنالیا، سکھ عورتوں نے سُتھنا کہہ کر اسے اپنا لیا۔ 121


۔۔ انیسویں صدی میں مغربی عورتوں کالباس ٹخنوں تک ہوتا تھا پھر جو گھٹنا شروع ہوا تو بیسویں صدی کے اوائل میں گھٹنوں کے اوپر تک گیا اور اب جنوبی ممالک میں چڈی کی صورت اخیتار کرتا جا رہا ہے۔ 122


۔۔ سکندر اعظم نے تاریخ میں پہلی بار اپنے سپاہیوں کی ڈاڑھیاں مونڈا دیں کہ لڑائی میں ڈاڑھی سے دشمن کے قابو میں نہ آجائیں۔ 124


۔۔ ابن بطوطہ کہتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان عورتیں کان نہیں چھدواتیں جب کہ ہندو عورتیں کان چھدوا کر بالیاں پہنتی ہیں۔ 125


الفیہ
۔۔ کشیدہ قامت عورت (عربوں کی الفیہ یعنی ا کی طرح سیدھی، ایرانیوں کی سروِرواں) جس کے ہاتھ پاؤں چھوٹے چھوٹے اور گداز ہوں خاص طور سے خوبصورت سمجھی جاتی ہے۔ 126


عشق مشک
نپولین کی ملکہ اپنا رومال مُشک میں بسائے رکھتی تھی۔ سیمی رامیس، یزبل، میسالینا، ہیلن، دلائلہ، تائیس، تھیوڈورا، اور کلیوپیٹرا کی بے پناہ جنسی کشش کا راز عطریات ہی میں تھا۔ شیکسپیئر کلوپییٹرا کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ اپنا بدن اور لباس اسقدر مُعطر رکھتی تھی کہ ہوائیں بھی اس کے عشق کی مستی میں گرانبار ہوجاتی تھیں۔ فرانس کی ایک حسینہ جبریلے نے شاہ ہنری چہارم کو پسینہ پونچنے کے لئے اپنا مشک میں بسایا ہوا رومال دیا تو وہ اس کے عشق میں دیوانہ ہوگیا۔ ترکستان اور ایران میں غالیہ، ند، مُر، عود، اور عنبر بہت مقبول خوشبوئیں تھیں۔ 128


کاجل
۔۔ ہمارے ہاں عورتیں زیبائیش کے لئے آنکھوں میں کاجل لگاتی ہیں۔ ابتداء میں کاجل بدروحوں کو بھگانے کے لئے لگایا جاتا تھا۔ 129


مساگ
۔۔ پنجابی عورتیں ہونٹوں اور دانتوں پر اخروٹ کے درخت کی چھال ملتی ہیں جسے سندھ میں مُساگ اور پنجچاب میں چھوڈا یا سکڑا کہا جاتا ہے۔ اس سے دانت صاف ہوکر چمکنے لگتے ہیں اور ہونٹوں پر سرخی کالالکھا جم جاتا ہے۔ 129


مصافحہ
۔۔ قدیم زمانے میں ہاتھ اُٹھا کر یا مصافحہ کر کے ملنے سے یہ جتلانا مقصود ہوتا تھا کہ میرے ہاتھ خالی ہیں اور میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے جس سے کسی قسم کا خطرہ ہوسکتا ہو۔ یہ رواج اُس دور سے یادگار ہے جس ہر وقت ہر شخص سے جان کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔ 130


۔۔ جلال الدین اکبر نے زمین بوس کا رواج دیا یعنی اُس کے سامنے جاکر لوگ زمین چومتے تھے۔ ۔۔۔۔ لکھنو اور دلی میں شرعی سلام علیک ترک کردیا گیا اور ایک دوسرے کو آداب یا تسلیمات کہنے لگے۔ 131


۔۔ چہار زانو نشست کو فرعونی کہا جاتا تھا۔ 132


طبقاتی معاشرہ
۔۔ زرعی انقلاب کے بعد ریاست صورت پذیر ہوئی جس کے ساتھ معاشرہ انسانی مختلف طبقات میں بٹ گیا۔ بادشاہوں اور اُن کے حاشیہ نشینوں نے اقتدار پر قبضہ جمالیا۔ محنت کش کاریگر اور کسان ان کے لئے عیش و عشرت کے سامان فراہم کرنے پر مامور ہوئے۔ اس طرح دو بڑے طبقات معرض وجود میں آگئے۔ سلاطین، اُمراء اور پروھتوں کا طفیل خوار مقتدر طبقہ اور محنت کش عوام جن کا استحصال وہ کرتے تھے۔ قدیم مصر میں فرعون، اُس کے درباریوں اور پروھتوں کا سب سے طاقتور طبقہ تھا۔ اُن کے بعد بتدریج گوالے، سورچرانے والے، تاجر، ملاح اور کسان آتے تھے۔ کنفیوشس نے چین میں جس معاشرے کی طرح ڈالی اۡس میں عالموں کی عظمت قائم کی۔ وہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ان کے بعد کسان، کاریگر اور تاجر تھے۔ تاجروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیوں کہ کاریگر اور کسان محنت مشقت کر کے روزی کماتے ہیں جب کہ تاجر اجناس اور مصنوعات کا محض تبادلہ کرکے دولت سمیٹ لیتے ہیں۔ ۔۔ عرب تجارت کو شریف تریں پیشہ سمجھتے تھے اور کسانوں کے حقیر جانتے تھے۔ 134


۔۔ عربی موسیقی اصلاً عجمی ہے۔ خسروپرویز کے سرباری گویوں بارپد اورنگیسا نے ایرانی موسیقی کو بامِ کمال تک پہنچا دیا۔ نو مسلم عجمیوں نے ایرانی دُھنوں کو عربی اشعار میں منتقل کیا۔ اکابر مغنی سیاط، فلیح، زلزل، ابراہیم موصلی، اسحٰق موصلی، طولیس، زریاب سب عجمی تھے۔ 140


سازینہ یا آرکیسٹرا
۔۔ سازینہ یا آرکیسٹرا سب سے پہلے ہارون الرشید کے عہد میں ترتیب دیا گیا۔ اُس کے سامنے عود، چنگ، صنج اور دف بجانے والی کنیزیں اپنے اپنے ساز لے کر الگ الگ پرلے باندھ کر کھڑی ہوجاتی تھیں اور باری باری یا مل کر اپنے اپنے ساز بجاتی تھیں۔ ۔۔۔
ایک ماہر موسیقار ہاتھ میں قضیب (چھوٹی سی چھڑی) لئے اسے کے اشاروں سے کنیزوں کو ہدایت دیا کرتا تھا۔ جیسا کہ مغرب کے آرکیسٹر میں کنڈکٹر کرتا ہے۔ بعد میں سازینہ کا یہ اسلوب دوسرے ممالک میں بھی رواج پا گیا۔ 141


سرکس کے شیر
۔۔ نواب اور مہاراجے کسی سرکس کا شیر جنگل میں چوڑ دیتے اور صاحب بہادر اُسے مار کر اپنی بہادری کا چرچا کیا کرتے تھے۔ 145


پولو
۔۔ عربوں کے واسطے سے چوگان، یورپ تک پہنچ گیا۔ آج کل اسے پولو کہا جاتا ہے۔ 146


