FIKRism

Showing posts with label Zaati Milkiyat. Show all posts
Showing posts with label Zaati Milkiyat. Show all posts

Monday, February 14, 2011

KZMARKA - Ryasat

خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز
فریڈرک انگلز


اقتباسات۔ ۳
۔(شرح و نقد)۔


کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے رومولس نے الگ الگ افراد کو ایک ہیکٹر فی کس کے حساب سے زمین بانٹی تھی۔ 128


پرانے گن دستور کو جس انقلاب نے ختم کیا وہ کب اور کیوں اور کیسے ہوا تھا۔ اس سلسلے میں یقین کے ساتھ ہم صرف ایک بات کہہ سکتے ہیں اور وہ یہ کہ اس انقلاب کی تہہ میں پلے بئیین اور پوپولس کی کشمکش کام کر رہی تھی۔ 136


انگریز سامراج
آئرلینڈ نے جہاں انگریزوں نے زبردستی گن نظام کو برباد کرڈالا، وہ آج بھی کم سے کم نیم شعوری طور پر لوگوں کے ذہن میں زندہ ہے۔ سکاٹ لینڈ میں وہ گذشتہ صدی کے وسط تک پوری توانائی کے ساتھ پایا جاتا تھا اور وہاں بھی اسے صرف انگریزوں کے ہتھیاروں، قوانین اور عدالتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں۔ 139


ویلز
مرد کے منہ سے بدبو آنا بھی طلاق دینے کی ایک کافی وجہ سمجھی جاتی تھی۔ 141


وقتی شادیوں کا وہاں (آئرلینڈ، ویلز) بھی رواج تھا۔ 141


ماموں اور بھانجے کا خون کا رشتہ باپ اور بیٹے کے رشتے سے زیادہ مقدس اور قریبی ہے۔ (تاسیت، میکسیکو، یونان)۔ 145


پرانے نارس گیت
۔"وولوسپا" (Voluspa).
یعنی وہ گیت جس میں دیوتاؤں کی آخری گھڑی اور قیامت یعنی دنیا کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک ٹکڑا اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن ہے چونکہ وہ آٹھ سو برس بعد کی چیز ہے۔ اس حصے میں جسے "غیب داں عورت کا کشف" کہا گیا ہے اور جس میں جیسا کہ بینگ اور بگے نے اب ثابت کردیا ہے، عیسائیت سے عناصر بھی ملے ہوئے ہیں، بتایا گیا ہے کہ قیامات سے پہلے عام فسق و فجور اور برائی اور بداخلاقی کا ایک زمانہ آئے گا۔ اس زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے ایک جگہ کہا گیا ہے:

"بھائی بھائی ایک دوسرے سے جنگ کریں گے اور ایک دوسرے کا خون بہائیں گے اور بہنوں کی اولاد خون کی قرابت داری کے تعلق کو توڑے گی۔" ۔ 146



غیرت
مادری حق کی ایک اور نشانی تھی جو کہ اس وقت تک مٹنے لگی تھی اور جو روم کے باشندوں کے نقطہ نظر سے سمجھ میں نہ آنے والی بات تھی، وہ یہ کہ جرمن لوگ عورتوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ جرمنوں سے اگر کسی وعدے کو پورا کرانا ہوتا تھا تو اس کا سب سے اچھا طریقہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شریف خاندانوں کی لڑکیوں کو ضمانت کے طور پر رکھ لیا جائے۔ جنگ کے وقت جرمنوں کی ہمت اور کسی چیز سے اس قدر جوش میں نہیں آتی تھی جتنی اس خوفناک خیال سے کہ اگر انہیں شکست ہوئی تو دشمن ان کی بہو بیٹیوں کو پکڑ لے جائیں گے اور اپنی باندیاں بنالیں گے۔ جرمن لوگ عورت کو مقدس مانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس میں مستقبل کو دیکھ لینے کی طاقت موجود ہے۔ چناچہ وہ سب سے اہم معاملوں میں عورتوں کی صلاح پر عمل کرتے تھے۔ 147

۔[ایسی 'عزت' ہمارے معاشرے میں بھی رائج ہے، لوگ اپنی عورتوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے مارنا تو پسند کریں گے پر دشمن کے ہتھے چڑھنے کو بالکل گوارا نہیں کریں گے، اور یہ بات عربوں میں بھی تھی جس کی مثال جنگ احد میں دیکھی جا سکتی ہے جب ابوسفیان نے تقریباً پورے مکّہ کو (عورتوں بچوں سمیت) میدانِ جنگ میں کھڑا کر دیا، تاکہ لڑنے والے مرد اپنے بیوی بچوں کے سامنے پیچھے بھاگنے اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کرسکیں، اور اس جنگ میں مسلمانوں کی شکست کھانی پڑی۔ باقی اس سوچ کے علاوہ ہم اور عربوں میں عورتوں کو کوئی عزت نہ دی جاتی چہ جائیکہ صلاح مشورہ میں پیش پیش رکھنا!۔
ایسا کیوں ہوتا ہے، کچھ کہنا بہت مشکل ہے، ایک قیاس یہ ہے کہ شاید جن معاشروں میں سیکس کی کھلے عام چھوٹ نہیں ہوتی اور جن معاشروں میں ماضی میں آزادنہ جنس روی نہیں پائی جاتی تھی، شاید وہاں ایسی سوچ کو پیدا ہونا ممکن ہو۔]۔



تقریباً سبھی قوموں میں شروع میں پورا گن اور بعد میں قدیم کمیونسٹی خاندان برادریاں مل کر کھیتی کرتی تھیں۔ ۔۔۔ بعد میں زمین تقسیم کرنے کا رواج ہوا اور تھوڑے تھوڑے دنوں بعد الگ الگ خاندانوں میں زمین نئے سرے سے بانٹ دیا جاتا تھا۔ 148

۔[ہمارے دیہاتی معاشرے میں بھی بہت کم صورت میں صحیح پر یہ نظام موجود ہے اور اس کا سبب خود اس کا نتیجہ ہے، جب مشترکہ خاندان، مشترکہ زمین پر مشترکہ محنت کرتے تو پھر اس کا حاصل شدہ پیداوار بھی مشترکہ طور ضرورت کے مطابق بانٹی جاتی۔۔
گن نظا کی بچی کھچی نشانیاں ہمارے معاشرے کے گاؤں گوٹھوں میں اب بھی چلی آتی، ایک گوٹھ کے باشندے عموماً ایک مورثِ اعلیٰ (مرد) کی اولاد ہوتے اور اُسی مورثِ اعلٰی کے نام سے گوٹھ کا نام بھی ہوتا، ان کی زمینیں چاہے الگ الگ خاندانوں کے نام پر ہی کیوں نہ ہوں پر وہ سب مرد، عورتیں، چھوٹے بڑے مشترکہ طور پر ان پر محنت کرتے۔]۔



جب گھرانے کے ممبروں کی تعداد اتنی بڑھ گئ کہ پیداوار ی اس وقت جو حالت تھی اس میں مل کر کھیتی کرنا ناممکن ہوگیا، تب کہیں ان گھریلو برادیوں کا شیرازہ منتشر ہوا۔ پہلے جو ساجھے کے کھیت اورچراگاہیں تھیں، انہیں ان الگ الگ گھرانوں میں جو اس وقت تک بن چکے تھے، مروجہ طریقے کے مطابق بانٹ دیا گیا۔ شروع میں یہ بٹوارہ ایک مقررہ وقفے کے بعد بار بار ہوتا تھا، پھر کہ ایک بار ہمیشہ کے لیے ہوگیا لیکن جنگل، چراگاہ، ندی نالے اور تالاب سبھی کی مشترکہ ملکیت رہے۔ 150


غلامی کا خاتمہ
لیکن غلامی کا دم توڑتا ہوا نظام اب بھی اتنا جاندار تھا کہ پیداوارکا تمام کام بظاہر غلاموں کا کام معلوم ہوتا تھا جو آزاد رومنوں کے شایان شان نہیں تھا اور اب ہر شخص ایک آزاد رومن تھا۔ ایک تو وجہ کہ تھی جس سے غیر ضروری طور پر غلاموں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ غلام چونکہ ایک بوجھ بن گئے تھے اس لیے انہیں آزاد کر دیا گیا۔ دوسری طرف کولونی اور بھک منگے آزادوں کی تعداد بڑھی۔ 159

