FIKRism

Showing posts with label Excerpts. Show all posts
Showing posts with label Excerpts. Show all posts

Saturday, March 12, 2011

Insan Bara Kese Bana? Excerpts

انسان بڑا کیسے بنا ؟
میخائل ایلین / ایلینا سیگاں
ترجمہ: حبیب الرحٰمن


اقتباسات


۔۔ اگر ہم جنگل اور استیپی کے دوسرے باسیوں کا گہرا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ سے ایک نظر نہ آنے والی زنجیر کے ذریعے بندھا ہے، ایسی زنجیر سے جس کو توڑنا بہت مشکل ہے۔ 16


۔۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہدہد اور گلہری جنگل کے باسی نہیں، بندی ہیں۔ 17


گھوڑا بڑا کیسے بنا؟
۔۔ گھوڑے کے پیروں، گردن اور دانتوں کو بدلنے کے زبردست کام میں پانچ کروڑ سال لگے۔ اور اس عمل کے دوران بہت سے جانور ختم ہوگئے۔ 24


۔۔ آدمی کہیں بھی رہ سکتا ہے اس دنیا میں مشکل سے ہی کوئی ایسا کونا ہوگا جہاں آدمی نہ پہنچا ہو اور جہاں کوئی ایسا نہ دکھائی دینے والا نشان ہو جو کہتا ہو "انسان، دور رہو!" 26-27


۔۔ جانور پوری طرح اپنے ماحول کا محتاج ہوتا ہے۔
لیکن آدمی اپنی مرضی کے مطابق ماحول بناتا ہے۔ 28


۔۔ اپنے مخالفین سے بحث میں ڈیویؤا نے یہ ثابت کردیا کہ کہ کھوپڑی کسی طرح بھی گبن کی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے پیشانی نہیں ہوتی اور پیتھیکنتھرپس کی ہوتی ہے۔ 48
Gibbon, Pithecanthropus


پنجہ میرا آلا
۔۔ کوئی جانور یا پرندہ اپنی غذا کی تلاش کر سکتا ہے یا پنا گھونسلا بنانے کے لئے ضروری چیزیں تلاش کرسکتا ہے۔ لیکن وہ ایسی چیزوں کی کبھی تلاش نہیں کرسکتا جن سے اپنے لئے اضافی پنجے یا دانت بنا سکے۔ 57


۔۔ کام کی ایک حیرت انگیز خوبی یہ بھی ہے کہ کام صرف اس کا وقت لیتا ہی نہیں بلکہ دیتا بھی ہے۔
دراصل اگر تم کوئی کام چار گھنٹے میں کرو جو دوسرا آٹھ گھنٹے میں کرتا ہے تو تم نے چار گھنٹے بچا لئے۔ اگر تم نے ایسا اوزار ایجاد کر لیا جو اس سے دگنی تیزی سے کام کرتا ہے جتنا پہلے تم کرتے تھے تو تم نے اپنا آدھا وقت بچالیا۔ 68-69


۔۔ ساحل سمندر کی پرتیں ہمیں یہ کہانی بتاتی ہیں کہ کس طرح گرم سمندر ٹھنڈے سمندر بن گئے۔ 72


سایا میری موت
۔۔ کسی آدمی کی موت اپنے سائے سے نہیں ہوتی لیکن یہ بات اکثر درخت کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ 73


۔۔ قدیم زمانے میں جہازوں کے چلانے والے غلام بھی اپنے جہازوں کے ساتھ ڈوب جاتے تھے۔ کیونکہ وہ پتواروں سے زنجیروں کے ذریعے بندھے ہوتے تھے۔ 76


۔۔ اکیلا آدمی تن تنھا ہمیشہ جنگلی جانور ہی رہتا لیکن انسانی سوسائٹی کے اندر کام نے جانور کو آدمی بنادیا۔ 87


تہذیب و ثقافت
۔۔ اگر پہلے آدمی بڑے بڑے غولوں کی صورت میں نہیں بلکہ صرف خاندانوں میں رہتے تو وہ کبھی 'لوگ' نہ بنتے اور یہ کوئی مشترک تہذیب پیدا کرسکتے۔ 87


انسانی آبادی (خود کی دشمن)۔
۔۔ آدمی کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ کسی دوسرے جانور کے ساتھ نہیں ہوسکتا تھا۔ مثال کے طور پر کیا خرگوشوں کی تعداد بھی اتنی ہی کثیر ہوسکتی تھی جتنی آدمیوں ی؟
نہیں۔ کیونکہ اگر خرگوشوں کی تعداد بڑھتی تو بھیڑیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا اور وہ خرگوشوں کی تعداد کم ہی رکھتے۔ 89


۔۔ اوزاروں کے درمیان کام کی تقسیم کا مطلب یہ ہوا کہ لوگوں کے درمیان بھی کام کی تقسیم تھی جو پتھر کے زمانے کے شکاریوں کے وقت سے شروع ہوئی تھی۔ 95


۔۔ یہ آدمی کی خوش قسمتی ہے کہ وہ بنے بنائے ہنر کے ساتھ نہیں پیدا ہوتا۔ 98


ایجادیں
۔۔ پہلی بولتی ہوئی فلم 1927 میں دکھائی گئی تھی۔
۔۔ کوئی فونوگراف ان الفاظ کو نہیں سنا سکتا جو 1877 سے پہلے ادا ہوئے تھے کیونکہ 1877 میں اس کی ایجاد ہوئی تھی۔ 101٫

۔۔ 1838 سے پہلے فوٹوگرافی نہیں تھی۔
۔۔ 1440 ۔۔۔ اس سے پہلے چھپی ہوئی کتابیں نہیں ہوتی تھیں۔ 103


پیشانی
۔۔ نینڈرتھل آدمی کے خدوخال میں دو چیزیں یعنی اس کی پیشانی اور ٹھوڑی اس کو ہم سے مختلف کردیتی ہیں۔ اس کی پیشانی پیچھے کی طرف دبی ہوئی ہے اور دراصل ٹھوڑی تو بالکل غائب ہے۔ 106


۔۔ اکتوبر کے عظیم سوشلسٹ انقلاب سے پہلے قفقاز کے آرمینیائی دیہاتوں میں عورت کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی مرد سے بولنے کی اجازت نہ تھی۔ جب کسی دوسرے آدمی سے اسے کچھ کہنا ہوتا تو اس کو اشاروں کی زبان استعمال کرنی پڑتی۔ 111


اشاروں کی زبان
۔۔ اشارات اور جذبات میں جتنا اضافہ ہوتا گیا اتنا ہی اکثر "سگنلوں کے بارے میں سگنل" دماغ کو پہنچنے لگے اور "مرکزی اسٹیشن" کا کام بڑھنے لگا جو انسانی کھوپڑی کے پیشانی والے سرے میں ہوتا ہے۔ 113


۔۔ آدمی کو اس کا دماغ قدرت سے بطور تحفہ نہیں ملا، اس کو اپنے ہاتھوں کی محنت سے حاصل کیا۔ 113


تیر اور بھالا
۔۔ تیر اور جیویلن دو بھائیوں کی طرح مشابہ ہیں لیکن تیر اپنے بھائی سے ہزاروں سال چھوٹا ہے۔ آدمی کو تیر ایجاد کرنے میں ہزاروں سال لگ گئے۔ 126
Javelin – ۔ بھالا


۔۔ انڈینوں کا عقیدہ ہے کہ جانور کو اس کی مرضی کے بغیر نہیں مارا جاسکتا۔ اگر کوئی ارنا بھینسا مارا جاتا ہے تو محض اس وجہ سے کہ وہ آدمیوں کے لئے اپنے کو بھینٹ دینا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کو مارا جائے۔ 152


میں اور میری جدوجہد
۔۔ لیکن وقت گزرتا گیا۔ آدمی جتنا زیادہ مضبوط ہوتا گیا، جتنا اپنے چاروں طرف کی دنیا کو سمجھتا گیا اور دنیا میں اپنے جگہ کو پہنچانتا گیا، اس کی زبان میں "میں" کا لفظ اتنا ہی زیادہ آتا گیا اور اس کے ساتھ ہی وہ شخص بھی نمودار ہو جو کام کرتا تھا، جدوجہد کرتا تھا اور چیزوں اور قدرت کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا تھا۔ 159


۔۔ جہالت سے خوف پیدا ہوتا ہے، علم سے اعتماد۔ علم آدمی کو قدرت کا غلام نہیں رکھتا اس کو قدرت کا مالک بناتا ہے۔ 160


پراسرار طاقت
۔۔ قدیم زمانے میں کاریگروں کا خیال تھا کہ ہر شے میں کوئی پراسرار طاقت اور خوبی چھپی ہوئی ہے۔ کون جانے، ممکن ہے کہ برتن کی اصل مضبوطی اس کے ڈیزائن میں ہو، اگر انہوں نے ڈیزائن بدلا تو ممکن ہے کہ ان کو ہمیشہ کے لئے پچھتانا پڑے کیونکہ برتن ان کی بدقسمتی، برے دنوں اور بھوک کا باعث بن سکتا ہے۔ کبھی کبھی برتن کو نطربد سے بچانے کے لئے کمہار اس پر کتے کی صورت بنادیتا تھا۔
کتا تو آدمی کا مددگار تھا۔ وہ آدمی کے ساتھ شکار پر جاتا اور اس کے گھر کی نگرانی کرتا تھا۔
برتن پر کتے کی شکل بناتے ہوئے کمہار اپنے آپس سے کہتا تھا "کتا تو نگراں ہے، وہ برتن اور اس کے اندر جو کچھ رکھا ہے اس کی نگرانی کرے گا۔" 179


جانوروں سے خراج
۔۔ یہ اچھا تھا کہ وہ اپنے چوپایہ قیدیوں کی جان بخش دیں اور ان سے خراج وصول کرلیا کریں۔ 185
(ان کی خال ادھیڑ کر)


گورے اور انڈین
۔۔ گوروں نے انڈین (امریکی) لوگوں کو نہیں سمجھا اور انڈین لوگوں نے بھی جاوباً گوروں کو نہیں سمجھا۔ انڈین لوگوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ گورے مٹھی بھر سونے کے لئے ایک دوسرے کا گلا گھونٹنے کو کیوں تیار رہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں اتا تھا کہ گورے امریکہ کیوں آئے ہیں اور "کسی اور کے علاقے کو فتح کرنے کے" کیا معنی ہیں۔ 213


۔۔ ہم پودوں اور جانوروں کی سائنس سے زبان کی سائنس تک، زبان کی سائنس سے اوزاروں کی تاریخ تک، اوزاروں کی تاریخ سے عقیدوں کی تاریخ تک اور مذہبورں کی تاریخ سے زمین کی تاریخ تک پہنچے۔ 222


چچا چچی
۔۔ جب روس میں بچے اجنبیوں کو 'چچی' یا 'چچا' یا بزرگ اجنبیوں کو 'دادا' یا 'دادی' کہتے ہیں تو یہ بات اس سماج کی باقیات میں سے ہے جس میں جرگے کے تمام ممبر ایک دوسرے کے رشتے دار ہوتے تھے۔ 223


جانور کی قوت
۔۔ جب آدمی نے بیل کی گردن پر جوا رکھا تو اس نے اپنا بوجھ جانور کی طرف منتقل کردیا۔ اس طرح مویشی جو اس کو گوشت، دودھ اور چمڑا دیتے تھے اب اس کو قوت بھی دینے لگے۔ 226


گوت سے باہر شادی
۔۔ پہلے بیوی شوہر کو اپنے خاندان میں ملاتی تھی، اب شوہر بیوی کو اپنے گھر لانے لگا۔
چونکہ یہ پرانے طریقے کے خلاف تھا اس لئے رواج کے خلاف کرنے والے کو مجرم سمجھا جانے لگا۔
کوئی نوجوان کسی جرگے سے بیوی کو لے کر آسانی سے نہیں جا سکتا تھا۔ اس کو لڑکی کو چرانا یا اغوا کرکے لانا پڑتا تھا۔ 228


A بیل
۔۔ کون یہ سوچ سکتا ہے کہ A
کا حرف دراصل بیل کا سر ہے، لیکن اگر تم A
کو الٹ کر دیکھو تو وہ سینگ دار سر سے مشابہہ نظر آئے گا۔ قدیم سامیوں کی زبان میں سینگ دار سر حرف A
کے مترادف تھا جو پہلا حرف تھا اور جس کو 'الف' کہتے تھے جس کا مطلب تھا بیل۔ 235


گلوں سے امیر
۔۔ پرانی داستانیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ان دور دراز زمانوں میں لفظ 'امیر' جملے کا ایک حصہ ہوتا تھا۔ لوگ صرف یہ نہیں کہتے تھے کہ وہ شخص 'امیر' ہے۔ وہ یوں کہتے تھے کہ وہ 'گلوں سے امیر' ہے یا 'گھوڑوں سے امیر' ہے۔ 240


امیر مردہ ۔ غریب مردہ
۔۔ قدیم ٹیلوں میں امیروں اور غریبوں کی قبریں نہیں ہوتی تھیں۔ سب مردے برابر ہوتے تھے۔ لیکن آگے چل کر مردے امیر اور غریب ہونے لگے۔ 245


۔۔ یہ قبریں ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتی ہیں جو انمیں دفن کئے گئے تھے۔ کبھی کبھی تو یہ ان غلاموں کی ہولناک داستان بتاتے ہیں جو اس لئے قتل کردئیے گئے تھے کہ وہ اپنے مالک کے ساتھ دفن کردئیے جائیں یا ان بیویوں کے بارے میں جن کو اپنے مردہ شوہروں کے ساتھ دفن ہونا پڑتا تھا۔ 247


__________________________________

Friday, July 23, 2010

AFM - Excerpts

Aam Fikri Mughalte
Ali Abbas Jalalpuri
1973


عام فکری مغالطے
علی عباس جلالپوری


۔۔ اس طرح اشاعت اسلام کی مثال ہمارے سامنے ہے جب اسلام کی اشاعت روم، ایران اور ہند میں ہوئی تو اس کی تعلیمات ان اقوام کے ذہن و قلب میں بارنہ پاسکیں کیوں کہ یہ اقوام صدیوں سے ایسی روایات و رسوم کی پابند تھیں جو آریائی مزاج عقلی سے مخصوص ہیں اور جن کے لیے اسلام کی سامی تعلیمات اجنبی تھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے پردے میں حلول، تناسخ، تجسم، سریان، وجودیت، اوتار وغیرہ کے افکار و روایات برابر پنپتے رہے اور رفتہ رفتہ اس حد تک سرایت کر گئے کہ آج ان کو اصل مذہب سے جدا کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ 40


۔۔ از منہ وسطیٰ کے اواخر میں اسمائیوں اور حقیقت پرستوں کے درمیان وہ تاریخی نزاع شروع ہوئی جس نے بعد میں فلسفے اور سائنس کو مذہب سے جدا کردیا اور نئے دور کا آغاز ہوا۔ 47


۔۔ فختے، شیلنگ، شوپنہائر اور نٹشے کے خیال میں ارادہ اور جبلت ہمارے لیے جو نصب العین معین کرتے ہیں عقل ان کے حصول کے لیے محض وسائل فراہم کرتی ہے۔ 55


۔۔ زندگی اس قدر مختصر ہے کہ کوئی شخص بیک وقت دولت اور تہذیب نفس کے حصول پر قادر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے آغازِ شباب ہی سے ان دو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ 90


۔۔ افلاطون۔۔ فیثاغورس کی طرح کہتا ہے کہ ارواح عالمِ مادی سے آنے سے پہلے اپنے ستاروں میں مقیم تھیں۔ 97


۔۔ فیثاغورس اور نواشراقی افکار کی اشاعت کی باعث مذہب اسلام سیکڑوں فرقوں میں منقسم ہوگیا اور نسخ ارواح، سریان، امتزاج، تجسیم، حلول اور اوتار کے نواشراقی آریائی افکار اسلامی تعلیمات میں نفوذ کرگئے۔ مسلمانوں کے فلسفے اور علمِ کلام کی طرح تصوف بھی انہی افکار کی اشاعت سے صورت پذیر ہوا تھا۔ 102


۔۔ غزالی نے تصوف کو شریعت میں ممزوج کردیا۔ جس سے اہلِ ظاہر نے بھی اس کی مخالفت ترک کردی۔ بارہویں صدی عیسوی میں صوفیہ کے معروف حلقے قادریہ، سہروردیہ، مولویہ، چشتیہ، نقش بندیہ وغیرہ قائم ہوگئے۔ 113