۔۔ فٹ بال اور تاش چین کی دین ہے۔ 146-147


شطرنج
۔۔ شطرنج اصل میں چترانگ (چار پہلو) تھا جو ہندو راجاؤں کی فوج کے چار شعبوں پیدل، پیلا (فیل)، گھڑسواروں اور رتھوں کی رعایت سے ایجاد کیا گیا۔ اس کی ایجاد سندھ کے ایک بودھ سوامی سسّہ سے منسوب ہے۔ نوشیرواں کا وزیر برزویہ اسے ایران لے گیا جہاں سے عربوں نے اسے مغرب تک پہنچادیا۔ بنو عباس شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ ہارون رشید نے ہاتھی دانت کا ایک خوبصورت شطرنج شارلیمان شاہِ فرانس کو بھجوایا تھا جو آج بھی پیرس کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ بعض سلاطین سونے کے جڑواؤ مُہر بنواتے تھے جن میں فیل، گھوڑے، رتھوں اور پیدلوں کی صورتیں بنوائی جاتی تھیں۔
ہندوستان کا منتری ایران جاکر فرزین (مشیر وزیر) بن گیا۔ اہلِ مغرب نے اسے ملکہ بنادیا کیوں کہ ان کے دربار میں ملکہ بادشاہ کے ساتھ تخت پر بیٹھا کرتی تھی اور بڑی صاحبِ اخیتار ہوتی تھی۔ اس کی ایک مثال فرڈینیڈ شاہ ہسپانیہ کی ملکہ ازابیلا پیش کرتی ہے۔ شطرنج کے مُہروں کی چال معین ہے۔ بادشاہ پر کسی مُہرے کی زد پڑے تو کھیلنے والا آواز دیتا ہے "شہ" یا شکست اور بادشاہ کے لئے چال چلنے کا کوئی خانہ نہ رہے تو اسے شہ مات یا مات کہتے ہیں۔ بعض مغل بادشاہ زندہ شطرنج کھیلتے تھے۔ حسین کنیزیں ہتھیاروں سے مُسلح مُہرے بن کر اپنے اپنے خانوں میں کھڑے ہوجاتی تھیں اور تیغ زنی کے جوہر دکھاتی تھیں جب کوئی مُہرہ پٹ جاتا تو اُس کی کنیز بساط سے باہر نکل جاتی تھی۔ شطرنج ایک نہایت پیچیدہ کھیل ہے جس کے عُقدے سُلجھانے پر بہترین دماغوں کا زور صرف ہوتا رہا ہے۔ آج کل روسی عورتیں مرد اس کے بہترین کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کھیل پر بڑی بڑی صخیم کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ 147-148



۔۔ ہمارے ہاں کے بچوں اور بچیوں کے پسندیدہ کھیل: گڑے گڑیا کا بیاہ، آنکھ مچولی، چیل جھپٹّا، باگھ بکری، دب دبولی، کِیڑکڑانگا، گلی ڈنڈا، قاضی مُلّا، سِت کُدی، ٹھیکری مار، شاہ شٹاپوُ، ٹہنا تھال، گیڑیاں، چیچو چیچ گھچولیاں وغیرہ۔ 150


نوروز
۔۔ ایک روایت کے مطابق یہ جشن جمشید نے پہلی بار منایا تھا۔ 151


جرمنی کے بعض دیہات میں کرسمس کے بعد چوتھے روز بچے ماں باپ کی پٹائی کرتے ہیں۔ بلغاریہ میں اس روز نوکر اپنے آقا پر حکم چلاتے ہیں۔ اس سے ملتی چلتی ایک رسم ایران میں تھی جسے مردِ گیراں کہتے تھے۔ ایک روز کے لئے عورتوں کے حکومت مردوں پر قائم ہوجاتی تھی اور مرد کو عورت کی ہر فرمائش پورا کرنی پڑتی تھی۔ 153


بسنت
۔۔ ماگھ کی پانچویں کو بسنت یا بہار کی آمد کاتہوار منایا جاتا ہے۔ چاروں طرف گانے بجانے کی آوازیں آتی ہیں، ایک دوسرے پر گلال پھینکتے ہیں۔ پنجاب میں اس روز رنگ برنگ کی پتنگیں اُڑائی جاتی ہیں۔ بچے جوان بوڑھے پتنگ بازی کے مقابلوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔ عورتیں بسنتی جوڑے یعنی سرسوں کے پھولوں کے رنگ کا زرد بلاس پہنتی ہیں۔ 154


بادشاہ
۔۔ بادشاہوں کی اکثریت کم سواد، بے شعور اور برخود غلط احمقوں پر مشتمل تھی۔ وہ اپنے آپ کو زمین پر خدا کا نائب سمجھتے تھے۔ چنگیز خاں کہا کرتا تھا۔ "اُوپر خدا نیچے خان"۔۔۔ 159


۔۔ جلال الدین اکبر صبح سویرے درشن کے جھروکے میں کھڑا ہوتا تھا اور ہزاروں آدمی اُسے دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑتے تھے۔ 160


سکندر کے سینگ
۔۔ سکندر اعظم اپنے تاج پر مصر کے دیوتا آمن رع کے مقدس بیل کے سینگوں کا نشان پہنا کرتا تھا۔ 160


عمر قید کی سزا
۔۔ (ارتھ شاستر میں قانون کی ایک شق۔۔) کنواری لڑکی جس کی نسبت کہیں نہ ٹھری ہو اگر اپنی مرضی سے کسی شخص کے ساتھ خلوت میں جاتی تو سزا کے طور پر دونوں کو بیاہ کردیا جاتا تھا گویا عمر قید کی سزا دی جاتی تھی۔ 169

۔۔ رومہ میں چوری کی سزا یہ تھی کہ چور موقع پر پکڑا جاتا تو اسے صاحب خانہ کی غلامی میں دے دیا جاتا تھا۔ 170


گوبھی کا پھول
۔۔ اُنیسویں صدی کے اواخر تک انگلستان میں گوبھی کا پھول یا بھیڑ چرانے کی سزا موت تھی۔ بچوں کو بھی معاف نہیں کیا جاتا تھا۔ 170


۔۔ آٹھویں نویں صدیوں میں برہمنوں نے بودھوں کا استحصال اس بے رحمی سے کرایا کہ بُدھ مت جو ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل چکا تھا حرفِ غلط کی طرح مٹادیا گیا۔ بودھوں کے ستوپے اور دیہارے آگ لگا کر خاکستر کردئیے گئے اور بودھوں کو اُونٹتے ہوئے تیل میں پھکوا دیا گیا۔ 170


۔۔ اورنگزیب نے دکن کے شیعہ مملکتوں پر کئی سال حملے جاری رکھے اور انہیں برباد کرکے دم لیا۔ 171


۔۔ مذہبی اختلاف کی بنا پر قتل کرنا زیادہ عبرت ناک ہے کہ اِس جُرم پر قاتل کی ضمیر اُسے پریشان نہیں کرتی۔ 171


۔۔ آقاؤں اور غلاموں کی آویزش بعد میں جاگیرداروں اور مزارعوں کی چپقلش میں بدل گئی۔ 174


مولیٰ/ موالی
۔۔ آزادی خریدنے کے بعد غلام اپنے آقا کا مولیٰ بن جاتا تھا، عرب باپ اور لونڈی ماں کے بیٹے ہجین (دوغلے) کہلاتے تھے جنہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ غلام کو اس کے نام لے کر بلانا معیوب تھا۔ اسے تالی پیٹ کر بلایا کرتے تھے۔ 174-175
مولیٰ کا درجہ حُر اور غلام کے بین بین تھا۔ موالی اپنے آقا کے قبیلے سے وابستہ رہتے تھے۔ 176


۔۔ یونان میں دینار سونے کا اور درہم چاندی کا سکہ تھا۔
درہم کا معنی ہے 'مٹھی بھر' (جَو یا گندم) ایک دینار دس درہم کے برابر تھا۔ 178