۔[۔۔ اور اس طرح بوجھ بنے غلاموں کو آزاد کرکے پھر انہیں غلام بنا دیا گیا، پر اب کی بار ان کی کفالت کا بوجھ اٹھانے کے بجائے محض تھوڑی سی قیمت پر اور وہ بھی 'آزادی" کے نام پر، اور جو طبقہ آگے چل کے پرولتاریہ بنا! غلامی کا خاتمہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ کہا جا سکتا ہے! اس لیے جو غلامی کے خاتمہ کی بات کرتے اور پرولتاریہ پر ڈھالے گئے ظلم پر ہمدردی کا اظہار بھی، وہ حقیقۃً دو متضاد باتیں کرتے۔ وہ 'سبب' پر لعنت کرتے پر 'نتیجہ' کہ گلے لگاتے۔ یعنی لعنت سے پیدا شدہ نتیجے کو گلے لگاتے، اب لعنت سے پیدا شدہ نتیجہ لعنتی ہی ٹھیرےگا!۔۔۔ یا پھر ہم یہ کہیں کے 'سبب'(غلامی) حقیقۃً لعنت ہی نہ تھا۔ ۔]۔


Gau
فرینک لوگوں کی سلطنت کو لیجیے۔ یہاں نہ صرف رومی ریاست کا وسیع علاقہ فاتح سالین جاتی کو مل گیا تھا بلکہ زمینکے تمام ایسے بہت بڑے بڑے قطعات بھی، خاص کر بڑے بڑے جنگل جو بڑے یا چھوٹے حلقے (گاو) اور مارک برادریوں میں نہیں بانٹے گئے تھے، انہیں مل گئے تھے۔ 161



جرمن ایک نہایت باصلاحیت آریائی قبیلے کے لوگ تھے۔ 165


حاکم و محکوم
گن نظام کی عظمت اور اسی کے ساتھ اس کی کمزوری بھی یہی تھی کہ اس میں نہ کوئی حاکم تھا اور نہ کوئی محکوم۔ 167


مویشی کرنسی
گلہ بان قبیلے تبادلے میں اپنے ہمسایوں کو جو خاص چیز دیتے تھے وہ مویشی تھے ۔۔۔ مویشی سے زر یا روپیہ کا کام لیا جانے لگا تھا۔ 169

جب مویشی پالنے، کھیتی اور گھریلو دستکاری غرضیکہ سبھی شاخوں میں پیداوار بڑھی تو انسان کی قوت محنت کو قائم رکھنے کے لیے جتنا پیدا کرنے کی ضرورت تھی، وہ اس سے زیادہ پیدا کرنے لگی۔ ساتھ ہی گن یا گھریلو برادری کے یا الگ الگ خاندان کے ہر ممبر کو روز جتنا کام کرنا پڑتا تھا، اس میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ کہیں سے اور استعداد محنت حاصل کی جائے، وہ جنگ سے حاصل ہوئی۔ جنگ میں جو لہگ پکڑے جاتے تھے اب ان کو غلام بنایا جانے لگا۔ 170

ہم یہ آج تک نہیں جان سکے ہیں کہ جانوروں کے ریوڑ اور جھنڈ کب اور کیونکہ قبیلے یا گن کی مشترکہ ملکیت سے نکل کر الگ الگ خاندانوں کے سرداروں کی ملکیت بن گئے۔ ۔۔ مویشی کے گلوں اور دولت کے اور دوسرے نئے سامان کی بدولت خاندان میں ایک انقلاب نمودار ہوا۔ روزی حاصل کرنا ہمیشہ مرد کا کام ہوا کرتا تھا۔ وہی ذرائع زندگی پیدا کرتا تھا اور وہی ان کا مالک ہوتا تھا۔ 170



عورت کی آزادی
عورتوں کی آزادی اور مردوں کے ساتھ ان کی مساوات اس وقت تک ناممکن ہے اور ناممکن رہےگی جب تک عورتوں کو سماجی پیداوار کے کام سے الگ رکھ کر خانہ داری کے کام تک جو کہ نجی کام ہے، محدود رکھا جائےگا۔ عورتوں کی آزادی اسی وقت ممکن ہوگی جب عورتیں ایک بڑے سماجی پیمانے پر پیداوار میں حصہ لے سکیں گی اور جب گھریلو کاموں پر انہیں بہت کم دھیان دینا پڑے گا اور یہ اب محض بڑے پیمانے کی صنعت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، جو نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لیے بہت بڑی تعداد میں پیداوار کے کام میں حصہ لینے کی گنجائش پیدا کرتی ہے، بلکہ سچ پوچھئے تو اس پر زور دیتی ہے اور اس کے علاوہ نجی گھریلو کام کو بھی ایک عام صنعت بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ 171

۔[اگر میرا گھر 'ایک عام صنعت' بن جائے تو ایسی کمیونزم مجھے نہیں چاہیے!
اگر عورت کی آزادی یہ ہے کہ فیکٹریوں میں کام کرے، تو ایسے آزادی ۔۔۔ اب یہ عورتوں پر چھوڑا ہوا ہے ۔۔۔ انہیں کونسی آزادی پسند ہے!؟
اور اگر کمیونزم سے مراد یہ ہے کہ مرد بھی فیکٹریوں میں کام کرے اور عورت بھی فیکٹریوں میں کام کرے، عورت گھریلو کام پر کم دھیان دے، ۔۔۔ تو مطلب انسان کی کوئی نجی زندگی بچے گی ہی نہیں۔ کمیونزم معاشرہ میں مرد اور عورت کا کام محض صبح اٹھ کر فیکٹریوں میں کام کرنے کے علاوہ کچھ نہ رہےگا۔ بچے 'بچہ گھروں' میں پلہ کریں گیں، کھانا 'کھانا گھروں' میں ملا کرےگا، سیکس جس سے چاہے کرو (اگر وہ راضی ہوجائے)، اور بس بتائے گئے رولس کو فالو کرتے ہوئے روبوٹس کی طرح 'کام' کرو۔۔۔ یہ ہے کمیونزم۔]۔

۔[پہلے آزادی اور غلامی کا کانسیپٹ ہوا کرتا تھا، اور اب صرف اور صرف 'غلامی' بچےگی، (نہ اختلاف رائے کی گنجائش، اور ہر بچہ پیدا ہوتے ہی کمیونسٹ!)۔۔ ہاں اپٓ اسے 'آزادی' بھی کہ سکتے ہیں، کیوں کہ جدلیاتی تھیوری کی رو سے چیزوں کو اُن کی ضد سے پہچانہ جاتا ہے، جب 'ضد' ہی کو مار ڈالا جائیگا تو اب بچی ہوئی کیفیت کی پہچان ناممکن ہوجائگی۔۔ ۔۔
اور یہاں سے یہ بھی پتہ چلتا کہ 'غلامی' کا کانسپٹ اس لیے دیا گیا تھا تاکہ 'آزادی' کی ہمیشہ پہچان و قدر رہے، اگر غلامی کو ختم کردیا گیا تو وقت گذرنے سے قوموں کی قومیں غلام بن جائیں گی، پر انہیں پتہ تک نہ چلےگا۔۔۔ اورغلام بن کر اس وہمِ بےجا میں مبطلا ہوںگی کہ وہ آزاد ہیں!]۔

۔[جب ایک بچہ جیل میں پیدا ہو، اور جیل میں ہر آنے جانے ولی چیز کو مانیٹر کیا جائے اور اُسے اپنے ڈھنگ میں ڈھال کے پیش کیا جائے، اور اُسے بچپن سے ہی یہ پڑھایا جائے کہ جیل کی زندگی ہی تمہارے لیے سُکھ و چین کی زندگی ہے (پھر چاہے کتنی ہی مشکلوں میں کیوں نہ ہو)، جبکہ جیل سے باہر خونخوار بھیڑیوں کی دنیا ہے جو تمھیں کانٹ کھائیںگے۔ تو پھر ایسے ماحول میں پلنے والے بچوں کی حالت ان سے مختلف نہیں ہوگی جو ہمارے معاشرہ میں خود کو خودکش بموں میں اُڑا دیتے ہیں۔ پھر آزادی تو درکنار آزادی فکر کے مفہوم ہی سے وہ ناآشنا رہیں گے۔]۔


دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن یہ الگ الگ افراد کی دولت تھی۔ 172
۔[اس 'دولت' کو اگر 'محنت' سے تبدیل کیا جائے تب بھی غلط نہ ہوگا۔]۔