۔۔ مسلم صوفیوں نے عشقِ حقیقی کے اظہار کے لیے عشق مجازی کا پیرایہ بیان اختیار کیا اور کہا کہ انسان کے حسن و جمال میں بھی محبوب حقیقی کا حسن جلوہ گر ہے۔ اس لیے کسی حسین شخص سے عشق کرنا گویا بالواسطہ محبوب حقیقی سے ہی محبت کرنا ہے۔ عشق مجازی ضروری مرحلہ ہے جسے طے کیے بغیر کوئی سالِک عشق حقیقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ 123


۔۔ چناچہ ایسے ماحول میں جہاں عورتیں برہنہ ہوں اور جہاں جنسی ملاپ پر کوئی روک ٹوک نہ ہو عشق و محبت کا جذبہ نہیں پنپ سکتا۔ 126


۔۔ رومیوں کے دورِ اقتدار میں فرانس اور ہسپانیہ کی مقامی بولیوں میں جنگ وجدال، شجاعت و حماست اور عشق ناکام کے جو قصے بیان کیے جاتے تھے وہ رومان کہلانے لگے۔ رومانی عشق کی اصلاح انہی قصوں سے یادگار ہے۔ 127


۔۔ جدید مغربی معاشرہ میں عورت بظاہر آزاد ہوچکی ہے لیکن اس کا مقام پہلے سے بھی پست تر ہوگیا ہے۔ صنعتی انقلاب نے بے شک اسے مرد کی صدیوں کی غلامی سے آزاد کردیا ہے لیکن اسی آزادی نے اسے ہوس کاری کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے اور وہ نہیں جانتی کہ ہوس کی یہ غلامی مرد کی غلامی سے کہیں بدتر ہے۔


۔۔ اہلِ تحقیق کے خیال میں عہدنامہ قدیم کے احکام عشرہ ضابطہ حمورابی سے ہی ماخذ ہیں۔ 141


۔۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنی کتاب "موسیٰ اور وحدانیت" میں کہتا ہے کہ جناب موسیٰ نے وحدانیت کا تصور مصر کے فرعون اخناتن سے مستعار لیا تھا۔ جو بت پرستی کا سخت مخالف تھا اور روح آفتاب (آتن) کے سوا کسی دوسرے دیوتا کی پوجا نہیں کرتا تھا۔ 142


۔۔ لی یوٹانگ لکھتا ہے:
"جیسا کہ سینٹیانا نے کہا ہے تاویل کاری اور استدلال نے مذہب کو روبہ تنزل کیا۔ اس کے الفاظ ہیں، بدقسمتی سے مدت ہوئی کہ مذہب وہ دانش نہیں رہا۔ جس کا اظہار تخیل میں کیا گیا ہو بلکہ وہ توہم بن گیا جس پر استدلال اور تاویل کے پردے پڑچکے ہیں۔ مذہب کے زوال کے اسباب ہیں: علم وفضل کی نمائش، فرقہ بندی، نظریات، تاویل کاری۔ جب ہم اپنے عقائد کی عذر خواہی کرتے ہیں، ان کی تاویل کرتے ہیں اور اپنے آپ کو برسرِحق سمجھنے میں غلو کرتے ہیں تو ہماری مذہبیت کو ضعف آجاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہر اہل مذہب بالآخر اپنے آپ کو حق و صداقت کا اجارہ دار سمجھنے لگتا ہے۔ جتنا ہم اپنےآپ کو حق بجانب قرار دیتے ہیں اتنے ہی تنگ نظر بھی ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ مذہب کے تمام فرقوں کے حالات سے ظاہر ہے۔ یہی چیز ہے جس نے اہل مذہب میں بدترین قسم کا تعصب، کم سوادی اور خودغرضی پیدا کی ہے۔ اس قسم کا مذہب انسان میں انتہائی درجے کی خودغرضی پیدا کرتا ہے جو نہ صرف اسے وسعت مشرب سے محروم کر دیتی ہے بلکہ اس کے اور خدا کے درمیان سودے بازی کو رواج دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے بعض متشدد پیرو حد درجے کے خودغرض بھی ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو حق بجانب قرار دینے کا جذبہ رفتہ رفتہ انسان کے ان تمام عمدہ جذبات کا خاتمہ کردیتا ہے جن سے مذہب کی ابتدا ہوئی تھی۔" 144-145


۔۔ وحدانیت کی رو سے اخلاقی قدریں ازلی و ابدی ہیں اور انسان میں نیک و بد کی تمیز پیدائشی طور پر موجود ہے جسے عرف عام میں ضمیر کہا جاتا ہے۔ 148


۔۔ یاد رہے کہ جب کھشتری آپس کی طویل جنگوں میں لڑبھڑ کر ختم ہوگئے تو برہمنوں نے ہنوں اور سیتھیوں کی اولاد کو شدھ کر کے ان کا نام راجپوت رکھا۔ 189


۔۔ اسلام میں کلیسیا روم کی قسم کا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ نہ برہمنوں اور پروہتوں کی طرح پیشہ ور مقتدیان مذہب کا کوئی وجود تھا۔ کوئی بھی پڑھا لکھا مسلمان رسوم عبادت انجام دے سکتا تھا۔ لیکن بنوامیہ کے برسر اقتدار آجانے سے یہ صورت حالات بدل گئی۔ ۔۔ 191
________________

Friday, July 16, 2010

Ravayat-e-Falsafa - Excerps

RAVAYAT-E-FALSAFA روایاتِ فلسفہ
Ali Abbas Jalalpuri علی عباس جلالپوری
1969


اقتباسات:

افلاطون و ارسطو:
۔۔ افلاطون اور ارسطو بلاشبہ عظیم فلاسفہ تھے لیکن اُن کے نظریات کی مقبولیت سے سائنس کی ترقی رک گئی۔ ارسطو نے مقصد اور غایت کو سائنس کا اساسی اصول قرار دے کر علمی تحقیق کو ضرر پہچایا۔ 9


یونانی فلسفی:
۔۔ برٹرنڈرسل نے اُس دور کے یونانیوں کے متعلق کہا ہے کہ ان کا ذہن و فکر قیاسی تھا اسقرائی نہیں تھا۔ 10


عیسائیت بزورِ شمشیر:
۔۔ شہنشاہ قسطنطین نے عیسائی مذہب کی اشاعت بزورِ شمشیر کی اور وقت کے گزرنے کے ساتھ مغربی اقوام پر ہر کہیں کلیسائے روم کا تسلط قائم ہوگیا۔ ۔۔۔ عیسائیت کی ہمہ گیر اشاعت سے مغرب پر عہدِ جاہلیت کی تاریکیاں چھا گئیں۔ کم و بیش آٹھ صدیوں تک ان تاریکیوں کے کہرے ہر کہیں محیط رہے۔ 13


باب۔ ۲

Heliocentric:
۔۔ فیثاغورس کے پیروؤں نے اور خاص طور سے ارسطارکس نے یہ خیال پیش کیا تھا کہ آفتاب مرکز ہے اور زمین دوسرے سیاروں کی طرح ان کے گرد گھومتی ہے۔ 15


۔۔ کوپرنیکس، گلیلیو، کپلر اور نیوٹن جدید سائنس کے بانی ہیں۔ ان کے انکشافات نے کائنات سے متعلق انسانی نقطہ نظر کو یکسر بدل دیا۔ جادو اور توہم کا طلسم ٹوٹ گیا۔ 16


فکر
۔۔ "فکر محض ترقی یافتہ حسّیات کا ایک سلسلہ ہے۔" طامس ہابس۔ 17


۔۔ ہر شخص اپنا زمان و مکان اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ 22


۔۔ فیثاغورس کے پیرو روح کو جسم کے زندان سے رہائی دلانے کے لیے فلسفے کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ 26


۔۔ فکر حِس سے افضل ہے اور معقولات محسوسات کی بہ نسبت زیادہ حقیقی ہیں۔ ۔۔
۔۔ فکر حواس سے برتر ہے اور وجدان مشاہدے سے افضل ہے۔
(فیثاغورس) ۔ 27-28


عقل بمقابلہ حواس:
۔۔ ہمارے حواس فریب نظر کا باعث ہوتے ہیں۔ صداقت صرف عقل میں ہے منطقی استدلال میں ہے۔ یہی نظریہ بعد میں مثالیت کا خیال غالب بن گیا کہ "صداقت عقلی استدلال میں ہے حواس میں نہیں ہے۔" مادیت پسندی کا اصل اصول یہ ہے کہ حواس کا عالم ہی حقیقی عالم ہے۔ مثالیت کی رو سے حواس کا عالم صرف ظواہر کا عالم ہے۔ 28-29


سقراط:
۔۔ سقراط بت پرستی کا مخالف تھا ۔۔
وہ ایک خدا کو مانتا تھا ۔۔
سقراط کا دعویٰ تھا کہ ایک خفیہ باطنی آواز اُسے بُرے کاموں سے منع کرتی ہے اور ہدایت دیتی ہے۔ 32


۔۔ رواقئین انہی کلبیوں کے جانشین تھے۔ 34


افلاطون کا فلسفہ:
۔۔ افلاطون کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے اس کے نظریہ امثال کو ذہن نشین کرلینا ضروری ہے۔ یہ امثال یا عیون وہی ہیں جنہیں سقراط نے تجریدات فکری یا کسی شے کی تعریف کا نام دیا تھا۔ یہ نظریہ حقیقت اور ظاہر یا حس اور عقل کے امتیاز سے پیدا ہوتا تھا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں سب سے پہلے پارمی نائڈیس نے کہا تھا کہ صداقت عقلِ استدلالی میں ہے اور عالمِ حواس محض فریب نظر ہے۔ ہیریقلیتس اور دیماقریطس بھی عقلیت پسند تھے سوفسطائی آئے تو انہوں نے اس فرق کو مٹا کر رکھ دیا اور کہا کہ علم صرف حواس ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔ سقراط اور افلاطون نے کہا کہ علم تجریداتِ فکری سے حاصل ہوتا ہے یا دوسرے الفاظ میں عقلِ استدلالی ہی سے میسر آسکتا ہے۔ افلاطون نے کہا کہ یہ تجریداتِ فکری صرف تفّکر کا ایک قانون نہیں ہیں بلکہ مستقل بالذات مابعدالطبیعاتی حقائق بھی ہیں۔ اس نے ان حقائق کو امثال کا نام دیا اور کہا کہ کائنات کی حقیقتِ مطلقہ انہی امثال پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ یہ دعویٰ کہ حقیقت مطلقہ عقلیاتی ہے تمام مثالیت پسندی کے مرکزی اصولوں میں سے ہے۔ افلاطون کہتا ہے کہ فلاسفہ صرف حقیقی امثال میں دلچسپی لیتے ہیں فرد یا شے سے اعتنا نہیں کرتے افلاطون نے ان امثال کا ایک ایسا عالم بسایا ہے جو مادی دنیا سے ماوراء ہے اور بےشمار امثال پر مشتمل ہے۔ عالمِ مادی میں جتنی اشیاء بھی دکھائی دیتی ہیں وہ انہی امثال کے سائے یا عکس ہیں۔ دوسرے الفاظ میں عالمِ امثال حقیقی ہے اور عالمِ ظواہر غیر حقیقی ہے۔


۔۔ ہندی آریائوں کی طرح سپارٹا میں بھی نیوگ کا رواج تھا۔ عورتوں کو اجازت تھی کہ وہ اپنے خاوند سے زیادہ طاقت ور مردوں سے اولاد پیدا کریں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مادرزاد برہنہ کھیلوں اور ناچوں میں حصہ لیتے تھے۔ ہم جنسی محبت کا رواج تھا۔ بعد میں اسے "افلاطونی محبت" کا نام دیا گیا نوخیز لڑکوں کی تربیت کا کام ان کے عشاق کے سپرد تھا جنہیں معّلم کہا جاتا تھا۔ 42


افلاطون ۔ روح:
۔۔ افلاطون کے خیال میں روح انسانی کے دو حصے ہیں ارفع حصہ عقلِ استدلالی ہے جو امثال کا ادراک کرتی ہے اور ناقابلِ تحلیل و غیر متّغیر ہے اور غیر فانی ہے۔ روح کا غیر عقلیاتی حصہ فانی ہے اور دو حصوں میں منقسم ہے اعلٰی اور اسفل، اعلٰی حصے میں شجاعت، جود و سخا اور دوسرے محاسنِ اخلاق ہیں۔ اسفل حصہ شہوات کا مرکز ہے۔ انسان کو حیوان سے نفس ناطقہ یا عقلِ استدلالی ہی ممتاز کرتی ہے۔ 44-45


سیدبالطبع و عبدبالطبع:
۔۔ (ارسطو) کے خیال میں آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں سید بالطبع اور عبدبالطبع۔ سید بالطبع پیدائشی سردار ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں زمام حکومت دینا ضروری ہے کیوں کہ سیدبالطبع حوصلہ مندی ۔ بلند نظری ۔ شہامت ۔ استقامت سے بہرہ یاب ہوتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ کہ کون سا طالبِ علم سیدبالطبع ہے اور کون سا عبدبالطبع مکتب میں ہوتا ہے۔ 53


۔۔ خارجی اشیاء کا علم ضروری ہے کہ ذہن کے وسیلے سے ہو نہ کہ حسیات کے واسطے سے۔ (ڈیکارٹ)۔ 58


فشٹے کی بیوی:
۔۔ میڈم دی سٹیل نے فشٹے کی موضوعی مثالیت کا ذکر کرتے ہوئے ایک دفعہ مزاحاً کہا تھا "اس بات کا تو فشٹے کو بھی شبہ ہوا ہوگا کہ اس کی بیوی محض اس کے ذہن کی پیداوار نہیں۔" 68


اقبال کا فشٹے:
۔۔ ہمارے ہاں اقبال نے فشٹے کے نظریہ خودی کو اسلامی قالب میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ مثنوی اسرار رموز میں خودی پر جو بحث موجود ہے وہ فشٹے سے ماخوذ ہے۔ 68


۔۔ اس طرح علم ہئیت کی ترقی کے ساتھ مثالیاتی مابعدالطبیعاتی فرسودہ ہوچکی ہے لیکن اخلاقی مثالیت بلاشبہ باقی و برقرار ہے۔
سائنس خواہ کتنی ہی ترقی کرجائے قدریں اور نصب العین اس کے دائرہ تحقیق سے خارج ہی رہیں گے ۔۔۔ (جلالپوری)۔ 77


باب۔ ۳

۔۔ جہاں اہلِ یونان نے ان ممالک (کلدانیہ، بابل، مصر، ایران و ہند) سے علم ہئیت کے اصول اور مساحت و ہندسے کے مبادیات سیکھے تھے وہاں سحر و سیمیائے بابل ۔ نیر نجات کلدانیہ اور عرفان ہند و ایران کی تحصیل بھی کی تھی۔ 78


سکندر اور علمِ کلام:
۔۔ سکندر اعظم فلسفے کا شیدائی تھا اور ارسطو کا شاگرد تھا لیکن وہم پرستی کی یہ حالت تھی کہ کلدانی فال گیروں اور کاہنوں کی ایک جماعت اپنے ساتھ رکھتا تھا اور ہر مہم کے آغاز مین ان سے استصواب کرتا تھا۔ یونان کی عقلیت اور مشرق کے تصوّف و عرفان کے امتزاج کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں اہلِ مغرب کو متصوفانہ افکار نے متاثر کیا وہاں اہلِ مشرق نے بھی اپنے مذہبی عقاید کی تاویل کر کے انہیں فلسفیانہ بظریات پر ڈھالنے کی کوشش شروع کی جس سے علمِ کلام کی داغ بیل ڈالی گئی۔ 78


علمِ کلام کا ابوالآباء:
۔۔ فلو یہودی ۳۰ ق۔م سے لے کر ۵۰ ق۔ م تک سکندریہ میں مقیم رہا۔
۔۔ اس نے فلسفہ و مذہب یا عقل و نقل کی تطبیق کی کوشش کی۔ اس کی پیروی میں بعد میں عیسائی اور مسلمان متکلمین نے بھی اپنے اپنے مذہبی اصولوں کی تاویلیں کر کے ان کی توثیق فلسفہ یونان کے مہمات مسائل سے کی تھی۔ اس طرح فلو یہودی کو علم کلام کا ابوالآباء سمجھا جا سکتا ہے۔


