FIKRism

Showing posts with label Shia. Show all posts
Showing posts with label Shia. Show all posts

Saturday, May 14, 2011

My Khyber Marriage

MY KHYBER MARRIAGE
Experiences of a Scotswoman as the Wife of a Pathan Chieftain's Son.
by
Morag Murray Abdullah





A nice book, subtitle explains everything, it was 1916 WW1 was raging and Morag Murray meets a young, tall, handsome, dashing Pathan boy at University Edinburgh, and both fell in love at first sight. And then soon adventures starts, first from Scotland to Khyber via Karachi (remember it is time of before Pakistan, it is time of Brittan India indeed, but to my knowledge Khyber seemed not the part of Brittan India), then to India to visit the Raja's party.


Criticallay:
Morag Murray does not include much conversation about her family and husband specially when she travels. She emphasizes more on external events, while readers want to know more whats going on internally between she and her husband.
Second, I found end a little bit disappointing, as MMA died in 1960, so a big time has passed. Book does not tell what happened in last years of Morag Murray. It spans only few years, not the whole life of MMA.


Trivias
She is the mother of Idries Shah.
Her husband Ikbal Shah was the Musavi Syed, belongs to Twelver Shi'a sect of Islam.




External links:
Shah Family
Morag Murray Wiki
Ikbal Ali Shah Wiki
Idries Shah Wiki
MKM Goodreads
MKM ClassicTravelbooks

Monday, January 24, 2011

IKIK-Excerpts-04-Sir Syed

سرسید احمد خاں
۔۔ وہ سُنیوں اور شیعوں کی مذہبی کتابوں سے قطعاً مایوس ہوچکے تھے اور مُعتزلہ کے انداز استدلال کے مداح و معترف تھے۔ اُنھیں اس بات کا دلی افسوس تھا کہ مُعتزلہ کی کتب ناپید ہوچکی ہیں۔
انھوں نے دور عباسیہ کے معتزلہ کی طرح ایک جدید علم کلام کی ضرورت محسوس کی۔۔۔
چناچہ جدید علم کلام میں انھوں نے معتزلہ کی پیروی میں عقل کو وحی و الہام کی صداقت کا معیار ٹھرایا اور کہا کہ کوئی سچا مذہب عقل سے مافوق نہیں ہوسکتا۔ فرماتے ہیں:
۔"خواہ یہ تسلیم کرو کہ انسان مذہب یعنی خدا کے لئے پیدا ہوا ہے خواہ یہ کہو کہ مذہب انسان کے لئے بنایا گیا ہے، دونوں حالتوں میں ضرور ہے کہ انسان میں بہ نسبت دیگر حیوانات کے کوئی ایسی چیز ہوکہ وہ اُس بار کے اٹھانے کا مکلّف ہو اور انسان میں وہ شے کیا ہے؟ عقل ہے اس لئے ضرور ہے کہ مذہب اس کو دیا جائے وہ عقل انسانی کے مافوق نہ ہو۔ (مجھ کو افسوس ہے کہ تم ہرگز نہیں سمجھتے کہ عقل انسانی اور عقلِ شخصی میں کیا فرق ہے) اگر وہ عقل انسانی کے مافوق ہے تو انسان اس کا مکلّف نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کہ بیل یا گدھے کو امرونہی کا مکلّف قرار دیا جائے"۔ 51

شیعہ غالب:۔
۔۔ سر سید احمد خاں معتزلی العقیدہ ہونے سے پہلے وہابیت سے متاثر ہوئے تھے۔ جب انھوں نے ہوش سنبھالا تو دِلّی میں حضرات اہل حدیث یا غیرمقلدین اور مقلدین کے درمیان مناظرے اور ہنگامے برپا تھے۔ تقلید کے وجوب و عدم نے شعراء اور اُدباء کو بھی متاثر کیا تھا۔ چناچہ مومن خاں پر وہابیت غالب تھی اور غالب شیعہ ہونے کے باوجود دنیائے شعر و لغت کے وہابی سمجھے جاتے تھے۔ 52