روپیہ
۔۔ مُغلوں نے روپیہ (رُوپا بہ معنیٰ چاندی) چلایا جو چالیس دام کے برابر تھا۔
جلال الدین اکبر کے حکم پر ٹنکہ اور مُہر پر تاریخ الف ثبت کرائی گئی۔ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ایک ہزار سال گذر چکے ہیں اور اسلام کا دور گذر چکا ہے، اب دینِ الٰہی کا دور ہے۔ 179


مرزا کا جنازہ
۔۔ بعض اوقات قرض کی وصولی کے لئے مقروض کا جنازہ روک لیا جاتا تھا۔ جب تک گھر والے قرض ادا نہ کرتے جنازہ اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی جیسا کہ مرزا غالب کی وفات پر ہوا تھا۔ 180


وادی سندھ
۔۔ وادی سندھ میں دنیا بھر میں سب سے پہلے چاول اور کپاس کی فصلیں اُگائی گئیں۔ انہیں کشتیوں مین لدوا کر عراق کو برآمد کیا جاتا تھا۔ موئن جو دڑو اور ہڑپا کے شہروں سے سُمیریا کی کچھ مُہریں دستیاب ہوئی ہیں جو سکّوں کے بطور استعمال کی جاتی تھیں۔ دراوڑوں سے جو باٹ ملے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لین دین کے کھرے تھے۔ 180


شمن مت
۔۔ شمن (لغوی معنی بزرگ، سیانا) مت میں علاجِ امراض اور غیب کی حال بتلانے کے لئے روحوں سے رجوع لاتے تھے۔ ترکستان اور ملایا میں شمن انسانوں اور روحوں کے مابین ضروری واسطے سمجھے جاتھے تھے۔ شمن ہمیشہ وجد و حال کے عالم میں پیش گوئی کیا کرتا تھا۔ عقیدہ یہ تھا کہ ازخود رفتگی کے عالم میں شمن کی زبان سے روحیں کلام کرتی ہیں۔ اس حالت میں شمن کی روح اپنے بدن سے جُدا ہوکر کسی مُردہ آدمی یا جانور کے قالب میں منتقل کی جاسکتی ہے۔
شمن اور جادوگر میں فرق ہے۔ شمن ہمزاد کی مدد سے بدروحوں کو بھگادیتا ہے جب کہ جادوگر منتروں کے زور سے بدارواح پر قابو پالیتا ہے۔ 185


۔۔ کہتے ہیں جن نمک، لوہے، حرمل، مہندی، اور چمڑے سے دور بھاگتے ہیں۔ تیز روشنی کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ 186


۔۔ سندھ میں عام کسبی کو رنگیلی کہتے ہیں 189

(کسبیوں کے دھندوں سے) جو محصول لیا جاتا تھا اس سے پولیس والوں کو تنخواہیں دی جاتی تھی۔ 189


۔۔ اُمراء اپنے بیٹوں کو آداب محفل سکھانے کے لئے طبقے کے ڈیروں پر بھیجا کرتے تھے۔ اس ضمن میں یونان کی ہٹیرا، جاپان کی گیشا، ہند کی ویشیا اورلکھنو کی ڈیرہ دار طوائف قابلِ ذکر ہیں۔ 190


۔۔ عیسائی راہبوں اور راہبات کو ایک بات دوسروں بے شرع و بے قید لوگوں سے ممتاز کرتی تھی۔ وہ عمر بھر غسل نہیں کرتے تھے کہ ان کے خیال میں بدن کی صفائی سے نفسانی خواہشات غلبہ پالیتی ہیں۔ وہ جوؤں کو "خدا کے موتی" کہا کرتے تھے۔ 195


۔۔ سندھ سے منکہ، بہلا اور فلبرفل جیسے معالج بنو عباس کے دربار میں باریاب ہوئے اور آیورویدک اور طب یونانی کا امتزاج عمل میں آیا۔ 198

_______________________________________________

Sunday, October 2, 2011

Muqalat-e-Jalalpuri


مُقالات جلالپوری
علی عباس جلالپوری



مشمولات

۱۔ مرزا غالب اور نظریہ وحدت الوجود
۲۔ مرزا غالب کی جمالیات
۳۔ مرزا غالب کا کلامِ منقبت
۴۔ خواجہ فرید کی عشقیہ شاعری
۵۔ فرائڈ
۶۔ ژنگ
۷۔ فلاسفہ تاریخ
۸۔ کافکا
۹۔ تخلیقِ فن
۱۰۔ فن اور شخصیت
۱۱۔ فن اور کاریگری
۱۲۔ تنزل پذیری کا مفہوم
۱۳۔ مطالعہ فلسفہ


اقتباسات:۔


۵۔ فرائڈ

"فرائڈ ژینے کے تحت الشعور کے تصور پر تحقیق کرتے ہوئے لاشعور کا انکشاف کیا تھا اور اپنے دوسرے اہم انکشافات 'لاشعوری دباؤ' کے حوالے سے کہ کہا تھا کہ دبائی ہوئی ناگوار خواہشات لاشعور میں جاگزیں ہوجاتی ہیں اور معاشرے کے مطالبات سے متصادم ہوکر نفسیاتی نظام کو درہم برہم کردیتی ہیں تحلیلِ نفسی سے ان دبائی ہوئی خواہشات کو شعور کی سطح پر لایا جاسکتا ہے۔ 'خوابوں کی ترجمانی' کی اشاعت اور تحلیل نفسی کے طرزِ علاج کے باعث فرائڈ کی شہرت تمام مغربی ممالک میں ہر کہیں دور دور تک پھیل گئی۔ اور نوجوان ڈاکٹر کسبِ فیض کے لئے فرائڈ کے گرد جمع ہونے لگے۔ 155

[اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو شخص خودشناسی نہیں رکھتا وہ بے لغام گھوڑے کی مانند ہوتا ہے جسے کچھ پتہ نہیں ہوتا مجھے کب کہا کیسے اور کس طرف مڑنا ہے۔]

فرائڈ کہتا ہے:
"میں نے بارہا اپنے نقطہ نظر میں ترمیم کی ہے اور اس ترمیم کو شائع بھی کردیا ہے۔ بعض لوگوں نے ان ترمیمات کو نظر انداز کردیا ہے اور مجھے ان خیالات کے باعث ہدفِ طعن بنایا جاتا ہے جن سے ایک مُدت ہوئی میں رجوع کرچکا ہوں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مجھ سے ناراض ہیں کہ تم اپنے خیالات تبدیل کرتے رہتے ہو اس ہئے ناقابلِ اعتماد ہو ۔۔۔ وہ نہیں دیکھتے کہ نقطہ نظر میں تبدیلی کرنے سے کہیں زیادہ افسوس ناک حالت یہ ہے کہ آدمی کے منہ سے جو بات نکل جائے اسی پر مرتے دم تک قائم رہے خواہ جی ہی جی میں اسے غلط سمجھ رہا ہو۔" 159


"مذہبی دیوانے جو معمولی سے اختلاف رائے پر مرنے مارنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ فی الحقیقت اپنے مذہب کی صداقت کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔" 170

"جو شخص کسی عورت سے محبت کرتا ہے اور دوڑ دھوپ کے بعد اس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اس میں حد درجہ اعتمادِ نفس اور قوت اقدام پائی جاتی ہے اور وہ دوسرے دنیوی معاملات میں بھی کامیاب ثابت ہوتا ہے۔" 170


