FIKRism

Showing posts with label Inqilab-e-Iran. Show all posts
Showing posts with label Inqilab-e-Iran. Show all posts

Sunday, May 30, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch. 14 (Last)

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 14 - 1980 Ke Baad Iran Per Kya Guzri

Excerpts:


باب: ۱۴: ۱۹۸۰ء کے بعد ایران پر یا گزری

۔۔ ایرانی انقلاب کا تقاضا تھا کہ ملک کی اقتصادیات کو غیر سرمایہ دارانہ خطوط پر ترقی دی جائے لیکن اربابِ اقتدار نے ملکی معیشت کو مغرب کے سرمایہ دار ملکوں کو دستِ نگر بنادیا ہے۔ ان ملکوں سے اشیائے صرف کی بے تحاشا درآمد ہورہی ہے اور زرمبادلہ کیادائیگی کے لیے تیل کی پیداوار کو جاپان اور مغربی ملکوں کے ہاتھ فروخت کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایران کی صنعتی پالیسی غیر ملکی اجارہ دار کمپنیوں کے مفاد کے تابع ہوگئی ہے۔ امریکہ سے براہِ راست تجارت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا یہ سودا ترکی کے ذریعے ہوتا ہے۔ ۱۸/جنوری ۱۹۸۳ء کے اخبار 'کیہان' کے بقول وزیرِ روغنیات غزازی نے کہا کہ ترکی سے ہماری تجارت ۸۰ کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو شاہ کے زمانے کے مقابلے میں ۴۰ گنا زیادہ ہے۔ یہ سارا کاروبار امریکی کمپنیوں اور اُن کے گماشتوں کے قبضے میں ہے۔ وہ ترکی میں بیٹھ کر امریکی مال ایران کو فراہم کرتے رہتے ہیں۔ اس طرزِ تجارت کو جس میں ترکی کی حیثیت دلال سے زیادہ نہیں 'اسلامی کامن مارکیٹ' کا نام دیا جاتا ہے۔ اور وزیرِ روغینات فرماتے ہیں کہ 'اسلامی کامن مارکیٹ قائم کرکے ہم امپیرئیل ازم سے ٹکر لے سکیں گے۔' حلانکہ اس نام نہاد اسلامی مارکیٹ کے ساری معیشت امپیرئیلسٹ ملکوں کے دامن سےبندھی ہوئی ہے۔ اسلام بیچارہ ان دنوں ہر شخص کا تکیہ کلام بن گیا ہے۔ بینک ہوں، بیمہ کمپنیاں ہوں، ہوٹل ہوں، تعمیراتی کمپنیاں ہوں، ان کے نام کے آگے اسلامی لکھ دو، وہ مشرف بہ اسلام ہوجائیں گی۔ 296-297
____________

Saturday, May 29, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.13

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 13 - Irani Inqilab Kidhar?

Excerpts:


باب: ۱۳: ایرانی انقلاب کدھر؟

۔۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایرانی انقلاب کے قائد خمینی صاحب تھے اور انقلاب میں شرکت کرنے والے تمام عناصر نے ان کی قیادت کو خوشی سے تسلیم کر لیا تھا لیکن یہ دعویٰ تاریخی اعتبار سے غلط ہے کہ انقلابی جنگ اسلام کے نام پر لڑی گئی تھی۔ 271


شیعہ انقلابی مذہب ہے:
۔۔ شیعہ مذہب انقلابی مذہب ہے جو شیعوں کو دورِ حاضر کے یزیدوں کے خلاف جہاد کی دعوت دیتا ہے۔
۔۔ شیعہ مذہب دراصل احتجاجی مذہب ہے جس کے محرکات سیاسی تھے۔ شیعوں کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ رسولِ خدا(ص) مسلمانوں کے روحانی پیشوا بھی تھے اور دنیاوی امور کے سربراہ بھی۔ یعنی آنحضرت (ص) کی ذات خلافت اور امامت دونوں کی امین تھی۔ ان کی وفات کے بعد یہ منصب حضرت علی کو ملنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا اور اسی سے مسلمانوں کے اندر تفریق کی ابتدا ہوئی۔ جن لوگوں کا خیال تھا کہ خلافت کے مستحق حضرت علی تھے وہ شیعیان علی کہلائے۔ یہ نزاع حضرت علی کے بالآخر خلیفہ ہونے پر ھی ختم نہیں ہوئی بلکہ امام حسین کی شہادت کے بعد مستقل صورت اختیار کرگئی اور شیعیانِ علی باقاعدہ ایک مذہبی فرقہ بن گئے۔
شیعون کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ امامت حضرت علی کے جانشینوں کا حق تھی جو نسلاً بعد نسل باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی رہی۔ بارہویں اور آخری امام مہدی تھے۔ ان کو صاحب الامر بھی کہتے ہیں۔ وہ بچپن ہی میں سامرہ (عراق) کے ایک غار میں غائب ہوگئے تھے۔ مگر شیعہ عقائد کے مطابق وہ ہنوز زندہ ہیں اور دنیا میں جب فسق و فجور بہت بڑھ جائے تا تو دوبارہ ظہور کریں گے۔ البتہ ان کی عدم موجودگی (غیبت کبریٰ) میں مجتہد حضرات نائب امام کی حیثیت سے شیعوں کی رہبری کے فرائض انجام دیں گے لیکن فقط شرعی امور کی حد تک۔ 272


۔۔ 1502ء میں جب صفویوں نے شیعہ مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا تو شیعہ علما وہی کردار ادا کرنے لگے جو زرتشتی موبدوں کا ساسانی عہد میں تھا۔ اسی بنا پر ڈاکٹر علی شریعتی ایرانی ملاون کو شیعیان علی کی بجائے 'شیعیان صفوی' کہتے ہیں۔

خمس:
۔۔ ایران میں خمس کا رواج بھی ہے جو آمدنی کا پانچواں حصہ ہوتا ہے، یہ رقم مجتہدوں ہی کے ذریعے مستحقین میں تقسیم کی جاتی ہے۔ 274


