FIKRism

Showing posts with label Sibt. Show all posts
Showing posts with label Sibt. Show all posts

Saturday, June 5, 2010

Afkare Tazah - Shah Latif

Some Excerpts from Afkare Tazah:
شاه عبدالطيف ڀٽائي

۔۔ شاہ صاحب علوم متداولہ سے بخوبی واقف تھے اور اس روایت میں بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کہ مثنوی مولانا روم اور عطارد و حافظ کے دیوان برابر ان کے مطالعے میں رہتے تھے۔ شاہ لطیف نے اپنے رسالے میں مولانا روم کی تقلید پر بڑا زور دیا ہے۔ 32

۔۔ ورنہ شاہ لطیف کا سا ذہین اور ذکی الحس شاعر جس نے فرنگی سوداگروں تک کا تذکرہ کیا ہے ملکی واقعات کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا۔ 34

۔۔ شاہ لطیف ایک آزادانہ منش درویش تھے۔ شاعری ان کا ذریعہ معاش نہ تھی وہ ۔۔۔ 34-35

۔۔ شاہ لطیف کو اس کی قطعاً پرواہ نہیں کہ ان کی داستانوں کے کردار ہندو ہیں یا ملسمان وہ تو فقط یہ دیکھتے ہیں کہ یہ شخصیتیں حقیقت کے اظہار میں کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ خودشناسی اور عرفانِ ذات کی کس منزل میں ہیں۔ 36

۔۔ اس کے برعکس شاہ ۔۔۔ 40

۔۔ انسان جبتک خودشناسی کے راز ۔۔۔ 41-42

۔۔ ۔۔۔ ایسا مرقع جس سے تاریخ سندھ کی کتابیں خالی ہیں ۔ 43

۔۔ تہذیبی تصادم سندھ کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ جس ملک میں بھی مختلف تہذیبی وحدتیں یکجا ہوگی وہاں تصادم کا ہونا قدرتی امر ہے۔ 45

۔۔ اس تہذیبی امتزاج کا تجربہ سب سے زیادہ سندھ کو ہے ۔۔۔
دراصل سندھی تہذیبوں کی میل جول سے ہی اٹھا ہے۔ 47

۔۔ دوسری جنگ عظیم میں فاشزم کی شکست ۔۔۔ 170

____________________

Friday, June 4, 2010

Afkar-e-Tazah by Sibt

AFKARE TAZA - افکارِ تازہ
Sibte Hassan
3rd Edi.- 2009



ایک فکری کتاب جو کہ اپنے نام سے بالکل انصاف کرتی ہے۔

مشمولات:

۱۔ امیر خسرو ۔ ایک عظیم تہذیبی ورثہ
۲۔ شاہ عبدالطیف کی شاعری
۳۔ داغ کی شخصیت اور شاعری
۴۔ دورِ مشروطہ کی شاعری
۵۔ منشی پریم چند ۔ کسان اور آزادی
۶۔ جوش ۔ تفکر پسند شاعر
۷۔ علامہ نیاز فتحپوری اور حریت فکر
۸۔ فراق گور کھپوری
۹۔ پاکستانی صحافت پر مولانا عبدالماجد دریابادی کے اعتراضات کا تجزیہ
۱۰۔ نئی بربریت کا پیمانہ امروز و فردا: تھامسن مان پر کیا گزری
۱۱۔ حسرت صاحب اور ان کے نظریات
۱۲۔ انکار کی جرأت
۱۳۔ عسکری صاحب کی جدیدیت
۱۴۔ سردار جعفری


Afkar-e-Tazah Naveed-e-Fikr ki sath dono esi Fikri kitaben hyn ke jin ko agar blog per dalna ho to poori k poori book ko hi upload karna parega.


Wese to ooper Mashmoolat se pata chalta hy ke kitab kis topics per hy per in topics main ek achhi baat jo in topics se hat kar hy ye ke khud Sibt-e-Hassan ke Afkar ka pata chalta hy, bulke khud Sibte Hassan ka pata chalta hy.
____________________

Sunday, May 30, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch. 14 (Last)

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 14 - 1980 Ke Baad Iran Per Kya Guzri

Excerpts:


باب: ۱۴: ۱۹۸۰ء کے بعد ایران پر یا گزری

۔۔ ایرانی انقلاب کا تقاضا تھا کہ ملک کی اقتصادیات کو غیر سرمایہ دارانہ خطوط پر ترقی دی جائے لیکن اربابِ اقتدار نے ملکی معیشت کو مغرب کے سرمایہ دار ملکوں کو دستِ نگر بنادیا ہے۔ ان ملکوں سے اشیائے صرف کی بے تحاشا درآمد ہورہی ہے اور زرمبادلہ کیادائیگی کے لیے تیل کی پیداوار کو جاپان اور مغربی ملکوں کے ہاتھ فروخت کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایران کی صنعتی پالیسی غیر ملکی اجارہ دار کمپنیوں کے مفاد کے تابع ہوگئی ہے۔ امریکہ سے براہِ راست تجارت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا یہ سودا ترکی کے ذریعے ہوتا ہے۔ ۱۸/جنوری ۱۹۸۳ء کے اخبار 'کیہان' کے بقول وزیرِ روغنیات غزازی نے کہا کہ ترکی سے ہماری تجارت ۸۰ کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو شاہ کے زمانے کے مقابلے میں ۴۰ گنا زیادہ ہے۔ یہ سارا کاروبار امریکی کمپنیوں اور اُن کے گماشتوں کے قبضے میں ہے۔ وہ ترکی میں بیٹھ کر امریکی مال ایران کو فراہم کرتے رہتے ہیں۔ اس طرزِ تجارت کو جس میں ترکی کی حیثیت دلال سے زیادہ نہیں 'اسلامی کامن مارکیٹ' کا نام دیا جاتا ہے۔ اور وزیرِ روغینات فرماتے ہیں کہ 'اسلامی کامن مارکیٹ قائم کرکے ہم امپیرئیل ازم سے ٹکر لے سکیں گے۔' حلانکہ اس نام نہاد اسلامی مارکیٹ کے ساری معیشت امپیرئیلسٹ ملکوں کے دامن سےبندھی ہوئی ہے۔ اسلام بیچارہ ان دنوں ہر شخص کا تکیہ کلام بن گیا ہے۔ بینک ہوں، بیمہ کمپنیاں ہوں، ہوٹل ہوں، تعمیراتی کمپنیاں ہوں، ان کے نام کے آگے اسلامی لکھ دو، وہ مشرف بہ اسلام ہوجائیں گی۔ 296-297
____________

Saturday, May 29, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.13

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 13 - Irani Inqilab Kidhar?

Excerpts:


باب: ۱۳: ایرانی انقلاب کدھر؟

۔۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایرانی انقلاب کے قائد خمینی صاحب تھے اور انقلاب میں شرکت کرنے والے تمام عناصر نے ان کی قیادت کو خوشی سے تسلیم کر لیا تھا لیکن یہ دعویٰ تاریخی اعتبار سے غلط ہے کہ انقلابی جنگ اسلام کے نام پر لڑی گئی تھی۔ 271


شیعہ انقلابی مذہب ہے:
۔۔ شیعہ مذہب انقلابی مذہب ہے جو شیعوں کو دورِ حاضر کے یزیدوں کے خلاف جہاد کی دعوت دیتا ہے۔
۔۔ شیعہ مذہب دراصل احتجاجی مذہب ہے جس کے محرکات سیاسی تھے۔ شیعوں کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ رسولِ خدا(ص) مسلمانوں کے روحانی پیشوا بھی تھے اور دنیاوی امور کے سربراہ بھی۔ یعنی آنحضرت (ص) کی ذات خلافت اور امامت دونوں کی امین تھی۔ ان کی وفات کے بعد یہ منصب حضرت علی کو ملنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا اور اسی سے مسلمانوں کے اندر تفریق کی ابتدا ہوئی۔ جن لوگوں کا خیال تھا کہ خلافت کے مستحق حضرت علی تھے وہ شیعیان علی کہلائے۔ یہ نزاع حضرت علی کے بالآخر خلیفہ ہونے پر ھی ختم نہیں ہوئی بلکہ امام حسین کی شہادت کے بعد مستقل صورت اختیار کرگئی اور شیعیانِ علی باقاعدہ ایک مذہبی فرقہ بن گئے۔
شیعون کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ امامت حضرت علی کے جانشینوں کا حق تھی جو نسلاً بعد نسل باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی رہی۔ بارہویں اور آخری امام مہدی تھے۔ ان کو صاحب الامر بھی کہتے ہیں۔ وہ بچپن ہی میں سامرہ (عراق) کے ایک غار میں غائب ہوگئے تھے۔ مگر شیعہ عقائد کے مطابق وہ ہنوز زندہ ہیں اور دنیا میں جب فسق و فجور بہت بڑھ جائے تا تو دوبارہ ظہور کریں گے۔ البتہ ان کی عدم موجودگی (غیبت کبریٰ) میں مجتہد حضرات نائب امام کی حیثیت سے شیعوں کی رہبری کے فرائض انجام دیں گے لیکن فقط شرعی امور کی حد تک۔ 272


۔۔ 1502ء میں جب صفویوں نے شیعہ مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا تو شیعہ علما وہی کردار ادا کرنے لگے جو زرتشتی موبدوں کا ساسانی عہد میں تھا۔ اسی بنا پر ڈاکٹر علی شریعتی ایرانی ملاون کو شیعیان علی کی بجائے 'شیعیان صفوی' کہتے ہیں۔

خمس:
۔۔ ایران میں خمس کا رواج بھی ہے جو آمدنی کا پانچواں حصہ ہوتا ہے، یہ رقم مجتہدوں ہی کے ذریعے مستحقین میں تقسیم کی جاتی ہے۔ 274