"فڑائڈ کہتا ہے کہ خدا انسان کا خالق نہیں بلکہ انسان کے ذہن کی مخلوق ہے۔" 170

"خدا کے علاوہ فرائڈ روح کے مذہبی تصور اور حیات بعد ممات کا بھی منکر ہے۔ اس نے اپنے آبائی مذہب پر اپنی ایک کتاب "موسٰی اور وحدانیت" میں نقد لکھتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ غالم کا سب سے پہلا موحد فرعون اخناتن (۱۳۷۵ ق م تخت نشین ہوا) تھا۔ جس نے بت پرستی کو ممنوع قرار دیا۔"
فرائڈ کے خیال میں موسٰی قبطی الاصل تھے اور اُنھوں نے آتن ہی کے مسلک کا احیاء کیا تھا۔ مصریوں کی طرح انھوں نے ختنہ کرانے کا حکم دیا۔ 171


"انسان کے بطون میں خیر و شر میں تمیز کرنے کی کوئی پیدائشی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ماں باپ کی روک ٹوک سے خیر و شر کی تمیز پیدا ہوتی ہے۔" 172

[ناٹ ایگری! انسان کے بطون میں پیدائشی انسٹینکٹولی خیر و شر کی تمیز ہوتی ہے، پر اس کو سمجھنا اوائلی عمر میں اتنا آسان نہیں ہوتا، اور جب تک بندا اسے سمجھے تب تک ماں باپ، دوست احباب اور زمانے کے خیر و شر کی تھ/لییَر اوپر چڑھ جاتی ہے/ اسپر غالب آجاتی ہیں۔
بعض اوقات زمانہ انسان کو کسی چیز پر اکساتا ہے، اور انسان کو وجدانی طور پر محسوس ہوتا ہے کہ یہ صحیح نہیں، پر چونکہ ایک تو علم کی لاعلمی کی وجہ سے اُس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہوتا جواس کے وجدانی فکر کو تقویت دے، دوسری طرف انسان اپنے ماں باپ دوست احباب کی عزت کرتے ہوئی ان کے فیصلے کو صحیح سمجھ بیٹھتا ہے۔]


"فرائڈ کے خیال میں جنسیاتی ارتقاء کے تین مراحل ہیں، پہلا مرحلہ خودلذاتی کا ہے جب کہ بچہ کسی معروض شے کا سہارا لئے بغیر اپنی ہی ذات میں شہوانی لذت محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد ہم جنسیت کا دور آتا ہے، جب وہ اپنی ہی صنف کے بچوں میں جنسیاتی کشش محسوس کرتا ہے۔ آخری دور میں وہ مخالف جنس  کے افراد کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔" 160


فرائڈ کا خواب
فرائڈ کے خیال میں وہ عمل جس سے خواب کا خفی موضوع جلی موضوع میں بدل جاتا ہے "خواب کا عمل" کہلاتا ہے، خواب کے اس عمل سے پہلے تلخیص کا عمل ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جلی خواب کا موضوع اتنا تفصیلی نہیں ہوتا جتنا کہ خفی موضوع ہوتا ہے گویا یہ موخرالذکر کی تلخیص کا عمل یہ ہے۔
۱۔ بعض خفی عناصر حذف کردئیے جاتے ہیں۔ ۲۔ خفی خواب کی بہت سی الجھنوں کا صرف ایک معمولی سا حصہ جلی خواب میں منقل ہوتا ہے۔ ۳۔ خفی عناصر جو مشابہ ہوں جلی خواب میں اکائی بن جاتے ہیں۔ اس آخری عمل کے لئے تلخیص کا لفظ زیادہ موزوں ہے تلخیص کے باعث بعض متضاد خفی خیالات ایک ہی جلی خواب کی صورت متحد ہوجاتی ہیں، اور ہم خواب کی ترجمانی کے قابل بن جاتے ہیں۔
خواب کا دوسرا عم اکھاڑ پچھاڑ کا ہے، یہ عمل خواب کے محتسب کا ہے اس سے خواب کا مرکز بدل جاتا ہے اور خواب نامانوس صورت اختیار کرلیتا ہے، خواب کا تیسرا عمل یہ ہے کہ اس کی بدولت خیالات و تصورات مرئی پیکروں کی شکلیں اختیار کرلیتے ہیں۔ سبلرز نے بھی ثابت کیا ہے کہی خواب کی حالت میں مجرد افکار تصویری پیکروں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، خواب میں ثانوی ترتیب بھی ہوتی ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ موضوع کو نئے سرے سے مرتب کیا جائے تاکہ اس کا سمجھنا مشکل ہوجائے۔ ثانوی ترتیب سے خواب میں معنویت پیدا ہوتی ہے، انا کی گرفت میں آجانے سے خواب میں وہ منطقی عنصر پیدا ہوجاتا ہے جو کہ اصل خواب میں نہیں پایا جاتا۔ مختصراً فرائڈ کے خواب کے نظریے کے تین اصول ہیں۔
۱۔ خواب کا عمل اس لئے ہوتا ہے کہ نیند کا تحفظ کیا جائے یہ عمل نہ ہوتا تو انسان کے لئے سونا مشکل ہوجاتا۔ خواب کا عمل اصل خواہشات اور داردات پر رمزیت کا رنگ چڑھا دیتا ہے۔ جس سے نیند میں خلل نہیں پڑتا۔
۲۔ خواب میں خفی موضوع ہوتا ہے جو جلی موضوع سے زیادہ سیر حاصل اور مختلف ہوتا ہے۔
۳۔ خواب میں نا آسودہ خواہشات کی تکمیل عمل میں آتی ہے جو بھیس بدل بدل کر خواب کے موضوع میں نمودار ہوتی رہتی ہیں۔ خواب کی ترجمانی میں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ 162-164


فرائڈ کہتا ہے۔
جب کسی شخص یا شے کا نام بار بار بھول جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم لاشعوری طور پر اس سے نفرت کر رہے ہوتے ہیں۔ 169


ژنگ نے اواخر عمر میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ہمارے نفس میں بعض اعمال ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں "ماورا ذہن" کہا جاسکتا ہے۔ یہ اعمال عضویاتی طور پر دماغ سے وابستہ نہیں ہوتے اور لاشعوری کیفیت یا بے ہوشی کی حالت میں بروئے کار آتے ہیں۔ ژنگ کا عقیدہ ہے کہ ایک نہ ایک دن جوہری توانائی اور اجتماعی لاشعور میں اقدار مشترک مل جائیں گی اور نفس انسانی اور جوہری توانائی کے واحد الاصل ہونے کا ثبوت بھی مل جائے گا۔ 181


۶۔ ژنگ


۷۔ فلاسفہ تاریخ

۔۔ اس لئے جو شخص تاریخی واقعات کو دیانت اور محنت سے دریافت کر کے پیش کرتا ہے وہ مورخ کہلاتا ہے اور جو مبصر ان حقائق کی ترجمانی کرکے تاریخی حرکت یا تمدنی ارتقا کے قوانین مرتب کرتا ہے اس فلسفی تاریخ کہا جاسکتا ہے۔ 199

۔۔ ابن خلدون کے خیال میں بدوی یا صحرائی زندگی انسانی معاشرے میں سبقت کا درجہ رکھتی ہے۔
۔۔ ابن خلدون نے جن خیالات کا اظھار کیا ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرب نژاد ہونے کے باوجود صحرا نشین عربوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا وہ کہتا ہے کہ جہاں کہیں عربوں نے اپنی سلطنت قائم کیں وہیں تباہی بربادی پھیل گئی۔ عرب فطرتاً حریص اور طماع ہیں اور رعایا کا مال ورز لوٹنے میں بڑے بے باک ہیں، انھیں تہذیب و تمدن اور علوم و فنون سے کوئی لگاو نہیں۔ یہی وجہ ہے مشاہیر علماو حکماء اسلام عجمی السنل ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر سخت رنج و علم کا اظہار کرتا ہے کہ تسخیر مدائن کے بعد سعد ابن وقاص نے حضرت عمر ابن الخطاب کے کہنے پر ایرانیوں کی ہزاروں بیش قیمت کتابوں کو دریا میں بہا دیا تھا۔ 203-204