مسائل ۔ نہ مغربی نہ مشرقی:
۔۔ انقلابی تحریک شروع ہوئی تو شاہ کا کہنا تھا کہ ساری شرارت مولویون اور کمیونسٹوں کی ہے ورنہ عوام کو حکومت سے کوئی شکایت نہیں۔ یہی عذر لنگ اب خمینی صاحب پیش کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے سارا فساد مغرب پرست 'طاغوتیوں' کا ہے۔ حلانکہ مسائل ملکی حالات سے پیدا ہوتے ہیں اور عوام کو عمل پر مجبور کرتے ہیں۔ کوئی نہ کسی کو بھڑکاتا ہے نہ مسائل پیدا کرتا ہے۔ قومی خود مختاری کا مسئلہ، انسانی حقوق کا مسئلہ، جمہوری آئین کا مسئلہ، بے روزگاری کا مسئلہ اور مہنگائی کا مسئلہ، نمائندہ حکومت کا مسئلہ، یہ سب سماجی مسائل ہیں۔ ان کا تعلق نہ مغرب سے ہے نہ مشرق سے۔ ان کا حل کیے بغیر نہ تھیوکریسی کے قدم جم سکتے ہیں اور نہ جمہوریت کامیاب ہوسکتی ہے۔ 278-279


۔۔ ایران کے موجودہ حکمران، ملک میں ایک ایسا نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو کہنے کو تو اسلامی ہوگا لیکن فی الواقع تنا ہی آمرانہ ہوگا جتنا شاہی نظام تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔283
_______________

Friday, May 28, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.11,12

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapters: 11-12 - Ek Qadam Aage Do Qadam Peechhe

Excerpts:


باب: ۱۱۔ ۱۲: ایک قدم آگے دو قدم پیچھے

عجیب بات ہے:
۔۔ عجیب بات ہے کہ جہاں کہیں اسلامی نظام رائج کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، وہاں سارا زور سزائوں پر صرف ہوتا ہے۔ شراب پینے والوں کو کوڑوے لگائے جاتے ہیں، چوری کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دئیے جاتے ہیں اور زانیوں کے سرقلم ہوتے ہیں۔ خمینی صاحب کے اسلامی نظام میں میں توکئی پیشہ ور عورتوں کو بھی گولی ماری جاچکی ہے البتہ خمینی صاحب اور ان کے رفقا نے کبھی یہ دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ لوگوں کو روٹی روزگار میسر ہے یا نہیں، بیماروں کے لیے دوا علاج کا انتظام ہے یا نہیں، لڑکے لڑکیوں کے لیے درسگاہیں موجود ہیں یا نہیں، دردمندی، رحم اور عفو جیسے الفاظ ان کی لغت سے خارج ہیں لیکن سزائوں سے نہ معاشرے کی تطہیر ہوتی ہے اور نہ لوگوں کے روزمرہ کے مسائل حل ہوتے ہیں۔ 227


۔۔ لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کردیا کہ رفسنجانی، خلخالی اور دائیں بازو کے دوسرے انتہا پسند عناصر جو کچھ کرت ہیں اس میں خمینی صاحب کا اشارہ ضرور شامل ہوتا ہے۔ شوشلزم اور کمیونزم تو الگ رہے، جمہوری آزادی کے خلاف بھی جو اقدامات ہوئے ہیں ان سے خمینی صاحب پوری طرح باخبر تھے۔ اب خمینی صاحب وہ خمینی صاحب نہ تھے جن کو یہ غم ستاتا رہتا تھا کہ 'شاہ نے اظہار خیال اور پریس کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا ہے۔' (۶ نومبر ۱۹۷۸ء) اور نہ وہ خمینی صاحب تھے جو ایرانیوں سے وعدہ کرتے تھے کہ 'اسلامی ری پبلک میں عورت مرد دونوں کو مساوی آزادی ملےگی اور شہری حقوق بحال کیے جائیں گے۔' اب تو ان کے کسی فیصلے سے ہلکا سا اختلاف بھی ناقابل معافی جرم تھا اور ان کی حکومت پر اعتراض ملک سے غداری۔ 229

مولوی حضرات
۔۔ مولوی حضرات خواہ پاکستان کے ہوں یا ایران کے، اسلامی نظام کی ثناء و صفت میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں مگر جب اسلامی نظام کو عملی شکل دینے کا وقت آتا ہے تو مغربی ملکوں کے آئین و قوانین کی نقالی میں ذرا بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے۔ مثلاً ایران کے آئین کے اس مسودے کا موازنہ ۔۔ فرانس کے آئین سے کیجئے تو صاف معلوم ہوگا کہ فرانسیسی آئین کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ البتہ اس کوشش میں فرانسیسی آئین کی خوبیاں پر تو سیاہی پھیر دی گئی ہے مگر اس میں جو خامیاں ہیں ان کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے خمینی صاحب نے اپنی ذات کو پیشِ نظر رکھ کر یہ مسودہ تیار کروایا ہے۔ 233


صدر = ڈکٹیٹر:
۔۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے علاوہ صدارتی نظام کا تجربہ کہیں کامیاب نہیں ہوا ہے بلکہ جنوبی امریکہ، افریقہ، اور ایشیا میں جہا کہیں صدارتی نظام رائج ہے، صدر ڈکٹیٹر بن گیا ہے۔ 234

۔۔ خمینی صاحب کے دستِ راست کہہ چکے ہیں کہ انقلاب مُلا لائے تھے لہذا وہی ملک پر حکومت کریں گے۔ 234

بندوق میرا گھنہ:
۔۔ کُرد بڑی جفاکش اور بہادر قوم ہے۔ ہمارے سرحدی پٹھانوں کی طرح کُرد بھی بندوق رائفل کو مرد کا زیور سمجھتے ہیں۔ 241