مسائل ۔ نہ مغربی نہ مشرقی:
۔۔ انقلابی تحریک شروع ہوئی تو شاہ کا کہنا تھا کہ ساری شرارت مولویون اور کمیونسٹوں کی ہے ورنہ عوام کو حکومت سے کوئی شکایت نہیں۔ یہی عذر لنگ اب خمینی صاحب پیش کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے سارا فساد مغرب پرست 'طاغوتیوں' کا ہے۔ حلانکہ مسائل ملکی حالات سے پیدا ہوتے ہیں اور عوام کو عمل پر مجبور کرتے ہیں۔ کوئی نہ کسی کو بھڑکاتا ہے نہ مسائل پیدا کرتا ہے۔ قومی خود مختاری کا مسئلہ، انسانی حقوق کا مسئلہ، جمہوری آئین کا مسئلہ، بے روزگاری کا مسئلہ اور مہنگائی کا مسئلہ، نمائندہ حکومت کا مسئلہ، یہ سب سماجی مسائل ہیں۔ ان کا تعلق نہ مغرب سے ہے نہ مشرق سے۔ ان کا حل کیے بغیر نہ تھیوکریسی کے قدم جم سکتے ہیں اور نہ جمہوریت کامیاب ہوسکتی ہے۔ 278-279


۔۔ ایران کے موجودہ حکمران، ملک میں ایک ایسا نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو کہنے کو تو اسلامی ہوگا لیکن فی الواقع تنا ہی آمرانہ ہوگا جتنا شاہی نظام تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔283
_______________

Friday, May 28, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.11,12

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapters: 11-12 - Ek Qadam Aage Do Qadam Peechhe

Excerpts:


باب: ۱۱۔ ۱۲: ایک قدم آگے دو قدم پیچھے

عجیب بات ہے:
۔۔ عجیب بات ہے کہ جہاں کہیں اسلامی نظام رائج کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، وہاں سارا زور سزائوں پر صرف ہوتا ہے۔ شراب پینے والوں کو کوڑوے لگائے جاتے ہیں، چوری کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دئیے جاتے ہیں اور زانیوں کے سرقلم ہوتے ہیں۔ خمینی صاحب کے اسلامی نظام میں میں توکئی پیشہ ور عورتوں کو بھی گولی ماری جاچکی ہے البتہ خمینی صاحب اور ان کے رفقا نے کبھی یہ دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ لوگوں کو روٹی روزگار میسر ہے یا نہیں، بیماروں کے لیے دوا علاج کا انتظام ہے یا نہیں، لڑکے لڑکیوں کے لیے درسگاہیں موجود ہیں یا نہیں، دردمندی، رحم اور عفو جیسے الفاظ ان کی لغت سے خارج ہیں لیکن سزائوں سے نہ معاشرے کی تطہیر ہوتی ہے اور نہ لوگوں کے روزمرہ کے مسائل حل ہوتے ہیں۔ 227


۔۔ لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کردیا کہ رفسنجانی، خلخالی اور دائیں بازو کے دوسرے انتہا پسند عناصر جو کچھ کرت ہیں اس میں خمینی صاحب کا اشارہ ضرور شامل ہوتا ہے۔ شوشلزم اور کمیونزم تو الگ رہے، جمہوری آزادی کے خلاف بھی جو اقدامات ہوئے ہیں ان سے خمینی صاحب پوری طرح باخبر تھے۔ اب خمینی صاحب وہ خمینی صاحب نہ تھے جن کو یہ غم ستاتا رہتا تھا کہ 'شاہ نے اظہار خیال اور پریس کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا ہے۔' (۶ نومبر ۱۹۷۸ء) اور نہ وہ خمینی صاحب تھے جو ایرانیوں سے وعدہ کرتے تھے کہ 'اسلامی ری پبلک میں عورت مرد دونوں کو مساوی آزادی ملےگی اور شہری حقوق بحال کیے جائیں گے۔' اب تو ان کے کسی فیصلے سے ہلکا سا اختلاف بھی ناقابل معافی جرم تھا اور ان کی حکومت پر اعتراض ملک سے غداری۔ 229

مولوی حضرات
۔۔ مولوی حضرات خواہ پاکستان کے ہوں یا ایران کے، اسلامی نظام کی ثناء و صفت میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں مگر جب اسلامی نظام کو عملی شکل دینے کا وقت آتا ہے تو مغربی ملکوں کے آئین و قوانین کی نقالی میں ذرا بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے۔ مثلاً ایران کے آئین کے اس مسودے کا موازنہ ۔۔ فرانس کے آئین سے کیجئے تو صاف معلوم ہوگا کہ فرانسیسی آئین کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ البتہ اس کوشش میں فرانسیسی آئین کی خوبیاں پر تو سیاہی پھیر دی گئی ہے مگر اس میں جو خامیاں ہیں ان کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے خمینی صاحب نے اپنی ذات کو پیشِ نظر رکھ کر یہ مسودہ تیار کروایا ہے۔ 233


صدر = ڈکٹیٹر:
۔۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے علاوہ صدارتی نظام کا تجربہ کہیں کامیاب نہیں ہوا ہے بلکہ جنوبی امریکہ، افریقہ، اور ایشیا میں جہا کہیں صدارتی نظام رائج ہے، صدر ڈکٹیٹر بن گیا ہے۔ 234

۔۔ خمینی صاحب کے دستِ راست کہہ چکے ہیں کہ انقلاب مُلا لائے تھے لہذا وہی ملک پر حکومت کریں گے۔ 234

بندوق میرا گھنہ:
۔۔ کُرد بڑی جفاکش اور بہادر قوم ہے۔ ہمارے سرحدی پٹھانوں کی طرح کُرد بھی بندوق رائفل کو مرد کا زیور سمجھتے ہیں۔ 241


سستے تربوز۔۔۔
۔۔ ایران بڑا دولت مند ملک ہے۔ اس کے وسائل اتنے وافر ہیں کہ لوگوں کو اگر اپنے اقتصادی حالات سدھارنے کا موقع ملا ہوتا تو ایران میں آج نہ کوئی بھوکا ہوتا نہ بے روزگار لیکن جہاں استحصال اور زر پرستی زندگی کا نصب العین بن جائے وہاں امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہوتے جاتے ہیں اور کرپشن، لوٹ، رشوت اور مہنگائی کی بدولت زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ یہی اقتصادی زبوں حالی ایرانی انقلاب کا سبب بنی۔ اب کوئی لاکھ کہے کہ 'ایرانیوں نے اسلام کے لیے خون کی قربانی دی تھی، سستے تربوزوں اور مکانوں کے لیے نہیں۔' (خمینی ۸ ستمبر) واقعہ یہی ہے کہ ایرانیوں نے روزمرہ کی پریشانیوں سے عاجز آکر انقلاب میں شرکت کی تھی۔ خمینی صاحب فرماتے ہیں کہ 'یہ بات بالکل ناقابلِ فہم ہے کہ کوئی شخص اپنے بیٹے کو سستی روٹی کے لیے قربان کردے۔' مگر اس قسم کی طنز آمیز باتیں وہی شخص کرسکتا ہے جو زندگی میں کبھی بھوکا نہیں رہا یا جس نے کبھی اپنی محنت سے روٹی نہیں کمائی۔ خمینی صاحب کے اس بیان سے کیا ہم یہ نتیجہ نکال لیں کہ اسلامی نظام کو عوام کے دکھ درد سے کوئی دلچسپی نہیں؟ کیا خمینی صاحب کا اسلام یہ چاہتا ہے کہ سستے تربوز فقط اہلِ ثروت ہی کے دسترخوان پر نظر آئیں؟ کیا خمینی صاحب کا اسلام یہ چاہتا ہے کہ فقط دولت مند طبقہ مکانوں میں رہے اور غربا آسمان کی کھلی چھت کے نیچے سوئیں؟


۔۔ صنعتی یا تجارتی اداروں کو قومی ملکیت بنا لینا چنداں دشوار نہیں ہوتا البتہ ان کو خوش اسلوبی سے چلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ نجی صنعت کاروں میں لاکھ عیب سہی مگر وہ اپنے کاروبار کے گُر ضرور جانتے ہیں۔ سرمایہ کہاں سے آئے، کچا مال کب اور کہاں سے خریدا جائے، مزدوروں سے کیسے نمٹا جائے، اور مال کی نفع بخش نکاسی کیے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں، وہ ان سب مسائل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ 259


۔۔ خمینی صاحب جس حکمت عملی پر کاربند ہیں اس کی موجودگی میں نظم و ضبط قائم نہیں ہوسکتا اور نہ ملک کی تعمیرِ نو کا کوئی منصوبہ بن سکتا ہے۔
۔۔ خمینی صاحب 'طاغوتیوں' کو کیفر کردار تک پہنچانے اور قوم کا اخلاق درست کرنے میں اس درجہ مصروف ہیں کہ ان کو ملک کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی اور نہ وہ ان مسائل کو اہمیت دیتے ہیں۔ کیونکہ 'سستی روٹی اور سستے تربوزوں' کا مطالبہ ان کے نزدیک انقلاب دشمنوں کا مطالبہ ہے، شاہ پسندوں کی شرارت ہے، کمیونسٹوں کی سازش ہے۔ 260

_______________

Thursday, May 27, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.9,10

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 9,10

Excerpts:


باب: ۹: انقلابی ہلچل

[1976-1977 کا بجٹ]
۔۔ ایران اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا چناچہ رسالہ میڈ اُس وقت کی ایرانی معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ 'اگر خمینی نہ ہوتے اور انقلاب نا آتا بلکہ شاہ بدستور اپنے محل میں مقیم ہوتے تب بھی ایرانی معیشت کی عمارت اس سال کے موسم گرما تک دھماکے کے ساتھ زمین پر گر گئی ہوتی۔۔۔۔ شاہ کی معیشت ایک غبارہ تھی جس میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھردی گئی تھی اور بس اس کا انتظار تھا کہ کوئی اس کو چھودے۔ شاہ کو انقلاب کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس نے شاہ کو شرمندگی اور خجالت سے بچالیا۔' ۔191


۔۔ محمد شاہ رنگیلا تو خواہ مخواہ بدنام تھا۔ وہ بے چارہ تو رضا شاہ پہلوی کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ 192