۔۔ انھوں (سرسید) نے مذہب اسلام کو نیچر کے قوانین کے مطابق ثابت کرنے کے لئے عقلی استدلال سے کام لینا شروع کیا۔ اُن کا معرکہ آرا استدلال یہ تھا کہ خدا کے فعل یا نیچر (ورک آف گاڈ) Work of God
اور خدا کے قول یعنی قرآن (ورڈ آف گاڈ) Word of God
میں تضاد یا تناقص نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا قرآن میں جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ طبعی قوانین کے عین مطابق ہیں۔ اس نطریے کو بنیاد و فکر قرار دے کر اُنھوں نے تفسیر احمدی لکھنا شروع کی۔ 53


سر سید کے رد عمل کی پیداوار شبلی و کلام
۔۔ شیخ محمد اکرام صاحب نے 'موجِ کوثر' میںبجا طور پر اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ مولانا شبلی نعمانی اور مولانا ابوالکلام آزاد سر سید کی تحریک کے ردّ عمل کی پیداوار ہیں۔
۔۔ قدیم علم کلام سے جدید علم کلام کے عناصر جمع کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ سر سید احمد خاں کے برعکس شبلی نعمانی عصر جدید کے سیاسی اور علمی تقاضوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے تھے۔ شبلی نعمانی اور سرسیداحمدخاں کے زاویہ نظر اختلاف ایک دلچسپ واقع سے بخوبی ثابت ہوجاتا ہے۔ ایک دن شبلی نعمانی نے تقریر کرتے ہوئے کہا "دوسرے قوموں کی ترقی یہ ہے کہ آگے بڑھتے جائیں آگے بڑھتے جائیں لیکن مسلمانوں کی ترقی یہ ہے کہ وہ پیچھے ہٹتے جائیں یہاں تک کہ صحابہ کی صف میںجاکر مل جائیں"۔ یہ بات سر سید احمد خاں کو ناگوار گزری اور اُنھوں نے پرزور الفاظ میں اس کی تردید کی۔ 56-57

۔۔ ہمارے زمانے میں اقبال نے جدید سائنس اور فلسفے کی روشنی میں اسلامی عقائد و شعائر کی نئے سرے سے ترجمانی کی ہے لیکن وہ سرسید کی طرح عقل کو معیارِ صداقت نہیں مانتے اور نہ ابن سینا اور فارابی کی طرح اُسے نفس ناطقہ کہہ کر باعثِ شرف انسانی خیال کرتے ہیں۔ ان کا شمار شبلی نعمانی اور مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے ہنواؤں کے زمرے میں کیا جا سکتا ہے جنھوںنے سر سید احمد خاں کے مقابلے میں جوابی احیائی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ 60


Saturday, May 29, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.13

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 13 - Irani Inqilab Kidhar?

Excerpts:


باب: ۱۳: ایرانی انقلاب کدھر؟

۔۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایرانی انقلاب کے قائد خمینی صاحب تھے اور انقلاب میں شرکت کرنے والے تمام عناصر نے ان کی قیادت کو خوشی سے تسلیم کر لیا تھا لیکن یہ دعویٰ تاریخی اعتبار سے غلط ہے کہ انقلابی جنگ اسلام کے نام پر لڑی گئی تھی۔ 271


شیعہ انقلابی مذہب ہے:
۔۔ شیعہ مذہب انقلابی مذہب ہے جو شیعوں کو دورِ حاضر کے یزیدوں کے خلاف جہاد کی دعوت دیتا ہے۔
۔۔ شیعہ مذہب دراصل احتجاجی مذہب ہے جس کے محرکات سیاسی تھے۔ شیعوں کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ رسولِ خدا(ص) مسلمانوں کے روحانی پیشوا بھی تھے اور دنیاوی امور کے سربراہ بھی۔ یعنی آنحضرت (ص) کی ذات خلافت اور امامت دونوں کی امین تھی۔ ان کی وفات کے بعد یہ منصب حضرت علی کو ملنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا اور اسی سے مسلمانوں کے اندر تفریق کی ابتدا ہوئی۔ جن لوگوں کا خیال تھا کہ خلافت کے مستحق حضرت علی تھے وہ شیعیان علی کہلائے۔ یہ نزاع حضرت علی کے بالآخر خلیفہ ہونے پر ھی ختم نہیں ہوئی بلکہ امام حسین کی شہادت کے بعد مستقل صورت اختیار کرگئی اور شیعیانِ علی باقاعدہ ایک مذہبی فرقہ بن گئے۔
شیعون کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ امامت حضرت علی کے جانشینوں کا حق تھی جو نسلاً بعد نسل باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی رہی۔ بارہویں اور آخری امام مہدی تھے۔ ان کو صاحب الامر بھی کہتے ہیں۔ وہ بچپن ہی میں سامرہ (عراق) کے ایک غار میں غائب ہوگئے تھے۔ مگر شیعہ عقائد کے مطابق وہ ہنوز زندہ ہیں اور دنیا میں جب فسق و فجور بہت بڑھ جائے تا تو دوبارہ ظہور کریں گے۔ البتہ ان کی عدم موجودگی (غیبت کبریٰ) میں مجتہد حضرات نائب امام کی حیثیت سے شیعوں کی رہبری کے فرائض انجام دیں گے لیکن فقط شرعی امور کی حد تک۔ 272