۔۔ (ابن خلدون) امت محمدیہ کی طبعی عمر کا ذکر کرتے ہوئے وہ یعقوب بن اسحٰق الکندی کا یہ قول درج کرتا ہے کہ ملت اسلامیہ کی مدّت حیات 693 برس ہے۔ 204


۔۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ بوقتِ خوشی و مسرت روح حیوانی پھیلتی اور کشادہ ہوتی ہے اور بوقت غم و الم اس کے خلاف روح حیوانی بھنچتی اور سُکڑتی ہے۔ 206


۔۔ ابن خلدون کے خیال میں تیں چیزیں ایسی ہیں جو عمران یا معاشرے سے الگ ہیں لیکن اس پر ہمیشہ اثر انداز ہوتی رہتی ہیں یعنی اقلیم، جغرافیائی ماحول اور مذہب۔ وہ مذہب کو معاشرے کا داخلی عنصر نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک خارق عادت چیز سمجھتا ہے جو خارج سے معاشرے میں دخیل ہوتی ہے۔ 205


۔۔ زمانے یا تاریخ کے اس دولابی تصور کے ساتھ جبریت کا تصور بھی وابستہ ہے جو ویچو کے علاوہ ابن خلدون کے افکار سے بھی متباور ہوتا ہے۔ 208


۔۔ بکل نے آب و ہوا کے اثرات سے بحث کی ہے جو انسان کی طرزِ معاشرت اور اس کے عادات و خصائل پر ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ مثال کے طور پر کہتا ہے کہ ہندوستان میں قدرتے مناظر اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہیں کہ ہندوؤں کا ذہن و دماغ ان سے مرعوب ہوکر رہ گیا اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ جس سے ان میں پست ہمتی، رہبانیت، قنوطیت اور وہم پرستی پیدا ہوگئی۔ یورپ میں قدرتی مناظراتنے شاندار نہیں تھے اس لئے اہل مغرب نے ان کی پوجا کرنے کی بجائے ان پر قابو پانے کی کوشش کی جس سے ان میں اولی العزمی، خطرات پسندی، جفاکشی اور مہم جوئی کی صفات پیدا ہوگئیں۔ جغرافیائی ماحول کے انسانی عادات و خصائل پر اثر انداز ہونے کا یہ تصور صریحاً ابن خلدون سے ماخوذ ہے۔ 208


۔۔ (دانی لیوفسکی)
اس کے خیال میں بڑے بڑے تمدن 12 ہیں، مصری، چینی، اشوری، بابلی، فنیقی، کلدانی، ہندی، ایرانی، صیہونی، یونانی، رومی، عربی، جرمنی، رومانی یا یورپی، میکسیکی، اور پیروی۔ آخرالذکر دونوں تمدن مِٹ چکے ہیں۔ 210


۔۔ سپنگلر تاریخی عمل کو جبری سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ پر قوم کا خاتمہ مقدر ہوچکا ہے، اس مقدر کو اس نے
Schicksal
کہا ہے۔ 214


۔۔ جس طرح بیج مٹی میں غائب ہونے کے بعد دوبارہ نشونما پاکر ننھے اکھوے کی صورت میں سطح زمین پر اُبھر آتا ہے اسی طرح فرد یا معاشرے یا قوم اور تمدن بھی بعض اوقات اپنی داخلی دنیا میں غائب ہوکر اور وہاں سے قوت حاصل کرنے کے بعد نمودار ہوسکتے ہیں۔ (ٹوئن بی)۔ 215



۸۔  کافکا
ایک دن کافکا نے مجھ سے کہا "میں لڑکپن کے مرحلے سے گزر کر کبھی بھی بالغ نہیں ہوسکوں کا بلکہ لڑکے سے سیدھا بڈھا کھوسٹ بن جاؤں گا۔ 220


۔۔ اس نے مجھ سے کہا، بالزاک کا ماٹو ہے میں ہر رکاوٹ کو توڑ دونگا میرا ماٹو ہے، ہر رکاوٹ مجھے توڑ ڈالے گی۔ 223



۹۔ تخلیق فن

۔۔ شاعر کے متعلق یہ خیال عام تھا کہ جب کوئی مافوق الطبع ہستی اس کے دل و دماغ پر متصرف ہوجاتی ہے تو وہ بے اختیار شعر کہنے لگتا ہے۔ اس کیفیت کو الہام سے تعبیر کرتے تھے۔ چناچہ سقراط کہتا ہے کہ کوئی بھی عظیم شاعر ہنروری سے شعر نہیں کہتا بلکہ نزولِ الہام اور وجد و حال کی حالت میں کہتا ہے۔ 230


۔۔ ابن خلدون کہتا ہے کہ شراب اور عشق شعر گوئی کے لئے موثر ثابت ہوتے ہیں۔ 231


۔۔ اس کے ایک شاعر دوست نے ایک خط لکھا کہ مجھ پر فنی تخلیق کا سرچشمہ خشک ہوگیا ہے۔ شلر اُس کے جواب میں لکتھا ہے:
"میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارا تفکر تمہارے وجدان پر حاوی ہوگیا ہے ذہن و قلب میں ہجوم کرکے آتے ہوئے خیالات و واردات کا سختی سے جائزہ لیا جائے تو عمل تخلیق کو لازماً نقصان پہنچتا ہے۔ ہر تنہا خیال بے رنگ اور بے کیف ہوتا ہے اور دوسرے خیالات کی رو میں آکر اہمیت و شدت اختیار کرتا ہے۔ تفکر اس خیال کا جائزہ نہیں لے سکتا جب تک کہ وہ اُسے دوسرے خیالات سے مربوط کر کے اس کا مطالعہ نہ کرے۔ میرے خیال یہ ہے کہ تخلیق کے وقت تفکر خیالات کا سختی سے محاسبہ کرنا چھوڑدیتا ہے اور ہر اس طرح خیالات و واردات بے ساختہ ہجوم کر آتے ہیں۔ اس کیفیت کو مفکر اور ناقد جنون اور دیوانگی سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن فی الاصل یہی تخلیقِ فن کا مرکزی نقطہ ہے تم اپنے خیالات اور واردات کا کڑا محاسبہ کرتے ہو اور ان کی بے ساختہ ہجوم آوری میں مخل ہوتے ہو اسی لئے تخلیق کی شکایت کرتے ہو"۔ 232


۔۔ فرائڈ نے تخلیق فن  کے عمل کو روز خوابی کے مماثل قرار دیا ہے۔ 232


۔۔ ارسطو نے کہا تھا کہ ہر بڑا شاعر مراق، مالیخولیا میں مبتلا ہوتا ہے۔
فرائڈ کہتا ہے کہ ہر فن کا نرگسیت کا مریض ہوتا ہے۔ 232


۔۔ فن کار کی اپنی کوئی شخصیت نہیں ہوتی بلکہ وہ لاشعورکی اندھی قوتوں کے ہاتھوں میں محض ایک آلہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔ چناچہ ژُنگ کہتا ہے کہ گوئٹے نے فاؤسٹ کو تخلیق نہیں کیا بلکہ فاؤسٹ نے گوئٹے کو خلق کیا تھا۔ 233