اور آخر وہ دن آہی گیا:
۔۔ اور آخر وہ دن آہی گیا۔ ۲۹ جنوری کی شام کو شاہ نے محل کے عملے کو اپنی روانگی سے مطلع کیا۔ ۳۰ جنوری کو وہ پریس کانفرنس کرنے والا تھا لیکن مصاحبوں نے مشورہ دیا کہ چلتے وقت بھڑکے چھتے کو نہ چھیڑیں لہذا شاہ اپنی 'محبوب رعایا' کو بتائے بغیر چپکے سے قاہرہ روانہ ہوگیا۔ ۵۳ سالہ پہلوی آمریت کاغذی محل کی طرح زمین بوس ہوگئی۔
اُس دن تہران میں بڑی سردی تھی اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہورہی تھی مگر سہ پہر میں جونہی ریڈیو سے اعلان ہوا کہ شاہ اور شاہ بانو قاہرہ چلے گئے۔ سارا شہر سڑکوں پر نکل آیا۔ لوگ خوشی سے ناچ رہے تھے، گلے مل رہے تھے۔ ایک دوسرے کو فتح کی مبارک باد، دے رہے تھے۔ پھول برسائے جارہے تھے۔ مٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں۔ فوجیوں نے اپنی توپوں، ٹینکوں اور رائفلوں پر، جو کل تک آگ اگل رہی تھے کارنیشن کے پھول سجا لیے تھے۔ شہر میں جہاں کہیں شاہ یا اس کے باپ کا مجسمہ نظر آتا لوگ اس کو جوتوں کا ہار پہناتے اور کھینچ کر نیچے کرادیتے۔ شام ہوتے ہوتے ایک مجسمہ بھی سلامت نہیں بچا۔ 204


خمینی کمیونسٹ دشمن:
۔۔ امریکی حکومت خمینی صاحب کی کمیونسٹ دشمنی سے بخوبی آگاہ تھی۔ 210


باب: ۱۰: انقلابِ ایران کے محرکات و اسباب
_______________

Wednesday, May 26, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.6,7,8

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapters: 6,7,8

Excerpts:
Align Right
باب: ۶: پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے

باب: ۷: پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں

باب: ۸: ایران کی شوشلسٹ تحریک

۔۔ 'روس کا سوشلسٹ انقلاب تاریخِ انسانی میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ اس انقلاب نے خاص طور پر کشور ایراں کی سرنوشت پر اور یہاں کے سیاسی اور اقتصادی حالات پر گہرا اثر ڈالا۔ بلکہ یہ انقلاب ایران کی آزادی اور داخلی اور خارجی سیاست کو متاثر کرنے والے عوامل میں سے تھا۔ انقلابِ روس دراصل ایران کی آزادی کی بقا کا باعث ثابت ہوا۔ اگر یہ انقلاب برپا نہ ہوتا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو کیا کیا صدمے برداشت کرنے پڑتے اور آج ایران اور ترکی کا وجود بھی نہ ہوتا۔' (آقا یحییٰ آرین پور) ۔ 164

۔۔ بالشویک پارٹی نے جس کا مسلک ابتدا ہی سے محکوم اور نیم محکوم ملکوں کی مکمل آزادی تھا۔۔ 164


۔۔ ابتدا میں وہ [رضا خان] کمال اتاترک کی مانند ایران کو ری پبلک بنانے کے حق میں تھا لیکن قم کے مجتہدوں نے ۲۹ مارچ ۱۹۲۴ کو فتویٰ دیا کہ اسلام ری پبلک کی اجازت نہیں دیتا، تو رضا خاں کو بادشاہ بننے کا بہانہ ہاتھ آگیا۔ 169

۔۔ اس وقت سے ایران میں ۱۱ مئی کا دان سیاسی قیدیوں کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 173

۔۔ 'ایران کے شیعہ مذہبی رہنما جو نچلے اور درمیانہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں ظاہر ہے کہ ملک کی صورت حال اور عوام کی زبوں حالی سے لاتعلق نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ عوام کو آمریت کے خلاف ابھارنے پر مجبور تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں مختلف عناصر آمریت کے خلاف احتجاجی تحریک میں ازخود شامل ہوگئے ہیں۔' (ایرج سکندری) ۔۔ 177

۔۔ 'ہم کو موجودہ تحریک کی مذہبی زبان اور مذہبی نعروں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سیاسی اور سماجی ہے اور اس میں مزدور طبقہ پیش پیش ہے اور سرکاری ملازمین اور شہری نوجوان بہ کثرت شامل ہیں۔' (حمید سفری)۔ 184
_____________

iNQILAB-e-iRAN - Ch.5

iNQILAB-e-iRAN
Sibte Hassan

Chapter: 5 - Amrici Amal Dakhal

Excerpts:


باب: ۵: امریکی عمل دخل

مغربی تہذیب
۔۔ مغربی تہذیب کوٹ پتلون پہننے، کانٹا چُھری استعمال کرنے یا نائٹ کلب میں ناچنے کا نام نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب و تمدن کی اصل اساس صنعتی انقلاب ہے، یعنی فیوڈل ازم کے پیداواری طریقوں اور سماجی رشتوں کی تنسیخ اور مشینی صنعتوں اور سرمایہ داری رشتوں کی ترویج۔ مغربی تہذیب عبارت ہے جمہوری طرزِ حکومت اور عوام کے شہری حقوق سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے، مغربی تہذیب عبارت ہے سائنسی اندازِ فکر و عمل سے اور اگر ان لوازمات کو معاشرے سے خارج کردیا جائے تو پھر مغربی تہذیب خالی خولی شعبدہ بازی رہ جاتی ہے۔ 122


۔۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے امریکی سرمایہ داروں کی مخصوص شکارگاہ جنوبی امریکہ تھا اور مشرقِ قریب کو برطانیہ کی اجارہ داری خیال کیا جاتا تھا۔ مصر، فلسطین، اردن، یمن، عراق اور خلیج فارس کی ریاستیں سب برطانیہ کی زیر نگین تھیں۔ ایران کے تیل کے چشمے انگریز کمپنیوں کے تصرف میں تھے حتٰی کہ سعودی عرب کو بھی جو، اب دنیا کے سب سے دولت مند ملکوں میں شمار ہوتا ہے، برطانیہ کی طرف سے سالانہ وظیفہ ملتا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران میں ایک طرف برطانیہ کی اقتصادی اور سیاسی قوت روز بروز گھٹتی گئی۔ دوسری طرف امریکہ کی صنعتی پیداوار بالخصوص اسلحوں کی پیدواور میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور تیل کی مانگ بھی بہت بڑھ گئی۔ لہذا نئے علاقوں کو زیر اثر لانا 'ضروری' ہوگیا۔ 123


۔۔ امریکہ کی فوجی امداد ایشیا اور افریقہ میں ہر جگہ عوامی تحریکوں کو کچلنے ہی کے کام آئی ہے۔ 125


خارجہ حکمت عملی
۔۔ بات یہ ہے کہ سامراجی طاقتیں اپنی خارجہ حکمت عملی وضع کرتے وقت دوسرے ملکوں کے عوام کو اور ان کے جذبات و احساس کو بالکل خاطر میں نہیں لاتیں۔ وہ تو فقط یہ دیکھتی ہیں کہ فلاں ملک کے پاس فوج اور پولیس کتنی ہے؟ اس کو اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ اس کے حکمراں طبقے کا جھکاو کدھر ہے؟ اوراس کے فوجی اور سویلین افسروں کے سیاسی نظریات کیا ہیں؟ اگر یہ سماجی عناصر جمہوریت اور سوشلزم کے مخالف ہوں تو سامراجی طاقتیں ان کو مزید تقویت پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ عوام ان سماجی عناصر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس سے سامراجی طاقتوں کو چنداں سروکار نہیں ہوتا۔ مگر جو خارجہ حکمت عملی عوامی قوتوں کو نظر انداز کرکے وضع کی جاتی ہے وہ ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔ چناچہ امریکی سامراج نے یہی غلطی ویت نام میں کی۔ یہی غلطی کیوبا اور انگولا میں کی اور یہی غلطی ایران میں کی۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اس حکمت عملی کے سوا کوئی دوسری حکمت عملی اختیار ہی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اگر عوام کے حقوق، مفادات اور جذبات و احساسات کا احترام کرے تو وہ سامراجی طاقت نہیں رہ سکے گا۔ 136


روحِ انسانی
۔۔ 'امریکائی اگورت را از ایران گم کن'،'نابود باد اتحاد نظامی با امریکہ۔' 'جاسوسان سیا (سی۔آئی۔اے) را از ایران بیرون کنید'،'امریکہ حق مداخلہ در ایراں ندادرد' جیسے نعروں سے گونجنے لگے تو امریکی مبصرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نپولین نے ایک بار کہا تھا کہ دنیا میں فقط دو طاقتیں ہیں، ایک تلوار اور دوسرے روحِ انسانی۔ ان کے درمیان جب تصادم ہوتا ہے تو ہار آخرکار تلوار کی ہوتی ہے۔ ایران میں امریکہ کی شکست کا اصل سبب یہی تھا کہ وہ روحِ انسانی سے برسر پیکار تھا۔ 137
_______________

Tuesday, May 25, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Ch.4

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan

Chapter: 4: Pehlvi Ryasat Ka Kirdar

Excerpts:

باب: ۴: پہلوی ریاست کا کردار

۔۔ یوں تو کہنے کو ایران 1906 کے آئین کے رو سے ایک آئینی ملوکیت تھا اور بادشاہ کی حیثیت آئینی سربراہ کی تھی لیکن اس آئین کا احترام نہ کبھی قاچاریوں نے کیا اور نہ پہلویوں نے۔ 95

۔۔ پہلوی ریاست تھی تو سرمایہ دار ریاست مگر اپنی معیشت کے نوآبادیاتی کردار کے باعث وہ حقیقی معنی میں آزاد اور ترقی یافتہ صنعتی ریاست کبھی نہ بن سکی۔ 97

۔۔ 1959 میں ایران میں جو لیبر قانون نافذ ہوا وہ ہٹلر اور فرانکو کے لیبر قوانین کا چربہ تھا۔ 111

۔۔ اس علاقے میں تیل کا سارا کاروبار امریکی اور برطانوی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ [کویت، یمن، بحرین، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات (ابوظہبی، دبئی، شارجہ، اجمان، راس الخیمہ، فجیرہ، اور اُم القیوین)]۔ شیخوں کو جو رائلٹی ملتی ہے وہ بھی اتنی زیادہ ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس رقم کو کیسے خرچ کریں۔ اس کا عبرتناک منظر دیکھنا ہو تو لندن اور پیرس کے بازاروں کی سیر کیجئے، ۔۔ 115