تاجر
محنت کا اضافہ۔۔۔ اس نے ایک ایسے طبقے کو جنم دیا جو عمل پیداوار میں قطعی کوئی حصہ نہیں لیتا اور محض پیداوار کا تبادلہ کیا کرتا ہے۔ یہ تاجروں کا طبقہ ہے۔ ۔۔۔ اس نے بحیثیت مجموعی پیداوار کے سارے انتظام کو اپنے قبظے میں کرلیا اور پیدا کرنے والوں کو اقتصادی طور پر اپنی حکمرانی میں لے لیا۔ یہ ایسا طبقہ ہے جو دو قسم کا مال پیدا کرنے والوں کے درمیان کی ایک ضروری اور لازمی کڑی بن جاتا ہے اور دونوں کا استحصال کرتا ہے۔ پیدا کرنے والوں کے تبادلے کی پریشانی اور اس کے خطروں سے بچانے کے بہانے، ان کے مال کے لیے دور دور کے ملکوں میں منڈی تلاش کرنے کے بہانے اور اس طرح سماج کا سب سے کارآمد طبقہ ہونے کا دعویٰ کرکے طفیلیوں کا ایک طبقہ سامنے آتا ہے۔ یہ سچ مچ سماجی سالیسوں کا گروہ ہے جو حقیقت میں نہایت معمولی خدمتوں کے عوض ملک کے اندر اور باہر کی پیداوار کا سب اچھا حصہ دودھ کے بالائی کی طرح خود نکال لیتا ہے، تیزی سے کثیر دولت کا مالک بن بیٹھتا ہے اور اسی کی مناسبت سے سماجی اثر پیدا کرتا ہے اور اسی وجہ سے تمدن کے عہد میں اسے نت نئے اعزاز ملتے رہتے ہیں اور پیداوار پر اس کی گرفت زیادہ سخت ہوتی جاتی ہے حتی کہ آخر میں وہ خود بھی اپنی ایک چیز پیدا کرتا ہے، میعادی تجارتی بحران۔ 175



تجارت کی توسیع، سکہ کا چلن، سودخوری، زمین پر نجی ملکیت اور رہن کا رواج۔ ان سب چیزوں کے ساتھ ایک طرف ایک چھوٹے سے طبقے کے ہاتھ میں دولت کا اجتماع اور ارتکاز ہوتا رہا اور دوسری طرف عام لوگوں کا افلاس بڑھتا گیا۔ اور گداگروں اور مفلسوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ 177



اس اقتدارِ عامہ کو قائم رکھنے کے لیے شھریوں سے پیسہ وصولنا یعنی ٹیکس لینا ضروری ہوگیا۔ 180

۔[ریاست خود کو چلانے کے لیے ٹیکس وصولی کرتی تھی، پر کمینوزم ٹیکس وصول نہیں کریں گی، بلکہ وہ آپ سے آپ کا سب کچھ وصول کرےگی تاکہ ٹیکس جیسی چیز کی نوبت ئی نہ آئے۔]۔


چونکہ ریاست طبقاتی تضاد کو دبائے رکھنے کی ضرورت سے پیدا ہوئی لیکن اسی کے ساتھ وہ ان طبقوں کی کشمکش کے دوران پیدا ہوئی، اس لیے وہ عام طور پر سب سے زیادہ طاقتور، اقتصادی طور پر سب سے زیادہ ذی اقتدار طبقہ بن جاتا ہے اور اس طرح مظلوم طبقے کو دبائے رکھنے اور اس کا استحصال کرنے کے نئے ذرائع حاصل کرتا ہے۔ 181



تاریخ میں ابھی تک جتنی ریاستیں ہوئی ہیں، ان میں زیادہ تر شہریوں کو ان کی دولت کے مطابق کم یا زیادہ حقوق دئیے جاتے ہیں۔ اس سے یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ ریاست ملکیت والے طبقوں کی ایک تنظیم ہے جو محروم ملکیت طبقے سے ان کی حفاظت کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ 182

ریاست کی اعلٰی ترین شکل یعنی جمہوری ریپبلک جو سماج کے موجودہ حالات میں روز بروز ایک لازمی ضرورت ہوتی جا رہی ہے اور جو ریاست کی وہ تنہا صورت ہے جس میں پرولتاریہ اور برژوا طبقے کی آخری فیصلہ کن جدوجہد ہوسکتی ہے۔ وہ جمہوری ریپبلک سرکاری طور پر ملکیت کے فرق کو نہیں مانتی۔ اس میں دولت بالواسطہ طریقے سے مگر اور بھی زیادہ کارگر ڈھنگ سے اپنا اثر ڈالتی ہے۔ ایک تو دولت سے سرکاری عہدیداروں کے سیدھے سیدھے رشوت دی جاتی ہے۔ اس کی ٹھیٹ مثال امریکہ ہے۔ دوسرے، حکومت اور سٹاک ایکسچینج میں گٹھ بندھن ہوجاتا ہے۔ 182


ریاست Antique
جوسماج مال پیدا کرنے والوں کے آزاد اور مساوی تعاون کی بنیاد پر پیداوار کو منظم کرےگا وہ سماج ریاست کی پوری مشین کو اٹھا کر وہاں رکھ دے گا جہاں تب اس کا رکھا جانا زیب دے گا، یعنی وہ ریاست کو ہاتھ کے چرخے اور کانسے کی کلہاڑی کی طرح آثارِ قدیمہ کے عجائب گھر میں رکھ آئے گا۔ 183



انسان نے ابھی تبادلہ شروع ہی کیا تھا کہ اس کا بھی تبادلہ کیا جانے لگا۔ 185


تمدن کا عہد جنس تبادلہ کی پیداوار کی جس حالت سے شروع ہوا اس کی اقتصادی خصوصیتیں یہ تھیں: ۱۔ دھات کے بنے ہوئے سکے استعمال ہونے لگے تھے اور اس لیے زر کی شکل میں سرمائے کا، سود اور سودخوری کا رواج بھی ہوچکا تھا۔ ۲۔ پیدا کرنے والوں کے بیچ میں تاجر درمیانی آدمی کا کام کرنے لگے تھے۔ ۳۔ زمین پر افراد کی نجی ملکیت قائم ہوگئی تھی اور ہن کا رواج ہوچکا تھا۔ ۴۔ پیداوار کی مروجہ شکل غلاموں کی محنت تھی۔ تمدن کے عہد سے مطابقت رکھنے والی خاندان کی شکل جو اس عہد میں یقینی طورپر مروجہ شکل بن چکی تھی، یک زوجگی ہے جس میں عورت پر مرد کا غلبہ ہوتا ہے اور الگ الگ ہر خاندان سماج کی اقتصادی اکائی ہوتا ہے۔ متمدن سماج کو باندھ کر رکھنے والی قوت ریاست ہے، جو ہر نمائندہ عہد میں محض حکمراں طبقے کی ریاست ہوتی ہے اور جو بنیادی طور پر ہمیشہ مظلوم اور استحصال کیے جانے والے طبقے کو دبا کر رکھنے والی مشین کا کام کرتی ہے۔ تمدن کی دوسری خصوصیتیں یہ ہیں: سماجی محنت کی پوری تقسیم کی بنیاد کے طور پر شہر اور دیہات میں مستقل تصاد قائم ہوجاتا ہے۔ دوری طرف وصیت ناموں کا رواج ہوجاتا ہے جس کے ذریعے جائیداد کا مالک اپنی موت کے بعد بھی اپنی جائیداد کو جسے چاہے دے سکتا ہے۔ یہ رواج جس نے قدیم گن دستور پر براہ راست کاری ضرب لگائی، سولون کے زمانے تک ایتھنز میں نہیں پایا جاتا تھا۔ روم میں بہت شروع میں ہی اس کا رواج ہوگیا تھا لیکن ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ کب۔ جرمنوں میں وصیت کو پادریوں نے رواج دیا تاکہ بھولے بھالے خوش عقیدہ جرمن بلا کسی دشواری کے اپنی جائیداد کلیسا کو دے جائیں۔ 186


سائنس اور فن
اگر نصب العین کو پورا کرنے کی کوشش کے دوران میں سائنس نے زیادہ سے زیادہ ترقی کی اور فن کے انتہائی عروج کے دور بھی بار بار آتے رہے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ دولت بٹورنے میں آج جو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ سائنس اور فن کی ان کامیابیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔ 186-187