۔۔ ایک پاگل اپنی محرومیوں اور حسرتوں کی تلافی خواب و خیال کی دنیا میں کرسکتا ہے اور ایک فن کار آرٹ کی صورت میں یہ تلافی کرتا ہے اور میر تقی میر کی طرح دوسروں کو ابھی اپنی محرومیوں میں شریک کر لیتا ہے۔ 233


۔۔ حقیقت یہ ہے انسانی شعور ایسی اکائی ہے جسے مختلف طبقات یا حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک فلسفی یا ایک سائنسدان کے افاکرخواہ کتنے ہی مجرّد اور بسیط ہوں جذبہ و احساس سے عاری نہیں ہوتے، اور ایک فن کار کے جذبات خواہ کتنے ہی پرجوش ہوں تفکر و تعقّل کے حامل ہوتے ہیں۔ فرق کمی بیشی کا ہوتا ہے۔ عدم و وجود کا نہیں ہوتا۔ 233


۱۰۔ فن اور شخصیت

۔۔ کردار معاشرتی اور سیاسی ہنگاموں میں ڈھلتا ہے جبکہ شخصیت تفکر و تعمق سے صورت پذیر ہوتی ہے۔  جس شخص کا کردار محکم ہوگا وہ لازماً خارج پسند ہوگا، مگر شخصیت کے لئے خارج پسند ہونا ضروری نہین ہے۔ ہم جوشِ عمل کو کردار کا بنیادی عنصر قرار دے سکتے ہیں، اور تفکر کو شخصیت کا مرکزی نقطہ شمجھا جا سکتا ہے۔ اصحابِ کردار ایک رخے ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے افکار و احساسات میں وہ بالیدگی اور زاویہ نظر میں وہ کشادگی نہیں ہوتی جو شخصیت سے خاص ہے۔ 237-238


۔۔ فن کار کی شخصیت کی ایک اور خصوصیت بھی قابلِ ذکر ہے، آلڈس ہکسلے نے اسے ابلیسیت کا نام دیا  ہے۔ والٹر کا مشہور قول ہے، "آرٹ میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تمہارے اندر ابلیس ہو۔"۔ اس میں شک نہیں کہ ہر فن کار کی طبیعیت میں بغاوت کا عُنصر موجود ہوتا ہے۔ 242

[میرے نزدیک اس سے مراد ابلیس کی پیروی کرنا نہیں ہے، بلکہ
اس سے مراد زمانے کے 'لوگوں کی نگاہ' سے نہ دیکھنا ہے۔
مطلب ایک فن کار ہر چیز کو شروع سے اُس کو اصل شکل میں دیکتھا ہے، دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، بجائے کہ لوگوں نے جو خیال و فکر اُس چیز کے متعلق گھڑ لی ہے، کی اندھا دھن پیروی کرے۔
پر فن کار کو بھی چاہییہ کہ وہ ہر چیز کا بلاوجہ انکار اور ضد نہ کرے، اگر زمانے نے کسی چیز کے متعلق صحیح رائے پیدا کی ہے تو اس میں زمانے کا ساتھ دینے میں ہی بھلائی ہے۔
اس حوالے سے فن کار میں ابلیسیت کا مادہ شاید اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ فن کار دوسروں سے منفرد بننا چاہتا ہے اور اس حساب سے اگر سبھی لوگ "صحیح" ہوں تو فن کا "غلط" کو منتخب کرتا ہے!۔  ابڑو]


۱۲۔ فن اور کاریگری

۔۔ فلاطینوس نے اپنی تالیف 'اینڈز' میں کہا ہے:
"فرض کرو پتھر کی دو سلیں ہیں ان میں سے ایک کو تو کسی سنگ تراش نےء نہیں چُھوا اور دوسری میں سے ایک ماہر سنگ تراش نے کسی دیوتا یا آدمی کا مجسمہ بنایا ہے جس میں اپنے اعجاز فن سے حُسن و جمال کی روح پھونک دی ہے۔ خیال رہے کہ یہ پتھر جسے آرٹ نے حسین صورت بخشی ہے پتھر کی حیثیت سے خوبصورت نہیں سمجھا جائےگا۔ اس طرح تو ہر پتھر کو حسین کہنا پڑےگا۔ بلکہ اُس صورت یا خیال کے باعث حسین ٹھرےگا جسے فن کار نے اس میں داخل کیا ہے، یہ صورت اس پتھر میں پہلے سے موجود نہیں تھی بلکہ اس میں منتقل ہونے سے پہلے فن کار کے ذہن میں موجود تھی۔" 247


۔۔ وہ لوگ آجکل کے "فن کاروں" کی طرح چلنے سے پہلے بھاگنے کی کوشش نہیں کرتے نہ "کچا ہونے سے پہلے پک جانے" کا حوصلہ رکتھے تھے۔ 248


۔۔ بعض لوگ کاریگری یا مہارت اصولِ فن ہی کو فن کی غایت اولٰی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ جہاں اصول فن کی تکمیل ہوتی ہے وہاں تخلیق فن کی ابتداء ہوتی ہے۔ کاریگری کو منتہا و مقصود سمجھنے والوں کے زُمرے میں تمام دوسرے درجے کے "فن کار" آجاتے ہیں۔ 248


۔۔ یاد رہے دوسرے درجے کا ادب ادب نہیں ہوتا اور دوسرے درجے کی شاعری  کو شاعری نہیں کہا جا سکتا۔ ادب اور فن صرف اول درجے ہی کا ہوتا ہے۔ 249



۱۳۔ مطالعہ فلسفہ

۔۔ جس شخص کا نظریہ کائنات اور زندگی کے متعلق محدود ہوگا وہ روپیہ سمیٹنے کو اپنی زندگی کا مقصد واحد سمجھے گا اور جلبِ زر کے کوشش میں کسی قسم کے جبر و استحصال سے دریغ نہیں کرے گا۔ 255


۔۔ جو لوگ جذبات کے غلام ہیں اور ان کی جبلتوں پر عقل و خرد کا تصرف نہیں ہے وہ حیوانات کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 257


۔۔ جس ملک میں فلسفے کو غیر اہم سمجھا جائے اس میں سائنس کا پنپ سکنا امرِ محال ہے۔ اسلامی ممالک میں سائنس کی ترقی نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں اہلِ علم فلسفے کو شروع سے مذہب کی کنیز سمجھتے رہے ہیں۔ 258


۔۔ البیرونی کہتا ہے،
"حکما کو دولت سے محرومی کا احساس ہوتا ہے لیکن اُمراء کو علم و دانش سے محرومی کا مطلق احساس نہیں ہوتا۔" 259

________________________________________

Saturday, January 29, 2011

Iqbal Ka Ilme Kalam - Postmortem2

Iqbal Ka Ilme Kalam by Jalalpuri ka Postmortem
part 2 

Uloomat sbhi Ek hyn, ye ek dunya ek kainat hy is ke sare uloom ek hyn, aur koi bhi ilm doosre uloomat ki 'adam-maujoodgi me khud 'adam hy, nil hy, kuch nhn! (Agr samajhne k khatir mukhtalif nuqtae fikr ko jama kr k catogarised kr diya jaye to is me koi harj nhn.) aur Taleemat e Mazhab o Peghambr inse Juda nhn!
Is liye Science ho ya Philosophy, Mazhab ho ya Tareekh, her chez ko ek hi jaga rakh kr sahi o ghalat ki pehchan krna zarori hy.
Ksi esi Taleem ko apni zindagiyon se juda (krna) kr k parakhna js ka asal maqsad i tmhari zindagiyo ko sudharna ho to ye bewaqufi kehlayege, agarcha uska maqsad tmhari zindagiyan sudharna na ho tb b bewaqufi kehlayegi.