۔۔ شاہ کی بادشاہت:
۔۔ رضا شاہ پہلوی کی ریاست بورژوا ریاست تھی جس کا بنیادی فریضہ سرمایہ داری نظام بالخصوص 'شرکتی' سرمایہ دار طبقے کے مفاد کی حفاظت کرنا تھا۔
۔۔۔ حالانکہ پرانے زمانے کے بادشاہ اور شہزادے کاروبار کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ دولت اپنے شاہانہ مصارف کے لیے جمع کرتے تھے اور اگر کوئی ان سے کہتا کہ چاندی سونے کے ذخیروں کو کاروبار میں لگا کر نفع کمائیے تو شاید او اُس کی کھال کھنچوالیتے۔ اس کے برعکس رضا شاہ کی زراندوزی کی نوعیت خالص کاروباری تھی۔ وہ سرمائے سے مزید سرمایہ پیدا کرنے کی دھن میں لگا رہتا تھا اور جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہیں کرتا تھا۔ 118


ایران میں تیل کا بحران:
۔۔ ہر چند کہ ملک کی پوری معیشت کا دارومدار تیل پر ہے لیکن تیل کی صنعت میں مزدوروں کی تعداد سب سے کم ہے۔ یہ تعداد برابر کم ہوتی جا رہی ہے (حالانکہ تیل کی پیداوار میں گزشتہ بیس برسوں میں بیس گنا اضافہ ہوا ہے)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام ملوں اور فیکٹریوں کے برعکس تیل کی صنعت مشینوں اور انجنیئروں کے بل پر چلتی ہے۔ اس میں جسمانی محنت کرنے والے مزدوروں کی ضرورت نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔
مٹی کے تیل اور پٹرول کے قحط کے باعث ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹروں کے پہیئے رک گئے اور دکانیں، دفتر، سینما، ہوٹل سب سنسان ہوگئے۔ 107-108
_____________

Saturday, May 22, 2010

iNQILAB-e-iRAN - Tamheed

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan
1979


Tamheed:
Excerpts:




تمہید:
۔۔ ۔۔ تاریخ بھی کوئی شے ہے جو ہر فرد کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاریخ کا یہی شعور قومی آزادی اور قومی تشخص کا محرّک بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں ماضی کی عظمتوں کی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور ہم کو اپنے قومی زوال، پستی اور ذلّت کے لمحے کانٹے کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ 7-8

ایران و پاکستان:
۔۔ ایران اور پاکستان کے معاشرتی حالات میں جو مماثلت پائی جاتی ہے وہ کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایرانی معاشرے کا وہ کون سا پہلو ہے جو ہمارے ۳۲ سالہ تجربوں سے مختلف ہے۔ زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے وہی خواب اور وہی ان کی ہیبت ناک تعبیریں، انسانی حقوق کی وہی پامالی، کبھی جمہوریت کے نام پر ، کبھی مذہب کے نام پر، دولت و اقتدار کی وہی ہوس اور ہوس کی ہوی بے شرمیاں، دیواستبداد کی وہی سفاکیاں اور گیرودار کی وہی رسمِ کہن، وہی درباری سازشیں اور ملکی مفاد کے وہی سودے، عوام کے مسائلِ زیست سے وہی غفلت، ضمیرِ انسانی کی وہی خرید و فروخت اور وقارِ انسانی کی وہی بے حرمتی، جلوت میں اخلاق و ایمانداری کے وہی وعظ اور خلوت میں وہی ان وعظوں کی نفی، طاقت کا وہی نشہ اور اس طاقت کے لازوال ہونے کا وہی غرّہ، غرضیکہ بصیرت کی آنکھوں سے دیکھو تو ایران کی گزشتہ ۳۵ سالہ تاریخ میں اپنے گھر کی بربادی کا نقشہ صاف نظر آجائے گا۔
یوں بھی ایران ہمارا دوست اور ہمسایہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے رشتے ہزاروں سال پرانے ہیں۔ ہماری زبانیں ایک ماں کی اولاد ہیں۔ ایرانی علوم وفنون سے ہم نے بہت کچھھ سیکھا ہے۔ فارسی تقریباً آٹھ سو برس تک ہمارے ملک کی سرکاری درباری زبان رہی ہے جس کی وجہ سے فارسی کے بے شمار الفاظ، محاورے، اصطلاحیں، تلمیحیں، علامتیں اور استعارے ہمارے ادب کا جز بن گئے ہیں۔ حتٰی کہ ہماری گرامر بھی فارسی گرامر کا چربہ ہے اور ہمارا رسم الخط بھی فارسی ہے۔ ہم نے امیرخسرو، مرزا عبدالقادر بیدل، غالب اور اقبال جیسے عظیم القدر شاعر پیدا کیے ہیں۔ ہمارے صوفیوں کی تعلیمات اور تصنیفات کی عظمت کا اعتراف اہلِ ایران بھی کرتے ہیں۔ ان حالات میں ایران سے موجودہ تاریخ سے ہماری دلچسپی قدرتی امر ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ گزشتہ ۳۲ سال میں ہمارے کسی مورخ، کسی مبصر، کسی دانش ور، کسی صحافی نے ہم کو ایران کے صحیح حالات سے باخبر کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔ فارسی داں بزرگوں نے باربار ایران کی سیاحت کی، طلبا وہاں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے گئے اور کئی کئی سال وہاں مقیم رہے، بے شمار سرکاری وفد بھی ایران جاتے رہے لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ واپس آکر ایران کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر کچھ لکھتا، جو لوٹا اس نے شاہ کی مدح وثنا پر اکتفا کی اور شاہ کی مہمان نوازیوں کا قصیدہ لکھا۔ دراصل ملوکیت پرستی ہماری رگ و پے میں کچھ اس طرح سرایت کر گئی ہے اور ہم معاشرتی زندگی کو شخصیتوں کے حوالے سے دیکھنے کے اس درجہ خوگر ہوگئے ہیں کہ ہم فرد ہی کو جماعت تصور کرنے لگے ہیں اور فرد بھی وہ جو جماعت سے بلند و بالا ہو۔ چنانچہ رضا شاہ کو ہم نے قومی ہیرو کا درجہ دے رکھا تھا۔ کسی کی مجال نہ تھی جو ایک حرف ان کے خلاف زبان سے نکال سکتا۔ وہ جب سرکاری دورے پر یہاں آتے تھے تو ان کا خیر مقدم یو ہوتا تھا گویا پاکستان کے نجات دہندہ وہی ہیں۔ اسی غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ شاہ پاکستان کو اپنی کالونی سمجھنے لگے تھے۔ شاہِ ایران تو رخصت ہوگئے لیکن ہماری شخصیت پرستی میں کمی نہیں آئی ہے۔ پہلے شاہ ہمارے ہیرو تھے اب وہی مقام ہم نے امام خمینی کو دے دیا ہے۔ 9-11

امریکا کا مفاد
۔۔ امریکہ کا مفاد دراصل امرکیک کمپنیوںکا مفاد ہے جو سعودی عرب اور امارتوں کے تیل پر قابض ہیں۔ (ان امریکی کمپنیوں کو ۱۹۷۹ء کے پہلے نو مہینوں میں ۲۵/ ارب ڈالر کا خالص نفع ہوا۔) اس علاقے کے تیل کی یومیہ پیداوار ساڑھے تین کروڑ پیپے ہیں۔ امریکہ، مغربی یورپ اور جاپان میں جتنا تیل استعمال ہوتا ہے اس کا ایک تہائی انھیں ملکوں (سعودی عرب، عراق، کویت، بحرین اور عرب امارات) سے جاتا ہے۔ 12

۔۔ 'عرب ممالک میں نظامِ حکومت کی تبدیلی مغرب کے مفاد کے خلاف ہوگی کیونکہ عرب بادشاہتیں اور امارتیں ہمیشہ مغرب نواز اور کمیونسٹ دشمن رہی ہیں۔' 12

امام خمینی ۔ جمہوریت دشمنی منطق
۔۔ امام خمینی کا یہ ارشاد بجا ہی کہ ایران کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ لہذا ہم اس سے لڑیں گے لیکن وہ ان جمہوریت پسند عناصر سے بھی آمادہ پیکار ہیں جو امریکی امپیرئل ازم سے جنگ میں ان کے سب سے معتبر اور مستعد رفیق ہوسکتے ہیں۔ امام خمینی کو اس تضاد کو حل کرنا پڑے گا اور جمہوریت کو از سرِ نو بحال کرنا ہوگا کیونکہ امریکی سامراج کو جمہوری طاقتوں کی مدد ہی سے شکست دی جاسکتی ہے اور اگر جمہوری عناصر بدستور موردِ عتاب رہے تو امام خمینی کی جمہوریت دشمنی کی منطق ایران کو ایک نہ ایک دن امپیرئل ازم سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردےگی۔20-21

امام خمینی کی تھیوکریسی
۔۔ بہرحال امام خمینی کی تھیوکریسی جس کو اب آئینی شکل دے دی گئی ہے، ایران کے اقتصادی اور سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے تو مسائل اور پیچیدہ ہوجائیں گے اور ایران کے دشمنوں کو سازش کے نئے موقعے ہاتھ آئیں گے۔ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ ایرانی محبّانِ وطن کی بہت بڑی تعداد نیک نیتی سے یہ سمجھتی ہے کہ تھیوکریسی کا نفاذ ایرانی معاشرے کے حق میں روڑا ثابت ہوگا۔ وہ بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ 'ولایت فقیہہ' کی آڑ میں لوگوں کو انسانی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور شخصی حکومت کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے۔ تھیوکریسی کے خلاف یہ بدگمانی بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ قرونِ وسطٰی میں تھیوکریسی کا مشرق و مغرب دونوں میں یہی کردار رہا ہے۔ اور آج بھی مشرق، وسطٰی میں جن ملکوں میں تھیوکریسی رائج ہے وہاں درحقیقت شخصی حکومت ہی کا دور دورہ ہے، ریاست کا سیاسی ڈھانچہ خالص آمرانہ ہے، سربراہِ ریاست کو ریاست کے باشندے منتخب نہیں کرتے بلکہ یہ منصب اس کو ورثے میں ملتا ہے گویا ریاست اس کی ذاتی ملکیت ہے۔ نہ رعایا کی چنی ہوئی مجلسِ قانون ساز، نہ رعایا کے روبرو جواب دہ وزارتیں، نہ انسانی حقوق کی کوئی ضمانت، نہ تحریر، تقریر اور تنظیم کی آزادی۔ ایسے نظامِ مملکت کو آمرانہ نہ کہیے تو کیا کہیے۔ شرعی عدالتیں قائم کرنے اور شرعی سزائیں دینے سے اس آمریت کی نوعیت نہیں بدل سکتی۔ 21-22

