FIKRism

Showing posts with label Ravayat-e-Tamaddun-e-Qadim. Show all posts
Showing posts with label Ravayat-e-Tamaddun-e-Qadim. Show all posts

Tuesday, July 6, 2010

RTQ - Ch.8 - CHEEN

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری




باب۔ ۸
چین

کھانا کھایا آپ نے!
۔۔ چینی بھینس کا دودھ نہیں پیتے، اُسے ہل میں جوتتے ہیں۔ اِسی طرح گدھے پر بوجھ لادنے کے بجائے اُس سے ہل کھینچنے کا کام لیتے ہیں۔ چین کا سب سے بڑا مسئلہ صدیوں سے خوراک کا رہا ہے۔ پرانے زمانے میں دوست راستے میں ملتے تو سلام ان الفاظ میں کرتے تھے "کیا تُم نے کھانا کھالیا ہے"۔ 249


چین ۔ تسین
۔۔ تسین خاندان نے 255 ق م میں چَو خانوادے کا خاتمہ کردیا اور خود شاہ شی ہوانگ تی نے سارے چین کو متحد کیا۔
[حاشیہ: لفظ چین اِسی تسین کی بدلی ہوئی صورت ہے، چین کو عرب ماجین اور ایران ماچین کہتے تھے۔ روسیوں نے اُسے خطا کا نام جو مغلوں کے ایک خاندان کِٹائی سے یادگار ہے۔] ۔۔ 250


افیم کی پہلی جنگ
۔۔ اُنیسویں صدی میں انگریز چین میں افیم لائے اور چینیوں کو بزورِ شمشیر اسے کھانے پر مجبور کیا۔ 1838 میں افیم کی درآمد پر پابندی لگائی گئی تو انگریزوں نے چین کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ اسے "افیم کی پہلی جنگ" کہتے ہیں۔اس کشمکش میں چین میں جمہوریت کو تقویت بہم پہنچی۔ 252


چینی اخلاق:
۔۔ چینی حشر و نشر حیات بعد ممات کے کسی زمانے میں بھی قائل نہیں تھے نہ اُن کے مذہب کا کوئی نظام عبادت تھا۔ وہ دنیوی زندگی سے حظ اندوز ہونے ہی کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتے تھے۔ اُن کے لئے یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ انسان موت کے بعد کی زندگی کی خاطر اس زندگی کی مسرتوں سے دست کش ہوجائے۔ ۔۔۔ مروجہ مذاہب کے برعکس اہلِ چین اخلاق کو مذہب کا جُزوِ لازم نہیں سمجھتے تھے۔ وہ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ کسی خدا یا دیوتا کے حکم کے بغیر کیوں انسان ایک دوسرے سے حُسنِ سلوک روا نہیں رکھ سکتے۔ ان کے خیال میں انسان کو دوسروں کی بھلائی اس لئے کرنی چاہیے کہ وہ بھی اُسی طرح کے انسان ہیں نہ اس لئے کہ اس کا معاوضہ مرنے کے بعد بہشت کی صورت میں ملے گا۔
256


برائی کے عیوض نیکی کرنا چاہئیے؟
کنفیوشس لاؤتسے کی طرح اس بات کی تلقین نہیں کرتا تھا کہ برائی کا جواب نیکی سے دو۔ اُس کے ایک شاگرد نے پوچھا "آپ کا خیال کیا ہے؟ برائی کے عوض نیکی کرنا چاہئیے؟" اُس نے جواب دیا "پھر نیکی کے عیوض کیا کروگے؟ برائی کے بدلے میں عدل کرو اور نیکی کا جواب نیکی سے دو۔" 260



جمہوریت یا بادشاہ؟
۔۔ والٹیر کی طرح من سی اس شخصی حکومت کو جمہوریت پر ترجیح دیتا تھا۔ والٹیر کا یہ خیال اُسی سے ماخوذ ہے کہ جمہوریت میں بےشمار اشخاص کی تربیت کرنا پڑتی ہے جب کہ شخصی حکومت میں بادشاہ کی تربیت کرنا کافی ہے۔ 262


فطرت قانون ہے:
۔۔ "فطرت محض قانون ہے اور کائنات کا قانون ہی اخلاقیات اور سیاسیات کا قانون بھی ہے" (چوہسی)۔ 263


۔۔ اہلِ چین خوش نویسی اور نقّاشی کو ایک دوسرے سے جُدا نہیں سمجھتے، جس مُؤقلم یا روشنائی سے لکھتے ہیں اُسی سے تصویرکشی بھی کرتے رہے ہیں۔ 265

کاغذ
۔۔ لفظ 'کاغذ' چین کے لفظ 'کوکوذ' کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ 266

۔۔ "۔۔ کسی کا قول ہے کہ عظیم ترین موسیقی آواز میں نہیں سکوت میں مخفی ہے۔۔" 271
C.E.M. Joad


جاحظ لکھتا ہے۔
"چینی صناعات میں، یونانی حکمت میں، ساسانی نظمِ مملکت میں اور تُرک فنِ حرب کے ماہر ہیں۔" 274-275

فٹ بال اور تاش:
۔۔ تفریح کے میدانوں میں چینیوں کی دو ایجادات معروف ہوئیں، فُٹ بال اور تاش۔ 278