۔۔ مرورِ زمانہ سے جب فلسفہ محض شرح و ترجمانی تک محدود ہوکر رہ گیا۔ ۔۔ 81

9 کا عدد:
۔۔ 9 کا عدد فیثاغورس کے مسلک میں مقدس و کامل سمجھا جاتا تھا اس لیے بطور تبرک و تفاول یہ ترتیب علم میں آئی۔ (فرفوریوس نے فلاطینوس کے ۵۴ رسائل کو چھ چھ کی "اینڈز'۔ لغوی معنی: نو۔۔ میں تقسیم کیا۔) ۔۔ 83


نظریہ تجلی: Emanation
۔۔ فلاطینوس کے فلسفے کا سنگ بنیاد تجلی کا تصور ہے۔ اس کا عقیدہ تھ اکہ ذات احد سے بتدریج عقل ۔ روح ۔ روح انسانی اور مادہ کا نزول ہوتا ہے۔
۔۔ نظریہ تجلی کی وضاحت کرتے ہوئے فلاطینوس نے آفتاب کی تمثیل سے کام لیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ذاتِ احد سے عقل اور روح کا بہاؤ ایسے ہوتا ہے جعسے آفتاب سے نور چھلک پڑتا ہے لیکن جس طرح نور کے انعکاس سے سرچشمہ آفتاب متاثر نہیں ہوتا ایسے ہی عقل کے بہاؤ سے ذاتِ احد اثر پذیر نہیں ہوتی۔ 85


افلاطون کی توحید:
۔۔ افلاطون ذات احد کو اس کائنات سے اس قدربے تعلق اور ماوراء سمجھتا تھا کہ اس کے لیے 'ایک' کا لفظ استعمال کرنا بھی نامناسب خیال کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ 'ایک' کا تصور 'اکثریت' کے تصور کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی صرف 'ایک' کہہ دینے سے کثرت لازم آجاتی ہے۔ 87


۔۔ فیثاغورس اور ایمپی دکلیس نے تو اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اپنے گذشتہ جنموں کے حالات بخوبی یاد ہیں۔ 88


تعّمق و تفکّر عمل کے ساتھ:
۔۔ برٹرنڈرسل کا یہ خیال صحیح ہے کہ تعّمق و تفکر سے عمل کو تحریک و تقّویت ہونی چاہیے لیکن اس خیال کا اظہار یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ عمل تعمق و تفکر سے عاری ہو تو وہ انسان کو اپنے منصب سے گرا کر وحوش کی سطح پر لے آتا ہے۔ اس دور کی مغربی تہذیب کا المیّہ یہی ہے کہ مغرب میں صرف عمل ہی عمل رہ گیا ہے۔ اہلِ مغرب ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ دھوپ میں منہمک ہیں اور ادھر اُدھر دیکھے بغیر دیوانہ وار آگے آگے بھاگے جا رہے ہیں۔ 92


باب ۴:

کونت کا 'ذہنی ارتقاء':
۔۔ کونت کا تاریخی نظریہ یہ ہے کہ ذہن انسانی تین ارتقائی مراحل سے گزرا ہے۔ پہلا مرحلہ مذہب کا تھا جس میں واقعات کی توجیہہ کسی یزدانی قوت کے حوالے سے کی جاتی تھی۔ دوسرا مرحلہ مابعدالطبیعات کا تھا جس میں واقعات کی توجیہ مختلف قوتوں کی نسبت سے کی گئی۔ تیسرا اور آخری مرحلہ سائنس یا ایجابیت کا ہے کہ اب واقعات کی تشریح و توجیہہ سلسلۃ سبب و مسبب سے کی جاری ہے۔ یہی انسانی عقل و خرد کی معراج ہے۔ 98


تعلیم و تربیت ۔۔ خیالات ۔۔ کردار:
۔۔ تعلیم و تربیت سے انسان کے خیالات کو بدلا جا سکتا ہے اور خیالات کے بدلے جانے سے کردار بھی بدل جاتے ہے۔ (اسٹوارٹ)۔ 99

۔۔ "جو کام نہیں کرے گا نہیں کھائے گا۔" 100
(Stuart Mill)



۔۔ چونکہ عقاید و نظریات کی افادیت ایک عہد سے دوسرے عہد تک بدلتی رہتی ہے اس لیے معروضی یا ازلی صداقتیں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ (ولیم جیمز)۔ 101


۔۔ منطقی ایجابیت پسند تسلیم کرتے ہیں کہ عقلِ انسانی بعض اہم مسائل اور عقدوں کا کوئی شافی و کافی حل نہیں کر سکی۔۔ 105


باب: ۵


فلسفیوں کا خدا:
۔۔ چناچہ فشٹے نے مطلق خودی، ہیگل نے عین مطلق، اور شوپنہائر نے آفاقی ارادے کو حقیقت قرار دیا۔ 108


ارادہ:
۔۔ "ارادہ آقا ہے عقل اس کی لونڈی ہے۔" (شوپنہائر) ۔۔ 106

["میں نے ارادوں کے ٹوٹنے، نیّتوں کے بدلنے، اور ہمّتوں کے پست ہوجانے سے خدا کو پہچانا"، امام علی علیہ السلام]


۔۔ زردشت کے خیال میں ہر ہزار برس کے بعد ایک نیا ہادی پیدا ہوتا ہے۔ 115


۔۔ اہلِ علم ارتقاء کے اصولوں کا اطلاق کائنات کی تاریخ پرکرنے لگے۔ 122


۔۔ حقیقت نفس الامر کا وجود ہے اگرچہ اُسے جانا نہیں جا سکتا۔ یہی خیال کانٹ کا بھی تھا۔
کانٹ ہی کی طرح وہ (ہربرٹ سپنسر) اِس بات کا قائل ہے کہ علم محض تجربے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ بعض صداقتیں اٹل بھی ہیں۔ 123


۔۔ جبلت کی بہترین صورت کو اس (برگساں) نے وجدان کا نام دیا ہے۔ 126


۔۔ خرد دشمن عقل کو ناقص ثابت کرنے کے لیے عقل ہی سے استدلال بھی کرتے ہیں۔ (سی۔ ای۔ ایم۔ جوڈ) 127


۔۔ ہمارا علم اضافی صداقتوں کے راستے ہی سے صداقت مطلق تک پہنچتا ہے۔ (لینن) 147


۔۔ "عقل و خرد کا احاطہ کار محدود ہے اور سائنس انسانی فطرت سے متعلق ہمیں کچھ نہیں بتا سکتی۔" ۔ 176
(Martin Heidegger).


۔۔ جس شخص کو اس حقیقت کا شعور ہوجائے کہ اُسے زندگی بطور فرصت مستعار کے ملی ہے وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس فرصت کو کیسے گزارے۔ 189


آزادی:
۔۔ ہائنے مان نے سچ کہا ہے کہ حقیقی آزادی خاص اخلاقی حدود میں رہ کر دوسرے لوگوں کے علایق کی روشنی میں اپنے کیس فعل کی ذمے داری قبول کرنے کا نام ہے۔ 193


۔۔ سارتر کا اجنبیت (بیگانگی) کا تصور فردیت ہی کا پروردہ ہے۔ ( نہ کہ میکانکی معاشرہ کا)۔ 194
______________

Wednesday, July 14, 2010

Jinsiyati Mutale - Excerpts

جنسیاتی مطالعے
علی عباس جلالپوری



اقتباسات:

پیش لفظ

۔۔ ہندوؤں کے ہاں لِنگ شیو دیوتا کی اور یونی شکتی دیوی کی علامتیں ہیں۔ وہ لنگ یونی کے اتصال کو پُرش پرکرتی کے وصال کے مماثل خیال کرتے ہیں۔ 10

۔۔ شیخ نفزاوی مقاربت کو محض بچے پیدا کرنے کا وسیلہ ہی نہیں سمجھتا بلکہ اسے صحت مند تفریح کا ذریع بھی مانتا ہے۔ 11

۔۔ اٹھارویں صدی کو یورپ میں جنسی بےراہ روی کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ یہ بے راہ روی اس رد عمل کی انتہائی صورت تھی۔ جو ازمنہ وسطیٰ اور تحریک اصلاح کلیسیا کی رہبانیت کے خلاف ہوا تھا۔ 12


باب۔ ۱۔۔ بلوغت اور اوائلِ شباب

۔۔ جنسی زندگی کا آغاز پیدائش کے وقت ہوجاتا ہے۔ 16

۔۔ قدیم زمانے میں موسمی اور فصلی تہواروں اور میلوں پر جنسی مواصلت کی آزادی دی جاتی تھی۔ جس سے 'بہار کا بخار' اتر جایا کرتا تھا۔ 19

۔۔ ماضی میں سلاطین اور اُمراء کے بعض گھرانوں میں نوخیز لڑکوں کو جلق سے بچانے کے لئے انہیں بالغ ہونے پر لونڈیاں دی جاتی تھیں۔ مہدی جوان ہوا تو اس کے باپ منصور نے اسے ایک کنیز محیاۃ عطا کی تھی۔ لیو ٹالسٹائے لکھتا ہے کہ اس کا بھائی نکولس سولہ برس کا ہوا تو اس کے باپ نے نکولس کو ایک لونڈی دی تھی تاکہ وہ بے راہ روی سے محفوظ رہے۔ اس لونڈی کے بطن سے نکولس کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا تھا۔ جدید تمدن میں جنسی خواہش کو بھڑکانے کے سامان تو بہت ہیں لیکن اِس کی آسودگی کے وسائل کم ہیں۔ نوخیز عامیانہ گیت سُن سُن کر اور ہوس پرور فلمیں دیکھ دیکھ کر از خود رفتہ ہوجاتے ہیں اور نفسانی ہیجان سے نجات پانے کے لئے خودکاری سے رجوع لاتے ہیں۔ کِنسے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 93 فی صد لڑکیاں پندرہ برس کی عمر میں خودکاری کرتی ہیں البتہ جنسی مواصلت مُیسر آنے پر اسے ترک کردیتی ہیں۔ کلاسز کی تحقیق یہ ہے کہ ناروے سویڈن میں دو تہائی لڑکیاں سولہ برس کی عمر میں خودکاری کرتی ہیں اور اکثر و پیشتر لڑکے جلق لگاتے لیں۔ 22

۔۔ (جلق) اس کی کثرت و مداومت جسمانی و نفسیاتی صحت کو تباہ کردیتی ہے۔ اِس سے لڑکوں کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے کیوں کہ مادہ منوّیہ کا بکثرت اِخراج اُن کے اعصاب کو مضمحل اور توانائی کو ختم کردیتا ہے۔
ڈاکٹر میری سٹوپس لکھتی ہیں
"مردانہ کمزوری، سُرعتِ انزال وغیرہ کا ایک اہم سبب جلق ہے۔ اکثر نوخیز لڑکے لڑکیاں جلق لگاتے ہیں۔ مذی کے اخراج سے مرد کا عضوِخاص دخول میں کوئی دقّت محسوس نہیں کرتا لیکن ہاتھ یا کسی دوسری شے کی رگڑ سے حشفے اور عضوِمخصوص کی رگوں کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ پوری طرح نشونما نہیں پاسکتا جس سے آدمی مقاربت کے قابل نہیں رہتا۔ کبھی کبھار جلق لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن نوخیزی کے دوران میں کثرت و تواتر سے جلق لگانا تباہ کُن ہے۔ جلق کے ساتھ گناہ کی اُلجھن وابستہ ہوجاتی ہے جو اکثر اوقات سُرعتِ انزال کا باعث ہوتی ہے مجلوق کو احساسِ گناہ سے نجات دِلانا ضروری ہے۔ جو لوگ کبھی کبھار جلق لگاتے ہیں اُن کی صحت پر کوئی ناخوشگوار اثر نہیں پڑتا۔" 23

۔۔ بارہ تیرہ برس کی عمر میں کثرت و تواتر سے جلق لگائی جائے تو اعضائے تناسل کی نشونما رُک جاتی ہے۔ 24

۔۔ جب ہوس کی آگ بھڑک اٹھتی ہے تو محرمات بھی اس کی زد میں آجاتی ہیں۔ 47

۔۔ صنعتی انقلاب کے شیوع اور تعیلم و تربیت کے رواج سے صورتِ حالات بدلتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کو تعیلم و تربیت کے مراحل طے کرنے کے لئے کئے برس درکار ہوتے ہیں۔ اور بسا اوقات تیس بتیس برس کی عمر تک شادی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تیرہ چودہ برس کی عمر کا لڑکا لڑکی بالغ ہوجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو کہ چودہ پندرہ برس تک وہ تجرّد کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی وہ طویل وقفہ ہے جس میں وہ گوناگوں اُلجھنوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس دوران میں اکثر نوجوان خودکاری سے رجوع لاتے ہیں جس سے اُن کی صحت پر ناخوشگوار اثر پڑتا ہے یا کسبیوں کے پاس جاتے ہیں جو اور زیادہ خطرناک ہے۔ 48

۔۔ ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے اضلاع متحدہ امریکہ میں "رفاقت کی شادی" کا چرچا ہوا۔ جج لنڈسے نے یہ تجویز پیش کی کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں چند سالوں تک نکاح کے بغیر میاں بیوی بن کر رہیں تا کہ وہ طویل تجرد کے احساسِ جرم، جنسی محرومی اور بے راہ روی سے محفوظ رہ سکیں۔
تاریخ تمدن میں رفاقت کی شادی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ وحشی اقوام میں اس کا رواج قدیم زمانے سے موجود ہے۔ ۔۔۔ 49

۔۔ شہری بچے ایک ایسی فضا میں جنم لیتے ہیں ار پروان چڑھتے ہیں جو فطرتی نہیں ہوتی۔ اس لئے زندگی کے بنیادی حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔ جنسی تعلیم کی ضرورت شہری بچوں کو ہوتی ہے۔ دیہاتی بچے حیوانات کو جفتی کرتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں اور روزمرہ کے مشاہدے سے جان جاتے ہیں کہ جنسی فعل اور پیدائش کا عمل کیا ہوتا ہے۔ 51



باب۔ ۲ ۔۔ حُسن و جمال

۔۔ عورت کے جسم کے بعض اعضاء زیادہ پرکشش ہوتے ہیں۔ اور خاص طور سے جنسی خواہش کی ترغیب کا باعث ہوتے ہیں۔ انہیں نفس پرور Erogenous اعضاء کہا جاتا ہے۔ عُلمائے جنسیات کے خیال میں گھنیری زلفیں، نرگسی آنکھیں، بھرے بھرے سرخ ہونٹ، اُبھری ہوئی چھاتیاں اور کُولہے اور بدن کی خوشبو خاص طور پر نفس پرور ہوتی ہیں۔ 57

۔۔ فردوسی کہتا ہے کہ جب ایک رات کوزال اپنی محبوبہ رودابہ سے ملنے گیا تو اِس نے اپنے سر کے بال کھول کر شہر پناہ کے نیچے لٹکا دئیے اور کہا انہیں پکڑ کر اوپر آجاؤ۔ 57

۔۔ جنسی خبطیوں میں چھاتیوں اور سُرنیوں کے خبطیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایک پرشباب گد بدی عورت سامنے آجائے تو مردوں کی نگاہیں اُس کی اُبھری ہوئی چھاتیوں پر جم کر رہ جاتی ہیں اور وہ پیٹھ پھیر کر گذرئے تو اُس کے بھرے بھرے کولہوں کا تموّج جذبِ توجہ کا باعث ہوتا ہے۔ 61

۔۔ افریقہ میں ہر کہیں موٹی تازی عورت کو خوبصورت سمجھا جاتا ہے کیوں کہ حبشیوں کے یہان حُسن اور فربہی لازم و ملزوم ہیں۔ 62

۔۔ اُونچی ایڑی جوتا پہننے میں بھی یہی مصلحت ہے کہ اس سے چلتے وقت سرنیوں میں پرکشش حرکت ہوتی ہے۔
عورتیں جانتی ہیں کہ ان کے سُرنیوں میں مردوں کے لئے بڑی جاذبیت ہوتی ہے اس لئے وہ انہیں مٹکا مٹکا کر راستہ چلتی ہیں۔ 63

۔۔ مائکل انجلو کہتا ہے "باعصمت عورت کا چہرہ بدکار عورت کے چہرے سے زیادہ شگفتہ و شاداب ہوتا ہے۔" 67
[یہ بات مردوں پر بھی لاحق ہوتی ہے۔ ابڑو]