دورِ حاضر کی تھیوکریسی:
۔۔ دورِ حاضر کی تھیوکریسی کا اقتصادی ڈھانچہ بھی ایسا نہیں جس سے عوام کو فیض پہنچتا ہو بلکہ خالص سرمایہ دارانہ ہے۔ صنعتی اور تجارتی کاروبار، فیکٹریاں اور کارخانے، بینک اور بیمہ کمپنیان، دکانیں اور دفاتر غرضیکہ دولت پیدا کرنے اور اس کو تقسیم کرنے کا سارا نظام سرمایہ داری اصولوں پر چلتا ہے۔ دولت اور دولت آفرینی کے ذرائع کا وہی چند ہاتھوں میں ارتکاز اور وہی اپنے ہم مذہب محنت کاروں کی قوت کا آزادانہ استحصال، جو سرمایہ داری کی خصوصیت ہے تھیوکریٹک ریاستوں میں بھی پوری شان و شوکت سے جلوہ گر ہے۔ یہی آمرانہ اور امیرانہ تھیوکریسی خمینی صاحب تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ ایران میں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایرانیوں نے اپنی جانیں اس لیے تو قربان نہیں کی تھیں کہ ایک آمر کو ہٹا کار دوسرے آمر کو اپنے اوپر مسلّط کرلیں۔ 22
__________

iNQILAB-e-iRAN - iNTRO

iNQILAB-e-iRAN
Sibte-e-Hassan
1979



Intro:
1979 ke iran ke inqilab per likhi gai ek inqilabi kitab. Jis inqilab me ek Dictator (shah) utarta hy to Doosra (khumeni) awam ki sarron per sawar hojata hy! Bus faraq itna hota hy ke ek khulle am Amrica Amrica karta tha aur doosre khulla am Not-Amrica Not-Amrica krta tha per peet-peechhe kam donon ka ek hi raha. Aur awam bichari waheen ki waheen rahin.

About the Book:
Inqilabe Iran ko sahi mani main samajhne ke liye Sibte Hassan Sahb Iran ki tareekh ko 18ven sadi se lekar chalte hyn, yani Qachari Dor se … is liye kitab ke shuroo ke 3 chapters 18ven 19ven sadi ki iran ke badshahat nizam ko dikhati hy, jis main badshah apni dolat main magan hote the aur awam apni ghurbat wali zindagi guzarti thi.

Magar awam ka sahi tor per istehsal Pehelvi Dor main hua jis main awam ki zindagi itni wabal bna di gai k unke pas marne aur ah-o-buqa k siwa koi rasta na bacha. Sarmayadari se mulk ko loota ja raha tha hatta ke mulk k tukre kar ke bechne ke plan banne lage!

Kitab ka Akhri Hissa, Inqilab ke baad Khumeni Sahab ki Hukumat per jhalak hy, jis main Khumeni Sahab mulk ki Aulil-Amr ban bhete, Deeni o Dunyavi dono tarah ki hakim ban bhethe (jo ke ikhtayarat shah ko bhi na the), Khumeni ne apne liye ikhtyarat Shah se bhi zyada makhsoos kar liye. Aur ese ese usool nafiz kiye jis se mulk ka berrah garak hota chala gaya.
Aur logon per Jabr o Zulm o Tashaddud (inqilab ke bad bhi) wesa ee raha. Ikhbarat o risalon per pabandi laga di, media per pabandi laga di, aurton per pabandi laga di, aqleeyat aqwam ke huqooq per pabandi laga di (bulke unko qatal kiya gaya), Amrica se tijart ab bhi rahi, pehle Direct hoti thi, aur ab Indircet Turkey ke raste, Amrica se hathyar ab bhi mangawye jane lage.
Per log jab Roti ke liye cheekhte to unhe kaha jata ye Baaghi hyn, roti ke naam per baghawat karna chahte hyn, inqilab islam ke naam per aya tha ‘saste tarboozon aur saste makanon ke liye nahin’!


باب: ۱: قاچاری دور
باب: ۲: بیداری کی لہر
باب: ۳ : مشروطہ کی تحریک
باب: ۴: پہلوی ریاست کا کردار
باب: ۵: امریکی عمل دخل
باب: ۶: پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے
باب: ۷: پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں
باب: ۸: ایران کی شوشلسٹ تحریک
باب: ۹: انقلابی ہلچل
باب: ۱۰: انقلابِ ایران کے محرکات و اسباب
باب: ۱۱۔ ۱۲: ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
باب: ۱۳: ایرانی انقلاب کدھر؟
باب: ۱۴: ۱۹۸۰ء کے بعد ایران پر یا گزری
_______________

Sunday, May 2, 2010

Marx Aur Mashriq - Part 2

Marx aur Mashriq
Sibte Hassan

Part. 2
Overview of Chapters:


Part 2 – Mutafarriq Mazamin

1. Karl Marx
2. Socialism Ke Zareen Asool
by Molvi Barkatullah Bhopali
3. Socialism Aksariyat Ki Falah Ki Zaamin Hy
by Moulana Ubaidullah Sindhi
4. Main Communist Honb
by Moulana Hasrat Mohani
5. Socialism – Kuch Khayali, Kuch Haqiqi. 1
6. Socialism – Kuch Khayali, Kuch Haqiqi. 2
7. Kya Socialism Beroni Nazriya Hy?
8. Islami Mamlik Ki Azadi Aur Soviet Roos


Pehla Chapter ‘Karl Marx’, Karl Marx ki Sawaneh Hayat hy. Marx Ke Haalat-e-Zindagi Pedaish se Qabr tak… chand pages main.
Chapter 2,3,4 mukhtalif Mashraqi Socialists ki mazamin hyn.
Chapter 5,6 ‘Socialism – Khuch Khayali Kuch Haqiqi’, ‘Musa se Marx Tak’ hi ki shurwati chapters ki summary hy.
Chapter 7 ‘Kya Socialism Beroni Nazriya Hy’… poore kitab main ye ek ikloata wahid FIKRI chapter hy!
Chapter 8 … jesa ke naam se zaahir hy…


Kitab Parhne Ke Etbar se
Kitab ka Part 1, zyada Hard to Digest hy, kyon ko wo zyada Syasi Waqi’at o Ikhbarat per mushtamil hy, Jab ke Part 2 chhote chhote miscellaneous mazamin hone ki soorat main parhne main zyada dilchasp aur asan hy.

Saturday, May 1, 2010

Marx Aur Mashriq - Ch.5

Marx aur Mashriq
Part.1
Chapter.5
Lenin aur Aqwame Mashriq

Summary and Excerpts:

Summary:

19ven 20ven Sadi me Europe ki Asian Pasmandah Mulkon per Sarmayadarana Tasallut, Noabadiyat waghera.
Aur is hawale se Lenin k Afkar, Taqarir o Iqtabasat

Pehli International
Dusri International
Asia Me Bedari Ki Lahr
Turkey ka Inqilab
Jange Tarablas
Jange Balqan
Hindustan

Zyada tar mawad syasi waqia't wa ikhbarat per mushtamil hy.


Excerpts:

باب۔ ۵

چنگاری
۔۔ (لینن) یورپ پہنچ کروہ روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی میں شامل ہوگیا اور جنیوا سے اخبار 'اِسکرا' (چنگاری) جاری کیا۔ اسکرا پہلا مارکسی اخبار تھا جو روسی زبان میں شائع ہوا۔ 100


۔۔ مقبوضات سے مفت ہاتھ آئی دولت کے دسترخوان سے مزدوروں کوبھی کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ انقلابی انداز میں سوچنے سے قاصر ہیں۔ (اینگلز) ۔۔ 103


(پہلی جنگ عظیم)
۔۔ لینن کی بالشویک پارٹی کا موقف تھا کہ یہ سامراجی جنگ ہے جو مقبوضات اور نوآبادیات کو ازسرنو تقسیم کرنے کی خاطر لڑی جا رہی ہے اور اس میں دنیا بھر کے محنت کشوں ہی کا جانی اور مالی زیاں ہے لہذا ہم کو اس جنگ کی شدت سے مخالفت کرنی چاہیے اور سامراجی جنگ کو خانہ جنگی میں بدل دینا چاہیے یعنی اپنے ملک کے سامراجی حاکموں کے خلاف جدوجہد کرکے ان کا تختہ الٹ دینا چاہیے۔ 108