سستے تربوز۔۔۔
۔۔ ایران بڑا دولت مند ملک ہے۔ اس کے وسائل اتنے وافر ہیں کہ لوگوں کو اگر اپنے اقتصادی حالات سدھارنے کا موقع ملا ہوتا تو ایران میں آج نہ کوئی بھوکا ہوتا نہ بے روزگار لیکن جہاں استحصال اور زر پرستی زندگی کا نصب العین بن جائے وہاں امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہوتے جاتے ہیں اور کرپشن، لوٹ، رشوت اور مہنگائی کی بدولت زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ یہی اقتصادی زبوں حالی ایرانی انقلاب کا سبب بنی۔ اب کوئی لاکھ کہے کہ 'ایرانیوں نے اسلام کے لیے خون کی قربانی دی تھی، سستے تربوزوں اور مکانوں کے لیے نہیں۔' (خمینی ۸ ستمبر) واقعہ یہی ہے کہ ایرانیوں نے روزمرہ کی پریشانیوں سے عاجز آکر انقلاب میں شرکت کی تھی۔ خمینی صاحب فرماتے ہیں کہ 'یہ بات بالکل ناقابلِ فہم ہے کہ کوئی شخص اپنے بیٹے کو سستی روٹی کے لیے قربان کردے۔' مگر اس قسم کی طنز آمیز باتیں وہی شخص کرسکتا ہے جو زندگی میں کبھی بھوکا نہیں رہا یا جس نے کبھی اپنی محنت سے روٹی نہیں کمائی۔ خمینی صاحب کے اس بیان سے کیا ہم یہ نتیجہ نکال لیں کہ اسلامی نظام کو عوام کے دکھ درد سے کوئی دلچسپی نہیں؟ کیا خمینی صاحب کا اسلام یہ چاہتا ہے کہ سستے تربوز فقط اہلِ ثروت ہی کے دسترخوان پر نظر آئیں؟ کیا خمینی صاحب کا اسلام یہ چاہتا ہے کہ فقط دولت مند طبقہ مکانوں میں رہے اور غربا آسمان کی کھلی چھت کے نیچے سوئیں؟


۔۔ صنعتی یا تجارتی اداروں کو قومی ملکیت بنا لینا چنداں دشوار نہیں ہوتا البتہ ان کو خوش اسلوبی سے چلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ نجی صنعت کاروں میں لاکھ عیب سہی مگر وہ اپنے کاروبار کے گُر ضرور جانتے ہیں۔ سرمایہ کہاں سے آئے، کچا مال کب اور کہاں سے خریدا جائے، مزدوروں سے کیسے نمٹا جائے، اور مال کی نفع بخش نکاسی کیے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں، وہ ان سب مسائل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ 259


۔۔ خمینی صاحب جس حکمت عملی پر کاربند ہیں اس کی موجودگی میں نظم و ضبط قائم نہیں ہوسکتا اور نہ ملک کی تعمیرِ نو کا کوئی منصوبہ بن سکتا ہے۔
۔۔ خمینی صاحب 'طاغوتیوں' کو کیفر کردار تک پہنچانے اور قوم کا اخلاق درست کرنے میں اس درجہ مصروف ہیں کہ ان کو ملک کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی اور نہ وہ ان مسائل کو اہمیت دیتے ہیں۔ کیونکہ 'سستی روٹی اور سستے تربوزوں' کا مطالبہ ان کے نزدیک انقلاب دشمنوں کا مطالبہ ہے، شاہ پسندوں کی شرارت ہے، کمیونسٹوں کی سازش ہے۔ 260

_______________

Thursday, May 27, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.9,10

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 9,10

Excerpts:


باب: ۹: انقلابی ہلچل

[1976-1977 کا بجٹ]
۔۔ ایران اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا چناچہ رسالہ میڈ اُس وقت کی ایرانی معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ 'اگر خمینی نہ ہوتے اور انقلاب نا آتا بلکہ شاہ بدستور اپنے محل میں مقیم ہوتے تب بھی ایرانی معیشت کی عمارت اس سال کے موسم گرما تک دھماکے کے ساتھ زمین پر گر گئی ہوتی۔۔۔۔ شاہ کی معیشت ایک غبارہ تھی جس میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھردی گئی تھی اور بس اس کا انتظار تھا کہ کوئی اس کو چھودے۔ شاہ کو انقلاب کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس نے شاہ کو شرمندگی اور خجالت سے بچالیا۔' ۔191


۔۔ محمد شاہ رنگیلا تو خواہ مخواہ بدنام تھا۔ وہ بے چارہ تو رضا شاہ پہلوی کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ 192


اور آخر وہ دن آہی گیا:
۔۔ اور آخر وہ دن آہی گیا۔ ۲۹ جنوری کی شام کو شاہ نے محل کے عملے کو اپنی روانگی سے مطلع کیا۔ ۳۰ جنوری کو وہ پریس کانفرنس کرنے والا تھا لیکن مصاحبوں نے مشورہ دیا کہ چلتے وقت بھڑکے چھتے کو نہ چھیڑیں لہذا شاہ اپنی 'محبوب رعایا' کو بتائے بغیر چپکے سے قاہرہ روانہ ہوگیا۔ ۵۳ سالہ پہلوی آمریت کاغذی محل کی طرح زمین بوس ہوگئی۔
اُس دن تہران میں بڑی سردی تھی اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہورہی تھی مگر سہ پہر میں جونہی ریڈیو سے اعلان ہوا کہ شاہ اور شاہ بانو قاہرہ چلے گئے۔ سارا شہر سڑکوں پر نکل آیا۔ لوگ خوشی سے ناچ رہے تھے، گلے مل رہے تھے۔ ایک دوسرے کو فتح کی مبارک باد، دے رہے تھے۔ پھول برسائے جارہے تھے۔ مٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں۔ فوجیوں نے اپنی توپوں، ٹینکوں اور رائفلوں پر، جو کل تک آگ اگل رہی تھے کارنیشن کے پھول سجا لیے تھے۔ شہر میں جہاں کہیں شاہ یا اس کے باپ کا مجسمہ نظر آتا لوگ اس کو جوتوں کا ہار پہناتے اور کھینچ کر نیچے کرادیتے۔ شام ہوتے ہوتے ایک مجسمہ بھی سلامت نہیں بچا۔ 204


خمینی کمیونسٹ دشمن:
۔۔ امریکی حکومت خمینی صاحب کی کمیونسٹ دشمنی سے بخوبی آگاہ تھی۔ 210


باب: ۱۰: انقلابِ ایران کے محرکات و اسباب
_______________

Wednesday, May 26, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.6,7,8

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapters: 6,7,8

Excerpts:
Align Right
باب: ۶: پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے

باب: ۷: پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں

باب: ۸: ایران کی شوشلسٹ تحریک

۔۔ 'روس کا سوشلسٹ انقلاب تاریخِ انسانی میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ اس انقلاب نے خاص طور پر کشور ایراں کی سرنوشت پر اور یہاں کے سیاسی اور اقتصادی حالات پر گہرا اثر ڈالا۔ بلکہ یہ انقلاب ایران کی آزادی اور داخلی اور خارجی سیاست کو متاثر کرنے والے عوامل میں سے تھا۔ انقلابِ روس دراصل ایران کی آزادی کی بقا کا باعث ثابت ہوا۔ اگر یہ انقلاب برپا نہ ہوتا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو کیا کیا صدمے برداشت کرنے پڑتے اور آج ایران اور ترکی کا وجود بھی نہ ہوتا۔' (آقا یحییٰ آرین پور) ۔ 164

۔۔ بالشویک پارٹی نے جس کا مسلک ابتدا ہی سے محکوم اور نیم محکوم ملکوں کی مکمل آزادی تھا۔۔ 164


۔۔ ابتدا میں وہ [رضا خان] کمال اتاترک کی مانند ایران کو ری پبلک بنانے کے حق میں تھا لیکن قم کے مجتہدوں نے ۲۹ مارچ ۱۹۲۴ کو فتویٰ دیا کہ اسلام ری پبلک کی اجازت نہیں دیتا، تو رضا خاں کو بادشاہ بننے کا بہانہ ہاتھ آگیا۔ 169

۔۔ اس وقت سے ایران میں ۱۱ مئی کا دان سیاسی قیدیوں کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 173

۔۔ 'ایران کے شیعہ مذہبی رہنما جو نچلے اور درمیانہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں ظاہر ہے کہ ملک کی صورت حال اور عوام کی زبوں حالی سے لاتعلق نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ عوام کو آمریت کے خلاف ابھارنے پر مجبور تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں مختلف عناصر آمریت کے خلاف احتجاجی تحریک میں ازخود شامل ہوگئے ہیں۔' (ایرج سکندری) ۔۔ 177

۔۔ 'ہم کو موجودہ تحریک کی مذہبی زبان اور مذہبی نعروں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سیاسی اور سماجی ہے اور اس میں مزدور طبقہ پیش پیش ہے اور سرکاری ملازمین اور شہری نوجوان بہ کثرت شامل ہیں۔' (حمید سفری)۔ 184
_____________

iNQILAB-e-iRAN - Ch.5

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 5 - Amrici Amal Dakhal

Excerpts:


باب: ۵: امریکی عمل دخل

مغربی تہذیب
۔۔ مغربی تہذیب کوٹ پتلون پہننے، کانٹا چُھری استعمال کرنے یا نائٹ کلب میں ناچنے کا نام نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب و تمدن کی اصل اساس صنعتی انقلاب ہے، یعنی فیوڈل ازم کے پیداواری طریقوں اور سماجی رشتوں کی تنسیخ اور مشینی صنعتوں اور سرمایہ داری رشتوں کی ترویج۔ مغربی تہذیب عبارت ہے جمہوری طرزِ حکومت اور عوام کے شہری حقوق سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی اندازِ فکر و عمل سے اور اگر ان لوازمات کو معاشرے سے خارج کردیا جائے تو پھر مغربی تہذیب خالی خولی شعبدہ بازی رہ جاتی ہے۔ 122


۔۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے امریکی سرمایہ داروں کی مخصوص شکارگاہ جنوبی امریکہ تھا اور مشرقِ قریب کو برطانیہ کی اجارہ داری خیال کیا جاتا تھا۔ مصر، فلسطین، اردن، یمن، عراق اور خلیج فارس کی ریاستیں سب برطانیہ کی زیر نگین تھیں۔ ایران کے تیل کے چشمے انگریز کمپنیوں کے تصرف میں تھے حتٰی کہ سعودی عرب کو بھی جو، اب دنیا کے سب سے دولت مند ملکوں میں شمار ہوتا ہے، برطانیہ کی طرف سے سالانہ وظیفہ ملتا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران میں ایک طرف برطانیہ کی اقتصادی اور سیاسی قوت روز بروز گھٹتی گئی۔ دوسری طرف امریکہ کی صنعتی پیداوار بالخصوص اسلحوں کی پیدواور میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور تیل کی مانگ بھی بہت بڑھ گئی۔ لہذا نئے علاقوں کو زیر اثر لانا 'ضروری' ہوگیا۔ 123


۔۔ امریکہ کی فوجی امداد ایشیا اور افریقہ میں ہر جگہ عوامی تحریکوں کو کچلنے ہی کے کام آئی ہے۔ 125


خارجہ حکمت عملی
۔۔ بات یہ ہے کہ سامراجی طاقتیں اپنی خارجہ حکمت عملی وضع کرتے وقت دوسرے ملکوں کے عوام کو اور ان کے جذبات و احساس کو بالکل خاطر میں نہیں لاتیں۔ وہ تو فقط یہ دیکھتی ہیں کہ فلاں ملک کے پاس فوج اور پولیس کتنی ہے؟ اس کو اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ اس کے حکمراں طبقے کا جھکاو کدھر ہے؟ اوراس کے فوجی اور سویلین افسروں کے سیاسی نظریات کیا ہیں؟ اگر یہ سماجی عناصر جمہوریت اور سوشلزم کے مخالف ہوں تو سامراجی طاقتیں ان کو مزید تقویت پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ عوام ان سماجی عناصر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس سے سامراجی طاقتوں کو چنداں سروکار نہیں ہوتا۔ مگر جو خارجہ حکمت عملی عوامی قوتوں کو نظر انداز کرکے وضع کی جاتی ہے وہ ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔ چناچہ امریکی سامراج نے یہی غلطی ویت نام میں کی۔ یہی غلطی کیوبا اور انگولا میں کی اور یہی غلطی ایران میں کی۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اس حکمت عملی کے سوا کوئی دوسری حکمت عملی اختیار ہی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اگر عوام کے حقوق، مفادات اور جذبات و احساسات کا احترام کرے تو وہ سامراجی طاقت نہیں رہ سکے گا۔ 136


روحِ انسانی
۔۔ 'امریکائی اگورت را از ایران گم کن'،'نابود باد اتحاد نظامی با امریکہ۔' 'جاسوسان سیا (سی۔آئی۔اے) را از ایران بیرون کنید'،'امریکہ حق مداخلہ در ایراں ندادرد' جیسے نعروں سے گونجنے لگے تو امریکی مبصرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نپولین نے ایک بار کہا تھا کہ دنیا میں فقط دو طاقتیں ہیں، ایک تلوار اور دوسرے روحِ انسانی۔ ان کے درمیان جب تصادم ہوتا ہے تو ہار آخرکار تلوار کی ہوتی ہے۔ ایران میں امریکہ کی شکست کا اصل سبب یہی تھا کہ وہ روحِ انسانی سے برسر پیکار تھا۔ 137
_______________