Sunday, February 13, 2011

KZMARKA - Gan - Zaati Milkiyat

خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز
فریڈرک انگلز



اقتباسات: حصہ ۲
۔(شرح و نقد)۔


امریکی انڈین
امریکہ انڈینوں کی بہت بڑی اکثریت کبھی بھی قبائلی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہمیں اس وفاق کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ صورت ایروکواس لوگوں میں ملتی ہے۔ ان کا ابتدائی وطن مسی سیپی کے مغرب میں تھا، جہاں غالباً وہ عظیم ڈکوٹا نامی نسل کا حصہ تھے۔ وہاں سے نکل کر وہ بہت دنوں تک گھومتے پھرتے رہے اور پھر اس علاقے میں آبسے جو آج کل نیویارک کی ریاست ہے۔ وہ پانچ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے۔ سینیکا، کایوگا، اوننڈگا، اونیڈا اور موہاوک۔ وہ مچھلی، شکار کیے ہوئے جانور اور بہت ہی بھدے قسم کی باغبانی کی پیداوار پر گزربسر کرتے تھے۔ وہ ایسے گاؤں میں رہتے تھے۔ جو زیادہ تر باڑوں سے گھرے ہوتے تھے ان کی تعداد کبھی بھی بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہوئی۔ 97


گن
گروٹ ہی نہیں بلکہ نیبور، مومسن اور قدیم کلاسیکی عہد کے سب سے پہلے کے مورخ بھی گن کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ یہ صحیح ہے کہ انہوں نے اس کی بعض نمایاں خصوصیات کا پتہ لگالیا تھا مگر گن کو وہ ہمیشہ خاندانوں کا ایک گروہ سمجھا کیے اور انہوں نے ایسی صورت حال پیدا کردی جس میں ان کے لیے گن کی نوعیت اور اس کی ابتداء کو سمجھنا ناممکن ہوگیا۔ گن کے دستور کے تحت خاندان کبھی بھی تنظیم کی اکائی نہیں رہا اور یہ ممکن بھی نہیں تھا کیونکہ شوہراور بیوی لازمی طور پر مختلف گنوں میں ہوتے تھے۔ گن بحیثیت مجموعی فریٹری (برادری) اور فریٹری قبیلے کے اندر تھی مگر جہاں تک خاندان کا تعلق ہے وہ آدھا شوہر کے گن میں اور آدھا بیوی کے گن میں بٹا ہوا تھا۔ 105


گن کا ایک مشترک مورثِ اعلٰی کی نسل سے ہونا، ایک ایسی پہیلی اور گتھی ہے جس سے 'تعلیم یافتہ کم نظروں' کا دماغ چکرا گیا ہے۔ (مارکس)۔ 106


اس نظام کی وجہ سے علم محفوظ رہا کہ گن کے سب لوگوں میں آپس میں کیا رشتہ ہے۔ یہ ان کے لیے بڑی اہم بات تھی جس کو وہ اپنے ابتدائی بچپن کے زمانے سے ہی سیکھ لیتے تھے۔ 106-107


قبیلوں، فریٹریوں اور گنوں کی اس باقاعدہ اور مفصل تقسیم کو دیکھ کر یہی خیال ہوتا ہے کہ اس نظام کی تشکیل تو خود بخود ہوئی تھی مگر بعد میں اس میں سوچ سمجھ کر اور باقاعدہ دخل اندازی کی گئی۔

۔[ہاں جب انسان کے پاس 'سوچ سمجھ' آگئی تو وہ اسے یقیناً استعمال بھی کرنے لگا!]۔


ریاستِ ایتھنز
ریاست کا ارتقا کیونکہ ہوا، نئے اداروں کے قائم ہونے کی وجہ سے کیونکر گن دستور کے کچھ ادارے بدل گئے اور کچھ مٹ گئے اور آخر میں کس طرح سارے پرانے اداروں کی جتہ پر صحیح معنی میں سکاری حکام آگئے اور دوسری طرف "ہتھار بند عوام" کی جگہ، جو خود اپنے گنوں، فریٹریوں اور قبیلوں کے ذریعے اپنی حفاظت کیا کرتے تھے، ہتھیار بند" سرکاری طاقت" (پولیس) قائم ہوئی جو ان حکام کے اشاروں پر چلا کرتی تھی اور اسی باعث جس سے عوام کے خلاف بھی کام لیا جا سکتا تھا۔ یہ تمام باتیں خاص کر اپنے ابتدائی دور میں جتنی صفائی کے ساتھ ایتھنز میں دیکھی جاسکتی ہیں، اتنی صفائی کے ساتھ اور کہیں نہیں دیکھی جاسکتیں۔ 113


امریکہ کے انڈین ترقی کی جس منزل تک پہنچے تھے، ایتھنز کے باشندے اس سے ایک قدم آگے بڑھ گئے۔ 114


ایتھنز کے طبقات
تھیستئیس کی طرف ایک اور بات منسوب کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس نے تمام لوگوں کو گن، فریٹری او رقبیلے کے فرق کو بھلا کر، تین طبقوں میں تقسیم کردیا: یوپٹیریڈیز یعنی امراء اور شرفا کا طبقہ، جیوموروئی یعنی زمین کی کاشت کرنے والے لوگ اور ڈیمی ارجی یعنی دستکار۔ سرکاری عہدیدار بننے کا حق صرف امرا اور شرفا کو دیا گیا۔ 114



پہلے جب لوگوں کی زندگی کے حالات گن دستور کے مطابق تھے، تب اس طرح کا انقلاب ناممکن تھا۔ لیکن اب یہ انقلاب ہوگیا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلاا کہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے ہوگئی۔ 116


پیداوار بہت محدود دائرے میں ہوتی تھی لیکن پیداوار کرنے والوں کا اپنے پیدا کیے ہوئے مال پر قبضہ ہوتا تھا۔ عہد بربریت کے طریقہ پیداوار کی یہ ایک بڑی خوبی تھی جو تمدن کے آتے ہی ختم ہوگئی اور فطرت کی قوتوں پر انسان کو جو زبردست قدرت حاصل ہوگئی ہے اور انسانوں میں آج جو آزاد تعاون ممکن ہے، اس کی بنیاد پر عہد بربریت کی پیداوار کی اس خصوصیت کو پھر سے حاصل کرنا ہی آنے والی نسلوں کا کام ہے۔ 117

۔[روس کے غریب کسان جنہیں 'کولاک' کہا جاتا ہے، اپنی 'قلیل' زمینوں کے 'مالک' ہوا کرتے تھے، اوپر دیے گئے پہلے جملے کے مصداق، پر روسی کمیونسٹ انقلاب کے بعد ان سے وہ زمینیں جبراً چھین لی گئین اور 'حکم' نہ ماننے کے پاداش میں تیس لاکھ قتل کردیے گئے یا جیلوں میں مرگئے اور ستر لاکھ افلاس کی وجہ سے مرگئے۔۔۔ اینگلز کے الفاظوں میں (کولاک) عہد بربریت کی بہت بڑی خوبی تھے جو تمدن (کمونزم) کے آتے ہی ختم ہوگئے!]۔



زر کی ایجاد
جنسِ تبادلہ کی پیداوار کے ساتھ ساتھ انفرادی کھیتی بھی شروی ہوگئی۔ لوگ الگ الگ اپنے فائدے کے لیے زمین جوتنے لگے۔ اس کے تھوڑے عرصے بعد زمین پر انفرادی ملکیت قائم ہوگئی۔ پھر زر یا روپیہ یعنی وہ چیز آگئی جس کا دوسری سبھی چیزوں کے ساتھ تبادلہ ہوسکتا تھا۔ 117



عوام کو پہلی بار خون کے رشتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ علاقے کے مطابق، بودباش کی مشترک جگہ یعنی ایک ہی جگہ بسے ہوئے ہونے کی بنیاد پر، الگ الگ بانٹ دیا گیا تھا۔ 119


لوگوں کو نہیں بلکہ علاقوں کو تقسیم کیا گیا۔ 122


پولیس
پولیس اتنی ہی پرانی چیز ہے جتنی پرانی ریاست۔
اس طرح اپنی ریاست قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ایتھنز کے باشندوں نے اپنی پولیس بھی بنا ڈالی جس کو تیر کمان سے لیس پیدل اور سواروں کا دستہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ جنوبی جرمنی اور سوئٹزلینڈ کی زبان میں کہا جائے تو ایتھنز والوں نے اپنی لہنڈجاگر بنا ڈالی تھی۔ اس پولیس کے سپاہی سب غلاموں میں سے تھے۔ ایتھنز کے آزاد شہری پولیس کا کام یتنا نیچ سمجھتے تھے کہ ایک ہتھیار بند غلام کے ہاتھوں تو گرفتار ہونا انہیں پسند تھا مگر یہ پسند نہ تھا کہ خود اس نفرت انگیز کام کو کریں۔ 123-124