۔۔ عربوں کے خیال میں حسین لوگ فیاض ہوتے ہیں۔
اُطلبو الحاجات عند حسان الوجوہ
(اپنی حاجات خوبصورت لوگوں سے طلب کرو۔ 67



باب۔ ۳۔۔ حدیثِ عشق

۔۔ افلاطون نے کہا تھا کہ کائنات کی جملہ اشیاء حُسنِ ازل کی جانب کشش محسوس کرتی ہیں۔ اسی کشش کو اُس نے عشق کا نام دیا۔ افلاطون کے نظریہ عشق سے بحث کرتے ہوئے فلاطینوس نے کہا کہ انسانی روح عالم ہست و بود میں آکر مادے کی اسیر ہوگئی ہے اور اپنے مبدء کے فراق میں تڑپتی رہتی ہے۔ 69

۔۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی آواز سنے، اسے دیکھے، اسے چُھوئے اور گلے سے لگائے۔
تکلف بر طرف لبِ تشنہ بوس و کنار رستم
ز راہم بازچیں دامِ نوازش ہائے پنہاں را ۔ غالب
70

۔۔ یاد رہے کہ رومانی عشق ایسے معاشرے میں پنپ سکتا ہے جس میں مردوں عورتوں کو آزادانہ میل ملاپ کے مواقع نہ ملیں۔ اس تفریق سے دونوں ایک دوسرے کی ذات میں کشش نامعلوم محسوس کرتے ہیں۔ 74

۔۔ افلاطونی یا ہم جنسی عشق کی روایت یونانی الاصل ہے۔ قدمائے یونان کے یہاں عشق صادقِ خالصتاً ہم جنسی ہوتا ہے۔ 75

۔۔ فطرت نے انسان کو تنہا رہنے کے لئے پیدا نہیں کیا کیوں کہ بنی نوع انسان فریقِ ثانی کے بغیر حیاتیاتی تقاضے پورے نہیں کر سکتے۔ 81

۔۔ جذبہ عشق عقل و خرد ہی کا پرورہ ہے۔ 83
۔۔ انسان مہذب معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے عشق کا اہل ہوا ہے۔ وحشی قبائل کے افراد جو تہذیب و تمدن کے برکات اور اخلاقی قدروں سے ناآشنا ہیں عشق کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ 82



باب۔ ۴۔۔ شادی

۔۔ تاریخ تمدن میں یہ تصور (شادی) زرعی انقلاب کے بعد رونما ہوا تھا۔ 84

۔۔ زرعی انقلاب کے بعد مرد کو عورت پر سیادت حاصل ہوگئی اور پدری نظام معاشرہ معرضِ وجود میں آیا۔ 85

۔۔ راجہ داہر والی سندھ نے اپنی سگی بہن رانی بائی سے بیاہ رچایا تھا۔ 88

۔۔ گوتم بُدھ نے رشتے کے چھٹے درجے تک شادی کو ممنوع قرار دیا تھا۔ 89

۔۔ ادریسی کہتا ہے بلہرا کے ملک میں بیاہی ہوئی عورتوں اور منسوبہ لڑکیوں کے سِوا جملہ عورتوں سے عارضی تمتع کی اجازت تھی۔ 89

۔۔ ماقبل اسلام کے عربوں میں سادی کی مندرجہ ذیل قسمیں رائج تھیں۔
نکاح الاستبضاغ:۔ خاوند اپنی بیوی سے کہتا کہ حیض سے پاک ہو کر فلاں سردار کے پاس جانا اور اس سے صحبت کرنا۔ اُس کا مقصد یہ ہوتا یہ کسی شجاع اور نجیب کا نطفہ لیا جائے۔ ان ایام میں وہ خود اپنی بیوی سے الگ رہتا تھا۔
نکاح المُتعہ :۔ یعنی ایک مدتِ مقررہ کے لئے عورت سے شادی کرنا۔ مقررہ مدت کے بعد دونوں میں جدائی ہوجاتی تھی۔
نکاح البدل :۔ دو اشخاص اپنی بیویاں بدل لیتے تھے۔
نکاح الشغار:۔ ایک دوسرے کی بیٹیوں، بھتیجیوں وغیرہ کا تبادلہ کر کے نکاح کرلیتے تھے۔
نکاح کی اِن مختلف صورتوں میں اسلام نے نکاح المتعہ کو برقرار رکھا۔ جناب رسالت مآب اور شیخ اول کے زمانے میں صحابہ مُتعہ کرتے رہے۔ بعض اوقات مُٹھی بھر جو کے عوض مُتعہ ہوجاتا تھا۔ شیخِ ثانی نے اسے ممنوع قرار دیا لیکن صحابہ کبار اور تابعین بدستور مُتعہ کے قائل رہے۔ (حوالہ: موطا امام مالک)۔ 90-91

۔۔ ایک رومن عورت نے جہیز کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا "عجیب بات ہے کہ ہمیں اپنا آقا بھی خریدنا پڑتا ہے۔ "۔ 93

۔۔ پنجاب کے دیہات میں بھی "تن بخشائی" کی شادی کا ذکر کبھی کبھار سننے میں آتا ہے۔ 95

۔۔ خوشگوار شادی سے زیادہ پُرمسرت زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسرت جن خوش نصیبوں کو ارزانی ہوتی ہے ہو اِسی دنیا میں اپنی جنت بسا لیتے ہیں۔ 98-99

۔۔ مسرت انسانی اور تہذیب و تمدن کی بقا اور ارتقا کے لئے شادی نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر بچوں کو پیار اور شفقت کا وہ ماحول نہیں مل سکتا۔ 99

۔۔ جنسی فاقہ زدہ عورت کا ذہنی توازن قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ (بقراط) کہتا ہے کہ عورت کے جسم کا اہم ترین عضو ہسٹیر (رحم) ہے۔ فمِ رحم مرد کے عضوِ کے اتصال سے محروم رہے تو عورت خللِ ذہن میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اِسی حالت کو ہسٹیریا کہتے ہیں۔ 119

۔۔ زہّاد، فلاسفہ، فنکار اور عیاش شادی کے قابل نہیں ہوتے۔(ہیویلاک) ۔۔۔ 128



باب۔ ۵۔۔ ہم جِنسّیت

۔۔ [مصری، فینیقی (کنعان، فلسطین، لبنان)، جاپانی، یونانی، ایرانی سودومی Sodomy (ہم جنسیّت) میں مبتلا تھے]
[یہودیت، عیسایئت، اسلام، مجوسی، ہندو میں سودومی اور ہم جنسی اختلاط کی سخت ممانعت کی گئی]

۔۔ یونان کے دیوتا بھی ہم جنسی تھے۔ خداوندخدا زُیس کا گینی میڈ سے، اپالو کاہیاسنتھ سے اورہرکولیز کا ہائی لیز سے معاشقہ مشہور ہے۔ 134
ارسطو ہرمیاس پر فدا تھا۔ 137
۔۔ چناچہ ہم جنسیت یونانیوں کی تعلیم و تربیت کا جزوِلازم بن گئی۔ 134
۔۔ عورتوں کا ہم جنسی محبت کی روایت بھی یونانِ قدیم سے یادگار ہے۔ 137

۔۔ مذہب کے زوال کے ساتھ مذہبی اخلاق سے بھی روگردانی کی گئی اور مرورِزمانہ سے یورپ اور دنیائے اسلام میں بھی ہم جنسیت رواج پاگئی۔ 140

۔۔ صوفیوں میں عشقِ ہم جنسی وبا کی صورت اختیار کر گیا حتٰی کہ سدومیّت کو علّت المسشائخ کہنے لگے۔ 143

۔۔ مرورِزمانہ سے مسلمان میں امرد پرستی اس قدر عام ہوگئی کہ غیر مذاہب کے لوگ اسے اسلام کا جزو سمجھنے لگے۔ البیرونی کے بقول کابل کے ہندو راجہ نے اسلام قبول کیا تو یہ شرط لگائی کہ وہ نہ گائے کا گوشت کھائے گا اور نہ لونڈوں سے عشق بازی کرے گا۔ سلطان محمود غزنوی کا معاشقہ اپنے غلام ایاز سے مشہور ہے۔ 144-145

۔۔ چارلس نئیپر نے سندھ کو فتح کیا تو اُسے بتایا گیا کہ کراچی میں اَمردوں کے قحبہ خانے ہیں جن کی سرپرستی برملا کی جاتی ہے۔ اِس بات کی تحقیق کے لئے رچرڈبرٹن کو مامور کیا گیا جو سندھی زبان جانتا تھا۔ اُس نے بھیس بدل کر اپنا نام مرزا عبدالد بوشہری رکھا اور مرزا محمد حسین شیرازی کو ساتھ لے کر اِن قحبہ خانوں کا کھوج لگایا۔ رچرڈبرٹن کے بقول قبائلی علاقے اور افغانستان سے جو قافلے ہندوستان کو آتے تھے اُن میں نوخیز امردوں کو زنانہ لباس پہنا کر قافلے والے اپنے ساتھ لاتے تھے۔ اِنہیں کوچی سفری کہتے تھے۔ یاد رہے کہ عالم جنسیات میں ہم جنسی عشق اور سدومیت پر تحقیقِ علمی کی اولیت رچرڈبرٹن ہی کو دی جاتی ہے۔ اُس نے ہم جنسیت کی توجیہہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میلان اُن اقوام میں پایا جاتا ہے جن کے معاشرے میں مردوں اور عورتوں کو میل جول کی آزادی نہیں ہوتی نیزفوجیوں کی لشکر گاہوں، سکولوں اور کالجوں کی اقامت گاہوں، جیلوں اور سمندری جہازوں میں سدومیت عام ہوتی ہے کیوں کہ اِن میںصنفِ مخالف سے اِختلاط کے مواقع کم ملتے ہیں۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ فی زمانہ ہمہ گیر جنسی آزادی کے باوجود مغربی ممالک میں ہر کہیں ہم جنسیت اور سدومیت کا رواج عام ہو رہا ہے۔ 150

۔۔ عورت کی آزادی سے مغرب میں ایک خاموش نفسیاتی انقلاب آرہا ہے۔ مردوں میں زنانہ پن پیدا ہونے لگا ہے اور عورتوں میں مردانہ خصوصیات اُبھر رہی ہیں۔ نییجۃآ مغربی فضا ہم جنسی میلان کے پنپنے کے لئے زیادہ سازگار ہوگئی ہے۔ 151-152



باب۔ ۶۔۔ قحبگی

۔۔ ایتھینز کے نوجوان تربیت کے لئے یا تو فلاسفہ کے پاس جاتے تھے اور یا کسبیوں کے یہاں بیٹھتے تھے۔ 163

۔۔ کسبیاں عموماً کنیزیں ہوتی تھیں جن سے اُن کے آقا پیشہ کراتے تھے۔ 163

۔۔ یہ مشہور تھا کہ آدمی جب تک رنڈی کی صحبت میں نہ بیٹھے انسان نہیں بنتا۔ 169

۔۔ بیلی ڈانس خالصتاً قدیم مصری ناچ ہے، ۔۔۔ آج کل بیروت اس ناچ کا بڑا مرکز ہے۔ 170

۔۔ پیرس کو قدیم بابل کی طرح 'گناہ کا شہر' کہا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کے بقول کامیو دوہی مشاغل ہیں، اخبار پڑھنا اور زنا کرنا۔ 171

۔۔ ایک کسبی نے بتایا کہ ان کے نوّے فی صد سرپرست جنسی کجرویوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور پچاس فی صد سدومی ہوتے ہیں۔ ایک کسبی نے کہا "میں ان معزز حضرات کو خوب جانتی ہوں جو خلوت میں درندوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔" 172

۔۔ آج کل کی فلمیں اداکارائیں یونانِ قدیم کی ہٹیرا کی جانشینیں ہیں ۔ ان کے حُسن و جمال کا شہرہ ایسے اچھوتے اورنفسیاتی انداز میں کیا جاتا ہے کہ اِن کی ذات کے گِرد کششِ نامعلوم کا ہالہ بن جاتا ہے اور لوگ ان کی اداؤں پر بے تحاشا دولت لُٹا دیتے ہیں۔ (سمون دوبوا)۔ 173



باب۔ ۷۔۔ جنس اور ادب و فن

[جو مرد نہیں آرٹسٹ نہیں۔]
۔۔ جو فنکار اور ادباء جنسی لحاظ سے کوتاہ ہمت اور سردم مہر ہوں اُن کی فنّی و ادبی تخلیقات بھی سوزگداز سے عاری ہوتی ہیں۔
شاعری، تمثیل نگاری، موسیقی، مُصوّری اور بُت تراشی میں جنسی محرکات و عومل شروع سے کارفرما رہے ہیں۔ 183

۔۔ موسیقی اور رقص بھی جنسی جبلت کے اظہار کی صورتیں ہیں۔ 184

۔۔ لکھنو کی ریختی کی تہ میں زنانہ پن ہے جو اِس معاشرے کی زوال پذیری کی علامت بھی ہے اور پیداوار بھی ہے۔ 188

۔۔ ایش بی کہتا ہے کہ کسی عہد کے اخلاقی محاسن کو بھی اُس زمانے کے معائب کے بغیر سمجھا ہیں جا سکتا۔ 192



باب۔ ۸۔۔ بردہ فروشی

۔۔ جیسا کہ معلومِ عوام ہے بردہ فروشی کا انسداد 19ویں صدی میں کیا گیا۔ 198
اس سے پہلے دس ہزار بروسوں تک غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت کا بازار گرم رہا۔ 198

۔۔ بنو امیہ کے زمانے میں مدینہ النبی ناچ گانے کا بہت بڑا مرکز بن گیا۔ ۔۔۔ بنوعباس کے دورِحکومت میں بھی کنیزوں کو ناچ گانے کی تربیت دلانے کے لئے مدینہ بھیجا جاتا تھا۔ 201

۔۔ سندھ کی عورتیں کمر کی نزاکت اور زلفِ دراز کے لئے ممتاز ہیں۔ (ابن بتلان) 204

۔۔ سفّاح اور امین کے سوا تمام خلفائے بنوعباس کنیزوں کے بطن سےتھے۔
ہارون الرشید ایک ایرانی لونڈی خیزراں کا بیٹا تھا۔
تاریخ کا سب سے بڑا حرم خسروپرویز کا تھا۔ جس کی کنیزوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ 206

۔۔ 19ویں صدی اہلِ مغرب نے بردہ فروشی کو خلافِ قانون قرار دیا۔ 210



باب۔ ۹۔۔ جنس اور مذہب

۔۔ مصری لِنگ کو حیات نَو کا ضامن سمجھتے تھے اور اعزّہ کی قبروں پر اَنکھہ ۔۔ دستہ دار صلیب جو لنگ یونی کے اتصال کی علامت تھی ۔۔ رکھتے تھے تاکہ مُردے پھر سے زندہ ہوجائیں۔ آج کل بھی کلیسیائے روم کے پیرو اپنے عزیزوں کی قبروں پر اسی مقصد کے لئے صلیب رکھتے ہیں۔ 212

۔۔ وہ (حنے) کہتا ہے کہ ہندو پرنام کرتے وقت جس انداز میں دونوں ہاتھہ جوڑتے ہیں اس سے بھی تبرکاً یونی کی شکل بنانا مقصود ہوتا ہے۔ 213
[ماتھے پر بھی لنگ اور یونی جیسی تمثیلاً لکیریں کھیچی جاتی ہیں]

۔۔ زُیس بروقت نئی حسینہ کی تلاش میں سرگرداں رہتا تھا۔ ایک دن وہ فنیقی شہزادی یوروپا کو جب کہ وہ پھول چُن رہی تھی بھگا کر لے گیا۔ یورپ کا نام اِسی شہزادی سے یادگار ہے۔ 221

۔۔ ازلی گناہ کا تصور پال ولی نے پیش کیا تھا۔ اُس کا استدلال تھا کہ آدم کے گناہ کے ساتھ ہی اُس کی تمام اولاد گناہ میں ملوث ہوگئی ہے۔ 226

۔۔ بُدھ نے کہا تھا کہ بچے پیدا کرنا ظلم ہے کیوں کہ وہ پیدا ہوتے ہی جنم چکر میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور دُکھہ بھوگتے ہیں۔ 227