Agr Ilme Kalam ka maqsad ye hy k Saree Uloomat ki Azadi salab krdeni chahiye aur unhe apne mazhabi rang o roop pehna kr pesh krna chahiye, to mai iska mukhalif ho.
[kyon ke uloomat ko qed kar ke unhe ek 'box' me qed karna yaqinan ghalat, ghair munsifana aur jahilana qadam hy]
Aur Agr Ilme Kalam ka maqsad ye hy k Mazhb k ksi bhi bat o falsafe(hikmat) ko ksi bhi doosre uloomat k Theory/Haq/Sadaqat se Tatbeeq o Tashbeeh peda na ki jaye (take uski proveness ka pata chale) to mai iska b mukhalif hon.
[ager uloomat ko isolate karke dekha jaye, doosre canvases se na parkha jaye, sirf ek hi chashma laga kar dekha jaye! to yaqinan uski haqaniyat ka pata lagana muskil hy..  kyon ke taleemat ki sahi o ghalat ek doosre ko parakhne se hi pata chalti, ager mazhab ki tatbeeq science se ki jaye ya science ki tatbeeq mazhb se ki jaye take uske tuthness aur usefulness ka pata chale. Yaqeenan Tatbeeq se meri murad Fikr-e-Azad se aur researches o observations ko baroye kal late hue karna hy.]




Ilme Kalam Ye Ya Wo?
mai ilme kalam ko esi chez nhn samajhta jse jabaran islam k khatir murattab kiya jaye..
Agr islam k dars science se mtbqt rakhen.. to ye islam ki solidity aur validity ko taqweet denge, aur jo dars ghalat sabit hojayen unhe kharij krdena chahiye. Baqi jo bachenge un k liye ya to w8 krna chahiye sci k taraqqi ka ya phr wo ese honge jinhe kbhi ab parkha nhn ja skta, wo aqeedah k tor per baqi rahenge jinhe hr ek apni shaxi bunyad per chahe qabol kre ya na kare. . .
Ilme Kalam mahz aqali bunyad per ye dekhna hy k (hr zamane me) aya Islam ks had tak Universal hy. . . Na k Ilme Kalam ye hy k Jabaran Islam ko Universal bnaya jaye aur na banne per Science ka i kan pakar kr use musalman bnaya jaye.
.
.
.
Sir Syed Ahmed Khan
SSAK ka mu'tazilana afkar aur aqqaliyat pasandi qabile tareef hy per wo is ravish me Afrat ka shikar hogaye!
SSAK awwaili umar me Wahabiyat se mansoob the phr jb Dimagi Inqilb aya to Mu'tazilah bn gaye.
Is hisab se mai yehi kahonga SSAK pehle Tafreet ka shikar the aur phr "Eesa bgair bap k peda nhn hue, wo Bimaro ko shifa nhn dte the, wo murdon ko zinda nhn krte the, unho ne gehware me bt nhn ki, malaika, farishte, jinnat. . . sb haqiqat me wujood nhn rakhte. . ." jsi baten kr k Afrat ka shikar hogaye. (aur wo ye sb baten is liye karte kyon ke ye Aqal me nhn samati aur Normaly esa nhn hota aur koi nhn kr sakta!)
SSAK pehle andha-dhund Muqallid the aur phr andha dunh Mulhid hogye.
[wse b Fitrat ka usool hy k jo shax pehla jitna yak tarfa hota hy inqilab ane k bd utna i mukhalif simit chala jata hy. (tbhi islam me Miyanaravi aur Etedal pe rehne ki talqeen ki jati take agr ap bhatak b jayen to wapsi k bouncing back me zyada door na jana pare!)
Iski ek misal Iqtisadiyat me Capitalism o Communism hy, Ek ek taraf se aage nikal gayi to Dusre dusreitaraf se.
Physics k rules me ball ko jitna zor se maroge utne i zor se wo wapas aayegi.
Ye sb misalen me sirf ap ko is liye (topic se hat kar) bta raha hn take ap per ayan hojaye k ek Universal Truth ko ap ksi b sanche me rakho wo wsa ka wsa i rehta hy. Uski Morphology to mkhtaf ho sakti hy per uski Physiology same rehti hy!
Che-jaike insan k mamle me (kyo k us k sath kai dakhli anasir bhi asar pazeer hote hyn) agr use waqt diya jaye to wo Afrat o Tafreet ka shikar hone k bd apni Islah kr k Etedal per aa sakta hy (jb k usne done simiton ka maza b chakh liya, aur done me tafreeq krne k laiq b thehra.)]


SSAK ki Afrati bton k tardeed me kuch aqali daleelen pesh krte hyn.
Her Aqal me na ane wali chez ka mtlb ye nhn hota k uski tardeed kr di jaye.
Moujoodah zamane main ese kai Heran-kun waqiyat dekhne ko mil jate jo aqal main nahi ate per wo hote . .
Insan ki aqal chahe kitni i achhi kyon na ho phr b naqas o na-mukammal hy aur aqal ye bt tasleem karti hy kyo k aqal khud ye bt janti hy k wo ghatti barhti b hy aur moti b hoti hy.
Agr SSAK k btai hui Aqal hi ko Sahi man liya jaye to phr Aj k zamane me insano ko Machines ka aage sar-be-sujjod hona chahiye kyo us Aqqaliyat per aj k super computers bulke aam computers bhi insano se kahen chalak hyn
(even chess k GMs ko b in machines k aage kbhi kbhar i jeet naseeb hoti, usme b faraq itna k insan apna poora time 3 4 ghante istemal kr chuke hote aur compters chand mint!)


Phr Aqal k sath ye zulm b hy k wo Zaman o Makan ki qedi hy, aj se 200 sal bd jo hoga shayad aqal us bt pe yaqin na kare (agr 300 pehle k ksi bnde se kaha jata k 200 sal bd insan hawa me urne lag jayega, to shayad wo ap ko kahe k jao bhai ksi achhe dimagi doc se apna ilaj karwao!), aur isi trah mazi baeed me ronuma hone wale super-natural waqiat per aqal yaqin nhn karegi per aqeedah, etemad, bharosa aur bayan krne walon ki sachai ki bunyad per.
.
.
.
IQBAL KA TASAWUR ZATE BARI


Zate Bari ki behs bri nazuk hoti hy, khususan agr ksi shax k aqeede wa fikr iman k hsb se bt ki jaye.
Iqbal ka Zate Bari k mtlq tasawur agr Sarayani tha (k Khuda kainat me jari o sari hy, aur kainat musalsal irteqa kr rhi hy. . .) to jsa k chapter me nishandahi ki gayi k is nazriye k hamil dusre filasfa b the .. Laaid Margan, Alexandar, Bargasan, Barnardshaw..
Halanke Islami nuqtah nigah se Sarayani aqeedah bilkhul batil hy (is mafhom me k khuda kainat me is trah shamil hy jse dusre ajza!). . . Per Fikr Fikr hoti hy khususan Tauheed, js k mtlq agr Asman se Utari hui taleemat gaur-e-etna na kiya jaye aur Aqal ko istemal kr k apni chalai jaye to dunya ki majority is soch ki hamil ho sakti hy.