۔[۔۔۔ اور اسی طرح لینن و اسٹالن نے بھی اپنی 'ریاست' کی بچا و بقا کے لیے ایک سیکریٹ پولیس تشکیل دی، جس سے 'اینیمل فام' والے جنگلی کتوں کی طرح کام لیا جانے لگا۔ تاکہ کہیں سے بھی 'مخالفت' کی آواز اٹھنے نہ پائے اور (آواز کا اٹھنا تو دور کی بات) صرف پوٹیشل رسک ہی کو وہیں کا وہیں دبا دیا جائے!]۔

_________________________

Saturday, February 12, 2011

KZMARKA - Khandan

خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز
فریڈرک انگلز


اقتباسات : خاندان
۔(شرح و نقد)۔

یک زوجگی
۔۔ یک زوجگی کا نظام جس میں عورت پر صرف ایک مرد کا حق مانا جاتا ہے۔ اس کے قائم ہونے کا مطلب ایک قدیم مذہبی اصول کی خلاف ورزی (یعنی اصل میں اس عورت پر دوسرے مردوں کے قدیم روایتی حق کی خلاف ورزی) تھی۔ 10


۔۔ یونانی اور ایشیائی لوگوں میں یک زوجگی کا رواج ہونے سے پہلے وہ حالت پائی جاتی تھی جس میں نہ صرف مردوں کا ایک سے زیادہ عورتوں سے جنسی تعلق ہوتا تھا بلکہ عورتوں کا بھی ایک سے زیادہ مردوں سے جنسی تعلق ہوتا تھا اور اس سے کسی مروجہ اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی تھی۔ 12


گوت، گن، قبیلہ
۔۔ لیکن جس زمانے میں گروہ وار شادی کا رواج تھا، اور زیادہ امکان اسی بات ہے کہ کسی نہ کسی زمانے میں اس کا رواج ہر جگہ تھا، تب قبیلہ کے اندر کئی گروہ ایسے ہوا کرتے تھے جن میں ایک دوسروں سے ماں کی طرف سے خون کا رشتہ ہوتا تھا۔ یہ گروہ گن کہلاتے تھے اور ان کے اندر شادی کرنے کی سخت ممانعت تھی۔ اس لیے کسی بھی گن کے مرد قبیلے کے اندر ہی اپنے لیے بیویاں حاصل کرسکتے تھے اور عام طور پر وہ یہی کرتے تھے، مگر انہیں اپنے گن کے باہر ہی بیویاں حاصل کرنی پڑتی تھیں۔ اس طرح جبکہ گن، سختی سے گوت باہر شادی کرنے کے اصول پر عمل کرتا تھا، تب قبیلہ جس میں کئی گن شامل ہوتے تھے، اتنی ہی سختی سے گوت اندر شادی کرنے کے اصول پر عمل کرتا تھا۔ 18


جرمن کو تو کسی طرح برداشت بھی کرسکتے ہیں لیکن امریکی کو کیسے گوارا کرسکتے ہیں؟ کسی امریکی کو دیکھ کر ہر انگریز کو حب الوطنی کا دورہ پڑنے لگتا ہے۔ 20


عہد بربریت
عہد بربریت کی نمایاں خصوصیت جانور پالنا، ان کی نسل بڑھانا اور پودوں کی کاشت کرنا ہے۔ اب جہاں تک مشرقی براعظم یعنی دنیائے قدیم کا تعلق ہے، یہاں پالنے کے قابل تقریباً سبھی جانور اور ایک کو چھوڑ کر کاشت کے قابل سبھی اناج موجود تھے جبکہ مغربی براعظم یعنی امریکہ میں پالنے کے قابل ایک ہی دودھ پلانے والا جانور تھا جسے لاما کہتے ہیں اورجو صرف جنوب کے ایک حصے میں پایا جاتا تھا، اور کاشت کے قابل صرف ایک اناج "مکا" تھا۔ 24-25


بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ان لوگوں نے اناج کی کھیتی پہلے پہل مویشیوں کو کھلانے کے لیے شروع کی تھی اور انسانوں کی خوراک کے لیے اس کو اہمیت بعد میں حاصل ہوئی۔ 26


غذا۔ دماغ
آریوں اور سامیوں کو گوشت اور دودھ بہ افراط ملتا تھا۔ بچوں کی نشونما پر ان غذائوں کا بہت مفید اثر پڑتا ہے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ ان دونوں نسلوں نے اوروں سے زیادہ ترقی کی۔ سچ پوچھیے تو نیومیکسیکو کے پوئبلو انڈین جن کی غذا صرف ساگ ترکاری رہ گئی ہے ان انڈینوں کے مقابلے میں چھوٹے دماغ کے ہوتے ہیں جو بربریت کے ابتدائی دور میں ہیں اور خوب گوشت اور مچھلی کھاتے ہیں۔ 26


۔ غولvs خاندان
اعلٰی حیوانوں میں غول اور خاندان لازم و ملزوم نہیں بلکہ ان میں آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ اسپناس نے بڑی خوبی سے دکھایا ہے کہ جوڑا ملنے کے زمانے میں نروں کے آپس کے رشک و رقابت کی وجہ غول میں مل جل کر رہنے والوں کا شیرازہ منتشر ہونے لگتا ہے۔
"جہاں خاندان کی شیرازہ بندی مضبوط ہے وہاں غول شاذونادر ہی پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں آزاد جنسی تعلق یا کثت ازدواج ہے وہاں گویا قدرتی طور پر غول بن جاتے ہیں، غول بننے کے لیے ضروری ہے کہ خاندان کی بندشیں ڈھیلی پڑچکی ہوں۔۔۔۔"34


اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جن قبیلوں میں قدم اٹھا کر قریبی رشتہ داروں سے جنسی تعلق قائم کرنا اور بچے پیدا کرنا روک دیا گیا، انہوں نے ان قبیلوں کے مقابلے می کہیں جلدی اور زیادہ مکمل ترقی کی جن میں بھائی بہنوں کی شادی کا رواج تھا اور اسے ضروری فرض سمجھ کر کیا جاتا تھا اور اس قدم کا بڑا زبردست اثر پڑا۔ 38


سیزر کے زمانے میں برطانیہ والے بربریت کی درمیانی منزل سے گزر رہے تھے۔۔۔ 40


مختصر یہ کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت قریبی رشتہ داروں میں شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کے رواج پر پابندی لگانے کا جذبہ بار بار اثر انداز ہوتا رہا ہے لیکن مقصد کا واضح احساس نہ ہونے کی وجہ سے وہ آپ ہی آپ گویا اندھیرے میں راستہ ٹٹولتے ہوئےآگے بڑھتا ہے۔ 44


۔۔ یہاں عورتوں کے اغوا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انفرادی شادی کی طرف قدم اٹھایا جا چکا ہے۔ 45


سالی پوری گھروالی
شمالی امریکہ کے کم سے کم چالیس قبیلوں میں یہ رواج ہے کہ جو شخص کسی خاندان کی سب سے بڑی لڑکی سے شادی کرتا ہے اس کا حق سبھی بہنوں پر ہوجاتا ہے۔ ۔۔ یہ اس دور کی بچی کھچی نشانی ہے جب سبھی بہنوں کے شوہر مشترک ہوتے تھے۔ 50


شادی سے پہلے آزادی
قدیم زمانے میں تھریشیا کے باشندوں میں، کیلٹ لوگوں میں اور ہندوستان کے بہت سے آدی باسیوں میں، ملایا کے باشندوں میں بحیرہ جنوبی کے جزیروں کے لوگوں میں اور بہت سے امریکی انڈینوں میں تو آج بھی لڑکیوں کو شادی سے پہلے پوری جنسی آزادی ہوتی ہے۔ خاص کر جنوبی امریکہ کے تقریباً ہر علاقے میں یہی صورت ہے۔ 51