۔۔ 1502ء میں جب صفویوں نے شیعہ مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا تو شیعہ علما وہی کردار ادا کرنے لگے جو زرتشتی موبدوں کا ساسانی عہد میں تھا۔ اسی بنا پر ڈاکٹر علی شریعتی ایرانی ملاون کو شیعیان علی کی بجائے 'شیعیان صفوی' کہتے ہیں۔

خمس:
۔۔ ایران میں خمس کا رواج بھی ہے جو آمدنی کا پانچواں حصہ ہوتا ہے، یہ رقم مجتہدوں ہی کے ذریعے مستحقین میں تقسیم کی جاتی ہے۔ 274


مسائل ۔ نہ مغربی نہ مشرقی:
۔۔ انقلابی تحریک شروع ہوئی تو شاہ کا کہنا تھا کہ ساری شرارت مولویون اور کمیونسٹوں کی ہے ورنہ عوام کو حکومت سے کوئی شکایت نہیں۔ یہی عذر لنگ اب خمینی صاحب پیش کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے سارا فساد مغرب پرست 'طاغوتیوں' کا ہے۔ حلانکہ مسائل ملکی حالات سے پیدا ہوتے ہیں اور عوام کو عمل پر مجبور کرتے ہیں۔ کوئی نہ کسی کو بھڑکاتا ہے نہ مسائل پیدا کرتا ہے۔ قومی خود مختاری کا مسئلہ، انسانی حقوق کا مسئلہ، جمہوری آئین کا مسئلہ، بے روزگاری کا مسئلہ اور مہنگائی کا مسئلہ، نمائندہ حکومت کا مسئلہ، یہ سب سماجی مسائل ہیں۔ ان کا تعلق نہ مغرب سے ہے نہ مشرق سے۔ ان کا حل کیے بغیر نہ تھیوکریسی کے قدم جم سکتے ہیں اور نہ جمہوریت کامیاب ہوسکتی ہے۔ 278-279


۔۔ ایران کے موجودہ حکمران، ملک میں ایک ایسا نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو کہنے کو تو اسلامی ہوگا لیکن فی الواقع تنا ہی آمرانہ ہوگا جتنا شاہی نظام تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔283
_______________

Wednesday, May 26, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.6,7,8

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapters: 6,7,8

Excerpts:
Align Right
باب: ۶: پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے

باب: ۷: پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں

باب: ۸: ایران کی شوشلسٹ تحریک

۔۔ 'روس کا سوشلسٹ انقلاب تاریخِ انسانی میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ اس انقلاب نے خاص طور پر کشور ایراں کی سرنوشت پر اور یہاں کے سیاسی اور اقتصادی حالات پر گہرا اثر ڈالا۔ بلکہ یہ انقلاب ایران کی آزادی اور داخلی اور خارجی سیاست کو متاثر کرنے والے عوامل میں سے تھا۔ انقلابِ روس دراصل ایران کی آزادی کی بقا کا باعث ثابت ہوا۔ اگر یہ انقلاب برپا نہ ہوتا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو کیا کیا صدمے برداشت کرنے پڑتے اور آج ایران اور ترکی کا وجود بھی نہ ہوتا۔' (آقا یحییٰ آرین پور) ۔ 164

۔۔ بالشویک پارٹی نے جس کا مسلک ابتدا ہی سے محکوم اور نیم محکوم ملکوں کی مکمل آزادی تھا۔۔ 164