۔۔ فرانسس ولی کے پیروؤں نے گناہ کا ایک فلسفہ پیش کیا جس کا مشہور ترجمان روس کا ایک راہب راسپوٹین تھا۔ راسپوٹین نے پہلی عالمگیر جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ زارینہ روس کے دل و دماغ پر پوری طرح حاوی تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ جرمنوں کا جاسوس ہے۔ وہ گناہ کے راستے نجات کی تبلیغ کرتا تھا۔ اُس کے خیال میں جو لوگ زہد واتّقا کی زندگی بسر کرتے ہیں وہ عام انسانوں سے بالاتر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُس کا استدلال یہ تھا کہ انسان کا تکبر اس کی نجات کے راستے میں حائل ہوتا ہے۔ تکبر پر احساس ندامت ہی سے جو ارتکابِ گناہ کے بعد لاحق ہوتا ہے قابو پایا جا سکتا ہے۔ گناہ عاجزی اور انکساری سکھاتا ہے جو نجات کے لئے ضروری ہے۔ خداوند کے حضور نادم ہونے سے اُس کی رحمت کو تحریک ہوتی ہے اور گناہ کے بغیر ندامت محسوس نہیں ہوتی لہذا حصولِ نجات کے لئے گناہ کرنا ضروری ہے ۔ دوسرے الفاظ میں توبہ خدا کو محبوب ہے، توبہ کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی، گناہ کے بغیر توبہ نہیں کی جاسکتی اس لئے گناہ کرنا لازم ہے۔ چناچہ راسپوٹین دن رات گناہ میں غرق رہتا تھا۔ جرمنی کے اشراقی صوفی مائسٹر اکہارٹ کا قول ہے۔
"گناہ کے بغیر روح میں پختگی نہیں آسکتی نہ روحانی اُفق میں وسعت پیدا ہوسکتی ہے اس لئے خدا اُنہیں لوگوں پر گناہ کا بوجھہ رکھتا ہے جنہیں اس نے کسی اعلٰے مقدر کے لئے منتخب کیا ہو۔"

دوستو فسکی نے یہی فلسفہ گناہ اپنے ناولوں میں پیش کیا ہے۔ اُس کا عقیدہ یہ تھا کہ گناہ اور توبہ سے انسان خدا کا قُرب حاصل کرلیتا ہے اور خدا گنہگاروں کو پسندیدگی نگاہوں سے دیکھتا ہے چناچہ اُس کے ناولوں کے کردار گناہ کا ارتکاب اس لئے کرتے ہیں کہ بعد میں اُنہیں پشیمانی کا احساس ہو جو اُن کی روحانی سربلندی کا سبب بن جائے۔

گناہ اور نجات کے بارے میں ہمارے یہاں کے ملامتیّہ سعیدائے سرمد، شاہ حسین، بُلّھے شاہ وغیرہ کا نقطہ نظر بھی یہی تھا۔ 228-229

۔۔ جنسی خواہش کو جتنی سختی سے دبایا جائے یہ اتنی یہ اُبھر آتی ہے۔ 229

باب ۱۰۔۔ جنسی انحرافات

۔۔ عورت اور نپولین میں ایک بات مشترک ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ جہاں سب عورتیں ناکام ہوچکی ہیں وہاں میں کامیاب ہوجاوؤں گی۔ 256


Terms
جنسی انحرافات : Sexual Perversion/ Sexual Deviation

ایذا کوشی : Sadism
۔۔ فریقِ ثانی کو اذیت دے کر جنسی حظ محسوس کرنا۔

ایذا طلبی : Masochism
۔۔ جسمانی اذیت اٹھا کر نفسانی حظ محسوس کرنا۔

نرگسیّت : Narcissism
۔۔ جو اپنے ہی حُسن و جمال کا عاشق ہو۔

نمائشیّت : Exhibitionism
۔۔ صنف مخالف کے سامنے ستر کھول کر جنسی حظ اُٹھانا۔

ہوس دید : Voyeursim
۔۔ دوسروں کو جنسی ملاپ دیکھہ کر محظوظ ہونا۔
دوسروں کو کپڑے اتارتے ہوئے دیکھنا : Scopophilia
دوسروں کو جنسی ملاپ کرتے ہوئے دیکھنا : Mixoscopy

جنسی عفریت : Satyr
۔۔ جو غیرمعمولی قوت کا مالک اور حددرجے مغلوب الشہوت ہو۔

جنسی چڑیل :
چہرہ عورت کا بدن شیر کا : ابوالہول
ہندو دیو مالا میں : اپسرا
۔۔ ایسی عورت جو ہر اس مرد ک سُپرد کرنے پر اصرار کرتی ہے۔

ایونیّت :
۔۔ عورت جو ہمیشہ مردانہ لباس پہنتی ہے اور اپنی مردانگی کا لوہا منواتی ہے۔

ڈان یوآن :
۔۔ مرد جو عمر بھر عورتیں کے تعاقب میں رہے۔

عشقِ مُحرمات : Incest
۔۔ محرّمات سے جنسی ملاپ کرنا۔

جنسی زدگی : Erotomania
۔۔ ہوا ہوس میں بہہ کر جنسی خواہش کی تسکین ہی کو زندگی کا مقصد سمجھنا۔

جنسی علامت پرستی : Fetichism
۔۔ اعضائے مخصوصہ سے مُنحرف ہوکر عورتوں کے لباس یا اعضاء پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ اس نوع کے خبطی عورتوں کی زلفوں، زیرجاموں، چولیوں، جوتوں وغیرہ کو چُرا کر اُنہیں سینت سینت کر رکھتے ہیں۔

مردانہ عورت : Virago

زنانے مرد : Effeminate

جنسی غلامی : Sexual Slavery
۔۔ فریقِ ثانی میں کٹھہ پتلی بن کر رہ جانا۔

عشقِ بُتاں : Pygmalianism
۔۔ مجسمے (تصویر وغیرہ) پر دل و جان سے فدا ہوجانا۔

حیوانیّت : Bestiality
۔۔ جانوروں کے ساتھ سیکس کرنا۔

ہوس نگاری : Erotographomania
۔۔ فحش کلموں یا اعضائے مخصوصہ کو مختلف جگہوں پر کھیچنا۔
جیسے بیت الخلا، وغیرہ میں لنگ و یونی کی اور ان کے اتصال کی تصویریں بنانا۔

فحش گوئی : Coprolalia
۔۔ فحش گالیاں بک کر تسکیں حاصل کرنا۔

لذّتِ سرقہ : Kleptomania
۔۔ عورتیں جو دکانوں سے چھوٹی موٹی چیزیں چُرا کر محظوظ ہوتی ہیں۔

عورت دشمنی : Misogyny
۔۔ عورت ذات سے نفرت کرنا۔
یا تو اس لیے کہ ایک عورت کے ٹھکرانے سے انہوں نے عورت ذات سے ہی نفرت پیدا کرلی۔
یا اس لیے کہ ان کے نزدیک جو مثالی عورت ہے اس کے خاکے اتنے اونچے ہیں کے اس کے علاہ سے عورتیں بے کار ہیں۔

جنسی پاجی : Sexual Degenrates
۔۔ صرف گندی کسبیوں سے ہی جنسی ملاپ کر کے محظوظ ہونا۔

دہن کاری : Cunnilingus, Fellatio
۔۔ یہ انحراف آریائی اقوام سے خاص ہے۔ سامیوں، مُغولوں اور حبشیوں میں اس کا کوئی کھوج نہیں ملتا۔ دہن کاری کا ثبوت یونان، رومہ اور ہندوستان کے قدیم زمانے کے نقوش سے ملتا ہے۔ ۔۔۔ عرب دہن کاری کے ساتھ نفرت کرتے تھے۔ اُن کی گالی تھی اُمصص ببظرالات۔ آج کل اس کا ہر جگہ رواج ہے۔

اِعادہ شباب : Shunamatism
۔۔ بڑھاپے میں دوبارہ اپنے آپ کو جوان کرنے کی ترکیبیں سوچنا۔ اور جوان بننے کے جتن کرنا۔


باب۔ ۱۱۔۔ نئے جنسی زاویے

۔۔ امریکہ اور یورپ کی نئی نسل کا عقیدہ یہ ہے کہ بھوک پیاس اور شہواتی خواہش میں کچھ فرق نہیں ہے۔ بھوک پیاس لگنے پر آدمی کھانے پینے میں کچھ باک محسوس نہیں کرتا اسی طرح جنسی خواہش کی فوری تسکین میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک لڑکی نے کہا "جنسی ملاپ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ "اچھا کھانا"۔ 271

۔۔ لڑکیاں ازالہ بکارت کو بلوغت کی اولین شرط سمجھنے لگی ہیں اور پہلے موقع پر اس سے چھٹکارا پالییتی ہیں۔ ۔۔۔ جاپان میں کسی آزاد مشرب لڑکی کی شادی قدامت پسند نوجوان سے طے پاجائے تو وہ بیس پونڈ دے کر ڈاکٹر سے پلاسٹک کا پردہ بکارت لگوا لیتی ہے۔ 271

۔۔ جنسی آزادی نے روائتی قسم کے رومانی عشق کا خاتمہ کردیا ہے ۔ عشق کو ایک فرسودہ روایت سمجھا جاتا ہے۔ ۔۔۔ عیسائی مذہب کے زوال کے ساتھ یونان اور رومہ کی قدیم جنسی بے راہ روی عود کر آئی ہے۔ 272

۔۔ ماضی میں عورتوں کے باعصمت ہونے کے دو اسباب تھے، نار جہنم کا خوف اور حمل کا ڈر، پہلا خوف مذہب کے ساتھ ختم ہوگیا، دوسرے خوف کا ضبطِ تولید نے اِزالہ کردیا۔ (برٹرنڈرسل)۔ 273

۔۔ ایک نوجوان لڑکی ہیلن نے دوران گفتگو میں لنڈسے سے کہا کہ وہ جو میاں بیوی ایک دسرے سے سچا پیار نہیں کرتے اُن مردوں اور عورتوں کی بہ نسبت زیادہ بداخلاقی کی زندگی گذارتے ہیں جو بغیر نکاح کے مِل کر رہتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اُس نے کہا کہ محبت کے بغیر شادی شدہ زندگی ایک ایک قسم کی عصمت فروشی ہے۔ اس میں بیوی قحبہ بن کر رہ جاتی ہے جو مالی مفاد کے خاطر ایسے شوہر کے پاس خلوت میں جاتی ہے جس سے وہ نفرت کر رہی ہوتی ہے۔
274

۔۔ حواس خمسہ کے علاوہ بھی ایک حس ہوتی ہے جسے وہ جنسی حس کہتا ہے یہ حس خود مکتفی ہے۔ (رینے گویاں)۔ 279

۔۔ جنسی آزادی نے نسوانی لباس کو بھی متاثر کیا ہے، عورتیں نیم عُریاں لباس پہننے لگی ہیں۔ وکٹوریہ کے عہد میں ٹخنوں کا دکھانا بھی معیوب تھا۔ اب سکرٹ گھٹتے گھٹتے برگِ انجیر بن کر رہ گئی ہے اور چھاتیوں کو برہنہ رکھنے کا رواج بھی چل نکلا ہے جیسا کہ قدیم ہندوستان، کریٹ اور نشاۃ الثانیہ کے عہد کے فرانس اور اطالیہ میں تھا جب عورتیں رخساروں کے ساتھ برہنہ چھاتیوں پر بھی غازہ لگاتی تھیں۔ کسی زمانے میں لباس کی تراش خراش سے بدن کے نقائص چُھپائے جاتے تھے اب ایسا لباس پہنا جاتا ہے جس سے گدرائے ہوئے بدن کی لطافتیں نکھر کر سامنے آجائیں اور جسم کے دلاآویزاں زاویوں کی زیادہ سے زیادہ نمائش کی جاسکے۔ لباس کے یہ فیشن ایشیا اور افریقہ میں بھی رواج پا رہے ہیں۔ جاپان، تھائی لینڈ، فلپائن، مصر، لبنان وغیرہ میں عورتیں آزادانہ مغربی وضع کا نیم عریاں لباس پہنتی ہیں۔ جن اقوام میں قدامت پسندی کے اثرات باقی ہیں اُن میں بھی عورتیں ایسا تنگ لباس پہننے لگی ہیں کہ جوبن کا جھمکڑا پوری طرح نمایاں ہوجاتا ہے۔ اشتہارباز اور فلم ساز عورت کے جسم کی عریانی کا استحصال کر رہے ہیں۔ اشتہار سگرٹ کا ہو یا سکوٹر کا، صابن کا ہو یا چاکولیٹ کا، اِس میں جازبیّت پیدا کرنے کے لئے نیم عریاں نسوانی جسم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ 280

۔۔ نوجوانوں کو عبادت میں شامل ہونے کی ترغیب دِلانے کے لئے گرجاگھروں میں راک اینڈ رول ناچوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 282

۔۔ آزادی نسواں کو سب سے زیادہ نقصان جنسیت Sexism نے پہنچایا ہے۔ 283

۔۔ عورت فطرتاًً ایذا طلب ہے۔ ۔۔۔ عورت مرد کے ہاتھوں پٹ کر خوشی محسوس کرتی ہے۔ جس عورت کو اس کا شوہر کبھی کبھار دھول دھپا نہ کرے وہ سمجھنے لگتی ہے کہ اب وہ اُس سے پیار نہیں کرتا۔ 285


__________________________

Tuesday, July 6, 2010

RTQ - Ch.5 - YUNAN (Greece)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری



باب۔ ۵
یونان:

دنیا کی پہلی ریاست:
۔۔ پانچویں صدی ق م میں دنیا کی پہلی حکومت انیتھینز میں قائم کی گئی۔ 125


۔۔ خشارشیا فاتحانہ ایتھینز میں داخل ہوا تو وہاں ہُو کا عالم تھا۔ اُس نے شہر کو آگ لگا کر خاکستر کردیا۔ بعد میں سکندر نے اِسی کے بدلے میں ایرانیوں کے دارالسلطنت اِصطخر کو نذرِ آتش کا تھا۔ 125
۔۔۔ اس حملے کی فوری وجہ یہ تھی کہ بعض یونانی شرپسندوں نے ساحلِ ایشیا کے ایک معبد کو جو ایرانی عمل داری میں تھا لُوٹ کر جلا دیا تھا۔


ایشیائی فلسفہ ۔ یونانی:
۔۔ یاد رہے یونان جس فلسفے، آرٹ اور سائنس کے لئے مشہور ہوا اُن کا آغاز و ارتقاء خاص یونان میں نہیں بلکہ ساحلِ ایشیا کے اُن باشندوں سے ہوا تھا جو ڈورین قبائل کے حملوں سے بھاگ کر وہاں مقیم ہوئے تھے۔ 129


سوفسطائی:
۔۔ سوفسطائی کا لغوی معنیٰ ہے 'دانش مند'۔ آج کل کہ لفظ حقارت کا مفہوم رکھتا ہے، جو شخص ایک وکیل کی طرح اپنی بات منوانے کے لئے حقائق کو توڑموڑ کر پیش کرے اُسے سوفشطائی کہتے ہیں۔ 133


یونانی برقعہ:
۔۔ یونانی اپنی بیاہتا عورتوں کو پردے میں رکھتے تھے اور انہیں پڑھانا لکھانا غیر ضروری خیال کرتے تھے۔ 147
۔۔تھِکی دیدیس مورخ نے کہا ہے "شریف عورت کو پردے میں رہنا چاہیے۔'


۔۔ جہاں تک عام اخلاق کا تعلق ہے ایرانیوں کو یونانیوں پر برتری حاصل تھی۔ 147
[حاشیہ: آج بھی جوئے میں دھوکا دینے والے کو Greek کہتے ہیں۔ ]
_____________________

RTQ - Ch.4 - BANI ISRAEL

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری



باب ۔ ۴۔
بنی اسرائیل:

۔۔ بنی اسرائیل کو شروع شروع میں عبرانی کہتے تھے۔


ہیکلِ سلیمان:
۔۔ شاہ دائود کی وفات پر جناب سلیمان تخت پر بیٹھے اور سر پر تاج رکھتے ہی بھائیوں کے قتل کا حکم دیا۔ جناب سلیمان کی عہدِ حکومت بنی اسرائیل کی تاریخ کا سب سے درخشاں زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ۔۔۔ چناچہ اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کے لئے جناب سلیمان نے مصر اور کنعان کے سلاطین کی بیٹیوں سے نکاح کیا اور اس طرح انھیں حلیف بنا لیا۔ جب اِس طرف سے اطمینان ہوگیا تو اُنہوں نے ہیکل کی تعمیر پر کمر باندھی۔ ۔۔۔ ہیکل کی عمارت سات برس میں ہوئی تو جناب سلیمان نے اِس خوشی میں بائیس ہزار بیل اور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑیں بھینٹ چڑھائیں۔ 86-87