۔۔ بچہ کی پیدائش کے دن ہی اُس کی عمر ایک برس کی فرض کرلی جاتی تھی۔ نَوروز پر اس کی عمر میں ایک سال کا اضافہ کرلیتے تھے مثلاً جو لڑکا نوروز سے دس دن پہلے پیدا ہوتا وہ نوروز کے آنے پر دوبرس کا ہوجاتا تھا۔ 281


۔۔ چینیوں کا سب سے اہم تہوار نوروز تھا۔۔۔۔ 282
[یہ تہوار 14 روز چلتا۔]


چائے
۔۔ چاء چین کے تحائف میں سے ہے جو اس نے دوسری اقوام کو دیے ہیں چینی زبان میں چاء اُس پانی کو کہتے ہیں جو کھول کر چاء کا زعفرانی رنگ کا عرق نکالتا ہے۔ چائے پتیوں کو کہتے ہیں عربوں میں یہ لفظ شای بنا، تُرکی، فارسی اور پرتگالی میں چائے کا لفظ موجود ہے۔۔ ۔۔ اہلِ مغرب چاء کے رواج سے پہلے ناشتے میں بِیَر پیتے تھے۔ پہلا یورپین جس نے چاء بنانا سیکھا ایک ایرانی تاجر حاجی محمد کا شاگرد تھا جس نے اُسے چاء کشید کرنے کا طریقہ بتلایا۔ یہ 1545 ء کی بات ہے۔ اس کے بعد مغرب میں چاء نوشی کا رواج عام ہوگیا۔
________________________________

RTQ - Ch.7 - HIND

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری




باب ۷۔
ہند

۔۔ جدید تحقیق کے مطابق برصغیر میں قدیم پتھر کے زمانے کا انسان موجود تھا جس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کہاں سے آیا تھا اور کس نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ مغربی پنجاب میں وادی سواں سے پتھر کے بنے ہوئے آلات ملے ہیں جو اس بات کی شہادت دعتے ہیں کہ آج سے کم و بیش پانچ لاکھ برس پہلے انسان اس علاقے میں بود و باش رکھتا تھا۔ اس کے بعد بیرونِ ملک سے کچھ وحشی قبائل خوراک کی تلاش میں ملک میں داخل ہوئے جو بڑی مشرقی حبشی شاخ سے تعلق رکھتے تھے اور جنہیں آسٹریلائڈ کہا جاتا ہے۔ ان کے بعد بحیرہ روم کی نسل کے کچھ لوگ شمال مغربی درّوں سے وارد ہوئے۔ آسٹریلائڈ اور بحیرہ روم کی نسل کے اختلاط سے دراوڑی نسل معرضِ وجود میں آئی۔ 184


سندھ یا ہند:
۔۔ ایرانیوں نے اپنے لہجے میں سندھو کو ہندھو اور سندھ کو ہند کہنا شروع کیا جو یونانیوں اور رومیوں کا انڈیا بن گیا۔ سندھی اپنے ملک کو سندھ ہی کہتے رہے جب کہ سندھ غیر ملکیوں نے اس کے دو حصے کر ڈالے: سندھ اور ہند۔ عربوں کی آمد تک یہی تقسیم قائم تھی۔ 187


۔۔ رگ وید میں وجودِ مطلق کا مبہم سا تصور موجود ہے جسے پرجاپتی، ایکم پُرش اور نذایکم (وہ ایک) کہا گیا ہے۔ 191


برہسپتی کہتا ہے:
۔۔ برہسپتی کہتا ہے "جب تک جیو سُکھ سے جیو، کوئی انسان موت کے اختیار سے باہر نہیں ہے، جسم مٹی میں مِل جائے تو آّواگون یا سنسارچکر کیسے ممکن ہوسکتا ہے، جس طرح ہوسکے آنند سے رہو، دنیا سے حسب مرضی لطف اٹھاؤ، یہی حقیقی دُنیا ہے۔ پرلوک (دوسری دنیا) کچھ بھی نہیں ہے جو لوگ دُکھ سے مِلے ہوئے سُکھ کو ترک کردیتے ہیں وہ جاہل ہیں جس طرح غلّہ کا طالب دانہ نکال کر بھُوسہ الگ پھینک دیتا ہے اِسی طرح داناؤں کو چاہیے کہ سُکھ کو لیں اور دُکھ کو چھوڑ دیں کیونکہ جو شخص اِس جہاں کے سُکھ کو چھوڑ کر فرضی سُورگ (بہشت) کا خواب دیکھتا رہتا ہے وہ احمق ہے۔ پرلوک کے حصول کے لئے مکّار برہمنوں کی بنائی ہوئی رسوم ادا کرنے والے نادان ہیں۔ جب برہمن کہتے کہ دیوتا پر بھینٹ کیا ہوا جانور سِیدھا بہشت کو جاتا ہے تو وہ اپنے والدین کی قربانی کیوں نہیں دیتے کہ وہ سیدھے بہشت کو چلے جائیں۔"
196-197


بتوں کی پوجا:
۔۔ ہندو اہلِ علم کے خیال میں بُت پرستی کا رواج جَینیوں سے ہوا تھا جو اپنے اَرہنتوں کے بت بنا کر پوجتے تھے۔ سن 79 (ب م) ۔۔۔ 198