۔۔ یہی حربہ ایران سے بھی آزمایا گیا۔
سلطان ناصرالدین شاہ قاچار کو روپیوں کی ضرورت ہوئی تو اس نے 1858ء میں ایک انگریزی ٹیلی گراف کمپنی سے رقم کے عوض کمپنی کو ملک میں ٹیلی گراف لائن بچھانے کی اجازت دے دی۔ ۔۔۔ ٹیلی گراف لائن کی دیکھ بھال کے لیے چودہ مرکز کھولے گئے ان سے جاسوسی اور قبائلیوں کو رشوت دے کر رام کرنے کا کام بھی لیا گیا۔ 1873ء میں سلطان کو سفرِیورپ کے لیے روپیوں کی پھر ضرورت پڑی تو رائٹر نامی ایک انگریز کو پورے ایران میں ریلوے لائن بچھانے کا ٹھیکہ دیا گیا اور کانکنی کی رعایت بھی۔ 1889ء میں انگریزوں نے تہران میں پہلا بینک امپیریل بینک آف پرشیا کے نام سے کھولا اور اس طرح ایرانی سرمائے ہی کے ذریعے ایران کو اپنا دستِ نگر بنانے کا انتظام کرلیا۔ سلطان نے بینک کو ملک میں شاخیں قائم کرنے اور نوٹ چھاپنے کے اختیارات بھی دے دئیے۔ ۔۔ قالین سازی ایران کا قدیم صنعت ہے جو مقامی تاجروں کی اجارہ داری تھی۔ انگریزوں نے ایران میں جگہ جگہ اپنی فیکٹریاں قائم کرلیں اور ایرانی دستکاروں کو ملازم رکھ کر خود قالین بنانے اور برآمد کرنے لگے۔ پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا تھا اور ایرانیوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوتا جارہا تھا۔
1890ء میں ناصرالدین شاہ نے پندرہ ہزار پونڈ سالانہ کے عوض ایک انگریز کمپنی کو ایران میں تمباکو کی کاشت اور خرید و فروخت کی اجارہ داری پچاس برس کے لیے دے دی۔ اس رعایت سے پورے ایران میں تہلکہ مچ گیا کیونکہ اس سے پیشتر جو ٹھیکہ تقسیم ہوئے تھے ان سے تھوڑے لوگ متاثر ہوئے تھے۔ تمباکو کی اجارہ داری سے ایران کے شہر، دیہات سبھی متاثر ہوئے چناچہ ایرانی قوم ایک دم چیخ اٹھی۔ ایرانی مجتہدوں نے فتویٰ دے دیا کہ تمباکو پینا، تمباکو کو کاشت کرنا اور اس کی خریدوفروخت سب حرام ہے۔
لوگوں نے حقّہ پینا ترک کردیا، یہاں تک کہ جب سلطان نے فتوے کے دوسرے دن حقہ طلب کیا تو شاہی ملازموں نے حقّے کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیا۔ آخر اس ملک گیر مقاطعہ سے مجبور ہوکر سلطان نے اجارہ داری کا معاہدہ منسوخ کردیا۔ مطلق العنان شہنشاہی کی یہ پہلی شکست تھی۔ 112-113

۔۔ اقتصادی غلامی چونکہ سیاسی غلامی کی تمہید ہوتی ہے۔ (سبط)۔ 116

۔۔ لیکن تقدیریں، خوہشوں سے نہیں دبلا کرتیں (سبط)۔ 167


Marx Aur Mashriq - Ch.4

Marx aur Mashriq
Part.1
Chapter.4
Karl Marx aur Dunyae Islam


Summary and Excerpts:

Summary:

Saltanate Usmania (Turkey)
Afghanistan
Iran
Aljazair
Wasti Asia (Turkistan)

Is Ch. me ye btaya gaya hy k Marx k dor me qarib qarib poora Asia Europe k zere tasallut tha, aur jo mamalik nahin the unko taskheer krne ki koshishen jari thin.
Ch me Engels aur Marx k mukhtalif mazamin jo ooper mentioned mamalik per hyn ka tazikrha hy.
Zyada tar behs Sayasi Waqe'at per mbni hyn.


Excerpts:


اقتباسات:
باب۔ ۴

ایران
برطانیہ، روس اور فرانس ۱۹ویں صدی کے اوائل ہی سے ایران میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 89

وسطی ایشیا
وسطی ایشیا یعنی ترکستان جس نے قرونِ اولیٰ میں شیخ بو علی سینا اور خوارزمی سے مفکر، امام بخاری اور امام ترمزی کے سے محدّث، نظامی گنجوی اور رودکی کے سے شاعر اور تیمور اور بابر کے سے حکمران پیدا کیے تھے تاتاریوں کے حملوں سے پھر کبھی جانبر نہ ہوسکا۔ 94

سرمایہ
۔۔ مارکس نے سرمایہ دارانہ معیشت کا مطالعہ 1843ء میں شروع کیا تھا۔ یہ سلسلہ 24برس تک جاری رہا۔ اس دوران میں مارکس نے فلسفہ، سیاسیات اور سرمایہ داری نظام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کئی اہم کتابیں لکھیں۔۔
لیکن اس کی زندگی بھر کی کاوش و تحقیق کا حاصل کتاب 'سرمایہ' ہے جس کی خاطر مارکس نے اپنی صحت، مسرت اور گھریلو زندگی ہر چیز قربان کردی۔ 144-145

Marx Aur Mashriq - Ch.3

Marx aur Mashriq
Part.1
Chapter.3
Marx aur Mashraqi Tariqeh Pedawar

Summary and Excerpts:

Summary:

Zamin
Jamood
Syasi Dhancha (Feudalism n Capitalism)
Behri Tijarat

Is Ch me Hindustan (Barsagheer o Mazafat) per mentiond tags per behs hy.
Pehle Hindustan ki Zamin per k aya us ki kya halat thi, aya kul Badshah ki milkiyat hoti thi, ya hr ksi ki Zati, ya poore gaon ki mushtarka.

Phr Hindustan k Jamood per behs hy k aya Kya waja thi k Hindustan Gautam Budh k dor se lekar Angrezon ki amad se pehle tk ek hi daggar per chal rha tha; Per Marx ki is theory ko Sibte Hasan rad krte hyn, aur mukhtalif muhaqqaqin (Dr. Aijaz Ahmed) k quotations de kr sabit krte hyn k Hindustan apni jaga Taraqqi ki rahon per gamzan tha. (page. 64) (han ye alag bt ho skti hy k Taraqqi us raftar se nahin thi jis raftar se Europe kr rha tha.) Lekin Sibte Hassan is bt ko taslim krte hyn k Sarmayadari ko Farangi hi Hindustan laye the,(chek page. 68-70) -- jo k Taraqqi ki rahon me Next Step hy (Feudalisn k bad)-- aur is ke jawaz me ye dalil pesh krte hyn k Angrez Hindustan me qadam rakhne k qarib 200 sal bad 1842 me Sindh me qadam rakhte hyn , per Sindh us waqt tk Jagirdari ki daggar pr chl rha tha.
“Is Main Koi Shuba Nahin Ke Salatin-E-Dehli Ke Dor Main Sanat O Harfat Main Numayan Taraqqi Hui. Khud Badshahon Ne Shahi Khandan Ki Zarooraton Ke Liye Bare Bare Sanati Idare Qaim Kar Rakhe The Jn Ko ‘Karkhana’ Kehte The. Sultan Alaoddin Ke Karkhanon Main Satrah Hazar Kareegar Mulazim The. Un Ko Tankhwah Shahi Khazane Se Milti Thi. … Magar Ye Karkhane Bazar Main Maal Bech Kar Nafa Kamane Ke Khatir Nahin Banaye Gai The Bulke In Main Shahi Khandan Aur Lawahiqeen Ke Zaati Istemal Ki Cheezen Tayar Hoti Thin. Lehaza In Karkhanon Ki Kar Guzari Mian Wo Awamil Aur Muharrakat Hi Sirre Se Mafqood The Jo Doosre Sarmayadaron Se Muqable Main Sabqat Hasil Karne Aur Nafa Ki Shirah Barhane Ki Khatir Sarmayadar Tabqe Ko Majboor Karte Hyn. …”. 68
“Hindustan Main Jo Tijarati Aur Sanati Shehr Samandr Se Door The Wo Behri Tijart Ke Taqazon Ko Mehsoos Nahi Karsakte The Albatta Junoobi Hind Balkhasoos Gujrat, Sahil Malabar, Sindh Aur Khaleeje Bangal Ke Maroozi Halat Behri Tijart Ke Haq Mian Buhut Sazgar The Aur 14ven Sadi Main In Elaqon Pr Feudal Taqaton Ka Ghalba Na Hua Hota Aur Wahan Ke Tijarati Shehron Ke Khud-Mukhtari Barqarar Rahti To Ain Mumkin Hy K Jald Ya Bader Kam Az Kam Junoobi Hind Aur Sindh Main Tijarati Sarmayadari Sanati Sarmyadari Ki Shikl Ikhtayar Kar Leti.” 69
“Ye Mafrooza Bhi Qabil-E-Qabool Nahin Ke Agar Farangi Taqaton Ka Ghalba Na Hota To Der Sawer Yahan Sarmaya Dari Nizam Az Khud Qaim Hojata. Purtgali Ameer Ul Bahr Ne1510 Main Goa Per Qabza Kia Jo Sultan Bejapur Ka Jazira Tha. Bambai, 1668 Main East India Company Ke Hissy Main Aya. Madras Ko Angrezon Ne 1638 Main Abad Kia. Magar Sindh Ko 1842 Main Fatah Kia. Goya Sindh Farangiyon Ke Warid Hone Ke Do So Baras Tak Azad Aur Khud Mukhtar Raha. Magar Maghrabi Taqaton Ne 17ven Aur 18ven Sadi Main Sindh, Punjab, Sarhad Aur Balochistan Main Koi Mudakhilat Nahi Ki Thi. In Elaqon Main Ager Feudalism Ko Khatam Karne Ki Salahiyat Hoti To Is Ke Liye Do Sadiyan Nakafi Na Thin.” 70

>Phr mukhtalif hawalon se Syasi Dhancho per behs hoti hy k yahan ki Kharid Farokht, Tijarat, Sanat, Badshahi Nizam waghera k hawale se Asia aur Europe me faraq tha.
"Europe auq Hindustan ki Tijarati Shahron Ki Noiyat me Bara Faraq Tha. Europe ke Tijarati aur Sanati Shehr.. ya to Azad aur Khudmukhtar Republic the jn per Feudal Quwaten Asar Andaz Nahi Ho Sakti thin ya .. Feudal Taqaton se Baqaida Lar Kar Shehri Huqooq aur Tijarati Charterd Hasil Kiye the..
Magar Hindustan me Zamana Peeche ki taraf Dora. 13ven 14ven me Hindustan ke Tijarati Aur Sanati Shehr jo zyada tr Junoobi Hind ya Samandr k Kinare waqe' the Bari Had tk Khud Mukhtar the." 67

> iske bad Behri Tijarat ki taraf Nishan Dahi hy jo "Sarmayadari Nizam Ke Farogh Main Behri Tijarat Ne Bara Ehm Kirdar Ada Kiya Hy." 69
per Behr per Purtagaliyo ka qabza tha aur Hindustan k Mughul Empire ne kbhi is taraf tawajjuh markooz nahi ki. Hatta k Am Insan to Am Insan"Shahi Khandan Ke Afrad Bhi Purtgali Jahazon Hi Ke Zariye Haj Karne Per Majboor Hote The.." 69
.