اسرائیل (یھودیوں) کی تباہی:
۔۔ سلیمان کی موت کی بعد ان کی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی: اسرائیل اور یہوداہ۔ اُن کے بیٹوں رجعام اور یربعام کے درمیان خانہ جنگی چھڑگئی۔ مصر کے فرعون شیشاک نے اِس پھوٹ کا فائدہ اٹھانے کے لئے یروشلم پر چڑھائی کی اور مقدس اور شاہی محل کے خزانوں کو لوٹ کھسوٹ کرلے گیا۔ اسرائیل کے بادشاہ افی اب نے صیدانی شہزادی ایزبل سے شادی کی جس نے اپنے معبود بعل کے لئے مندر تعمیر کرایا اور اس کے مذبح پر قربانیاں کرنے لگے۔ اُس کی دیکھا دیکھی رعایا میں بھی بعل پوجا جڑپکڑگئی جس پر خداوندخدا اپنی برگزیدہ اُمت سے ناراض ہوگیا اور اُس کے دھمکی دی "میں یروشلم کو ایسا پُونچھوں گا جیسے آدمی تھالی کو پُونچھتا ہے اور اُسے پونچھ کر اُلٹی رکھ دیتا ہے۔"
پہلے بنی اسرائیل کی باری آئی۔ سارگن شاہ اشور نے 722 ق م میں حملہ کر کے اسرائیل کو برباد کیا اور اُس کی ساری آبادی کو قید کرکے لے گیا پھر پتا نہ چل سکا کہ اسرائیل کے دس قبائل کا کیا حشر ہوا۔ وہ صفحہ تاریخ سے غائب ہوگئے۔
586 ق م میں بنوکد نضر شاہِ بابل نے یہوداہ پر چڑھائی کی اور سخت مزاحمت کے باوجود فتح پائی۔ بابلیوں نے ہیکل سلیمانی اور شاہی محلّات کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور سونے چاندی کے ظروف اور شمعدان سمیٹ کر لے گئے۔ بنوکدنضر بھی یہوداہ کی ساری آبادی غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا جہاں کم و بیش اسّی برس یہودیوں نے اسیری میں بسر کئے۔ ۔۔۔ شہنشاہ خشرشیا نے ایک یہودی لڑکی استرنامی کو جو حسن و جمال میں یگانہ روزگار تھی اپنی ملکہ بنا لیا اور اُس کے ہم قوموں سے لُطف مے کرم کا برتاؤ کرنے لگا۔ انبیاء بابل کے جلاوطنوں کو ہمت دلاتے رہے اور نجات کی بشارت دیتے رہے۔ کوروش کبیر نے یہودیوں کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی اور مَقدِس سے لُوٹے ہوئے سونے چاندی کے ظروف بھی لوٹادئیے۔ بنی اسرائیل نے وطن واپس آکر ازسرِ نو مقدس تعمیر کیا اور توریت کے مُنتشر اوراق جمع کئے۔ اِس دوران میں یہودیت نے جو شکل و صورت اخیتار کی وہ آج تک باقی و برقرار ہے۔ دو صدیوں تک ایرانی بنی اسرائیل پر عدل و انصاف سے حکومت کرتے رہے۔ سکندر اعظم نے حملے کے بعد یہوداہ یونانیوں کی مُملکتِ شام کا ایک صوبہ بن گئی۔ طویل جدوجہد کے بعد مکابی بھائیوں نے شامی فوج کو شکست دے کر آزادی حاصل کی (165 ق م) کچھ عرصے کے بعد یہودی دو فرقوں میں بٹ گئے۔ فریسی اور صدوقی، جن میں جھگڑا شروع ہوگیا۔ اِس سے فائدہ اُٹھا کر رومہ کے سالار پومپے نے ملک پر قبضہ کرلیا اور ایک یہودی انٹی پیٹر کو گورنر مقرر کردیا۔ انٹی پیٹر، اُس کا بیٹا اور پوتا 39ء ب م تک حکومت کرتے رہے۔ اِس کے بعد یہودیوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت کردی۔ رُومی جرنیل ٹائی ٹس نے فوج کشی کرکے یروشلم کو فتح کیا اور ہیکل کو نذرِ آتش کردیا۔ ہزاروں یہودی قتل ہوے اور بقیۃالسیف کو غلاف بنا کر بیچ ڈالا گیا۔ ابتلا کے اس زمانے میں یہودی بھاگ کر دور دراز کے ممالک میں ہجرت کرگئے اور شمالی افریقہ، بحیرہ روم کے ساحلی شہروں، سکندریہ، رومہ، مغربی یورپ اور ایشیا کے شہروں میں بود و باش اختیار کرکے تجارت اور صرافہ سے کسبِ معاش کرنے لگے۔ بیسویں صدی کے آغاز مین صیہونی تحریک نے زور پکڑا اور 1948ء میں برطانیہ کی مدد سے اسرائیل کی ریاست دوبارہ معرضِ وجود میں آگئی۔ 87-89


بعض انبیاء:
۔۔ انبیاء میں بعض گوشہ نشیں عابد تھے جیسے الیجاہ، بعض مُجرّد تھے اور کُچھ شادی شدہ عیال دار تھے۔ اِن میں کئی بنی عوامی اخلاق کے محافظ تھے اور محتسب کا فرض انجام دیتے تھے؛ کچھ خطیب تھے جو اپنی آتش بیانی سے عوام میں آگ لگا دیتے تھے۔ ناتن اور یاہو نے سیاسیات میں عملی حصہ لیا تھا۔ یہ انبیاء پیش گوئی کرنے کے بجائے حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کیا کرتے تھے۔ وہ اُمراء کے جبر و تشدد کے خلاف احتجاج کرتے اور مساکین کی حمایت میں سرگرمی دکھاتے تھے۔ بیض انبیاء مردِ میدان تھے اور سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے تھے۔ 100


۔۔ جناب ابراہام نناوے برس کے تھے جب اُن کا ختنہ ہوا۔ 104


تورات کی کہانی:
۔۔ علمائے مغرب کے خیال میں تورات 1500 ق م میں لکھی گئی تھی۔ عہدنامہ قدیم کے پہلے پانچ صحیفوں کو یہودی تورات یا قانون کہتے ہیں۔ یہ پانچ صحیفے ہیں: پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استشناء۔ موجودہ عہد نامے میں انتالیس کتابیں ہیں۔ اِن کے علاوہ جو صحیفے ہیں انہیں اصلاح یافتہ کلیسیا نے جعلی قرار دیا ہے۔ زبور جناب داؤد سے منسوب ہے لیکن فی الاصل یہ ایامِ اسیری میں لکھی گئی تھی۔ یہی کیفیت کتابِ ایّوب کی ہے جس میں گہری قنوطیت پائی جاتی ہے۔ ظاہراً یہ بھی قید بابل کی یادگار ہے جب بنی اسرائیل کو اپنی بدبختی اور زبوں حالی کا تلخ احساس تھا۔ ۔۔ تورات کا ایک نسخہ ہیکل میں رہتا تھا جہاں پر ساتویں برس اسے پڑھ کر لوگوں کو سُنایا جاتا تھا۔ ہیکل کئی بار لُٹا اور برباد ہوا اور اس کے ساتھ تورات کے اوراق بھی پریشاں اور منتشر ہوتے رہے۔ قید بابل سے رہائی کے بعد یہودی احبار نے بڑی کاوش سے ادھر اُدھر سے اوراق جمع کر کے ازسرِ نو تورات مرتب کی۔ اس بنا پر بعض علماء کہتے ہیں کہ تورات میں بہت کُچھ تحریف ہوئی ہے اور اس کے بعض حصے الحاقی ہیں۔ مسلمانوں میں امام بخاری اور سر سید احمد تحریف کے قائل نہیں ہیں۔ دوسری مشہور کتاب تالمد ہے جسے روایات اور احادیث کا مجموعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ 106-107


۔۔ قدیم چینیوں کی طرح یہودی اعادہ شباب کے لئے کمسن لڑکیوں سے نکاح کیا کرتے تھے۔۔۔ اس کو 'نسخہ داؤد' یا 'شونمیت کا مَت' کہتے ہیں۔
۔ متعہ کا رواج تھا اور حقِ خلوت دے کر مباشرت کرنا جائز تھا۔
۔ بنی اسرائیل نے عصمت فروشی، لواطت اور فحاشی کو خلافِ قانون قرار دیا۔ 118-120

_____________________________-

Monday, July 5, 2010

RTQ - Ch.3 - KAN'AN (Lebanon)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری


اقتباسات:



باب۔ ۳۔
کنعان:


کنعان۔ فنیقیہ ۔ لبنان:
۔۔ جس ملک کو کتاب مقدس میں کنعان کہا گیا ہے اُسے یونانیوں نے فنیقیہ کا نام دیا تھا۔ آج کل اِسے لبنان کہتے ہیں۔


آرامی زبان:
۔۔ جناب عیسیٰ کی مادری زبان آرامی تھی۔
۔۔ عبرانیوں کی جد امجد جناب ابراہیم آرامی زبان بولتے تھے۔ 64



الف با ۔ لبنانیوں کی ایجاد۔
۔۔ کنعانیوں نے الفبا (الفابیٹ) ایجاد کرکے نوعِ انسان پر احسانِ عظیم کیا۔ 74


۔۔ فُٹ کی 12 انچیں اور شلنگ کے بارہ پنس اُنھیں کے حساب سے ہم تک پہنچے ہیں۔ براعظم یورپ کا نام اُن کی ایک شھزادی یورپا کے نام پر رکھا گیا تھا۔
Phonetics – Phoenician (فنیقی)
کی ہی بدلی ہوئی صورت ہے۔ 78

_________________________________________

RTQ - Ch.2 - MISR (Egypt)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری
آگست 1991

اقتباسات:


باب: ۲
مصر

۔۔ 30 ق م میں قدیم مصر روم کا ایک صوبہ بن کر ہمیشہ کے لیے صفحہ تاریخ سے غائب ہوگیا۔ 42


فرعون آمن ہوتپ (اخناتن) ۔ توحید پرست:
۔۔ فرعون آمن ہوتپ چہارم (1375-1358 ق م) پروہتوں کی دکان آرائی اور ابلہ فریبی کو ختم کرنے کا تہیہ کرلیا۔ راس فرعون کا شمار تاریخِ عالم کی عظیم ترین ہستیوں میں ہوتا ہے۔ اُس نے تخت نسین ہوتے ہی دیوتا آمن کی پرستش کو خلاف قانون قرار دیا، بُت پرستی سے منع کیا اور سیکڑوں دیوداسیوں کو جو مندروں میں عصمت فروشی کرتی تھیں۔۔ باہر نکال دیا۔ اور حکم دیا کہ آمن دیوتا کا نام تمام مذہبی صحائف سے حذف کردیا جائے۔ اُس نے سحر ساحری اور تعویذ گنڈوں کا بھی خاتمہ کردیا۔ اُس نے اعلان کرایا کہ بُت پرستی جُہلا کا شیوہ ہے۔ اُس نے بتایا کہ خدا ایک ہے جو آتن یا روح آفتاب کی صورت میں جوہر حیات اور اصولِ نمو بن کر کائنات میں طاری و ساری ہے۔ آمن ہوتپ نے اپنا نام بدل کر اخناتن رکھا جس کا معنیٰ ہے "جس میں آتن مطمئن ہے"۔
۔۔۔ ۔ وہ کہتا ہے کہ آتن کی تابش زندگی بخشتی ہے وہ شفیق باپ، مہربان ہے، رحیم ہے، امن و آشتی کا خدا ہے، بے رنگ ہے بے صورت ہے۔ اُس نے آتن کے مجسمے تراشنے سے منع کردیا اور تاریخ نوعِ انسان میں پہلی بار بُت پرستی اور کثرت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی۔ ۔۔ (اُس کی وفات کی بعد) اُس کا دین بھی اُسی کے ساتھ ختم ہوگیا۔ 47


۔۔ (مصری) تابوت ایسے حسین تراشتے تھے کہ انہیں دیکھ کر آدمی کا مرنے کو جی چاہنے لگے۔ 51


مصری خاص ایجادیں:
۔۔ مساحت (جیومیٹری)، پپائرس پر لکھنا، ہیرغلیفی خاص مصریوں کی ایجاد تھیں۔ 52-53


پولیس:
۔۔ مصریوں کے پولیس کا محکمہ نہیں تھا۔
[جبکہ سُمیریوں کے پاس تھا]
جرائم کی تفتیش محلّے یا شہر کے لوگ خود ایسی مستعدی سے کرتے تھے کہ جرم کا اخفاء یا مجرم کا فرار ناممکن تھا۔ 55


رع مسیس ثانی (خروج کا فرعون)
۔۔ رع مسیس ثانی کو خروج کا فرعون سمجھا جاتا ہے اس کے عہد میں جناب موسیٰ نے نبوت کا اعلان کیا۔ رع مسیس کے حرم میں سیکڑوں باندیاں تھیں۔ وہ ایک سو بیٹے اور پچاس بیٹیاں چھوڑ کر مرا۔ 42
۔۔ رع مسیس ثانی نے یکے بعد دیگرے اپنی کئی بیٹیوں سے نکاح کیا تھا۔ 56


نصائح پٹاح ہوٹپ:
۔۔ بعض مورخین کے خیال میں فلسفے کی قدیم ترین کتاب 'نصائح پٹاح ہوٹپ' ہے جو کم و بیش تین ہزار برس کی پرانی ہے۔ 52
______________________________

RTQ - Ch.1 - IRAQ (Sumerian)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری
آگست 1991

اقتباسات:

باب۔ ۱
عراق (سُمیرین)

سُمیری:
۔۔ شروع شروع میں سُمیریوں کو اکّادی کہا جاتا تھا لیکن فرانسیسی عالم ژولے اوپرت نے انہیں سُمیری کا نام دیا اور یہی نام دُنیائے علم میں رواج پاگیا۔ سمیریوں کا اصل و نسل کا راز ہنوز پردہ خفا میں ہے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آئے تھے۔ البتہ یقینی بات یہ ہے کہ وہ سامی الاصل نہیں تھے۔ 12


۔۔ جناب مسیح کی پیدائش سے تین ہزار برس قبل سُمیریوں نے کانسی کے ہتھیار اور اوزار بنانا شروع کردیئے تھے جو تانبے کے ہتھیاروں سے زیادہ مضبوط تھے۔ 13


۔۔ سمیریا کے بحری جہاز وادئ سندھ میں بھی جاتے تھے۔ 14


۔۔ دائیں سے بائیں لکھنے کا رواج تھا۔ بعد میں بابلیوں نے بائیں سے دائیں لکھنا شروع کیا۔ 15


۔۔ ہم نے دائرے کو 360 درجوں میں تقسیم کرنا سمیریوں ہی سے سیکھا ہے اور درجن کا تصور بھی اُنھیں سے ماخوذ ہے۔ اِسی طرح دن رات کو گھنٹوں، دقیقوں اور ثانیوں میں تقسیم کرنا سُمیریوں سے لیا گیا ہے۔ 15


۔۔ سمیریوں میں ذاتی املاک کا تحفظ کا شدید احساس تھا۔ وہ اپنی تمام اشیاء حتٰی کہ ملبوسات اور جوتوں کی فہرستیں بھی بناتے تھے۔ 15


حمورابی کے قوانین:
۔۔ قوانین بھی پہلے پہل سمیریوں نے مرتّب و مدوّن کئے تھے۔ حمورابی کا ضابطہ قوانین جو سُوسہ کے آثار سے برآمد ہوا ہے سُمیری الاصل ہے۔ 16


۔۔ (گِل گامش) رزمیہ کا شمار دینا کے قدیم ترین نظموں میں ہوتا ہے۔ 17


۔۔ سارگن کی پیدائش کی کہانی کوروش کبیر، کرشن، رومولس اور جناب موسٰی کے احوال سے ملتی جلتی ہے، یعنی اُس کی ماں نے پیدا ہوتے ہی اُسے ٹوکری میں رکھ کر دریا میں بہا دیا تھا جہاں ایک ملّاح نے ترس کھا کر اُسے نکالا اور اس کی پرورش کی۔ 22