Tuesday, May 25, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.4

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan

Chapter: 4: Pehlvi Ryasat Ka Kirdar

Excerpts:

باب: ۴: پہلوی ریاست کا کردار

۔۔ یوں تو کہنے کو ایران 1906 کے آئین کے رو سے ایک آئینی ملوکیت تھا اور بادشاہ کی حیثیت آئینی سربراہ کی تھی لیکن اس آئین کا احترام نہ کبھی قاچاریوں نے کیا اور نہ پہلویوں نے۔ 95

۔۔ پہلوی ریاست تھی تو سرمایہ دار ریاست مگر اپنی معیشت کے نوآبادیاتی کردار کے باعث وہ حقیقی معنی میں آزاد اور ترقی یافتہ صنعتی ریاست کبھی نہ بن سکی۔ 97

۔۔ 1959 میں ایران میں جو لیبر قانون نافذ ہوا وہ ہٹلر اور فرانکو کے لیبر قوانین کا چربہ تھا۔ 111

۔۔ اس علاقے میں تیل کا سارا کاروبار امریکی اور برطانوی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ [کویت، یمن، بحرین، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات (ابوظہبی، دبئی، شارجہ، اجمان، راس الخیمہ، فجیرہ، اور اُم القیوین)]۔ شیخوں کو جو رائلٹی ملتی ہے وہ بھی اتنی زیادہ ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس رقم کو کیسے خرچ کریں۔ اس کا عبرتناک منظر دیکھنا ہو تو لندن اور پیرس کے بازاروں کی سیر کیجئے، ۔۔ 115


۔۔ شاہ کی بادشاہت:
۔۔ رضا شاہ پہلوی کی ریاست بورژوا ریاست تھی جس کا بنیادی فریضہ سرمایہ داری نظام بالخصوص 'شرکتی' سرمایہ دار طبقے کے مفاد کی حفاظت کرنا تھا۔
۔۔۔ حالانکہ پرانے زمانے کے بادشاہ اور شہزادے کاروبار کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ دولت اپنے شاہانہ مصارف کے لیے جمع کرتے تھے اور اگر کوئی ان سے کہتا کہ چاندی سونے کے ذخیروں کو کاروبار میں لگا کر نفع کمائیے تو شاید او اُس کی کھال کھنچوالیتے۔ اس کے برعکس رضا شاہ کی زراندوزی کی نوعیت خالص کاروباری تھی۔ وہ سرمائے سے مزید سرمایہ پیدا کرنے کی دھن میں لگا رہتا تھا اور جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہیں کرتا تھا۔ 118


ایران میں تیل کا بحران:
۔۔ ہر چند کہ ملک کی پوری معیشت کا دارومدار تیل پر ہے لیکن تیل کی صنعت میں مزدوروں کی تعداد سب سے کم ہے۔ یہ تعداد برابر کم ہوتی جا رہی ہے (حالانکہ تیل کی پیداوار میں گزشتہ بیس برسوں میں بیس گنا اضافہ ہوا ہے)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام ملوں اور فیکٹریوں کے برعکس تیل کی صنعت مشینوں اور انجنیئروں کے بل پر چلتی ہے۔ اس میں جسمانی محنت کرنے والے مزدوروں کی ضرورت نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔
مٹی کے تیل اور پٹرول کے قحط کے باعث ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹروں کے پہیئے رک گئے اور دکانیں، دفتر، سینما، ہوٹل سب سنسان ہوگئے۔ 107-108
_____________

Sunday, May 23, 2010

iNQILAB-E-iRAN - Ch.2-3

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan

Chapters: 2-3

Excerpts:


باب: ۲: بیداری کی لہر

خوش قسمتی سے ۔۔۔
۔۔ خوش قسمتی سے عوامی ادب و فن کی روایت ایران میں بہت پرانی ہے۔ جنوبی ایشیا کی مانند وہاں بھی فقیر درویش، مراثی مسخرے، بھانڈ نقال موجود تھے جو گاوں گاوں پھرتے۔ اپنے تمسخرآمیز لطیفوں اور گیتوں گانوں میں بادشاہوں، امیروں، حاکموں اور ملاوں پر پھبتیاں کستے اور سننے والوں کو خوش کرتے۔ بعض اوقات کوئی دل جلا فقیر غمِ زمانہ کا مرثیہ دکھی لہجے میں گا کر سناتا تو مجمع بے تاب ہوجاتا۔ خوشی اور غم کے یہ گیت دراصل عوام کے اپنے دل کی آوازاں تھیں۔ اس لیے یہ گیت فوراً لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتے اور پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے۔ 73


باب: ۳ : مشروطہ کی تحریک

ایران کا بٹوارہ:
۔۔ بالا بالا ۳۱ / اگست ۱۹۰۷ء کو ایک خفیہ معاہدہ ایران کے بٹوارے کے بارے میں کیا۔ اس معاہدے کی رُو سے ایران کو حلقہ اثر کے اعتبار سے تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔ شمال مغربیاور شمال مشرقی علاقے روس کے حصے میں آئے، جنوب مغربی اور جنوبی مسرقی علاقے برطانیہ کو ملے اور وسطی علاقے کو شاہ کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ 81

۔۔ حکومت کی بے بسی کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ برطانیہ اور روس کے جس خفیہ معاہدے کو مجلس نے ۱۹۰۷ میں مسترد کردیا تھا اور جس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہوا تھا، مجلس نے ۱۹۱۲ء میں اسی معاہدے کی توثیق کردی۔ گویا ایران نے ملک کی تقسیم کو تسلیم کرکے اپنے گلے پر خود چھری پھیرلی۔