۔۔ ابتدا میں وہ [رضا خان] کمال اتاترک کی مانند ایران کو ری پبلک بنانے کے حق میں تھا لیکن قم کے مجتہدوں نے ۲۹ مارچ ۱۹۲۴ کو فتویٰ دیا کہ اسلام ری پبلک کی اجازت نہیں دیتا، تو رضا خاں کو بادشاہ بننے کا بہانہ ہاتھ آگیا۔ 169

۔۔ اس وقت سے ایران میں ۱۱ مئی کا دان سیاسی قیدیوں کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 173

۔۔ 'ایران کے شیعہ مذہبی رہنما جو نچلے اور درمیانہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں ظاہر ہے کہ ملک کی صورت حال اور عوام کی زبوں حالی سے لاتعلق نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ عوام کو آمریت کے خلاف ابھارنے پر مجبور تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں مختلف عناصر آمریت کے خلاف احتجاجی تحریک میں ازخود شامل ہوگئے ہیں۔' (ایرج سکندری) ۔۔ 177

۔۔ 'ہم کو موجودہ تحریک کی مذہبی زبان اور مذہبی نعروں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سیاسی اور سماجی ہے اور اس میں مزدور طبقہ پیش پیش ہے اور سرکاری ملازمین اور شہری نوجوان بہ کثرت شامل ہیں۔' (حمید سفری)۔ 184
_____________

Wednesday, April 14, 2010

Hazrat Ali Ki Peshen Goiyan

حضرت علی کی پیشن گوئیاں
آغا گل
2010


جائزہ
یہ کتاب نہج البلاغہ کو ماخذ بناتے ہوئے مولا علی کی پیشن گوئیوں پر ہے،
جس کا زیادہ تر حصہ بنی امیہ اور اس کے بعد میں آنے والے حکمرانوں، فتنوں، فسادات پر مبنی ہے۔

چند اقتابسات:

۔۔ مسجد نبوی میں چند علماء امیرالمومنی سے سوال کر رہے ہیں کہ:
وہ کونسی چیز ہے جس کے بارے میں خدا بھی نہیں جانتا، وہ کیا چیز ہے جو خدا کے لئے نہیں اور وہ کیا چیز ہے جو خدا کے پاس نہیں؟
اور امیرالمومنین جواب دیتے ہیں۔
"وہ چیز جو خدا نہیں جانتا تو اے گروہ تمہارا یہ کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا کے بیٹے ہیں، حالانکہ خدا نہیں جانتا کہ اس کو کوئی بیٹا ہے، اور جو چیز خدا کے لئے نہیں تو اس کے لئے کوئی شریک نہیں، اور وہ چیز جو خدا کے پاس نہیں تو خدا کے پاس نہ ظلم ہے نا عاجزی۔"

اسی طرح ایک یہودی عالم جو اسلامی تعلیمات سے بھی کسی حد تک آگاہ تھا امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے سوالات کو تہ در تہ پردوں میں چھپا کر کہا:
"تمام اشیاء کی اصل کیا ہے؟ فرمایا،"تمام اشیاء کی اصل پانی ہے جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے کہ ہم نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔"
پھر سوال ہوا۔
"جمادات کونسی ہیں جنہوں نے کلام کیا۔"
جوام دیا
"وہ زمین و آسمان ہیں جن کے متعلق ارشادِ خداوندِ عالم ہے کہ زمین و آسمان نے کہا کہ ہم دونوں مطیع و فرمانبردار بن کر حاضر ہیں۔" پھر سوال کیا۔
"وہ کون سی چیز ہیں جو گھٹتی بڑھتی ہیں مگر کوئی دیکھ نہیں پاتا؟" جواب دیا۔
"وہ دن اور رات ہیں۔"
پھر نہایت عجیب و غریب سوال کیا گیا۔
وہ کو سا پانی ہے جو نہ زمین کا ہے اور نہ آسمان کا؟
امیرالمونین نے فوراً جواب دیا:
"یہ پانی ان دوڑتے ہوئے گھوڑوں کا پسینہ ہے جنہیں حضرت سلیمان نے بلقیس کے پاس بھیجا تھا۔" علماء نے ورطہ حیرت میں ڈالنے والا سوال کیا "وہ کون سی چیز ہے جو بے جان ہوتے ہوئے بھی سانس لیتی ہے۔؟"
باب العلم نے فرمایا "وہ صبح ہے جس کے متعلق خداوند عالم نے فرمایا ہے": قسم ہے صبح کی جبکہ وہ سانس لے"۔ علماء پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے دیافت کیا " وہ کون سے قبر ہے جو اپنی امانت لئے پھرتی تھی" ایک لمحے میں جواب ملا۔" وہ قبر شکم ماہی ہے جو سمندر میں جناب یونس کو لئے پھرتی تھی۔" 25-26