حمّورابی کو پکارا:
۔۔ قانون کی تاریخ میں یہ ایک انقلاب آفریں اِقدام تھا۔ بحیثیتِ مجموعی اسے عہدِ قدیم کا جامع ترین ضابطہ قوانین سمجھا جاسکتا ہے۔ حمورابی کا دعویٰ تھا کہ یہ ضابطہ اُسے خداوند خدا نے خود عطا کیا تھا۔ چناچہ ایک نقش میں حمورابی کو دیوتا سے یہ ضابطہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اِس ضابطہ کا اصل منشا بے شک ذاتی املاک کا تحفظ ہے لیکن اس میں زیردستوں اور کمزوروں کے حقوق کی پاسبانی بھی کی گئی ہے۔
حمورابی ضابطے کے دیباچے میں کہتا ہے
"اِس وقت دیوتائوں نے اپنے اِس خدمت گار حمّورابی کو پکارا جو نیکوکار تھا، محتاجوں کی مدد کرتا تھا جس نے ملک کو خوشحالی بخشی، جس نے طاقت وروں کو کمزوروں پر ظُلم کرنے سے روکا۔ دیوتاوں نے اُسے پکارا کہ عوام کی بہبود میں اضافہ کرے۔"


۔۔ بابل دو ہزار برس تک تمدّن عالم کا مرکز بنا رہا۔ 29


کلیجہ : روح
۔۔ انسانوں اور حیوانوں میں کلیجے کو روح اور ذہن کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ جادوگرنیاں راستے چلتے کا کلیجہ نکال لیتی تھیں۔ 31


۔۔ مقدس عصمت فروشی کا یہ کاروبار بابل میں 325ء بعد از مسیح تک جاری رہا۔ 34


۔۔ صائبین دن رات میں سات نمازیں پڑھتے تھے جن میں رکوع و سجود کرتے تھے ۔۔۔ نماز پڑھنے سے پہلے وہ باقاعدہ وضو کرتے تھے۔ سورج گرہن، چاند گرہن اور جنازے کی نمازیں بھی پڑتھے تھے۔ 38
___________________

Sunday, May 30, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch. 14 (Last)

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 14 - 1980 Ke Baad Iran Per Kya Guzri

Excerpts:


باب: ۱۴: ۱۹۸۰ء کے بعد ایران پر یا گزری

۔۔ ایرانی انقلاب کا تقاضا تھا کہ ملک کی اقتصادیات کو غیر سرمایہ دارانہ خطوط پر ترقی دی جائے لیکن اربابِ اقتدار نے ملکی معیشت کو مغرب کے سرمایہ دار ملکوں کو دستِ نگر بنادیا ہے۔ ان ملکوں سے اشیائے صرف کی بے تحاشا درآمد ہورہی ہے اور زرمبادلہ کیادائیگی کے لیے تیل کی پیداوار کو جاپان اور مغربی ملکوں کے ہاتھ فروخت کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایران کی صنعتی پالیسی غیر ملکی اجارہ دار کمپنیوں کے مفاد کے تابع ہوگئی ہے۔ امریکہ سے براہِ راست تجارت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا یہ سودا ترکی کے ذریعے ہوتا ہے۔ ۱۸/جنوری ۱۹۸۳ء کے اخبار 'کیہان' کے بقول وزیرِ روغنیات غزازی نے کہا کہ ترکی سے ہماری تجارت ۸۰ کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو شاہ کے زمانے کے مقابلے میں ۴۰ گنا زیادہ ہے۔ یہ سارا کاروبار امریکی کمپنیوں اور اُن کے گماشتوں کے قبضے میں ہے۔ وہ ترکی میں بیٹھ کر امریکی مال ایران کو فراہم کرتے رہتے ہیں۔ اس طرزِ تجارت کو جس میں ترکی کی حیثیت دلال سے زیادہ نہیں 'اسلامی کامن مارکیٹ' کا نام دیا جاتا ہے۔ اور وزیرِ روغینات فرماتے ہیں کہ 'اسلامی کامن مارکیٹ قائم کرکے ہم امپیرئیل ازم سے ٹکر لے سکیں گے۔' حلانکہ اس نام نہاد اسلامی مارکیٹ کے ساری معیشت امپیرئیلسٹ ملکوں کے دامن سےبندھی ہوئی ہے۔ اسلام بیچارہ ان دنوں ہر شخص کا تکیہ کلام بن گیا ہے۔ بینک ہوں، بیمہ کمپنیاں ہوں، ہوٹل ہوں، تعمیراتی کمپنیاں ہوں، ان کے نام کے آگے اسلامی لکھ دو، وہ مشرف بہ اسلام ہوجائیں گی۔ 296-297
____________

Thursday, May 27, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.9,10

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 9,10

Excerpts:


باب: ۹: انقلابی ہلچل

[1976-1977 کا بجٹ]
۔۔ ایران اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا چناچہ رسالہ میڈ اُس وقت کی ایرانی معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ 'اگر خمینی نہ ہوتے اور انقلاب نا آتا بلکہ شاہ بدستور اپنے محل میں مقیم ہوتے تب بھی ایرانی معیشت کی عمارت اس سال کے موسم گرما تک دھماکے کے ساتھ زمین پر گر گئی ہوتی۔۔۔۔ شاہ کی معیشت ایک غبارہ تھی جس میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھردی گئی تھی اور بس اس کا انتظار تھا کہ کوئی اس کو چھودے۔ شاہ کو انقلاب کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس نے شاہ کو شرمندگی اور خجالت سے بچالیا۔' ۔191


۔۔ محمد شاہ رنگیلا تو خواہ مخواہ بدنام تھا۔ وہ بے چارہ تو رضا شاہ پہلوی کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ 192


اور آخر وہ دن آہی گیا:
۔۔ اور آخر وہ دن آہی گیا۔ ۲۹ جنوری کی شام کو شاہ نے محل کے عملے کو اپنی روانگی سے مطلع کیا۔ ۳۰ جنوری کو وہ پریس کانفرنس کرنے والا تھا لیکن مصاحبوں نے مشورہ دیا کہ چلتے وقت بھڑکے چھتے کو نہ چھیڑیں لہذا شاہ اپنی 'محبوب رعایا' کو بتائے بغیر چپکے سے قاہرہ روانہ ہوگیا۔ ۵۳ سالہ پہلوی آمریت کاغذی محل کی طرح زمین بوس ہوگئی۔
اُس دن تہران میں بڑی سردی تھی اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہورہی تھی مگر سہ پہر میں جونہی ریڈیو سے اعلان ہوا کہ شاہ اور شاہ بانو قاہرہ چلے گئے۔ سارا شہر سڑکوں پر نکل آیا۔ لوگ خوشی سے ناچ رہے تھے، گلے مل رہے تھے۔ ایک دوسرے کو فتح کی مبارک باد، دے رہے تھے۔ پھول برسائے جارہے تھے۔ مٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں۔ فوجیوں نے اپنی توپوں، ٹینکوں اور رائفلوں پر، جو کل تک آگ اگل رہی تھے کارنیشن کے پھول سجا لیے تھے۔ شہر میں جہاں کہیں شاہ یا اس کے باپ کا مجسمہ نظر آتا لوگ اس کو جوتوں کا ہار پہناتے اور کھینچ کر نیچے کرادیتے۔ شام ہوتے ہوتے ایک مجسمہ بھی سلامت نہیں بچا۔ 204


خمینی کمیونسٹ دشمن:
۔۔ امریکی حکومت خمینی صاحب کی کمیونسٹ دشمنی سے بخوبی آگاہ تھی۔ 210


باب: ۱۰: انقلابِ ایران کے محرکات و اسباب
_______________

Wednesday, May 26, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.6,7,8

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapters: 6,7,8

Excerpts:
Align Right
باب: ۶: پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے

باب: ۷: پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں

باب: ۸: ایران کی شوشلسٹ تحریک

۔۔ 'روس کا سوشلسٹ انقلاب تاریخِ انسانی میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ اس انقلاب نے خاص طور پر کشور ایراں کی سرنوشت پر اور یہاں کے سیاسی اور اقتصادی حالات پر گہرا اثر ڈالا۔ بلکہ یہ انقلاب ایران کی آزادی اور داخلی اور خارجی سیاست کو متاثر کرنے والے عوامل میں سے تھا۔ انقلابِ روس دراصل ایران کی آزادی کی بقا کا باعث ثابت ہوا۔ اگر یہ انقلاب برپا نہ ہوتا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو کیا کیا صدمے برداشت کرنے پڑتے اور آج ایران اور ترکی کا وجود بھی نہ ہوتا۔' (آقا یحییٰ آرین پور) ۔ 164

۔۔ بالشویک پارٹی نے جس کا مسلک ابتدا ہی سے محکوم اور نیم محکوم ملکوں کی مکمل آزادی تھا۔۔ 164


۔۔ ابتدا میں وہ [رضا خان] کمال اتاترک کی مانند ایران کو ری پبلک بنانے کے حق میں تھا لیکن قم کے مجتہدوں نے ۲۹ مارچ ۱۹۲۴ کو فتویٰ دیا کہ اسلام ری پبلک کی اجازت نہیں دیتا، تو رضا خاں کو بادشاہ بننے کا بہانہ ہاتھ آگیا۔ 169

۔۔ اس وقت سے ایران میں ۱۱ مئی کا دان سیاسی قیدیوں کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 173

۔۔ 'ایران کے شیعہ مذہبی رہنما جو نچلے اور درمیانہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں ظاہر ہے کہ ملک کی صورت حال اور عوام کی زبوں حالی سے لاتعلق نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ عوام کو آمریت کے خلاف ابھارنے پر مجبور تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں مختلف عناصر آمریت کے خلاف احتجاجی تحریک میں ازخود شامل ہوگئے ہیں۔' (ایرج سکندری) ۔۔ 177

۔۔ 'ہم کو موجودہ تحریک کی مذہبی زبان اور مذہبی نعروں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سیاسی اور سماجی ہے اور اس میں مزدور طبقہ پیش پیش ہے اور سرکاری ملازمین اور شہری نوجوان بہ کثرت شامل ہیں۔' (حمید سفری)۔ 184
_____________

iNQILAB-e-iRAN - Ch.5

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 5 - Amrici Amal Dakhal

Excerpts:


باب: ۵: امریکی عمل دخل

مغربی تہذیب
۔۔ مغربی تہذیب کوٹ پتلون پہننے، کانٹا چُھری استعمال کرنے یا نائٹ کلب میں ناچنے کا نام نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب و تمدن کی اصل اساس صنعتی انقلاب ہے، یعنی فیوڈل ازم کے پیداواری طریقوں اور سماجی رشتوں کی تنسیخ اور مشینی صنعتوں اور سرمایہ داری رشتوں کی ترویج۔ مغربی تہذیب عبارت ہے جمہوری طرزِ حکومت اور عوام کے شہری حقوق سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی اندازِ فکر و عمل سے اور اگر ان لوازمات کو معاشرے سے خارج کردیا جائے تو پھر مغربی تہذیب خالی خولی شعبدہ بازی رہ جاتی ہے۔ 122


۔۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے امریکی سرمایہ داروں کی مخصوص شکارگاہ جنوبی امریکہ تھا اور مشرقِ قریب کو برطانیہ کی اجارہ داری خیال کیا جاتا تھا۔ مصر، فلسطین، اردن، یمن، عراق اور خلیج فارس کی ریاستیں سب برطانیہ کی زیر نگین تھیں۔ ایران کے تیل کے چشمے انگریز کمپنیوں کے تصرف میں تھے حتٰی کہ سعودی عرب کو بھی جو، اب دنیا کے سب سے دولت مند ملکوں میں شمار ہوتا ہے، برطانیہ کی طرف سے سالانہ وظیفہ ملتا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران میں ایک طرف برطانیہ کی اقتصادی اور سیاسی قوت روز بروز گھٹتی گئی۔ دوسری طرف امریکہ کی صنعتی پیداوار بالخصوص اسلحوں کی پیدواور میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور تیل کی مانگ بھی بہت بڑھ گئی۔ لہذا نئے علاقوں کو زیر اثر لانا 'ضروری' ہوگیا۔ 123


۔۔ امریکہ کی فوجی امداد ایشیا اور افریقہ میں ہر جگہ عوامی تحریکوں کو کچلنے ہی کے کام آئی ہے۔ 125


خارجہ حکمت عملی
۔۔ بات یہ ہے کہ سامراجی طاقتیں اپنی خارجہ حکمت عملی وضع کرتے وقت دوسرے ملکوں کے عوام کو اور ان کے جذبات و احساس کو بالکل خاطر میں نہیں لاتیں۔ وہ تو فقط یہ دیکھتی ہیں کہ فلاں ملک کے پاس فوج اور پولیس کتنی ہے؟ اس کو اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ اس کے حکمراں طبقے کا جھکاو کدھر ہے؟ اوراس کے فوجی اور سویلین افسروں کے سیاسی نظریات کیا ہیں؟ اگر یہ سماجی عناصر جمہوریت اور سوشلزم کے مخالف ہوں تو سامراجی طاقتیں ان کو مزید تقویت پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ عوام ان سماجی عناصر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس سے سامراجی طاقتوں کو چنداں سروکار نہیں ہوتا۔ مگر جو خارجہ حکمت عملی عوامی قوتوں کو نظر انداز کرکے وضع کی جاتی ہے وہ ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔ چناچہ امریکی سامراج نے یہی غلطی ویت نام میں کی۔ یہی غلطی کیوبا اور انگولا میں کی اور یہی غلطی ایران میں کی۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اس حکمت عملی کے سوا کوئی دوسری حکمت عملی اختیار ہی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اگر عوام کے حقوق، مفادات اور جذبات و احساسات کا احترام کرے تو وہ سامراجی طاقت نہیں رہ سکے گا۔ 136


روحِ انسانی
۔۔ 'امریکائی اگورت را از ایران گم کن'،'نابود باد اتحاد نظامی با امریکہ۔' 'جاسوسان سیا (سی۔آئی۔اے) را از ایران بیرون کنید'،'امریکہ حق مداخلہ در ایراں ندادرد' جیسے نعروں سے گونجنے لگے تو امریکی مبصرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نپولین نے ایک بار کہا تھا کہ دنیا میں فقط دو طاقتیں ہیں، ایک تلوار اور دوسرے روحِ انسانی۔ ان کے درمیان جب تصادم ہوتا ہے تو ہار آخرکار تلوار کی ہوتی ہے۔ ایران میں امریکہ کی شکست کا اصل سبب یہی تھا کہ وہ روحِ انسانی سے برسر پیکار تھا۔ 137
_______________

Tuesday, May 25, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.4

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan

Chapter: 4: Pehlvi Ryasat Ka Kirdar

Excerpts:

باب: ۴: پہلوی ریاست کا کردار

۔۔ یوں تو کہنے کو ایران 1906 کے آئین کے رو سے ایک آئینی ملوکیت تھا اور بادشاہ کی حیثیت آئینی سربراہ کی تھی لیکن اس آئین کا احترام نہ کبھی قاچاریوں نے کیا اور نہ پہلویوں نے۔ 95

۔۔ پہلوی ریاست تھی تو سرمایہ دار ریاست مگر اپنی معیشت کے نوآبادیاتی کردار کے باعث وہ حقیقی معنی میں آزاد اور ترقی یافتہ صنعتی ریاست کبھی نہ بن سکی۔ 97

۔۔ 1959 میں ایران میں جو لیبر قانون نافذ ہوا وہ ہٹلر اور فرانکو کے لیبر قوانین کا چربہ تھا۔ 111

۔۔ اس علاقے میں تیل کا سارا کاروبار امریکی اور برطانوی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ [کویت، یمن، بحرین، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات (ابوظہبی، دبئی، شارجہ، اجمان، راس الخیمہ، فجیرہ، اور اُم القیوین)]۔ شیخوں کو جو رائلٹی ملتی ہے وہ بھی اتنی زیادہ ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس رقم کو کیسے خرچ کریں۔ اس کا عبرتناک منظر دیکھنا ہو تو لندن اور پیرس کے بازاروں کی سیر کیجئے، ۔۔ 115