۔۔ اگست ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑی تو ایران نے دو ماہ کے اندر اپنی غیر جانبداری کا اعلان کار دیا لیکن جنگ کے بعد فریقین نے ایران کی غیرجانبداری کا بالکل احترام نہیں کیا۔ پہلے جرمنی اور ترکی کی فوجیں مغربی سمت سے ایران میں داخل ہوئیں، پھر روس اور برطانیہ کی یلغار شروع ہوئی اور ایران کی سرزمین دیکھتے ہی دیکھتے لڑائی کا میدان بن گئی۔ شمالی علاقوں پر روسی فوجوں نے قبضہ کرلیا۔ مغربی علاقے ترکوں اور جرمنوں کے تصرف میں آئے اور عراق کی سرحد سے بلوچستان تک کے تمام علاقوں پر انگریزی فوجوں کا تسلط ہوگیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا گویا ایران ایک لاش ہے جس کو گدھ نوچ نوچ کر کھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی فوجوں کو لوٹ مار سے شہر بارباد اور آبادیاں ویران ہوگئیں اور ہر طرف طوائف الملوکی پھیل گئی۔ 90
_______________

iNQILAB-e-iRAN - Ch.1

iNQILAB-E-iRAN
Sibt-e-Hassan
1979

Chapter 1

Excerpts:

باب: ۱: قاچاری دور

ایرانی اسلام:
۔۔ غور سے دیکھا جائے تو جس تہذیب کو عموماً اسلامی تہذیب سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ در حقیقت عجمیوں ہی کی کوشش کا ثمر ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خلفائے بنی عباس کا دربار دیکھتے ہی دیکھتے ساسانی دربار میں تبدیل ہوگیا۔ ایرانی لباس درباری لباس قرار پایا۔ خلیفہ اور خلیفہ زادون کی شادیاں ایرانی لڑکیوں سے ہونی لگیں۔ نوروز، مہرگان اوررام کے ایرانی تیوہار سرکاری طور منائے جانے لگے اور دربار میں ہر جگہ ایرانیوں کو عربوں پر ترجیح دی جانے لگی۔ علومِ دینی میں بھی جو رتبہ عجمی علما نے حاصل کیا وہ عربوں کو نصیب نہ ہوا۔
امام ابوحنیفہ اور امام غزالی جیسے اسلامی شریعت کے ستون ایرانی تھے۔ احادیث نبوی کو ترتیب دینے والے امام بخاری، امام مسلم، ابن ماجہ، قزوینی، ترمذی اور نسائی ایرانی تھے۔ پہلی مستند عربی گرامر کا مولف سیبویہہ ایرنی تھا۔ خلیفہ امین اور مامون کا استاد ابن حمزہ کسائی ایرانی تھا۔ مشہور مورخ طبریا، عوفی اور ابن قطیبہ ایرانی تھے۔ فرقہ معتزلہ جو روشن خیال مسلمانوں کی پہلی فکری تحریک تھی اس کا بانی واصل بن عطا ایرانی تھا۔ ابوریحان البیرونی اور شیخ بو علی سینا ایرانی تھے، رہا تصوف سو اس کا تو سارا نظام ہی ایرانیوں کا وضع کردہ ہے۔ اسی بنا پر علامہ اقبال جو تصوف کو ناپسند کرتے تھے مگر مولانا روم کے مرید تھے، عجمی فکراور فلسفے کے سخت مخالف تھے۔ اُنکا خیال تھا کہ عجمی ذہنیت ہی اسلام کے زوال کا باعث ہوئی۔ 27


۔۔ یہ تو بحث فضول ہے کہ جدید خیالات اور نظریات مشرق میں سامراجی قوتوں کے اثرونفوذ کے بغیر ازخود نشونما پاسکتے تھے یا نہیں۔ البتہ تاریخی اعتبار سے ہم بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اہلِ مشرق میں اصلاحِ احوال کا احساس مغربی علوم و فنون سے روشناس ہونے کے بعد انیسویں صدی کی ابتدا میں پیدا ہوا۔ 30


۔۔ ۔۔۔ قاچاریوں نے شیراز اور کرمان وغیرہ میں لوگوں پر بڑے مظالم ڈھائے تھے لیکن تہران کے شیعہ مجتہدوں نے ان مظالم کی مذمت کرنے کے بجائے قاچاریوں کی حمایت کی تھی۔ اس لیے جنوبی ایران والے شیعہ مجتہدوں کو ناپسند کرتے تھے۔ 31


۔۔ قاچاریوں کے سواسوسالہ دورِ حکومت میں کوئی ایک فرمانروا بھی ایسا نہ ہوا جس کو وطن کا درد ہوتا یا جو ذاتی مفاد ہی کی خاطر اصلاحِ احوال کی فکر کرتا۔ 34


۔۔ ہر ریاست نظریاتی ریاست ہوتی ہے۔ یہ ریاستی نظریہ کبھی سیاسی ہوتا ہے، کبھی اقتصادی اور کبھی مذہبی اس کے ذریعے ریاست کے باشندوں کو اطاعت کا خوگر بنایا جاتا ہے۔ ان کے دل و دماغ کو ریاست کے اغراض و مقاصد کے مطابق ڈھالا جاتا ہے اور یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ ان کا اور ریاست کا مفاد مشترکہ ہے، حالانکہ حقیقت میں ریاست ایک طبقاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد برسرِاقتدار طبقے کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ 38


۔۔ اس اعتبار سے پہلوی دور کو اگر ترجموں کا دور کہا جائے تہ غلط نا ہوگا۔ 40


۔۔ ۔۔۔ لیکن خیالات تو روحِ عصر کے تقاضوں کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان کو دیوارِ چین بھی نہیں روک سکتی۔ 61

Saturday, May 22, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Tamheed

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan
1979


Tamheed:
Excerpts:




تمہید:
۔۔ ۔۔ تاریخ بھی کوئی شے ہے جو ہر فرد کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاریخ کا یہی شعور قومی آزادی اور قومی تشخص کا محرّک بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں ماضی کی عظمتوں کی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور ہم کو اپنے قومی زوال، پستی اور ذلّت کے لمحے کانٹے کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ 7-8