۔۔ ابنِ جوزی نے ایک دن منبر پر یہی دعویٰ کیا تو ایک خاتون نے دریافت کیا کہ:
"اس روایت کے متعلق کیا خیال ہے کہ امیرالمومنین کو جب سلمان کی وفات کی خبر ملی تو ایک ہی رات میں مدائن پہنچ گئے اور ان کی تجہیز و تکفین کی۔"
ابن جوزی نے تسلیم کیا۔"ہاں درست ہے۔"
پہر اس نے پوچھا کہ:
"اس روایت کے متعلق کیا کہتے ہو کہ خلیفہ ثالث تین دن تک دفن نہ ہوسکے حالانکہ امیرالمومنین مدینہ ہی میں تشریف فرما تھے۔"
کہا "ہاں یہ بھی درست ہے" اس نے پھر پوچھا:
"ان میں امیرالمومنین کا کون سا اقدام درست تھا اور کون سا غلط۔" یہ سن کر ابن جوزی کے پاس جواب نہ رہا۔
خاتون نے اگلا سوال کیا۔
"اے ابن جوزی! کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ ام المومنین (عائشہ) کا (جنگِ جمل کے لئے) نکلنا کس ذیل میں آتا ہے۔ "اس کے بعد ابن جوزی کے لئے جواب کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ 28-29

۔۔ البتہ جن کا علم محسوسات کی حد سے آگے نہیں بڑھتا اور ان کے علم و ادراک کا وسیلہ صرف ظاہری حواس ہوا کرتے ہیں وہ عرفان و حقیقت کی راہوں سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اس نوعیت کے علم الغیب سے انکار کردیتے ہیں۔ 38

۔۔ اسلام میں تخت پر بیٹھنے کی گنجائش نہین تھی لیکن امیر معاویہ نے تخت پر بیٹھنے کی رسم شروع کی۔ یہ ایرانی و رومی شہنشاہوں کا شعار تھا۔ تخت و تاج نہ کبھی رسول خدا نے استعمال کیا تھا نہ خلفاء راشدین نے مگر بعد میں تخت کا دستور ہوا۔ حکمرانوں کا تخت اور عوام کا تختہ! ۔ 74

۔۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ امیرالمومنین کے بعد دنیائے اسلام پر بنی امیہ کے دو گھرانوں نے حکومت کی۔ ان کا پہلا گھرانہ آلِ سفیان اور دوسرا گھرانہ آلِ مروان کہلاتا تھا۔ آلِ سفیان کے پہلے حکران حضرت معاویہ بن ابوسفیان تھے جو ۴۱ ہجری میں برسرِ اقتدار آئے اور ۵۹ ہجری تک حکومت کی۔ اس کے بعد ان کا بیٹا یزید ۶۰ ہجری میں تخت نشین ہوا اور ۶۴ ہجری میں موت سے ہمکنار ہوا۔ پھر اس کا بیٹا امیر معاویہ بن یزید تختِ حکومت پر متمکن ہوا مگر یہ چالیس دن بعد خلافت سے دستبردار ہوگیا۔ اس کی دستبرداری کے ساتھ آلِ ابوسفیان کی سیادت و قیادت ختم ہوگئی اور حکومت و سلطنت مروان کے ہاتھ میں چلی گئی۔
مروان کل نو مہینے حکومت کر سکا اس کے بعد اس کے آل اولاد نے ۶۵ ہجری سے ۱۳۲ ہجری تک حکومت کی۔ پھر حکومت مروان بن محمد کے ہاتھ سے نکل کر آلِ ابوسفیان اور آلِ مروان کے مشترکہ دشمن بنی عباس کے گھر منتقل ہوگئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آلِ ابوسفیان کے پہلے حکران کا نام بھی امیر معاویہ تھا اور ان کے آخری حکمران کا نام بھی امیر معاویہ تھا۔ آلِ مروان کے پہلے حکمران کا بھی مروان نام تھا اور آخری حکمران کا نام بھی مروان تھا۔
امیرالمومنین نے فرمایا "میں قسم کھاتا ہوں اور پھر قسم کھاتا ہوں کہ میرے بعد بنی امیہ خلافت کو اس طرح پھینک دیں گے جس طرح سینہ کے بلغم کو تھوک دیا جاتا ہے اور پھر جب تک دن رات کا چکر چلتا رہے گا ان کو حکومت کا مزہ چکھنا نصیب نہ ہوگا۔" 116