بُدھ کی تعلیمات:
۔۔ بُدھ کی چار صداقتیں مشہور ہیں۔
۱۔ زندگی دُکھ ہے۔
۲۔ اس دُکھ کے چند اسباب ہیں۔
۳۔ اس دُکھ کو دور کیا جا سکتا ہے۔
۴۔ اس دکھ سے نجات پانے کا ایک راستہ موجود ہے۔۔
اصطلاح میں اُنہیں دُکھ، دُکھ سمودایا، دُکھ نرودھ اور دکھ نرودھ مارگ کہتے ہیں۔ ۔۔ 199


شوپنہائر بُدھ کا پیرو:
۔۔ ۔۔۔ عورت دشمنی کی جھلک ہمیں گوتم بُدھ کی ایک مدّاح جرمن فلسفی شوپنہائر میں بھی دکھائی دیتے ہے۔
۔۔ شوپنہائر جسے اندھا ارادہ کہا ہے وہ گوتم کے ہاں کرم ہے جو انسان پر مسلّط ہے۔ ۔۔ 199


9 تک گنتی:
۔۔ اہلِ عرب کا اپنا بیان ہے کہ انہوں نے نو تک حسابی رقم لکھنے کا طریقہ اہل ہند سے سیکھا تھا۔ 217


شطرنج کے موجد:
۔۔ عربوں نے فراخدلی سے ہندؤوں کی علمیت اور ذہانت کا اعتراف کیا ہے۔
جاحظ لکھتا ہے۔
"لیکن ہندوستان کے باسندے، تو ہم نے اُن کو پالیا ہے کہ وہ جوتش اور حساب میں بڑھے ہوئے ہیں اور اُن کا ایک خاص ہندی خط ہے اور طِب میں بھی وہ آگے ہیں اور طب کے بعض عجیب بھید اُن کو معلوم ہیں اور سخت بیماریوں کی دوائیں خاص طور پر ان کے پاس ہیں، پھر مجسمے بنانا، رنگوں سے تصویر کھینچنا اور تعمیر میں اُن کو کمال حاصل ہے، پھر شطرنج کے وہ موجد ہیں جو ذہانت اور سوچ کا بہترین کھیل ہے۔" ۔ 218


شطرنج۔
۔۔ شطرنج ہندوؤں کی عظیم ایجاد ہے۔ روایت ہے کہ ششہ برہمن نے پانچویں صدی (ب م) میں اسے ایک راجہ کے لئے ایجاد کیا تھا۔ اس کا اصل نام چترنگ یا چترنگم (چار انگ یعنی ہندی فوج کے چار حصے: پیدل، سوار، ہاتھی، رتھ)۔ شطرنج اور چوسر میں ہندوؤں نے جبر اور قدر کے مسئلے کو پیش کیا ہے۔ شطرنج قدر و اختیار کا کھیل ہے یعنی انسان جتنی قابلیت رکھے گا اور جتنی کوشش کرے گا اُسی کے مطابق اُسے ثمرہ ملے گا۔ چوسر سراسر جبر پر مبنی ہے یعنی انسان مجبور محض ہے کیا پتہ پوبارہ پڑیں یا چار کانے آجائیں۔ 218


ستوپا:
۔۔ ستوپا بزرگوں کے تبرکّات دفن کرنے کے لئے تعمیر کئے جاتے تھے۔
ستوپا کے ارد گرد کٹہڑا بنایا جاتا تھا۔ 219


۔۔ دوسری اقوام میں شادی پر رومانوی محبت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ہندوستان میں شادی کے بعد رومانوی محبت کا آغاز ہوتا تھا۔ 225


۔۔ راجپوت، جاٹ اور گوجر ہُنوں، سیتھوں اور باختریوں کی اولاد سے ہیں۔ 232


۔۔ بعض ہندو اپنے دانتوں پر سونا چڑہوالیتے ہیں تاکہ سوُرگ کا راستہ کھل جائے۔ 236


۔۔ ہندووں کے اصل کارنامے تحقیقی ہیں۔ اُنہوں نے ایرانیوں اور عربوں کی وساطت سے دنیا کو ہندسوں کُسورِ اعشاریہ، شطرنج اور جاتک کہانیوں سے روشناس کرایا تھا۔ ان کی یہ قابل فخر دین تمدن عالم کا قیمتی حصہ بن چکی ہے۔ 242

______________________________-

RTQ - Ch. 6 - IRAN

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری

Align Right


باب۔ ۶
ایران:

۔۔ داریوش اول نخامنشی خاندان کا عظیم ترین بادشاہ سمجھا جاتا ہے، اس کے زمانے میں گندھارا، سندھ ور کشمیر کے کچھ علاقہ ایرانی سلطنت میں شامل کرلئے گئے۔ 153


ایرانی خاص بادشاہ:
کوروش اعظم ۔۔ کمبوجیہ
ہخامنشی: داریوش اول ۔۔ خشارشیا ۔۔ داریوش سوم
داریوش سوم نے سکندر سے شکست کھائی اور ہخامنشی خاندان کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
ساسانی: اُردشیر (222ء) ۔۔ شاپور اعظم ۔۔ انوشروان (جمشید) ۔۔ خسروپرویز ۔۔ یزدگرد