ایران و پاکستان:
۔۔ ایران اور پاکستان کے معاشرتی حالات میں جو مماثلت پائی جاتی ہے وہ کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایرانی معاشرے کا وہ کون سا پہلو ہے جو ہمارے ۳۲ سالہ تجربوں سے مختلف ہے۔ زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے وہی خواب اور وہی ان کی ہیبت ناک تعبیریں، انسانی حقوق کی وہی پامالی، کبھی جمہوریت کے نام پر ، کبھی مذہب کے نام پر، دولت و اقتدار کی وہی ہوس اور ہوس کی ہوی بے شرمیاں، دیواستبداد کی وہی سفاکیاں اور گیرودار کی وہی رسمِ کہن، وہی درباری سازشیں اور ملکی مفاد کے وہی سودے، عوام کے مسائلِ زیست سے وہی غفلت، ضمیرِ انسانی کی وہی خرید و فروخت اور وقارِ انسانی کی وہی بے حرمتی، جلوت میں اخلاق و ایمانداری کے وہی وعظ اور خلوت میں وہی ان وعظوں کی نفی، طاقت کا وہی نشہ اور اس طاقت کے لازوال ہونے کا وہی غرّہ، غرضیکہ بصیرت کی آنکھوں سے دیکھو تو ایران کی گزشتہ ۳۵ سالہ تاریخ میں اپنے گھر کی بربادی کا نقشہ صاف نظر آجائے گا۔
یوں بھی ایران ہمارا دوست اور ہمسایہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے رشتے ہزاروں سال پرانے ہیں۔ ہماری زبانیں ایک ماں کی اولاد ہیں۔ ایرانی علوم وفنون سے ہم نے بہت کچھھ سیکھا ہے۔ فارسی تقریباً آٹھ سو برس تک ہمارے ملک کی سرکاری درباری زبان رہی ہے جس کی وجہ سے فارسی کے بے شمار الفاظ، محاورے، اصطلاحیں، تلمیحیں، علامتیں اور استعارے ہمارے ادب کا جز بن گئے ہیں۔ حتٰی کہ ہماری گرامر بھی فارسی گرامر کا چربہ ہے اور ہمارا رسم الخط بھی فارسی ہے۔ ہم نے امیرخسرو، مرزا عبدالقادر بیدل، غالب اور اقبال جیسے عظیم القدر شاعر پیدا کیے ہیں۔ ہمارے صوفیوں کی تعلیمات اور تصنیفات کی عظمت کا اعتراف اہلِ ایران بھی کرتے ہیں۔ ان حالات میں ایران سے موجودہ تاریخ سے ہماری دلچسپی قدرتی امر ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ گزشتہ ۳۲ سال میں ہمارے کسی مورخ، کسی مبصر، کسی دانش ور، کسی صحافی نے ہم کو ایران کے صحیح حالات سے باخبر کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔ فارسی داں بزرگوں نے باربار ایران کی سیاحت کی، طلبا وہاں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے گئے اور کئی کئی سال وہاں مقیم رہے، بے شمار سرکاری وفد بھی ایران جاتے رہے لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ واپس آکر ایران کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر کچھ لکھتا، جو لوٹا اس نے شاہ کی مدح وثنا پر اکتفا کی اور شاہ کی مہمان نوازیوں کا قصیدہ لکھا۔ دراصل ملوکیت پرستی ہماری رگ و پے میں کچھ اس طرح سرایت کر گئی ہے اور ہم معاشرتی زندگی کو شخصیتوں کے حوالے سے دیکھنے کے اس درجہ خوگر ہوگئے ہیں کہ ہم فرد ہی کو جماعت تصور کرنے لگے ہیں اور فرد بھی وہ جو جماعت سے بلند و بالا ہو۔ چنانچہ رضا شاہ کو ہم نے قومی ہیرو کا درجہ دے رکھا تھا۔ کسی کی مجال نہ تھی جو ایک حرف ان کے خلاف زبان سے نکال سکتا۔ وہ جب سرکاری دورے پر یہاں آتے تھے تو ان کا خیر مقدم یو ہوتا تھا گویا پاکستان کے نجات دہندہ وہی ہیں۔ اسی غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ شاہ پاکستان کو اپنی کالونی سمجھنے لگے تھے۔ شاہِ ایران تو رخصت ہوگئے لیکن ہماری شخصیت پرستی میں کمی نہیں آئی ہے۔ پہلے شاہ ہمارے ہیرو تھے اب وہی مقام ہم نے امام خمینی کو دے دیا ہے۔ 9-11

امریکا کا مفاد
۔۔ امریکہ کا مفاد دراصل امرکیک کمپنیوںکا مفاد ہے جو سعودی عرب اور امارتوں کے تیل پر قابض ہیں۔ (ان امریکی کمپنیوں کو ۱۹۷۹ء کے پہلے نو مہینوں میں ۲۵/ ارب ڈالر کا خالص نفع ہوا۔) اس علاقے کے تیل کی یومیہ پیداوار ساڑھے تین کروڑ پیپے ہیں۔ امریکہ، مغربی یورپ اور جاپان میں جتنا تیل استعمال ہوتا ہے اس کا ایک تہائی انھیں ملکوں (سعودی عرب، عراق، کویت، بحرین اور عرب امارات) سے جاتا ہے۔ 12

۔۔ 'عرب ممالک میں نظامِ حکومت کی تبدیلی مغرب کے مفاد کے خلاف ہوگی کیونکہ عرب بادشاہتیں اور امارتیں ہمیشہ مغرب نواز اور کمیونسٹ دشمن رہی ہیں۔' 12

امام خمینی ۔ جمہوریت دشمنی منطق
۔۔ امام خمینی کا یہ ارشاد بجا ہی کہ ایران کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ لہذا ہم اس سے لڑیں گے لیکن وہ ان جمہوریت پسند عناصر سے بھی آمادہ پیکار ہیں جو امریکی امپیرئل ازم سے جنگ میں ان کے سب سے معتبر اور مستعد رفیق ہوسکتے ہیں۔ امام خمینی کو اس تضاد کو حل کرنا پڑے گا اور جمہوریت کو از سرِ نو بحال کرنا ہوگا کیونکہ امریکی سامراج کو جمہوری طاقتوں کی مدد ہی سے شکست دی جاسکتی ہے اور اگر جمہوری عناصر بدستور موردِ عتاب رہے تو امام خمینی کی جمہوریت دشمنی کی منطق ایران کو ایک نہ ایک دن امپیرئل ازم سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردےگی۔20-21