Excerpts:


باب ۳۔۔
۔۔ یہ اصول کہ زمین راجہ/ریاست کی ملکیت ہے ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے ہزاروں برس پہلے رواج پا چکا تھا، مسلمانوں کی ایجاد بندہ نہیں۔ 53

۔۔ (مارکس) اس نے 7 جون 1853ء کے خبر نامے میں سر چارلس ووڈ کی تقریر کا یہ اقتباس نقل کیا تھا کہ 'ہندوستان میں ایسی نسل کے لوگ آباد ہیں جو تبدیلی کے معاملے میں بڑے سست ہیں اور مذہبی تعصّبات اور فرسودہ رسوم میں گرفتار ہیں۔ حقیقت میں یہی باتیں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔' ۔ 59

۔۔ سرمایہ داری نظام کے فروغ میں بحری تجارت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، بحرِاوقیانوس (اٹلانٹک اوشن)، بحرِہند (انڈین اوشن) اور بحرالکاہل (پئسفک اوشن) جیسے سمندروں کو آسانی سے عبور کرنے کے لیے آلاتِ جہازرانی میں اصلاح و ایجاد نہایت ضروری تھی چناچہ برطانیہ کے صنعت کاروں نے سب سے پہلے اسی جانب توجہ دی۔
ہندوستان میں تجارتی اور صنعتی شہر سمندر سے دور تھے وہ بحری تجارت کے تقاضوں کو محسوس نہیں کر سکتے تھے البتہ جنوبی ہند بالخصوص گجرات، ساحل ملابار، سندھ اور خلیج بنگال کے معروضی حالات بحری تجارت کے حق میں بہت سازگار تھے اور چودھویں صدی میں ان علاقوں پر فیوڈل طاقتوں کا غلبہ نہ ہوا ہوتا اور وہاں کے تجارتی شہروں کی خود مختاری برقرار رہتی تو عین ممکن ہےکہ جلد یا بدیر کم از کم جنوبی ہند اور سندھ میں تجارتی سرمایہ داری صنعتی سرمایہ داری کی شکل اختیار کر لیتی۔

بحری تجارت اور جہازرانی کی صنعت کے فروغ نہ پانے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ۱۶ویں صدی کی ابتدا ہی سے بحر عرب پر پُرتگالی جہازوں کا غلبہ ہوگیا۔ یہ جہاز توپوں تفنگوں سے مسلح ہوتے تھے جب کہ مغلوں نے بحری طاقت کی طرف کبھی توجہ نہ دی تھی۔ ۔۔ 69

۔۔ سترہویں صدی کے اواخر اور ۱۸ویں صدی کے آغاز میں دہلی کا فیوڈل مرکز کمزور ہوا تو سندھ، بنگال بہار، اودھ اور دکن کے صوابیداروں نے اپنی اپنی خودمختار ریاستیں قائم کرلیں۔ جنوب مغربی ہند میں مرہٹہ اور پنجاب اور سرحد میں سکھ بھی آزاد ریاست بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ مرکز سے کٹ کر جو خود مختار ریاستیں بنیں وہ بھی مروجہ فیوڈل نظام کے دائرے ہی میں رہیں۔ یہ ساری شکست و ریخت ہندوستان میں فرنگیوں کا عمل دخل ہونے سے بہت پہلے شروع ہوگئی تھی ۔۔ 70


Marx Aur Mashriq - Ch.2

Marx aur Mashriq
Part.1
Chapter.2
Marx aur Mashriq
(London se Pehle)


Summary and Excerpts

Summary:

Is Ch me ye btaya gaya hy k Marx apni Socialisn ki Talimat k shuru se hi Mashriq khususan Hindustan o Chine pr nazar rakhe hue tha, jis ka tazkira wo apni (mushtarka) tasanifat 'Muqaddas Khandan','German Ideology','Falsafe ka Aflas',aur'Communist Manifesto' me kr chuka. . .
"Jahan Tak Hamain Malum Hy Marx aur Engels ne Mashriq Bilkhusoos Hindustan aur Cheen ki Ma'ishat per Magrabi Sarmayadari ke Galbe Ke Asrat ka Zikr Pehli Bar Apni Mushtaraka Tasnif 'German Ideology' (1846) me kiya." 43


Excerpts:
اقتباسات:
باب ۲۔۔
۔۔ "معاشرے کی اصل اس کی اقتصادیات ہوتی ہے اور سیاست، قانون، فلسفہ وغیرہ اس کےبالائی ڈھانچے ہوتے ہیں" ۔ مارکس۔ ۔۔ 42

۔۔ "وجود شعور کو متعین کرتا ہے نہ کہ شعور وجود کو۔" ۔ مارکس ۔۔ 43

Marx Aur Mashriq - Ch.1

Marx Aur Mashriq
Part-1
Chapter-1
Mashriq aur Magrib ke Taluqat


SUMMARY AND EXCERPTS


SUMMARY:

Pehla Ch. Europe aur Asia k Sayasi, Tijarati aur Ilmi taluqat ke daur ko qarib Sikandar Azam (356-323 BC) se 17ven sadi tk (yane Hindustan me Angrezon ki Amad tk) ko cover krta hy.
Is Mashriq Magrib k Melap me zyada tr ‘Garam Medan’ Mashraqi Europe aur Magrabi Asia ka raha, per 1492 me Columbus ka Hindustan ki Mutabadil Raston ki Talash me Amrica me namoodar hona, aur 1498 me Vasco Da Gama ka Hindustan k mutabadil raste talash krne se Magrabi Europe ka taluq South Asia aur Mashraqi Asia se hone laga.
Is Mashriq Magrib Melap me kis ne kis se Seekha, kon kis se Bara, kon kis se Qadim, (Kon Kis Ka Dada!) ka muakhiza krna buhut mushkil hy! Yaqinan E. Gibbin likhte hyn: "Un Dinon Mashriq Funoon Aur Samane Aish O Asaish Ka Malik Tha. Ehle Magrib Kheti Bari Se B Nabalad The Ya Zaraat Ko Haqarat Se Dekhte The. Hewanat Aur Nibatat Ki Jitni Qismen Assia Aur Misr Se Europe Me Raaij Huin Un Ka Shumar Mumkin Nahin... Masalan Tamam Phool, Jari Bootiyan Aur Phal Jo Europi Baghon Me Pai Jate Hyn Mashraqi Hyn." 22
Short Cut me itna kaha ja sakta hy 15ven sadi se pehle tk Maghrib ne Mashriq se Seekha, aur 15ven sadi k bad Mashriq Magrib ke Rehm Karam per hy!
Chapter ko following tags me banta ja skta hy:

>Sikandare Azam apni Yunani Tehzib Sindh tk Leke Aye (4thi Sadi QM).
"Bakhtar Ke Yunaniyon ne Wadiye Sindh per Agarche 100 Sal Tak Hukumat ki Magar Unhon ne Yahan ki Tehzib per Apne Gehre Nuqoosh Chhore hyn." 18

> Sikandar k Bad Ptolemy (Batlimoosi) ki hukumt ayi, "Batlimoosi Badshahon ne Misr per Pone Teen So Sal (304-30 BC) Hukumat Ki. Inke Ehde Urooj me Sham, Phalastin, Qabrs, Quret aur Mashraqi Behre Rom k Dusre Jazire Misr ke Zere Nagin the." 19 (1hli Sadi QM se qabl tk)

> "Pehli Sadi QM Batleemoosiyon ke Zawal aur Roma ke Urooj ka Zamana tha." 21. Yane 1hli sadi QM k bad Greece Down hogaya aur Rome Up hogaya. "Iske Bad Mashriq, Sahile Furat se Sahile Nile blke Libya aus Aljazais tk, 700 Sal tk Romatul Kubra ke Tabe' raha." 21

> 4thi Sadi Eesvi me Shahanshahe Rome Qustantin Awwal (274-337) K Eesai Hojane se Rome ka Zawal aur Eesaiyat ka Urooj shuru hua.

> 7vi Sadi Eesvi me Islam ke Zahoor k bad kahani ne alag rukh liya. Aur Arbon ka Sikka chalne laga. "Arbon se Pehle Spain Kya Poore Europe me Taleem Kalisa Ki Jageer Thi." 28, Arbon ki Futoohat se hi Europe Apni Neend se Jaga, per Ise Poori trah Hosh me Ane me 8 Das Sadyan aur lagni thin!

> Quroone Wasta me Musalman/Arab Sciendanon hi ki Talimat chalne lagi, aur Ehle Magrib ko philosophically Ibne Rushd aur Abu Bakr Rhaze ne buhut mutasir kiya.

> SALEBI Jangen (1095-1291):

> aur phr 1492 aur 1498 me Amrica aur Hindustan ki Daryaft se Sarmayadari ka Beej bua. (boya gya.)

> Ch ka Akhri chnd Siffat Marx per hyn k jb wo peda hua aur jawan hua to aya use kesa mahol mila, jis me wo pinepa.