Is hsb se ye kaha ja sakta hy k Iqbal ne is mamle me apni Aqal istemal ki, js k mtlq Aqqaliyat pasand chahte hyn k Mutakkalimen ko krna chahiye aur jo k wo nhn krte, bulke lakeer k faqeer bnte hyn.
[to jb Iqbal lakeer ka faqeer na bana Barnardshaw, Bargasan... Ki trah apni Aqal istemal ki aur apnaya jo use sahi laga.. Aur wo ghalat nikta.. To uspe Ungli uthayi gai, aur jb lakeer ka faqeer bna to uspe ungli uthai gai (mutakallim keh k).. Ye to wohi bat hogai Luqman uske Bete k qise ki trah jb wo apna gadha lekar ja rahe the..]




ye bt bhi mat bhoolni chahiye k Complicated Fikr ko Words me utarna (pecheedah fikr ko lafzi jamea pehnana) buhut mushkil hota hy, aur ye chez buhut asan hy k lafzi jamea pehnana k bad usko parha jaye to wo kuch aur hi matlab o mafahim dene lage aur parhne wala kuch aur mafhom akhaz kare!!
.

۔[جبلت و وجدان کی ڈیفینیشن جو جلالپوری نے بیان فرمائی، میرے نزدیک وہ صحیح نہیں، جلالپوری نے یہ بھی کہا کہ ان دونوں چیزوں کو عقل کے ماتحت ہونا چاہیے۔ پہلی بات تو جبلت پہلے آتی عقل کے، ایک وحشی انسان کو شاید یہ معلوم نہ ہو کہ اُسے 'کیا' کھانا چاہے اور 'کیسے' کھانا چاہیے پر اُسے اتنا کم سے کم ضرور معلوم ہوگا 'جبلتی طور پر' کہ اسے زندہ رہنے کے لیے 'کھانا' چاہیے۔
جبلت، وجدان و عقل پر میں بہت پہلے اپنے ایک کالم 'انسان کے ادراک' میں تھوڑا بہت بیان کرچکا۔
جبلت ایک بیسک پری انسٹالڈ ایسا سوفٹ وییر ہے کو کم سے کم سروائیول کی معلومات مہیا کرتی۔ اس کا عقل سے کوئی ٹکر نہیں۔ جو ہر انسان توڑے جانور میں ہوتا، جس سے اسے پتا چلتا کہ وہ کیا ہے کون دوست ہیں کون دشمن ہیں، آیا اسے گوشت کھانا ہے یا گھاس کھانا ہے وغیرہ وغیرہ یہ باتیں وہ جبلتی طور پر جانتیں ہیں۔
عقل۔ انسان کا ایسا آلا ہے کہ اگر اس کا استعمال نہ کرے تب بھی یہ استعمال میں آتا۔
وجدان کوئی اسی چیز نہیں جو کشف و مراقبے سے حاصل ہو۔ ہاں اگر کشف و مراقبے سے مراد غور و فکر ہے تو الگ بات۔ پر اس صورت میں بھی غور و فکر کے لیے ضروری نہیں کہ بندہ کسی کونے میں آنکھین بند کرکے بیٹھا رہے۔ غور و فکر اس چیز کی پابند نہیں۔
عقل ایک مکینیکل سوچ سوچتی آلاتِ احساسات کے ذریعے جبکہ وجدان آلاتِ احساسات سے بالاتر ہوکر سوچتا۔
اگر وجدان کو عقل کا ہی حصہ سمجھ لیا جائے جو آلات احساست سے بالاتر ہوکر سوچتا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
شوپنہائر ، فرائڈ، برنارڈشا، میک ڈوگل، جیمزوارڈ، ولیم جیمز کے 'ارادہ' (ارادیت) کو ہی اگر وجدان کا نام دیا جائے تب بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
اور اسلامی روایات میں جہاں 'عقل و دل' کا تذکرہ ہوتا وہاں 'دل' سے مراد اگر وجدان لیا جائے تب بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
عقل یہ کہتی کہ تم کوئی بھی چیز نہیں جان سکتے جب تک یا تو تم اس کا مشاہدہ کرو یا کوئی تمھے بتائے۔۔ پر اگر یہ دونوں کیفیات نہ ہوں پھر بھی تم کسی چیز کو جان لو تو پھر اُس ادراک کو آپ کس خانے میں رکھوگے!؟ ابڑو]۔




Harf e Akhir
-Kya Islam Jamid o Sakin hy? Kya Islam ko Aj bhi wesa i hna chahiye jesa k aj se 1400 sal pehle tha?
Agar Han to phr Ilme Kalam behodah aur bekar chez hy. Aur Islam ek Aqeedeh ke elawa aur kuch nahi, phir jis aqeedeh ka koi faida na ho to phir us aqeede ko ikhtiyar karne mainkya faida!
Aur Agr Nahien, Islam esa nahien, Islam Jamid o Sakin Nahien, Islam Mahaz ek Aqeede ka naam nahi, jesa k Ijtehad ka drwaze ka ab tak khula hona is bat ki daleel deta  aur Moula Ali ka ye qol isi mafhom ki taaid karta k
Hadees of Imam Ali
لا تقسروا اولادکم علی آدابکم فانھم مخلوقون لزمان غیر زمانکم۔
Apne Aulad per apne zamane ke adaab mat gharo kyon ke wo jis zamane ke liye hyn us zamane k liye tum nahi.


Aur agr Ilme Kalam ka matlab ye hy ke 'mazhabi' ravayat ko moujoodah science se tatbeeq na di jaye to pir Moula Ali k Nehjul Israr me diye gaye khutbe (Saloni Qabl An Tafaqqadooni) k in alfaz ko kis khate me rakha jaye!?.
مشرقیں اور مغربیں 360
اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ حضرت امیرالمومنین نے منبر کوفہ پر خطبہ ارشاد فرماکرکہا:
اے لوگو! سوال کرلو مجھ سے کہ میرے سینہ میں علم بھرا ہوا ہے۔
ابن الکوا اٹھ کھڑا ہوا اور سوا کیا کہ:۔
پراگندہ کرنے والی کیا ہے۔
امیرالمومنین: وہ ایک ہوا ہے۔
ابن الکوا: بوجھ اٹھانے والے کون ہیں؟
امیرالمومنین: ابر
ابن الکوا: آسانی سے چلنے والی کون ہیں؟
امیرالمومنین: کشتیاں
ابن الکوا: احکام کے پہونچانے والے کون ہیں؟
امیرالمومنین: فرشتے
: یا امیرالمومنین میں نے کتاب خدا کے بعض حصوں کو بحض کے منافی پایا۔
امیرالمومنین: اے ابن الکوا تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے کتاب خدا کے بعض حصے بعض کی تصدیق کرتے ہیں نہ کہ تنقیض۔ سوال کرلے کہ ون کون سے مقامات ہیں۔
ابنالکوا: یا امیرالمومنین میں نے قرآن میں ایک جگہ "مشارق و مغارب کا رب" اور ایک بعد کی آیت میں "رب المشرقین و رب المغربین" اور آخری آیت میں "مشرق و مغرب" کا رب پڑھا ہے۔
امیرالمومنین: اے ابن الکوا تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے یہ مشرق ہے اور یہ مغرب اور قول خدا کہ "دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ربے ہے" اس میں ایک مشرق گرما ہے اور دوسری مشرق سرما۔ آفتاب کی حدت کو تو اس کی نزدیکی اور دوری سے جان لے گا۔ اور قول خدا مشرقوں اور مغربوں کے رب کا مقصد یہ ہے کہ اس کے تین سو ساٹھ مقام ہیں اور وہ ہر روز ایک مقام سے طلوع ہوتا ہے اور دوسرے مقام پر غروب ہوتا ہے۔ پھر یہ اسی مقام پر اس وقت تک واپس نہیں آتا۔ جب تک کہ وہی دن پلٹ کر نہ آئے۔

____________________
Iqbal Ka Ilme Kalam ka Postmortem part 1
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...