۔۔ شاہ کی بادشاہت:
۔۔ رضا شاہ پہلوی کی ریاست بورژوا ریاست تھی جس کا بنیادی فریضہ سرمایہ داری نظام بالخصوص 'شرکتی' سرمایہ دار طبقے کے مفاد کی حفاظت کرنا تھا۔
۔۔۔ حالانکہ پرانے زمانے کے بادشاہ اور شہزادے کاروبار کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ دولت اپنے شاہانہ مصارف کے لیے جمع کرتے تھے اور اگر کوئی ان سے کہتا کہ چاندی سونے کے ذخیروں کو کاروبار میں لگا کر نفع کمائیے تو شاید او اُس کی کھال کھنچوالیتے۔ اس کے برعکس رضا شاہ کی زراندوزی کی نوعیت خالص کاروباری تھی۔ وہ سرمائے سے مزید سرمایہ پیدا کرنے کی دھن میں لگا رہتا تھا اور جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہیں کرتا تھا۔ 118


ایران میں تیل کا بحران:
۔۔ ہر چند کہ ملک کی پوری معیشت کا دارومدار تیل پر ہے لیکن تیل کی صنعت میں مزدوروں کی تعداد سب سے کم ہے۔ یہ تعداد برابر کم ہوتی جا رہی ہے (حالانکہ تیل کی پیداوار میں گزشتہ بیس برسوں میں بیس گنا اضافہ ہوا ہے)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام ملوں اور فیکٹریوں کے برعکس تیل کی صنعت مشینوں اور انجنیئروں کے بل پر چلتی ہے۔ اس میں جسمانی محنت کرنے والے مزدوروں کی ضرورت نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔
مٹی کے تیل اور پٹرول کے قحط کے باعث ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹروں کے پہیئے رک گئے اور دکانیں، دفتر، سینما، ہوٹل سب سنسان ہوگئے۔ 107-108
_____________

Sunday, May 23, 2010

iNQILAB-E-iRAN - Ch.2-3

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan

Chapters: 2-3

Excerpts:


باب: ۲: بیداری کی لہر

خوش قسمتی سے ۔۔۔
۔۔ خوش قسمتی سے عوامی ادب و فن کی روایت ایران میں بہت پرانی ہے۔ جنوبی ایشیا کی مانند وہاں بھی فقیر درویش، مراثی مسخرے، بھانڈ نقال موجود تھے جو گاوں گاوں پھرتے۔ اپنے تمسخرآمیز لطیفوں اور گیتوں گانوں میں بادشاہوں، امیروں، حاکموں اور ملاوں پر پھبتیاں کستے اور سننے والوں کو خوش کرتے۔ بعض اوقات کوئی دل جلا فقیر غمِ زمانہ کا مرثیہ دکھی لہجے میں گا کر سناتا تو مجمع بے تاب ہوجاتا۔ خوشی اور غم کے یہ گیت دراصل عوام کے اپنے دل کی آوازاں تھیں۔ اس لیے یہ گیت فوراً لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتے اور پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے۔ 73


باب: ۳ : مشروطہ کی تحریک

ایران کا بٹوارہ:
۔۔ بالا بالا ۳۱ / اگست ۱۹۰۷ء کو ایک خفیہ معاہدہ ایران کے بٹوارے کے بارے میں کیا۔ اس معاہدے کی رُو سے ایران کو حلقہ اثر کے اعتبار سے تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔ شمال مغربیاور شمال مشرقی علاقے روس کے حصے میں آئے، جنوب مغربی اور جنوبی مسرقی علاقے برطانیہ کو ملے اور وسطی علاقے کو شاہ کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ 81

۔۔ حکومت کی بے بسی کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ برطانیہ اور روس کے جس خفیہ معاہدے کو مجلس نے ۱۹۰۷ میں مسترد کردیا تھا اور جس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہوا تھا، مجلس نے ۱۹۱۲ء میں اسی معاہدے کی توثیق کردی۔ گویا ایران نے ملک کی تقسیم کو تسلیم کرکے اپنے گلے پر خود چھری پھیرلی۔

۔۔ اگست ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑی تو ایران نے دو ماہ کے اندر اپنی غیر جانبداری کا اعلان کار دیا لیکن جنگ کے بعد فریقین نے ایران کی غیرجانبداری کا بالکل احترام نہیں کیا۔ پہلے جرمنی اور ترکی کی فوجیں مغربی سمت سے ایران میں داخل ہوئیں، پھر روس اور برطانیہ کی یلغار شروع ہوئی اور ایران کی سرزمین دیکھتے ہی دیکھتے لڑائی کا میدان بن گئی۔ شمالی علاقوں پر روسی فوجوں نے قبضہ کرلیا۔ مغربی علاقے ترکوں اور جرمنوں کے تصرف میں آئے اور عراق کی سرحد سے بلوچستان تک کے تمام علاقوں پر انگریزی فوجوں کا تسلط ہوگیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا گویا ایران ایک لاش ہے جس کو گدھ نوچ نوچ کر کھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی فوجوں کو لوٹ مار سے شہر بارباد اور آبادیاں ویران ہوگئیں اور ہر طرف طوائف الملوکی پھیل گئی۔ 90
_______________

iNQILAB-e-iRAN - Ch.1

iNQILAB-E-iRAN
Sibt-e-Hassan
1979

Chapter 1

Excerpts:

باب: ۱: قاچاری دور

ایرانی اسلام:
۔۔ غور سے دیکھا جائے تو جس تہذیب کو عموماً اسلامی تہذیب سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ در حقیقت عجمیوں ہی کی کوشش کا ثمر ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خلفائے بنی عباس کا دربار دیکھتے ہی دیکھتے ساسانی دربار میں تبدیل ہوگیا۔ ایرانی لباس درباری لباس قرار پایا۔ خلیفہ اور خلیفہ زادون کی شادیاں ایرانی لڑکیوں سے ہونی لگیں۔ نوروز، مہرگان اوررام کے ایرانی تیوہار سرکاری طور منائے جانے لگے اور دربار میں ہر جگہ ایرانیوں کو عربوں پر ترجیح دی جانے لگی۔ علومِ دینی میں بھی جو رتبہ عجمی علما نے حاصل کیا وہ عربوں کو نصیب نہ ہوا۔
امام ابوحنیفہ اور امام غزالی جیسے اسلامی شریعت کے ستون ایرانی تھے۔ احادیث نبوی کو ترتیب دینے والے امام بخاری، امام مسلم، ابن ماجہ، قزوینی، ترمذی اور نسائی ایرانی تھے۔ پہلی مستند عربی گرامر کا مولف سیبویہہ ایرنی تھا۔ خلیفہ امین اور مامون کا استاد ابن حمزہ کسائی ایرانی تھا۔ مشہور مورخ طبریا، عوفی اور ابن قطیبہ ایرانی تھے۔ فرقہ معتزلہ جو روشن خیال مسلمانوں کی پہلی فکری تحریک تھی اس کا بانی واصل بن عطا ایرانی تھا۔ ابوریحان البیرونی اور شیخ بو علی سینا ایرانی تھے، رہا تصوف سو اس کا تو سارا نظام ہی ایرانیوں کا وضع کردہ ہے۔ اسی بنا پر علامہ اقبال جو تصوف کو ناپسند کرتے تھے مگر مولانا روم کے مرید تھے، عجمی فکراور فلسفے کے سخت مخالف تھے۔ اُنکا خیال تھا کہ عجمی ذہنیت ہی اسلام کے زوال کا باعث ہوئی۔ 27


۔۔ یہ تو بحث فضول ہے کہ جدید خیالات اور نظریات مشرق میں سامراجی قوتوں کے اثرونفوذ کے بغیر ازخود نشونما پاسکتے تھے یا نہیں۔ البتہ تاریخی اعتبار سے ہم بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اہلِ مشرق میں اصلاحِ احوال کا احساس مغربی علوم و فنون سے روشناس ہونے کے بعد انیسویں صدی کی ابتدا میں پیدا ہوا۔ 30


۔۔ ۔۔۔ قاچاریوں نے شیراز اور کرمان وغیرہ میں لوگوں پر بڑے مظالم ڈھائے تھے لیکن تہران کے شیعہ مجتہدوں نے ان مظالم کی مذمت کرنے کے بجائے قاچاریوں کی حمایت کی تھی۔ اس لیے جنوبی ایران والے شیعہ مجتہدوں کو ناپسند کرتے تھے۔ 31


۔۔ قاچاریوں کے سواسوسالہ دورِ حکومت میں کوئی ایک فرمانروا بھی ایسا نہ ہوا جس کو وطن کا درد ہوتا یا جو ذاتی مفاد ہی کی خاطر اصلاحِ احوال کی فکر کرتا۔ 34


۔۔ ہر ریاست نظریاتی ریاست ہوتی ہے۔ یہ ریاستی نظریہ کبھی سیاسی ہوتا ہے، کبھی اقتصادی اور کبھی مذہبی اس کے ذریعے ریاست کے باشندوں کو اطاعت کا خوگر بنایا جاتا ہے۔ ان کے دل و دماغ کو ریاست کے اغراض و مقاصد کے مطابق ڈھالا جاتا ہے اور یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ ان کا اور ریاست کا مفاد مشترکہ ہے، حالانکہ حقیقت میں ریاست ایک طبقاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد برسرِاقتدار طبقے کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ 38


۔۔ اس اعتبار سے پہلوی دور کو اگر ترجموں کا دور کہا جائے تہ غلط نا ہوگا۔ 40


۔۔ ۔۔۔ لیکن خیالات تو روحِ عصر کے تقاضوں کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان کو دیوارِ چین بھی نہیں روک سکتی۔ 61

Saturday, May 1, 2010

Marx Aur Mashriq - Ch.5

Marx aur Mashriq
Part.1
Chapter.5
Lenin aur Aqwame Mashriq

Summary and Excerpts:

Summary:

19ven 20ven Sadi me Europe ki Asian Pasmandah Mulkon per Sarmayadarana Tasallut, Noabadiyat waghera.
Aur is hawale se Lenin k Afkar, Taqarir o Iqtabasat

Pehli International
Dusri International
Asia Me Bedari Ki Lahr
Turkey ka Inqilab
Jange Tarablas
Jange Balqan
Hindustan

Zyada tar mawad syasi waqia't wa ikhbarat per mushtamil hy.


Excerpts:

باب۔ ۵

چنگاری
۔۔ (لینن) یورپ پہنچ کروہ روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی میں شامل ہوگیا اور جنیوا سے اخبار 'اِسکرا' (چنگاری) جاری کیا۔ اسکرا پہلا مارکسی اخبار تھا جو روسی زبان میں شائع ہوا۔ 100


۔۔ مقبوضات سے مفت ہاتھ آئی دولت کے دسترخوان سے مزدوروں کوبھی کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ انقلابی انداز میں سوچنے سے قاصر ہیں۔ (اینگلز) ۔۔ 103


(پہلی جنگ عظیم)
۔۔ لینن کی بالشویک پارٹی کا موقف تھا کہ یہ سامراجی جنگ ہے جو مقبوضات اور نوآبادیات کو ازسرنو تقسیم کرنے کی خاطر لڑی جا رہی ہے اور اس میں دنیا بھر کے محنت کشوں ہی کا جانی اور مالی زیاں ہے لہذا ہم کو اس جنگ کی شدت سے مخالفت کرنی چاہیے اور سامراجی جنگ کو خانہ جنگی میں بدل دینا چاہیے یعنی اپنے ملک کے سامراجی حاکموں کے خلاف جدوجہد کرکے ان کا تختہ الٹ دینا چاہیے۔ 108


۔۔ یہی حربہ ایران سے بھی آزمایا گیا۔
سلطان ناصرالدین شاہ قاچار کو روپیوں کی ضرورت ہوئی تو اس نے 1858ء میں ایک انگریزی ٹیلی گراف کمپنی سے رقم کے عوض کمپنی کو ملک میں ٹیلی گراف لائن بچھانے کی اجازت دے دی۔ ۔۔۔ ٹیلی گراف لائن کی دیکھ بھال کے لیے چودہ مرکز کھولے گئے ان سے جاسوسی اور قبائلیوں کو رشوت دے کر رام کرنے کا کام بھی لیا گیا۔ 1873ء میں سلطان کو سفرِیورپ کے لیے روپیوں کی پھر ضرورت پڑی تو رائٹر نامی ایک انگریز کو پورے ایران میں ریلوے لائن بچھانے کا ٹھیکہ دیا گیا اور کانکنی کی رعایت بھی۔ 1889ء میں انگریزوں نے تہران میں پہلا بینک امپیریل بینک آف پرشیا کے نام سے کھولا اور اس طرح ایرانی سرمائے ہی کے ذریعے ایران کو اپنا دستِ نگر بنانے کا انتظام کرلیا۔ سلطان نے بینک کو ملک میں شاخیں قائم کرنے اور نوٹ چھاپنے کے اختیارات بھی دے دئیے۔ ۔۔ قالین سازی ایران کا قدیم صنعت ہے جو مقامی تاجروں کی اجارہ داری تھی۔ انگریزوں نے ایران میں جگہ جگہ اپنی فیکٹریاں قائم کرلیں اور ایرانی دستکاروں کو ملازم رکھ کر خود قالین بنانے اور برآمد کرنے لگے۔ پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا تھا اور ایرانیوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوتا جارہا تھا۔
1890ء میں ناصرالدین شاہ نے پندرہ ہزار پونڈ سالانہ کے عوض ایک انگریز کمپنی کو ایران میں تمباکو کی کاشت اور خرید و فروخت کی اجارہ داری پچاس برس کے لیے دے دی۔ اس رعایت سے پورے ایران میں تہلکہ مچ گیا کیونکہ اس سے پیشتر جو ٹھیکہ تقسیم ہوئے تھے ان سے تھوڑے لوگ متاثر ہوئے تھے۔ تمباکو کی اجارہ داری سے ایران کے شہر، دیہات سبھی متاثر ہوئے چناچہ ایرانی قوم ایک دم چیخ اٹھی۔ ایرانی مجتہدوں نے فتویٰ دے دیا کہ تمباکو پینا، تمباکو کو کاشت کرنا اور اس کی خریدوفروخت سب حرام ہے۔
لوگوں نے حقّہ پینا ترک کردیا، یہاں تک کہ جب سلطان نے فتوے کے دوسرے دن حقہ طلب کیا تو شاہی ملازموں نے حقّے کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیا۔ آخر اس ملک گیر مقاطعہ سے مجبور ہوکر سلطان نے اجارہ داری کا معاہدہ منسوخ کردیا۔ مطلق العنان شہنشاہی کی یہ پہلی شکست تھی۔ 112-113

۔۔ اقتصادی غلامی چونکہ سیاسی غلامی کی تمہید ہوتی ہے۔ (سبط)۔ 116

۔۔ لیکن تقدیریں، خوہشوں سے نہیں دبلا کرتیں (سبط)۔ 167


Marx Aur Mashriq - Ch.4

Marx aur Mashriq
Part.1
Chapter.4
Karl Marx aur Dunyae Islam


Summary and Excerpts:

Summary:

Saltanate Usmania (Turkey)
Afghanistan
Iran
Aljazair
Wasti Asia (Turkistan)

Is Ch. me ye btaya gaya hy k Marx k dor me qarib qarib poora Asia Europe k zere tasallut tha, aur jo mamalik nahin the unko taskheer krne ki koshishen jari thin.
Ch me Engels aur Marx k mukhtalif mazamin jo ooper mentioned mamalik per hyn ka tazikrha hy.
Zyada tar behs Sayasi Waqe'at per mbni hyn.


Excerpts:


اقتباسات:
باب۔ ۴

ایران
برطانیہ، روس اور فرانس ۱۹ویں صدی کے اوائل ہی سے ایران میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 89

وسطی ایشیا
وسطی ایشیا یعنی ترکستان جس نے قرونِ اولیٰ میں شیخ بو علی سینا اور خوارزمی سے مفکر، امام بخاری اور امام ترمزی کے سے محدّث، نظامی گنجوی اور رودکی کے سے شاعر اور تیمور اور بابر کے سے حکمران پیدا کیے تھے تاتاریوں کے حملوں سے پھر کبھی جانبر نہ ہوسکا۔ 94

سرمایہ
۔۔ مارکس نے سرمایہ دارانہ معیشت کا مطالعہ 1843ء میں شروع کیا تھا۔ یہ سلسلہ 24برس تک جاری رہا۔ اس دوران میں مارکس نے فلسفہ، سیاسیات اور سرمایہ داری نظام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کئی اہم کتابیں لکھیں۔۔
لیکن اس کی زندگی بھر کی کاوش و تحقیق کا حاصل کتاب 'سرمایہ' ہے جس کی خاطر مارکس نے اپنی صحت، مسرت اور گھریلو زندگی ہر چیز قربان کردی۔ 144-145

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...