پہلی رات شب زفاف کے حق کا خاتمہ
کچھ اور قوموں میں یہ رواج ہے کہ شادی کے موقع پر دولہا کے دوست اور رشتہ دار یا شادی میں آئے ہوئے دوسرے مہمان پرانے روایتی حق کے مطابق پہلے دلہن کے ساتھ ہم بستری کرتے ہیں اور دولہا کی باری سب سے آخری میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں بالیری جزیروں میں اور افریقہ کے آگیلا لوگوں میں اور موجودہ زمانے میں حبشہ کے باریا لوگوں میں اس کا رواج پایا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ دوسری قوموں میں یہ رواج ہے کہ ایک سرکاری آدمی، قبیلےیا گن کا سردار، کاسیک، شمان، پروہت، پرسن یا جوبھی اس کا خطاب ہو، پوری برادری کی نمائندگی کرتا ہے اور دلہن کے ساتھ پہلی رات کا حق ادا کرتا ہے۔ ۔۔ الاسکا علاقے کے زیادہ تر باشندوں میں، شمالی میکسیکو کے تاہو لوگوں میں اور جاتیوں میں گروہ وار شادی کی ایک بچی کھچی نشانی کے طور پر آج تک چلا آتا ہے اور زمانہ وسطیٰ می کم از کم ان ملکوں میں جہاں قدیم کیلٹ جاتی کے لوگ رہتے تھے، اس کا برابر رواج رہا۔ ان میں یہ رسم براہ راست گروہ وار شادی سے نکلی تھی۔ اس کی ایک مثال آراگاں کا علاقہ ہے۔ کیسٹیل می کسان کبھی زرعی غلام نہی رہا مگرآراگاں میں بدترین قسم کی زرعی غلامی قائم تھی اور وہ اس وقت تک رہی جب تک کہ 1486 میں فرڈیننڈ کیتھولک نے ایک فرمان کے ذریعے اس کو ختم نہ کر دیا۔
"ہم فیصلہ دیتے اور اعلان کرتے ہیں کہ اگر کوئی کسان شادی کرتا ہے تو، اوپر جن لارڈوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ پہلی رات اس کی دلہن کے ساتھ نہیں سوئیں گے اور نہ شادی کی رات کو جب عورت سو رہی ہو تواپنے اقتدار کی نشانی کے طور پر اس عورت اور اس کے بستر کو روندیں گے اور نہ ہی یہ لارڈ کسانوں کے بیٹے اور بیٹیوں سے ان کی مرضی کے خلاف اجرت پر یا اجرت کے بغیر کام لیں گے۔"

۔[انقلاب 'فرد کی تعلیم' سے آتا!]۔


عورت کی کوشش برائ یک زوجگی
اس نظام کے بدلے یک زوجگی یعنی ایک فرد ایک عورت کی شادی کا رواج اصل میں عورتوں کی کوششوں سے ہوا۔۔۔ قدیم کمیونزم کے زوال اور آبادی کے زیادہ سے زیادہ گنجان ہونے کے ساتھ ساتھ پرانے روایتی جنسی تعلقات کی ابتدائی سادگی اور بھولاپن اور اس کا قدیم جنگلی کردار مٹتا گیا اور اتنا ہی زیادہ وہ جنسی تعلق عورتوں کو ہتک آمیز اور ظالمانہ معلوم ہونے لگا۔ قدرتاً ان کے دل میں اس خواہش نے زور پکڑا ہوگا کہ کسی طرح انہیں عفت اور پاکیزگی کی زندگی بسر کرنے کا حق ملے، کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ اس مصیبت سے نجات پائیں اور ایک وقت میں صرف ایک مرد سے عارضی یا مستقل شادی کرسکیں۔ مردوں سے یہ امید نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اس تبدیلی کو لانے میں پیش قدمی سے کام لیں گے۔ 53


مادری سے پدری کنورشن
دولت بڑھنے کی وجہ سے۔۔۔ خاندان میں عورت کے مقابلے میں مرد کی اہمیت اور اس کا رتبہ زیادہ اونچا ہوتا گیا۔ ۔۔۔ اسی طرح عورتوں سے نسل کا سلسلہ اور ماں سے وراثت پانے کا حق ختم ہوگیا اور اس کے بدلے مردوں سے نسل کا سلسلہ اور باپ سے وراثت پانے کا حق قائم ہوا۔ متمدن قوموں میں یہ انقلاب کب اور کس طرح آیا اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ یہ بالکل ماقبل تاریخ کے زمانے کی بات ہے۔ 56-57


مادری حق کا خاتمہ عورتوں کی ایک عالمگیر تاریخی شکست تھی۔ 58

۔[یہ شکست نہیں فتح تھی۔ مردوں کی بھی اور عورتوں کی بھی۔ جس طرح مارکس اور اینگلز کہتے ہیں کہ ان کے جدلیاتی مادیت کی تھیوری نے ہیگل کے 'سر کے بل' کھڑے فلسفے کو سیدھا کھڑا کر دیا۔ اسی طرح مادری زمانہ وہ تھا جو اپنے سر کے بل کھڑا تھا، پدری زمانہ نے اسے اپنے پیروں پر کھڑا کردیا۔ اس کی تائید خود اینگلز اگلے ہی پیج پر کرتے ہیں: "پدری خاندان کے ساتھ ہم لکھی ہوئی تاریخ کے دور میں قدم رکھتے ہیں، یہ ایک ایسا دور ہے جس میں تقابلی قانون کا علم ہماری بہت مدد کرتا ہے اور سچ پوچھیے تو اس کی مدد سے ہم بہت کچھ آگے بڑھے ہیں۔" 59]۔


فیملی
familia ۔لفظ
کا مطلب ابتدا میں وہ نہیں تھا جو آجکل کے کم نظروں کا آدرش ہے اور جو کہ جذباتیت اور گھریلو کشیدگی سے مرکب ہوتا ہے۔ رومنوں میں شروع میں یہ لفظ شادی شدہ جوڑے اور ان کے بچوں کے لیے استعمال ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس کا اطلاق صرف غلاموں پر ہوتا تھا۔
Famulus ۔ 
 کا مطلب تھا گھریلو غلام، اور
Familia
کا لفظ مجموعی طور پر ایک شخص کے سبھی غلاموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ گیوس کے زمانے میں بھی لوگ
Familia, id est patrimonium
۔(یعنی بطور ترکہ) اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے۔ رومنوں نے ایک نئے سماجی ادارے کے لیے یہ اصطلاح بنائی تھی۔ اس ادارے میں اس کے سردار کے تحت اس کی بیوی، بچے اور متعدد غلام ہوتے تھے اور رومن پدری اقتدار کے تحت سردار کو ان کی زندگی اور موت پر اختیار ہوتا تھا۔


Code Napoleon
میں شوہر کو یہ حق دیا گیا ہے کہ ہو چاہے تو داشتہ رکھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ اسے گھر کے اندر نہ لائے۔ 63


ایتھنز کے لوگوں کی نظر میں بیوی کا کام بچے پیدا کرنے کے علاوہ اگر کچھ تھا تو صرف یہ کہ وہ گھر کی سب سے بڑی ملازمہ تھی۔ 65


شادی کی مصلحت
شادیاں اب بھی پہلی کی طرح مصلحت کی بنا پر کی جاتی تھیں یہ خاندان کی وہ پہلی شکل تھی جس کی بنیاد قدرتی نہیں بلکہ اقتصادی حالات پر تھی، یعنی ابتدائی مشترکہ ملکیت پر، جس کی نشونما قدرتی طور پر ہوئی تھی۔ ذاتی ملکیت کی فتح، یہی اس کی بنیاد تھی۔ یونان والے علانیہ کہتے تھے کہ یک زوجگی کا واحد مقصد یہ ہے کہ خاندان کے اندر مرد کی حکمرانی ہو، ایسے بچھے پیدا ہوں جو صرف اس کے نطفے سے ہوں اور جو اس کے وارث بنیں۔ 66


پہلا طبقاتی فرق
میں نے اور مارکس نے 1816 میں ایک کتاب لکھی تھی (جرمن آیڈیالاجی) جو ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ اس پرانے غیر مطبوعہ مسودے میں مجھے ایک فقرہ ملا کہ "محنت کی سب سے پہلی تقسیم مردوں اور عورتوں میں بچہ پالنے کے لیے ہوئی۔" اور آج میں اس پر یہ اضافہ کرسکتا ہوں کہ تاریخ میں پہلا طبقاتی اختلاف یک زوجگی کے نظام کے اندر مردوں اور عورتوں کے اختلاف کے ابھرنے کے ساتھ ساتھ نمودار ہوتا ہے اور پہلا طبقاتی ظلم عورتوں پر مردوں کے ظلم کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔67


تاریخ کی پہلی طوائفیں
روپیہ لے کر اپنے آپ کو مردوں کے آغوش میں دے دینا شروع میں ایک مذہبی کام تھا جس کو محبت کی دیوی کے مندر میں انجام دیا جاتا تھا اور وہ روپیہ مندر کے خزانے میں دخل کردیا جاتا تھا۔ ارمینیا میں انائیطس کے مندر اور کورنتھ میں ایفروڈائیٹ کے مندر کی ہائروڈیول اور ہندوستان کے مندروں کی دیوداسیاں، جنہیں بیادیر بھی کہا جاتا ہے۔۔ یہ تاریخ کی پہلی طوائفیں تھیں۔ قربانی کے طور پر سپردگی کی یہ رسم ادا کرنا پہلے سبھی عورتوں کے لیے ضروری تھا۔ بعد میں مندروں کی یہ پجارنیں ہی سب عورتوں کی طرف سے یہ خدمت انجام دینے لگیں۔ 68