۔۔ شاہانِ ایران میں فراعین مصر کی طرح بعض اوقات اپنی حقیقی بہنوں اوربیٹیوں سے نکاح کرلیتے تھے۔ 157


صائبیت، مجوسیت:
۔۔ ایرانیوں کے مذہب کو مزدائیت یا مجوسیت کہا جاتا ہے مجوسیت سے پہلے صائبیت یا ستارہ پرستی کا رواج تھا جو بابلیوں کا مذہب تھا۔ 162


مجوسیت کے بنیادی اصول:
۔۔ مجوسیت کے بنیادی اصول تین ہیں؛ ہمتا (پاک خیال)، ہختا (پاک الفاظ)، اور ہووورشتا (پاک عمل)۔ اس کی رُو سے انسان مادی اور روحانی عناصر سے مل کر بنا ہے، جسم فانی ہے اور روح غیر فانی ہے۔ عقل و خرد انسان کی سب سے اعلیٰ اور ارفع قوت ے، اس کے بعد دینا (ضمیر) (حاشیہ: دے نا: یہ لفظ عربی میں دین بن گیا) اردوان(روح) اور فروّشتی (ہمزاد) کی روحانی قوتوں کا درجہ ہے۔ انسان فاعل مختار ہے اور اپنے اعمال کے لئے جوابدہ ہے۔ ۔۔ 166


7 and 16
۔۔ ارتا خشرشیا کے زمانے میں وہ ربّ الافواج بن گیا۔ ہر مہینے کا ساتواں اور سولھواں دن اس کا مقدس دن تھا۔ 168


ایرانی علوم در دریا و آگ:
۔۔ ایرانی قدیم کے علوم و فنون کے ذخیرے بہت کچھ جنگ و جدال میں تلف ہوگئے۔ یہ تباہی اِس قدر مکمل تھی کہ ساسانی عہد سے ایک شعر بھی ہم تک نہیں پہنچ سکا۔ تسخیرِ ایران کے بعد سعد بن وقاص نے حضرت عمر کے کہنے پر ہزاروں کتابیں جو مدائن کے شاہی کُتب خانوں سے دستیاب ہوئی تھی دریا میں بہادیں یا آگ میں پھکودیں۔ 173


۔۔ "موجودہ اشتراکیت اور سوشلزم سے مزدک کی تعلیم کو جو چیز جدا کرتی ہے وہ مزدک کا مذہبی ذہن ہے۔ " 172


انوشروان۔۔ کلیلہ دمنہ ۔۔ شطرنج:
۔۔ شاہان ایران علوم و فنون کے سرپرست تھے ان میں انوشرواں خاص طور سے بڑا علم دوست تھا۔ اُس نے اپنے خاص وزیر برزویہ کو ہندوستان بھیجا جہاں سے وہ کلیلہ دمنہ کا قصہ اور شطرنج کا کھیل لایا۔ ۔۔۔ 174


۔۔ بیل اور شیرببر کے علامتی نشانات خالص ایرانی ہیں۔ 176


۔۔ ایرانی تمیزو شائستگی کے پیکر سمجھے جاتے تھے۔ حد یہ تھی کہ جب بادشاہ کسی کو سزائے موت دیتا تو مجرم جُھک کر شکریہ ادا کرتا کا بارے جہاں پناہ نے میری ذات کو درخورِ توجہ تو سمجھا۔ ۔۔ 177
____________________________________

RTQ - Ch.5 - YUNAN (Greece)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری



باب۔ ۵
یونان:

دنیا کی پہلی ریاست:
۔۔ پانچویں صدی ق م میں دنیا کی پہلی حکومت انیتھینز میں قائم کی گئی۔ 125


۔۔ خشارشیا فاتحانہ ایتھینز میں داخل ہوا تو وہاں ہُو کا عالم تھا۔ اُس نے شہر کو آگ لگا کر خاکستر کردیا۔ بعد میں سکندر نے اِسی کے بدلے میں ایرانیوں کے دارالسلطنت اِصطخر کو نذرِ آتش کا تھا۔ 125
۔۔۔ اس حملے کی فوری وجہ یہ تھی کہ بعض یونانی شرپسندوں نے ساحلِ ایشیا کے ایک معبد کو جو ایرانی عمل داری میں تھا لُوٹ کر جلا دیا تھا۔


ایشیائی فلسفہ ۔ یونانی:
۔۔ یاد رہے یونان جس فلسفے، آرٹ اور سائنس کے لئے مشہور ہوا اُن کا آغاز و ارتقاء خاص یونان میں نہیں بلکہ ساحلِ ایشیا کے اُن باشندوں سے ہوا تھا جو ڈورین قبائل کے حملوں سے بھاگ کر وہاں مقیم ہوئے تھے۔ 129


سوفسطائی:
۔۔ سوفسطائی کا لغوی معنیٰ ہے 'دانش مند'۔ آج کل کہ لفظ حقارت کا مفہوم رکھتا ہے، جو شخص ایک وکیل کی طرح اپنی بات منوانے کے لئے حقائق کو توڑموڑ کر پیش کرے اُسے سوفشطائی کہتے ہیں۔ 133