۔۔ خلفاء میں سے دو حضرات نام علی ہوا۔ ایک تو علی مرتضیٰؑ کا اور دوسرا علی بن معتمند کا [270ھ]

۔۔ امیرالمومنین نے فرمایا "میں بھی جانتا ہوں کہ تیرے ساتھ (کوفہ) جو ستمگر بھی ظلم و جور کا ارادہ کرے گا خدا اسے ضرور کسی نہ کسی بلا میں مبتلا کردے گا کیا کسی قاتل کو اس پر مسلط کردےگا۔" (نہج البلاغہ)
[کوفہ پر زیادتیاں کرنے والوں کا حشر کیا ہوا ۔۔ صفحہ 180]

۔۔ محدثین لکھتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے دس لاکھ حدیثیں روایت کی ہیں جن میں ڈیڑھ لاکھ اسناد کے ساتھ ہیں۔ ان دس لاکھ میں سے امام موصوف نے پچاس ہزار کو صحیح بتایا ہے۔ ۔۔۔ آپ نے اپنی مسند میں چالیس ہزار احادیث جمع کی ہیں۔ امام مسلم نے تین لاکھ احادیث سے کل چار ہزار احادیث کو مستخرج کیا ہے۔ امام بخاری کے پاس چھ لاکھ احادیث تھیں جن میں سے نو ہزار دو سو ان کی شرائط کے مطابق تھیں۔
روایت کی اس کثرت سے بآسانی معلوم ہوسکتا ہے کہ وضع احادیث میں اس وقت کس قدر مبالغہ سے کام لیا جاتا تھا۔ ایک ایک شخص کے پاس تین تین لاکھ احادیث کا ذخیرہ موجود رہتا تھا۔ 204-205

امیرالمومنین نے فرمایا "اگر صحیح تفسیر و تشریح کی جائے تو اس سے زیادہ بے قیمت کوئی چیز نہ ہوگی اور اگر اس کے مطالب و معانی میں تغیر و تبدل کیا جائے تو اس سے زیادہ مقبول اور انمول شے کوئی نہ ہوگی۔" (نہج البلاغہ)

۔۔ بنی امیہ کے دورِ حکومت میں علماء کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا تھا جو حسویہ کہلایا تھا۔ اس طبقہ نے حضرت معاویہ کے اقدام کو قرآن کے رو سے جائز قرار دیتے ہوئے یہ فتویٰ دیا کہ اسلام میں باغی گروہ سے جنگ درست نہ تھی۔ ۔۔۔۔ اس گروہ کے چالیس شیوخ نے یزید بن عبدالملک کے سامنے شہادت دی کہ خلفاء سے قیامت کے دن نہ حساب لیا جائے گا اور نہ ان کو ان کے جرائم کی سزا ملے گی۔ گویا حکرانوں کے لئے عیش و عشرت کے دروازے کھل گئے۔
یزید کے دور میں نظریہ جبر کا عقیدہ اتنا مضبوط ہوگیا تھا کہ حکمران بڑی جرات سے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہوئے بھی کہتے کہ "خدا کی مرضی یہی تھی۔ اگر وہ نہ چاہتا تو ہم ہرگز ایسا نہ کرسکتے۔"
اموی حکومت کو سیاست نے اس عقیدہ کا خالق بنایا تھا کہ انسان مجبور محض ہے۔ 205-208

امیرالمومنین نے فرمایا "شہروں میں نیکی سے زیادہ بری شے کوئی نہ ہوگی اور برائی سے زیادہ بہتر کوئی اچھا نہ ہوگی۔ (نہج البلاغہ)۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...