FIKRism

Showing posts with label Shah. Show all posts
Showing posts with label Shah. Show all posts

Saturday, June 5, 2010

Afkare Tazah - Shah Latif

Some Excerpts from Afkare Tazah:
شاه عبدالطيف ڀٽائي

۔۔ شاہ صاحب علوم متداولہ سے بخوبی واقف تھے اور اس روایت میں بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کہ مثنوی مولانا روم اور عطارد و حافظ کے دیوان برابر ان کے مطالعے میں رہتے تھے۔ شاہ لطیف نے اپنے رسالے میں مولانا روم کی تقلید پر بڑا زور دیا ہے۔ 32

۔۔ ورنہ شاہ لطیف کا سا ذہین اور ذکی الحس شاعر جس نے فرنگی سوداگروں تک کا تذکرہ کیا ہے ملکی واقعات کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا۔ 34

۔۔ شاہ لطیف ایک آزادانہ منش درویش تھے۔ شاعری ان کا ذریعہ معاش نہ تھی وہ ۔۔۔ 34-35

۔۔ شاہ لطیف کو اس کی قطعاً پرواہ نہیں کہ ان کی داستانوں کے کردار ہندو ہیں یا ملسمان وہ تو فقط یہ دیکھتے ہیں کہ یہ شخصیتیں حقیقت کے اظہار میں کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ خودشناسی اور عرفانِ ذات کی کس منزل میں ہیں۔ 36

۔۔ اس کے برعکس شاہ ۔۔۔ 40

۔۔ انسان جبتک خودشناسی کے راز ۔۔۔ 41-42

۔۔ ۔۔۔ ایسا مرقع جس سے تاریخ سندھ کی کتابیں خالی ہیں ۔ 43

۔۔ تہذیبی تصادم سندھ کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ جس ملک میں بھی مختلف تہذیبی وحدتیں یکجا ہوگی وہاں تصادم کا ہونا قدرتی امر ہے۔ 45

۔۔ اس تہذیبی امتزاج کا تجربہ سب سے زیادہ سندھ کو ہے ۔۔۔
دراصل سندھی تہذیبوں کی میل جول سے ہی اٹھا ہے۔ 47

۔۔ دوسری جنگ عظیم میں فاشزم کی شکست ۔۔۔ 170

____________________

Tuesday, May 25, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.4

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan

Chapter: 4: Pehlvi Ryasat Ka Kirdar

Excerpts:

باب: ۴: پہلوی ریاست کا کردار

۔۔ یوں تو کہنے کو ایران 1906 کے آئین کے رو سے ایک آئینی ملوکیت تھا اور بادشاہ کی حیثیت آئینی سربراہ کی تھی لیکن اس آئین کا احترام نہ کبھی قاچاریوں نے کیا اور نہ پہلویوں نے۔ 95

۔۔ پہلوی ریاست تھی تو سرمایہ دار ریاست مگر اپنی معیشت کے نوآبادیاتی کردار کے باعث وہ حقیقی معنی میں آزاد اور ترقی یافتہ صنعتی ریاست کبھی نہ بن سکی۔ 97

۔۔ 1959 میں ایران میں جو لیبر قانون نافذ ہوا وہ ہٹلر اور فرانکو کے لیبر قوانین کا چربہ تھا۔ 111

۔۔ اس علاقے میں تیل کا سارا کاروبار امریکی اور برطانوی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ [کویت، یمن، بحرین، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات (ابوظہبی، دبئی، شارجہ، اجمان، راس الخیمہ، فجیرہ، اور اُم القیوین)]۔ شیخوں کو جو رائلٹی ملتی ہے وہ بھی اتنی زیادہ ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس رقم کو کیسے خرچ کریں۔ اس کا عبرتناک منظر دیکھنا ہو تو لندن اور پیرس کے بازاروں کی سیر کیجئے، ۔۔ 115


۔۔ شاہ کی بادشاہت:
۔۔ رضا شاہ پہلوی کی ریاست بورژوا ریاست تھی جس کا بنیادی فریضہ سرمایہ داری نظام بالخصوص 'شرکتی' سرمایہ دار طبقے کے مفاد کی حفاظت کرنا تھا۔
۔۔۔ حالانکہ پرانے زمانے کے بادشاہ اور شہزادے کاروبار کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ دولت اپنے شاہانہ مصارف کے لیے جمع کرتے تھے اور اگر کوئی ان سے کہتا کہ چاندی سونے کے ذخیروں کو کاروبار میں لگا کر نفع کمائیے تو شاید او اُس کی کھال کھنچوالیتے۔ اس کے برعکس رضا شاہ کی زراندوزی کی نوعیت خالص کاروباری تھی۔ وہ سرمائے سے مزید سرمایہ پیدا کرنے کی دھن میں لگا رہتا تھا اور جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہیں کرتا تھا۔ 118