امام خمینی کی تھیوکریسی
۔۔ بہرحال امام خمینی کی تھیوکریسی جس کو اب آئینی شکل دے دی گئی ہے، ایران کے اقتصادی اور سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے تو مسائل اور پیچیدہ ہوجائیں گے اور ایران کے دشمنوں کو سازش کے نئے موقعے ہاتھ آئیں گے۔ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ ایرانی محبّانِ وطن کی بہت بڑی تعداد نیک نیتی سے یہ سمجھتی ہے کہ تھیوکریسی کا نفاذ ایرانی معاشرے کے حق میں روڑا ثابت ہوگا۔ وہ بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ 'ولایت فقیہہ' کی آڑ میں لوگوں کو انسانی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور شخصی حکومت کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے۔ تھیوکریسی کے خلاف یہ بدگمانی بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ قرونِ وسطٰی میں تھیوکریسی کا مشرق و مغرب دونوں میں یہی کردار رہا ہے۔ اور آج بھی مشرق، وسطٰی میں جن ملکوں میں تھیوکریسی رائج ہے وہاں درحقیقت شخصی حکومت ہی کا دور دورہ ہے، ریاست کا سیاسی ڈھانچہ خالص آمرانہ ہے، سربراہِ ریاست کو ریاست کے باشندے منتخب نہیں کرتے بلکہ یہ منصب اس کو ورثے میں ملتا ہے گویا ریاست اس کی ذاتی ملکیت ہے۔ نہ رعایا کی چنی ہوئی مجلسِ قانون ساز، نہ رعایا کے روبرو جواب دہ وزارتیں، نہ انسانی حقوق کی کوئی ضمانت، نہ تحریر، تقریر اور تنظیم کی آزادی۔ ایسے نظامِ مملکت کو آمرانہ نہ کہیے تو کیا کہیے۔ شرعی عدالتیں قائم کرنے اور شرعی سزائیں دینے سے اس آمریت کی نوعیت نہیں بدل سکتی۔ 21-22

دورِ حاضر کی تھیوکریسی:
۔۔ دورِ حاضر کی تھیوکریسی کا اقتصادی ڈھانچہ بھی ایسا نہیں جس سے عوام کو فیض پہنچتا ہو بلکہ خالص سرمایہ دارانہ ہے۔ صنعتی اور تجارتی کاروبار، فیکٹریاں اور کارخانے، بینک اور بیمہ کمپنیان، دکانیں اور دفاتر غرضیکہ دولت پیدا کرنے اور اس کو تقسیم کرنے کا سارا نظام سرمایہ داری اصولوں پر چلتا ہے۔ دولت اور دولت آفرینی کے ذرائع کا وہی چند ہاتھوں میں ارتکاز اور وہی اپنے ہم مذہب محنت کاروں کی قوت کا آزادانہ استحصال، جو سرمایہ داری کی خصوصیت ہے تھیوکریٹک ریاستوں میں بھی پوری شان و شوکت سے جلوہ گر ہے۔ یہی آمرانہ اور امیرانہ تھیوکریسی خمینی صاحب تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ ایران میں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایرانیوں نے اپنی جانیں اس لیے تو قربان نہیں کی تھیں کہ ایک آمر کو ہٹا کار دوسرے آمر کو اپنے اوپر مسلّط کرلیں۔ 22
__________

iNQILAB-e-iRAN - iNTRO

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan
1979



Intro:
1979 ke iran ke inqilab per likhi gai ek inqilabi kitab. Jis inqilab me ek Dictator (shah) utarta hy to Doosra (khumeni) awam ki sarron per sawar hojata hy! Bus faraq itna hota hy ke ek khulle am Amrica Amrica karta tha aur doosre khulla am Not-Amrica Not-Amrica krta tha per peet-peechhe kam donon ka ek hi raha. Aur awam bichari waheen ki waheen rahin.

About the Book:
Inqilabe Iran ko sahi mani main samajhne ke liye Sibte Hassan Sahb Iran ki tareekh ko 18ven sadi se lekar chalte hyn, yani Qachari Dor se … is liye kitab ke shuroo ke 3 chapters 18ven 19ven sadi ki iran ke badshahat nizam ko dikhati hy, jis main badshah apni dolat main magan hote the aur awam apni ghurbat wali zindagi guzarti thi.

Magar awam ka sahi tor per istehsal Pehelvi Dor main hua jis main awam ki zindagi itni wabal bna di gai k unke pas marne aur ah-o-buqa k siwa koi rasta na bacha. Sarmayadari se mulk ko loota ja raha tha hatta ke mulk k tukre kar ke bechne ke plan banne lage!

Kitab ka Akhri Hissa, Inqilab ke baad Khumeni Sahab ki Hukumat per jhalak hy, jis main Khumeni Sahab mulk ki Aulil-Amr ban bhete, Deeni o Dunyavi dono tarah ki hakim ban bhethe (jo ke ikhtayarat shah ko bhi na the), Khumeni ne apne liye ikhtyarat Shah se bhi zyada makhsoos kar liye. Aur ese ese usool nafiz kiye jis se mulk ka berrah garak hota chala gaya.
Aur logon per Jabr o Zulm o Tashaddud (inqilab ke bad bhi) wesa ee raha. Ikhbarat o risalon per pabandi laga di, media per pabandi laga di, aurton per pabandi laga di, aqleeyat aqwam ke huqooq per pabandi laga di (bulke unko qatal kiya gaya), Amrica se tijart ab bhi rahi, pehle Direct hoti thi, aur ab Indircet Turkey ke raste, Amrica se hathyar ab bhi mangawye jane lage.
Per log jab Roti ke liye cheekhte to unhe kaha jata ye Baaghi hyn, roti ke naam per baghawat karna chahte hyn, inqilab islam ke naam per aya tha ‘saste tarboozon aur saste makanon ke liye nahin’!


باب: ۱: قاچاری دور
باب: ۲: بیداری کی لہر
باب: ۳ : مشروطہ کی تحریک
باب: ۴: پہلوی ریاست کا کردار
باب: ۵: امریکی عمل دخل
باب: ۶: پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے
باب: ۷: پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں
باب: ۸: ایران کی شوشلسٹ تحریک
باب: ۹: انقلابی ہلچل
باب: ۱۰: انقلابِ ایران کے محرکات و اسباب
باب: ۱۱۔ ۱۲: ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
باب: ۱۳: ایرانی انقلاب کدھر؟
باب: ۱۴: ۱۹۸۰ء کے بعد ایران پر یا گزری
_______________
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...