یونانی برقعہ:
۔۔ یونانی اپنی بیاہتا عورتوں کو پردے میں رکھتے تھے اور انہیں پڑھانا لکھانا غیر ضروری خیال کرتے تھے۔ 147
۔۔تھِکی دیدیس مورخ نے کہا ہے "شریف عورت کو پردے میں رہنا چاہیے۔'


۔۔ جہاں تک عام اخلاق کا تعلق ہے ایرانیوں کو یونانیوں پر برتری حاصل تھی۔ 147
[حاشیہ: آج بھی جوئے میں دھوکا دینے والے کو Greek کہتے ہیں۔ ]
_____________________

RTQ - Ch.4 - BANI ISRAEL

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری



باب ۔ ۴۔
بنی اسرائیل:

۔۔ بنی اسرائیل کو شروع شروع میں عبرانی کہتے تھے۔


ہیکلِ سلیمان:
۔۔ شاہ دائود کی وفات پر جناب سلیمان تخت پر بیٹھے اور سر پر تاج رکھتے ہی بھائیوں کے قتل کا حکم دیا۔ جناب سلیمان کی عہدِ حکومت بنی اسرائیل کی تاریخ کا سب سے درخشاں زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ۔۔۔ چناچہ اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کے لئے جناب سلیمان نے مصر اور کنعان کے سلاطین کی بیٹیوں سے نکاح کیا اور اس طرح انھیں حلیف بنا لیا۔ جب اِس طرف سے اطمینان ہوگیا تو اُنہوں نے ہیکل کی تعمیر پر کمر باندھی۔ ۔۔۔ ہیکل کی عمارت سات برس میں ہوئی تو جناب سلیمان نے اِس خوشی میں بائیس ہزار بیل اور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑیں بھینٹ چڑھائیں۔ 86-87


اسرائیل (یھودیوں) کی تباہی:
۔۔ سلیمان کی موت کی بعد ان کی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی: اسرائیل اور یہوداہ۔ اُن کے بیٹوں رجعام اور یربعام کے درمیان خانہ جنگی چھڑگئی۔ مصر کے فرعون شیشاک نے اِس پھوٹ کا فائدہ اٹھانے کے لئے یروشلم پر چڑھائی کی اور مقدس اور شاہی محل کے خزانوں کو لوٹ کھسوٹ کرلے گیا۔ اسرائیل کے بادشاہ افی اب نے صیدانی شہزادی ایزبل سے شادی کی جس نے اپنے معبود بعل کے لئے مندر تعمیر کرایا اور اس کے مذبح پر قربانیاں کرنے لگے۔ اُس کی دیکھا دیکھی رعایا میں بھی بعل پوجا جڑپکڑگئی جس پر خداوندخدا اپنی برگزیدہ اُمت سے ناراض ہوگیا اور اُس کے دھمکی دی "میں یروشلم کو ایسا پُونچھوں گا جیسے آدمی تھالی کو پُونچھتا ہے اور اُسے پونچھ کر اُلٹی رکھ دیتا ہے۔"
پہلے بنی اسرائیل کی باری آئی۔ سارگن شاہ اشور نے 722 ق م میں حملہ کر کے اسرائیل کو برباد کیا اور اُس کی ساری آبادی کو قید کرکے لے گیا پھر پتا نہ چل سکا کہ اسرائیل کے دس قبائل کا کیا حشر ہوا۔ وہ صفحہ تاریخ سے غائب ہوگئے۔
586 ق م میں بنوکد نضر شاہِ بابل نے یہوداہ پر چڑھائی کی اور سخت مزاحمت کے باوجود فتح پائی۔ بابلیوں نے ہیکل سلیمانی اور شاہی محلّات کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور سونے چاندی کے ظروف اور شمعدان سمیٹ کر لے گئے۔ بنوکدنضر بھی یہوداہ کی ساری آبادی غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا جہاں کم و بیش اسّی برس یہودیوں نے اسیری میں بسر کئے۔ ۔۔۔ شہنشاہ خشرشیا نے ایک یہودی لڑکی استرنامی کو جو حسن و جمال میں یگانہ روزگار تھی اپنی ملکہ بنا لیا اور اُس کے ہم قوموں سے لُطف مے کرم کا برتاؤ کرنے لگا۔ انبیاء بابل کے جلاوطنوں کو ہمت دلاتے رہے اور نجات کی بشارت دیتے رہے۔ کوروش کبیر نے یہودیوں کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی اور مَقدِس سے لُوٹے ہوئے سونے چاندی کے ظروف بھی لوٹادئیے۔ بنی اسرائیل نے وطن واپس آکر ازسرِ نو مقدس تعمیر کیا اور توریت کے مُنتشر اوراق جمع کئے۔ اِس دوران میں یہودیت نے جو شکل و صورت اخیتار کی وہ آج تک باقی و برقرار ہے۔ دو صدیوں تک ایرانی بنی اسرائیل پر عدل و انصاف سے حکومت کرتے رہے۔ سکندر اعظم نے حملے کے بعد یہوداہ یونانیوں کی مُملکتِ شام کا ایک صوبہ بن گئی۔ طویل جدوجہد کے بعد مکابی بھائیوں نے شامی فوج کو شکست دے کر آزادی حاصل کی (165 ق م) کچھ عرصے کے بعد یہودی دو فرقوں میں بٹ گئے۔ فریسی اور صدوقی، جن میں جھگڑا شروع ہوگیا۔ اِس سے فائدہ اُٹھا کر رومہ کے سالار پومپے نے ملک پر قبضہ کرلیا اور ایک یہودی انٹی پیٹر کو گورنر مقرر کردیا۔ انٹی پیٹر، اُس کا بیٹا اور پوتا 39ء ب م تک حکومت کرتے رہے۔ اِس کے بعد یہودیوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت کردی۔ رُومی جرنیل ٹائی ٹس نے فوج کشی کرکے یروشلم کو فتح کیا اور ہیکل کو نذرِ آتش کردیا۔ ہزاروں یہودی قتل ہوے اور بقیۃالسیف کو غلاف بنا کر بیچ ڈالا گیا۔ ابتلا کے اس زمانے میں یہودی بھاگ کر دور دراز کے ممالک میں ہجرت کرگئے اور شمالی افریقہ، بحیرہ روم کے ساحلی شہروں، سکندریہ، رومہ، مغربی یورپ اور ایشیا کے شہروں میں بود و باش اختیار کرکے تجارت اور صرافہ سے کسبِ معاش کرنے لگے۔ بیسویں صدی کے آغاز مین صیہونی تحریک نے زور پکڑا اور 1948ء میں برطانیہ کی مدد سے اسرائیل کی ریاست دوبارہ معرضِ وجود میں آگئی۔ 87-89