خاندان کے اندر شوہر بورژو ہے اور بیوی مزدور۔ 76

Khandan, Zati Milkiyat Aur Ryasat Ka Agaz - Engels

خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز
1884




۔(تشریحی نوٹ۔ از اینگلز۔ 200-201)۔

"خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز" یہ کتاب مارکس ازم کی بنیادی تصانیفات میں شمار ہوتی ہے۔ اینگلز نے اس تحریر میں علمی تجزیہ کر کے دکھایا ہے کہ انسان ترقی اور نشوونما کے کن کن مرحلوں سے گزر کر یہاں تک پہنچا، بالکل شروع کی سماجی حالت کیا تھی، اس کا ڈھانچہ پھیلتے پھیلتے کیونکر وہ ایسے طبقاتی سماج میں ڈھل گیا جس کی جڑ بنیاد ذاتی ملکیت پر ہے، طبقات میں بٹے ہوئے اس سماج کی کیا خاصیتیں اور خصوصیتیں ہیں، مختلف سماجی معاشی بناوٹوں میں خاندانی رشتوں نے کیا کیا رنگ اختیار کیے، ریاست کی شروعات کیسے ہوئی اور اس کی اصلیت کیا ہے، ان تمام مرحلوں کو وضاحت کے ساتھ پیش کر کے اینگلز نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ بے طبقہ کمیونسٹ سماج کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوتے ہی ریاست کا دم توڑ دینا تاریخ کی طرف سے مقدر ہوچکا ہے۔

یہ کتاب اینگلز نے ختم مارچ 1884ء سے ختم مئی تک کے دو مہینوں میں لکھ کر تمام کردی تھی۔ مارکس کے انتقال کے بعد ان کے مسودوں کی چھان بین کرتے وقت اینگلز کوترقی پسند امریکی عالم مارگن کی تصنیف "قدیم سماج" کا تفصیلی خلاصہ ملا جسے مارکس نے 1880-81 میں ترتیب دیا تھا اور اس پر جابجا حاشیے اور تنقیدی نوٹ بڑھائے تھے۔ اس کے علاوہ مارکس نے دوسرے ذرائع اور تحقیقات سے بھی کام لیا تھا۔ اینگلز نے جب یہ خلاصہ پڑھا اور دیکھ لیا کہ انسانی تاریخ کا جو مادی تصور ان دونوں نے قائم کیا تھا اور بالکل ابتدائی سماج کے متعلق جو نظریے بنائے تھے، ان کو مارگن کی تحقیقات سے تائید ملتی ہے تو اس نے ضروری سمجھا کہ خاص اس موضوع پر ایک تصنیف ہونی چاہیے، جس میں مارکس کے حاشیوں اور تنقیدوں سے پوری طرح مدد لی جائے اور خود مارگن کی کتاب میں جو علمی تحقیقاتی مسالہ موجود ہے، جو تنیجے نکالے گئے ہیں، ان میں سے بھی بعض کو کام میں لایا جائے۔ اینگلز کی نظر میں یہ کام "ایک حد تک مارکس کی وصیت کی تعمیل" کرنا تھا۔ اینگلز نے اس موضوع پر کلم اٹھایا تو یونان اور روم کی تاریخ پر، قدیم آئرلینڈ، قدیم جرمنوں وغیرہ کی تاریخ پر جتنی تحقیق وہ خود کرچکا تھا، اس کا بیشمار مسالہ اور طرح طرح کے علمی نکات بھی اس میں ملالیے۔ (اینگلز)



کمینٹس از اظہر

اینگلز نے امریکی مارگن کی کتاب پر، اور مارکس کی اس پر حاشیہ اور تنقیدوں کا سہارا لیتے ہوئے، اور اپنی سوچ کو اس میں شامل کر کے اس کتاب کو مرتب کیا۔ مارگن قدیم سماج کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے خود ایک امریکی انڈین قبیلہ ایراکواس لوگوں کا ایک فرد بن کر شامل ہوگیا۔ اور اس قبیلہ کی رہن سہن کے طور طریقوں سے قدیم سماج کی تشکیل کشی، اپنی قیاس آرائی سے پیش کی۔
کتاب میں امریکہ، یونان، ایتھینز، روم، کیلٹ و جرمن، انگلینڈ، آئرلیند، سکاٹلینڈ، ویلش۔۔ کے انڈین قبیلوں کے گرد گھومتی ہے، اور قدیم سماج کا سراغ انہیں انڈین قبیلوں کے پرکٹیکل لائف سے کھوجنے کی کوشش کی جاتی ہے۔


آج اور ہزاروں سال پہلے کے گنوں میں فرق!۔
فکری لحاظ سے یہ اہلِ فکر کے سامنے ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ کیا ہزاروں سال پہلے مہذب بنی قومیں، اپنی تہذیب کی ارتقا کا عمل، اُن انڈین قبیلوں کی بودباش سے جو اٹھارویں انیسویں صدی تک وحشیت و بربریت والی زندگی گزار رہی تھیں، لے سکتی ہیں؟
کیا یہ ممکن ہے کہ قریب قریب آج تک وحشیت و بربریت والی زندگی گذارنے والے قبیلوں کی رہن سہن، آٹھ دس ہزار سال پہلے والے وحشیت و بربریت والی زندگی گذارنے والے لوگوں کی بالکال سیم (ایک) رہی ہو!؟۔

اگر "ہاں" تو ٹھیک ہے، اگر 'نہ" تو پھر 'موجودہ' قبیلوں کی مدد سے خود مہذب یافتہ قوموں کی اارتقا پر قیاس کرنا ٹھیک نہیں رہےگا۔

کیا اور کیوں
یہ کتاب یہ تو اسٹیپ باءِ اسٹیپ بتاتی ہے کہ اس کے بعد 'کیا' ہوا اور اس کے بعد کیا ہوا پر ایسا 'کیوں' ہوا، اس پر فوکس نہیں کرتی۔ آیا مادری زمانہ سے پدری زمانہ کیونکر تبدیل ہوا، گنوں و قبیلوں کے اندر شادی بیاہ کے اصول کینوکر تبدیل ہوتے رہے، انسیسٹ کا عمل کیوں اچانک ختم ہوا ۔۔۔  

____________________
Online English Ver. Book


Thursday, January 21, 2010

Anti Socialism

ANTI SOCIALISM

1. Tabqati Nizam
Tabqati Nizam is Kainat ka Hissa hy.
Dunya to Dunya … Jannat o Dozakh main bhi Tabqe honge.
Tabqon ke bagair insan kabhi apni aap ko (apni ehliyat ko) nahi pehchan sakta.
Is Dunya main Tabqe kchh Apne Abilities ko Utilize Karne / Na Karne, Kuch Apne Nafs pe Zulm Karne / Na Karne, To Kuch Imtehan ki Soorat ki waja se hyn.
Akhirat Ke Tabqe Apne Kartooton k Bina per honge. (Halanke ye baat apni jaga per hy ke Akhirat main (khusoosan Jannat main) Chhote aur Bare Tabqe wale ek doosre se Hasd Na Rakhen ge ..)
LEKIN Tabqe yahan bhi aur wahan bhi hyn … ye to Truth hy.