ایران میں تیل کا بحران:
۔۔ ہر چند کہ ملک کی پوری معیشت کا دارومدار تیل پر ہے لیکن تیل کی صنعت میں مزدوروں کی تعداد سب سے کم ہے۔ یہ تعداد برابر کم ہوتی جا رہی ہے (حالانکہ تیل کی پیداوار میں گزشتہ بیس برسوں میں بیس گنا اضافہ ہوا ہے)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام ملوں اور فیکٹریوں کے برعکس تیل کی صنعت مشینوں اور انجنیئروں کے بل پر چلتی ہے۔ اس میں جسمانی محنت کرنے والے مزدوروں کی ضرورت نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔
مٹی کے تیل اور پٹرول کے قحط کے باعث ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹروں کے پہیئے رک گئے اور دکانیں، دفتر، سینما، ہوٹل سب سنسان ہوگئے۔ 107-108
_____________

Saturday, May 22, 2010

iNQILAB-e-iRAN - iNTRO

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan
1979



Intro:
1979 ke iran ke inqilab per likhi gai ek inqilabi kitab. Jis inqilab me ek Dictator (shah) utarta hy to Doosra (khumeni) awam ki sarron per sawar hojata hy! Bus faraq itna hota hy ke ek khulle am Amrica Amrica karta tha aur doosre khulla am Not-Amrica Not-Amrica krta tha per peet-peechhe kam donon ka ek hi raha. Aur awam bichari waheen ki waheen rahin.

About the Book:
Inqilabe Iran ko sahi mani main samajhne ke liye Sibte Hassan Sahb Iran ki tareekh ko 18ven sadi se lekar chalte hyn, yani Qachari Dor se … is liye kitab ke shuroo ke 3 chapters 18ven 19ven sadi ki iran ke badshahat nizam ko dikhati hy, jis main badshah apni dolat main magan hote the aur awam apni ghurbat wali zindagi guzarti thi.

Magar awam ka sahi tor per istehsal Pehelvi Dor main hua jis main awam ki zindagi itni wabal bna di gai k unke pas marne aur ah-o-buqa k siwa koi rasta na bacha. Sarmayadari se mulk ko loota ja raha tha hatta ke mulk k tukre kar ke bechne ke plan banne lage!

Kitab ka Akhri Hissa, Inqilab ke baad Khumeni Sahab ki Hukumat per jhalak hy, jis main Khumeni Sahab mulk ki Aulil-Amr ban bhete, Deeni o Dunyavi dono tarah ki hakim ban bhethe (jo ke ikhtayarat shah ko bhi na the), Khumeni ne apne liye ikhtyarat Shah se bhi zyada makhsoos kar liye. Aur ese ese usool nafiz kiye jis se mulk ka berrah garak hota chala gaya.
Aur logon per Jabr o Zulm o Tashaddud (inqilab ke bad bhi) wesa ee raha. Ikhbarat o risalon per pabandi laga di, media per pabandi laga di, aurton per pabandi laga di, aqleeyat aqwam ke huqooq per pabandi laga di (bulke unko qatal kiya gaya), Amrica se tijart ab bhi rahi, pehle Direct hoti thi, aur ab Indircet Turkey ke raste, Amrica se hathyar ab bhi mangawye jane lage.
Per log jab Roti ke liye cheekhte to unhe kaha jata ye Baaghi hyn, roti ke naam per baghawat karna chahte hyn, inqilab islam ke naam per aya tha ‘saste tarboozon aur saste makanon ke liye nahin’!


باب: ۱: قاچاری دور
باب: ۲: بیداری کی لہر
باب: ۳ : مشروطہ کی تحریک
باب: ۴: پہلوی ریاست کا کردار
باب: ۵: امریکی عمل دخل
باب: ۶: پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے
باب: ۷: پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں
باب: ۸: ایران کی شوشلسٹ تحریک
باب: ۹: انقلابی ہلچل
باب: ۱۰: انقلابِ ایران کے محرکات و اسباب
باب: ۱۱۔ ۱۲: ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
باب: ۱۳: ایرانی انقلاب کدھر؟
باب: ۱۴: ۱۹۸۰ء کے بعد ایران پر یا گزری
_______________
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...