بعض انبیاء:
۔۔ انبیاء میں بعض گوشہ نشیں عابد تھے جیسے الیجاہ، بعض مُجرّد تھے اور کُچھ شادی شدہ عیال دار تھے۔ اِن میں کئی بنی عوامی اخلاق کے محافظ تھے اور محتسب کا فرض انجام دیتے تھے؛ کچھ خطیب تھے جو اپنی آتش بیانی سے عوام میں آگ لگا دیتے تھے۔ ناتن اور یاہو نے سیاسیات میں عملی حصہ لیا تھا۔ یہ انبیاء پیش گوئی کرنے کے بجائے حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کیا کرتے تھے۔ وہ اُمراء کے جبر و تشدد کے خلاف احتجاج کرتے اور مساکین کی حمایت میں سرگرمی دکھاتے تھے۔ بیض انبیاء مردِ میدان تھے اور سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے تھے۔ 100


۔۔ جناب ابراہام نناوے برس کے تھے جب اُن کا ختنہ ہوا۔ 104


تورات کی کہانی:
۔۔ علمائے مغرب کے خیال میں تورات 1500 ق م میں لکھی گئی تھی۔ عہدنامہ قدیم کے پہلے پانچ صحیفوں کو یہودی تورات یا قانون کہتے ہیں۔ یہ پانچ صحیفے ہیں: پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استشناء۔ موجودہ عہد نامے میں انتالیس کتابیں ہیں۔ اِن کے علاوہ جو صحیفے ہیں انہیں اصلاح یافتہ کلیسیا نے جعلی قرار دیا ہے۔ زبور جناب داؤد سے منسوب ہے لیکن فی الاصل یہ ایامِ اسیری میں لکھی گئی تھی۔ یہی کیفیت کتابِ ایّوب کی ہے جس میں گہری قنوطیت پائی جاتی ہے۔ ظاہراً یہ بھی قید بابل کی یادگار ہے جب بنی اسرائیل کو اپنی بدبختی اور زبوں حالی کا تلخ احساس تھا۔ ۔۔ تورات کا ایک نسخہ ہیکل میں رہتا تھا جہاں پر ساتویں برس اسے پڑھ کر لوگوں کو سُنایا جاتا تھا۔ ہیکل کئی بار لُٹا اور برباد ہوا اور اس کے ساتھ تورات کے اوراق بھی پریشاں اور منتشر ہوتے رہے۔ قید بابل سے رہائی کے بعد یہودی احبار نے بڑی کاوش سے ادھر اُدھر سے اوراق جمع کر کے ازسرِ نو تورات مرتب کی۔ اس بنا پر بعض علماء کہتے ہیں کہ تورات میں بہت کُچھ تحریف ہوئی ہے اور اس کے بعض حصے الحاقی ہیں۔ مسلمانوں میں امام بخاری اور سر سید احمد تحریف کے قائل نہیں ہیں۔ دوسری مشہور کتاب تالمد ہے جسے روایات اور احادیث کا مجموعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ 106-107


۔۔ قدیم چینیوں کی طرح یہودی اعادہ شباب کے لئے کمسن لڑکیوں سے نکاح کیا کرتے تھے۔۔۔ اس کو 'نسخہ داؤد' یا 'شونمیت کا مَت' کہتے ہیں۔
۔ متعہ کا رواج تھا اور حقِ خلوت دے کر مباشرت کرنا جائز تھا۔
۔ بنی اسرائیل نے عصمت فروشی، لواطت اور فحاشی کو خلافِ قانون قرار دیا۔ 118-120

_____________________________-

Monday, July 5, 2010

RTQ - Ch.3 - KAN'AN (Lebanon)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری


اقتباسات:



باب۔ ۳۔
کنعان:


کنعان۔ فنیقیہ ۔ لبنان:
۔۔ جس ملک کو کتاب مقدس میں کنعان کہا گیا ہے اُسے یونانیوں نے فنیقیہ کا نام دیا تھا۔ آج کل اِسے لبنان کہتے ہیں۔


آرامی زبان:
۔۔ جناب عیسیٰ کی مادری زبان آرامی تھی۔
۔۔ عبرانیوں کی جد امجد جناب ابراہیم آرامی زبان بولتے تھے۔ 64



الف با ۔ لبنانیوں کی ایجاد۔
۔۔ کنعانیوں نے الفبا (الفابیٹ) ایجاد کرکے نوعِ انسان پر احسانِ عظیم کیا۔ 74


۔۔ فُٹ کی 12 انچیں اور شلنگ کے بارہ پنس اُنھیں کے حساب سے ہم تک پہنچے ہیں۔ براعظم یورپ کا نام اُن کی ایک شھزادی یورپا کے نام پر رکھا گیا تھا۔
Phonetics – Phoenician (فنیقی)
کی ہی بدلی ہوئی صورت ہے۔ 78

_________________________________________

RTQ - Ch.2 - MISR (Egypt)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری
آگست 1991

اقتباسات:


باب: ۲
مصر

۔۔ 30 ق م میں قدیم مصر روم کا ایک صوبہ بن کر ہمیشہ کے لیے صفحہ تاریخ سے غائب ہوگیا۔ 42


فرعون آمن ہوتپ (اخناتن) ۔ توحید پرست:
۔۔ فرعون آمن ہوتپ چہارم (1375-1358 ق م) پروہتوں کی دکان آرائی اور ابلہ فریبی کو ختم کرنے کا تہیہ کرلیا۔ راس فرعون کا شمار تاریخِ عالم کی عظیم ترین ہستیوں میں ہوتا ہے۔ اُس نے تخت نسین ہوتے ہی دیوتا آمن کی پرستش کو خلاف قانون قرار دیا، بُت پرستی سے منع کیا اور سیکڑوں دیوداسیوں کو جو مندروں میں عصمت فروشی کرتی تھیں۔۔ باہر نکال دیا۔ اور حکم دیا کہ آمن دیوتا کا نام تمام مذہبی صحائف سے حذف کردیا جائے۔ اُس نے سحر ساحری اور تعویذ گنڈوں کا بھی خاتمہ کردیا۔ اُس نے اعلان کرایا کہ بُت پرستی جُہلا کا شیوہ ہے۔ اُس نے بتایا کہ خدا ایک ہے جو آتن یا روح آفتاب کی صورت میں جوہر حیات اور اصولِ نمو بن کر کائنات میں طاری و ساری ہے۔ آمن ہوتپ نے اپنا نام بدل کر اخناتن رکھا جس کا معنیٰ ہے "جس میں آتن مطمئن ہے"۔
۔۔۔ ۔ وہ کہتا ہے کہ آتن کی تابش زندگی بخشتی ہے وہ شفیق باپ، مہربان ہے، رحیم ہے، امن و آشتی کا خدا ہے، بے رنگ ہے بے صورت ہے۔ اُس نے آتن کے مجسمے تراشنے سے منع کردیا اور تاریخ نوعِ انسان میں پہلی بار بُت پرستی اور کثرت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی۔ ۔۔ (اُس کی وفات کی بعد) اُس کا دین بھی اُسی کے ساتھ ختم ہوگیا۔ 47


۔۔ (مصری) تابوت ایسے حسین تراشتے تھے کہ انہیں دیکھ کر آدمی کا مرنے کو جی چاہنے لگے۔ 51


مصری خاص ایجادیں:
۔۔ مساحت (جیومیٹری)، پپائرس پر لکھنا، ہیرغلیفی خاص مصریوں کی ایجاد تھیں۔ 52-53


پولیس:
۔۔ مصریوں کے پولیس کا محکمہ نہیں تھا۔
[جبکہ سُمیریوں کے پاس تھا]
جرائم کی تفتیش محلّے یا شہر کے لوگ خود ایسی مستعدی سے کرتے تھے کہ جرم کا اخفاء یا مجرم کا فرار ناممکن تھا۔ 55


رع مسیس ثانی (خروج کا فرعون)
۔۔ رع مسیس ثانی کو خروج کا فرعون سمجھا جاتا ہے اس کے عہد میں جناب موسیٰ نے نبوت کا اعلان کیا۔ رع مسیس کے حرم میں سیکڑوں باندیاں تھیں۔ وہ ایک سو بیٹے اور پچاس بیٹیاں چھوڑ کر مرا۔ 42
۔۔ رع مسیس ثانی نے یکے بعد دیگرے اپنی کئی بیٹیوں سے نکاح کیا تھا۔ 56


نصائح پٹاح ہوٹپ:
۔۔ بعض مورخین کے خیال میں فلسفے کی قدیم ترین کتاب 'نصائح پٹاح ہوٹپ' ہے جو کم و بیش تین ہزار برس کی پرانی ہے۔ 52
______________________________

RTQ - Ch.1 - IRAQ (Sumerian)

روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری
آگست 1991

اقتباسات:

باب۔ ۱
عراق (سُمیرین)