Tabqati Nizam Nature ka Hissa hy. Is ko Khatam Kar kar b Khatam Nhi Kiya ja Sakta.
(shahar shahar mulk mulk to door ki bat even chhote chhote idaron mai b oonch neech ka faraq hota hy). Is oonch neech se farak nhi parta. Kyon k ye oonch neech PROFESSIONALY (zariyae mua'sh) hoti hy. Ab chahe koi apne dhande se lakhon rupe kamata ho ya koi chhota mota dhanda krta ho. Jb tk Halal kama raha hy. Tb tk na wo bura na ye bura. . . Her koi apne apne mayar se jee raha hy. . . Yakeenan jis k kaandhe pe zayada bojh us k zimme zyada zimmedariyan. (sindhi mai kehte hyn na: jeddo uth tedda lodda)


2. Zati Milkiyat
“MARX KI RAI MAIN HINDUSTAN KE MUASHIRATI JAMOOD KA BARA SABAB YE THA K ZAMEEN KISI KI ZAATI MILKIYAT NAHIN THEE”. Page.386

Cheezen taraqqi ki raah nahin leti jab tuk wo MILKIYAT ke zumre main nahi aatee.
Insan ko cheezon se muhabbat tabhi peda hoti hy jab un pe APNAIYAT paata hy.
Jub ek chez Sirf aur Sirf Meri hoti hy to insan us ko Sanbhal kar bhi rakhta hy, us ki Hifazat bhi karta hy. Aur usko mumkin Taraqqi bhi deta hy.
Iska chhota sa misal tum apni Zaati Cheezon ko hi lekar dekhlon. Jo tmhara Computer, tuharea Bed, tmhara Kamra ab jis shakal main hy wese hargiz nahi rahega ager usko 15 bnde use karte hon. 15 bndon ke use karne ka ye matlab na hoga ke wo zyada taraqqi payengi kyon ke ek k bajai ab 15 hyn. Actually aur bhi zawal ka shikar hongee, kyon ke psychologically her bande yehi soche ga Main Kyon Dekh Bhal karon jab use subhi kar rahe … ye baat samajhna buhut asan hy is ke Practical Misalen Dunya Jahan main her Jaga tumhe milengee …
Matlab jab tak Zaati Milkiyat hy tab tak cheezon main taraqqi ayegee … (cheezon main taraqqi aana matlab dunya main taraqqi ayegee aur tumhare maayar-e-zindagi buland hoga), aur jab Zaati Milkiyat Nahin to cheezen Danwadol …

“Injeel Main Hamen Qadeem Socialism Ka Koi Wazeh Tasaur Nahin Milta. Hazrat Maseeh Na Tabqati Imtiyaz Ki Mukhalifat Karte Hyn Na Zameen Ko Dehqanon Main Taqseem Karne Ka Mashwara Dete Hyn Aur Na Masawat Ki Talqeen Karte Hyn.” . page. 77



3. Ghulami/Naukri
Islam ne Ghulami ko mansookh nahi kiya. Aur na kar sakta hy. Kyon ke ye Fitri Taqaza hy. Is dunya main her qism ke log rehte hyn, jin main se kai Muash ko bhagdor kar kamane ke chakar main nahi ate/ ya wo is ko pasand nahi karte/ ya unko ye sub kuch aata nahi. Albatta unko koi kaam dedo to wo bakhoobi usko mukhlis tareeke se anjaam denge. Ghulami ek hawale se aaj be Raaij hy bus Modern Word NAUKAR ke libas main. Aur in Naukaron main se kai ese hote hyn jo bare bare gharon main is tarah rehte hyn k Rehna Khana Peena sub waheen hota hy. Wo apni family se bhi kabhi kabhar ee milte hyn. In main se kayii khud Us ghar se rishte main Related hote hyn per khud zati tor per Ghareeb hone k naat apni is zandagi ko pasand karte hyn. Ye koi main ap ko Fictious stories nahi suna raha. Ye bilkul ayaan hamare muashre main aam jaam hy. Africa ke ghareeb logon ka tasaur karo. Wo apni us ghurbat wali life se ksi ameer ka naukar/ghulam hona zyada pasand karenge. (is se unka mayare-e-zindagi bhi buland hoga, aur phir life main azad hone ke baad khud Behtri ka sochen ge. Kyon ke jis ne kabhi Nayi Dunya ke rung dekhi i nahi to wo behtri ka kese sochen. Hamare pas kai ghareeb ese hote hyn jo kafi pese kamane k bawajood pusht dar pusht ghareeb i rehte hyn, jese ye ghurabat un ke dimagon per haawi hogai ho, aur is se chhotkara pana namumkin hogaya ho. Ye na-mumkin hota nahi per inko pata nahi hota chezen kese badalni chahiyen. … aur ye buhut asani se badad sakti hyn … ager hum ye kahen ke un main se koi ek fard bhi mahz ek saal tak i kisi ameer ki ghulami main raha ho.)

Ghulami ka ek aur benefit Behayaee ko khatam karna b hy. Aaj hazaron bachiyon ki izzat ghurbat ke kaaran loot lee jati hy, kyon ke inki awaz koi nahi sunta. Ager ye ksi ke Kaneez k zumre main ajati to Muashre be-rah-ravi se aram se bach jata.

Ghulami koi Be-Izzati nahin. Jub tak banda Halal Roti kama raha hy tb tk Well n Good hy, Haram kamane wala chahe kitna he Safed Posh kyon na ho Wohi Zaleel o Khuwar hy. Ager Ghulami main kaheen Karahat hy bhi to Doosri jaanib Islam ne us per Kai Sakhtiyan bhi kam ki hui hyn. Ager ek Azad koi gunah kare to us per jo Saza hy to Ghulam per kam (ya Aadhi) hy. Aur Kayii Huqooq to Maaf hyn.

… Jub muashre ke basic rules ee Ghulam Master pe bante hon to (Marx ka) socilism kesa !!! masawat kin bunyado per ?! jub Fitrat ee US masawat ki Ikhtalafi ho!


4. Social Animal by Nature
Ager Insan Fitri Tor per Social peda hua hy to …
Fitrat Hamen Tabqat aur Darja Bandi ka Dars Deti hy.
Ap Biology ke subhi Social Animal pe research kar lijiye … Ant, Makoora, Deemak, Bee … subhi main ek Family System hota hy …. Ek Female hoti hy jis ka kaam sirf bachhe peda karna hota hy .. chand males hote hyn jin ka kaam sirf aur sirf female k sath sex karna hota … chand so soldiers hote hyn jin ka sirf kaam security provide karna .. aur baaki hazaron laakhon main mazdoor hote hyn jo sex organs se aari hote hyn aur jin ke mutafirraq kaam hote hyn, kuch female ke bachhe paalte to aksar ka kaam khaana talash karna hota .. aur us Khaane main SUB shareek hote (un ke liye be jo bache palte, un soldiers k liye b jo jab tak phadda na hon waande bhetha hote !!!) (matlab ye ke kaamate ek hyn khaate sub hyn, phir bache palte ek hyn, bache pede doosre karte hyn, kuch doosre mukhtalif kaam karte hyn, … to ye hy Real Social System, Na kamane wale/ khana dhoonde wale ye kehte hyn ke tum apna khana khud dhoondo, na security provide karne wale ye kehte hyn k main kyon tumhari madad karon.)
Marx khud hi kehta hy Insan Social peda hua hy.
Ager Social peda hua hy to phir (real) Socialism Tabqati Nizam ka dars deti hy.
Ye tabqati nizam maine ya tum ne nahi banya bulke khud Fitrat aur Kainat is baat ki gawah hy.
Sub Mazdoor nahi ban sakte aur Na Sub Mazdoor deegar faraz ajnaam de sakte hyn. (Jis Ka Kaam Usi Ko Saajhe.)
Is tabqati nizam main koi kisi ka Haq nahi maar raha. Jo jismani taqatwar hy us ke khaate main jismani kaam ayega. Jis k paas dimag hy to us k pas dimagi. Na dimagi kaam karne wala sakht jismani kaam kar sakta hy na jismani kaam karne wala dimagi. Ye bat ka sirf ek pehlu hy. Warna dunya mian hazaron variatios mil jayenge. Ager ek banda ek field main master hy dusra dusri teesra teesre … jub sub mil kar kaam karenge tbhi baat ke haqeeqat ki inteha tak puhuncege. … [lekin mil kar kaam karna ka matlb ye nahi ke sub mazdoor ban jayen ?! ager ek banda Zemeen provide kar raha hy, raw material provide kar raha hy… doosra sirf us zameen per mehnat kar raha hy to ye khud milkar kaam karni ki shakal hy.]

~Haqiqat mai (sunnat bazil adam k 4thi esvi k khayalau k brkhalaf. Page. 80_81) Janwaron mai b ISHTARAKIYAT Nahein!
Kutte, Bheriye, Sher, Cheetah, Tiger, Bakre, Reechh . . . Etc. Apne peshab/paseene waghera se apne borders kheenchte rehte hyn aur her maheene (waqtan fa waqtan) use taza krte rehte hyn. . . . Beviyon(females) k mamle mai to janwar aur b sakht hyn. Takreeban sb janwaron mai unki biviyon per qabza krna mtlb us se sb Saltanat wa Riyasat chheenna. (is ki achhi misal Lion, Sea Lion, Gorilla mai dekhi ja sakti hy.)
.
.
[Note: Excerpts and page ref. are from 'Musa se Marx tak']
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...