سُمیری:
۔۔ شروع شروع میں سُمیریوں کو اکّادی کہا جاتا تھا لیکن فرانسیسی عالم ژولے اوپرت نے انہیں سُمیری کا نام دیا اور یہی نام دُنیائے علم میں رواج پاگیا۔ سمیریوں کا اصل و نسل کا راز ہنوز پردہ خفا میں ہے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آئے تھے۔ البتہ یقینی بات یہ ہے کہ وہ سامی الاصل نہیں تھے۔ 12


۔۔ جناب مسیح کی پیدائش سے تین ہزار برس قبل سُمیریوں نے کانسی کے ہتھیار اور اوزار بنانا شروع کردیئے تھے جو تانبے کے ہتھیاروں سے زیادہ مضبوط تھے۔ 13


۔۔ سمیریا کے بحری جہاز وادئ سندھ میں بھی جاتے تھے۔ 14


۔۔ دائیں سے بائیں لکھنے کا رواج تھا۔ بعد میں بابلیوں نے بائیں سے دائیں لکھنا شروع کیا۔ 15


۔۔ ہم نے دائرے کو 360 درجوں میں تقسیم کرنا سمیریوں ہی سے سیکھا ہے اور درجن کا تصور بھی اُنھیں سے ماخوذ ہے۔ اِسی طرح دن رات کو گھنٹوں، دقیقوں اور ثانیوں میں تقسیم کرنا سُمیریوں سے لیا گیا ہے۔ 15


۔۔ سمیریوں میں ذاتی املاک کا تحفظ کا شدید احساس تھا۔ وہ اپنی تمام اشیاء حتٰی کہ ملبوسات اور جوتوں کی فہرستیں بھی بناتے تھے۔ 15


حمورابی کے قوانین:
۔۔ قوانین بھی پہلے پہل سمیریوں نے مرتّب و مدوّن کئے تھے۔ حمورابی کا ضابطہ قوانین جو سُوسہ کے آثار سے برآمد ہوا ہے سُمیری الاصل ہے۔ 16


۔۔ (گِل گامش) رزمیہ کا شمار دینا کے قدیم ترین نظموں میں ہوتا ہے۔ 17


۔۔ سارگن کی پیدائش کی کہانی کوروش کبیر، کرشن، رومولس اور جناب موسٰی کے احوال سے ملتی جلتی ہے، یعنی اُس کی ماں نے پیدا ہوتے ہی اُسے ٹوکری میں رکھ کر دریا میں بہا دیا تھا جہاں ایک ملّاح نے ترس کھا کر اُسے نکالا اور اس کی پرورش کی۔ 22


حمّورابی کو پکارا:
۔۔ قانون کی تاریخ میں یہ ایک انقلاب آفریں اِقدام تھا۔ بحیثیتِ مجموعی اسے عہدِ قدیم کا جامع ترین ضابطہ قوانین سمجھا جاسکتا ہے۔ حمورابی کا دعویٰ تھا کہ یہ ضابطہ اُسے خداوند خدا نے خود عطا کیا تھا۔ چناچہ ایک نقش میں حمورابی کو دیوتا سے یہ ضابطہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اِس ضابطہ کا اصل منشا بے شک ذاتی املاک کا تحفظ ہے لیکن اس میں زیردستوں اور کمزوروں کے حقوق کی پاسبانی بھی کی گئی ہے۔
حمورابی ضابطے کے دیباچے میں کہتا ہے
"اِس وقت دیوتائوں نے اپنے اِس خدمت گار حمّورابی کو پکارا جو نیکوکار تھا، محتاجوں کی مدد کرتا تھا جس نے ملک کو خوشحالی بخشی، جس نے طاقت وروں کو کمزوروں پر ظُلم کرنے سے روکا۔ دیوتاوں نے اُسے پکارا کہ عوام کی بہبود میں اضافہ کرے۔"


۔۔ بابل دو ہزار برس تک تمدّن عالم کا مرکز بنا رہا۔ 29


کلیجہ : روح
۔۔ انسانوں اور حیوانوں میں کلیجے کو روح اور ذہن کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ جادوگرنیاں راستے چلتے کا کلیجہ نکال لیتی تھیں۔ 31


۔۔ مقدس عصمت فروشی کا یہ کاروبار بابل میں 325ء بعد از مسیح تک جاری رہا۔ 34


۔۔ صائبین دن رات میں سات نمازیں پڑھتے تھے جن میں رکوع و سجود کرتے تھے ۔۔۔ نماز پڑھنے سے پہلے وہ باقاعدہ وضو کرتے تھے۔ سورج گرہن، چاند گرہن اور جنازے کی نمازیں بھی پڑتھے تھے۔ 38
___________________

Ravayat-e-Tamaddun-e-Qadim - Intro

RAVAYAT-E-TMADDUN-E-QADIM
ALI ABBAS JALALPURI
1991



روایاتِ تمدّنِ قدیم
علی عباس جلالپوری








مشمولات:

پیش لفظ
۱۔ عراق
۲۔ مصر
۳۔ کنعان
۴۔ بنی اسرائیل
۵۔ یونان
۶۔ ایران
۷۔ ہند
۸۔ چین


A Book About Ancient Civilizations.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...