Excerpts:

اقتباسات:
باب ۱

۔۔ اس اثنا میں ایک اور یونانی شہزادہ بدخشاں سے قسمت آزمائی کرتا ہوا ٹیکسلا پہنچا۔ اس کا نام مناندر تھا۔ مناندر نے اگاتھوکلیس کی بیٹی سے شادی کی اور شمال مشرقی پنجاب فتح کرنے نکل کھڑا ہوا اس نے ساکلا یعنی سیالکوٹ کو اپنی راجدھانی بنایا اور رفتہ رفتہ دریائے جمنا تک سارے علاقے پر قابض ہوگیا۔ مناندر بڑا روشن خیال اور وسیع مشرب فرماں روا تھا۔ اس نے بدھ مت اختیار کرلیا اور آخری عمر میں راج پاٹ چھوڑ کر بھکشو ہوگیا۔ بدھ مت میں اس کے اقوال اور فرمودات کو بہت اونچا مرتبہ حاصل ہے۔
مناندر کے بیٹے اپالوڈوٹس نے باپ کی سلطنت کو مزید وسعت دی اور سندھ، کاٹھیاواڑ اور گجرات بھی اس کے زیرِنگیں ہوگئے مگر اس کی وفات (۹۰ق۔م) کےبعد یونانی سلطنت کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی اور تقریباً پچاس برس تک وادئ سندھ میں کوئی مضبوط حکومت قائم نہ ہوسکی۔ تب ۳۰ ق۔م کے قریب ترکستان کی جانب سے ساکاؤں نے یلغار کی اور یونانی اقتدار کی شمع ہمیشہ کے لیے بجھ گئی۔ 18

۔۔ بطلیموسی فرماں روا علم و حکمت بالخصوص سائنسی علوم کے بڑے دلدادہ تھے۔ ان کے گماشتے یونان، ایشیاء کوچک، شام و فلسطین میں انجینئروں، ریاضی دانوں، فلکیات کے عالموں، ریاضی، ہئیت، طب اور جغرافیہ کے عالموں کی تلاش میں رہتے اور ان کو اسکندریہ کی دعوت دیتے۔ بطلیموس اول نے تو فلسطین سے ایک ہزار یہودی عالموں کو زبردستی پکڑ بلوایا اور اسکندریہ میں آباد کیا تھا۔ 19
نتیجہ یہ ہوا کہ اسکندریہ بہت جلد علم و دانش کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ اسکندریہ کے شاہی کتب خانے کو جو بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی اس کی تو نظیر نہیں ملتی۔ اس کتب خانے کو جو بہ یک وقت دارالتحقیق و تجربہ اور درس گاہ بھی تھا بطلیموس اول نے ۲۹۰ق۔م میں ارسطو کی درس گاہ لائی سیتم کے اصولوں پر قائم کیا تھا۔ اسکندریہ کے کتب خانے میں ۵ لاکھ ۳۲ ہزار مخروطے تھے جن کی فہرست ۱۲۰ دفتروں پر محیط تھی۔ ان مخروطوں کو بڑی بڑی رقمیں خرچ کر کے حاصل کیا جاتا تھا۔ مثلاً بطلیموس سوئم کو پتہ چلا کہ ایتھنز میں کسی کے پاس یونان کے قدیم ڈرامہ نویسوں ایس کائی لس، سوفوکلیز اور یوری پڈیز کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ڈرامے موجود ہیں۔ بادشاہ نے ۹۰ ہزار ڈالر بطور ضمانت ادا کیے اور وعدہ کیاکہ ڈراموں کو نقل کرکے اصل دستاویزیں واپس کر دی جائیں گی لیکن ڈرامے ہاتھ آگئے تو اس نے اصل خود رکھ لی اور نقل مالک کو بھجوادی اور کہلا دیا کہ زرِ ضمانت بے شک ضبط کرلو۔ درس گاہ میں معلموں کی تعداد ایک سو تھی۔ ان کو تنخواہ سرکاری خزانے سے ملتی تھی۔ درس گاہ سے ملحق ایک رصدگاہ تھی، ایک چڑیا گھر تھا، ایک باغ تھا جس میں انواع واقسام کے درخت، جڑی بوٹیاں، پودے اور پھول موجود تھے اور ایک عمارت چیر پھاڑ کرنے کی تھی۔ درس گاہ میں انجینئرنگ، ریاضی، فلکیات، طب اور جغرافیہ کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔ 20

۔۔ خلفائے بنی عباس بالخصوص ہارون رشید و مامون رشید نے یوانانیت کے احیاء میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔ 26

۔۔ یورپ کو اندیرے سے اُجالے میں لانے والے اسپین کے عرب فاتح تھے۔ 27
۔۔ عربوں سے پہلے اسپین کیا پورے مغربی یورپ میں تعلیم کلیسا کی جاگیر تھی۔ 28
۔۔ یورپ میں تعلیم عام نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اہلِ مغرب کاغذ سازی کے ہنر سے ناواقف تھے۔ یہ فن عرب مراکش سے اپنے ہمراہ لائے اور تب کتابوں کی اشاعت نے پہلے اسپین میں اور پھر دوسرے ملکوں میں رواج پایا۔ 28
۔۔ غرضیکہ یورپ میں تہذیب نو کی نشو نما کے لیے حالات اسپین اور سسلی کے عربوں نے پیدا کیے چناچہ پروفیسر فِشر کے سے متعصب مورخ کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ 'بارہویں صدی میں روشنی کی جو کرنیں یورپ میں پہنچیں وہ یونان سے نہیں بلکہ اسپین کے عربوں کے ذریعے آئیں۔ 28-29

۔۔ یورپ میں سائنسی تجربوں کا دور عربی تصانیف کے لاطینی ترجموں کے بعد شروع ہوا۔ 32

۔۔ جارج سیل نے 1734ء میں قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا۔ 36

۔۔ لسانیات کے جرمن عالم ہرڈر (1784) نے یہ دعویٰ کیا کہ دنیا کی سب سے پرانی تہذیبیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ 36

۔۔ شیلیگل نے تو یہاں تک کہ دیا کہ مشرقی مذہب (ہندو دھرم، بدھ مت، زرتشتی مسلک اور اسلام) کے تعاون کے بغیر نہ تو مادیت اور جمہوریت کا زور توڑا جا سکتا ہے اور نہ یورپ کی روحانی احیاء ممکن ہے۔ 36

۔۔ کرسٹین ٹامسن ایک فرانسیسی عالم نے 1836ء میں سماجی ارتقا کے تین مدارج متعین کے اور آلاتِ پیداوار کو ان مدارج کی پہچان قرار دیا۔ اس کے نزدیک پہلا دور پتھر کا تھا جب انسان پتھر لکڑی اور ہڈی کے آلات و اوزار استعمال کرتا تھا۔ دوسرا دور تانبے اور کانسی کا تھا اور تیسرا دور لوہے کا جو ابھی تک جاری ہے۔ 38


Marx Aur Mashriq - Intro

Marx And Mashriq
Sibte Hassan
2009



Introduction:

Sibte Hassan Sahb Ki Zindagi Ki Akhri (Incomplete) Kitab.
Dr. Syed Jafar Ahmed (Is Kitab K Murattib o Mudawwin) Arze Murattib Main Likhte Hyn: “ Sibte Hassan Sahab Ki Ilmi Masroofiyat Aur Un Ka Tasneef O Taleef Ka Kaam Bara Matnoo’ Tha Aur Hammageer Hota Tha. Wo Umooman Beek Waqt Ek Se Zyadah Kitabon Aur Mazamin Per Kaam Kr Rahe Hote The. Cunache Aksar Ye Soorat Hoti Thi Ke Ek Kitab Ke Akhri Proof Parthe Ja Rahe Hyn Jab Ke Doosri Kitab Ka Pehla Masoodah Tayar Ho Raha Hy Aur Saath Kisi Ikhbar Ya Jareede Ke Taqaze Per Us Ke Liye Mazmoon Bhi Likha Ja Raha Hy. Sibte Hassan Sahb Ki Zindagi Mian Un Ki Jo Akhri Kitab Shaya Hui Wo ‘Naveed-E-Fikr’ Thi Jabke Angrezi Kitab ‘The Battle Of Ideas In Pakistan’ Ko Wo Inteqal Se Kuch Hi Roz Pehle Asha’at Ke Liye Press Ke Supard Kar Chuke The. Un Dinon Kitabon Ko Mukammal Karne Ke Bad Wo Fori Tor ‘Marx Aur Mashriq’ Ki Tasneef Main Mashgool Ho Gaye The. Magar 1984 Main Faiz Ahmed Faiz Ke Inteqal Ke Nateeje Main Sibte Sahab Ka Ye Mansooba Kuch Arse Ke Liye Mu’attal Hogya. Faiz Sahab Se Un Ke Dereena Nazriyati Taluqat The Aur Us Hawale Se Yadon Ka Eik Zabardas Khazeena Tha Jo Un Ke Nihan Khana Zehn Main Mehfooz Tha. Faiz Sahab Ke Inteqal Per Sibte Sahab Ko Ye Khayal Aya Ke Unhain Un Sub Yadon Ko, Khas Tor Faiz Ki Mukhtalif Ghazlon Aur Nazmon Ki Wajah Nazool Ke Baare Main Jo Kuch Un Ke Ilm Main Tha, Us Ko Zabt-E-Tehreer Main Le Ana Chahiye. So Unhon Ne Faiz Sahab Per Bhi Ek Kitab Likhne Ka Mansooba Bana Liya Aur Phir Agle Kai Mah Tak Is Kitab Ne Un Ko Masroof Rakha. Sibte Sahb Ke Inteqal Ke Waqt Tak Ye Kitab Mukammal Nahi Hui The Likn Is Per Itna Kam Zaroor Ho Chuka Tha Ke Is Ko Ehtiyat Ke Sah Murattib Kar Ke Shaya Ki Ja Sakta Tha. Ye Khidmat Marhoom Hasan Abidi Sahab Ne Anjam De Aur Wo Kitab ‘Sukhan Dar Sukhan’ Ke Nam Se Shaye Hi.” Page. 6

Kitab 2 Parts Main Hy Pehle Part Main Asal Kitab Marx Aur Mashriq Ka 5 Abwab Hyn, Dusra Part Main Mutafarriq Mazamin Hyn.

Chapters:
Part 1 - Marx Aur Mashriq

1. Mashriq Aur Maghrib Ke Taluqat
2. Marx Aur Mashriq (London Se Pehle)
3. Marx Aur Mashraqi Tariqah Pedawar
4. Karl Marx Aur Dunyae Islam
5. Lenin Aur Aqwam-E-Mashriq


Part 2 – Mutafarriq Mazamin

1. Karl Marx
2. Socialism Ke Zareen Asool
By Molvi Barkatullah Bhopali
3. Socialism Aksariyat Ki Falah Ki Zaamin Hy
By Moulana Ubaidullah Sindhi
4. Main Communist Hon
By Moulana Hasrat Mohani
5. Socialism – Kuch Khayali, Kuch Haqiqi. 1
6. Socialism – Kuch Khayali, Kuch Haqiqi. 2
7. Kya Socialism Beroni Nazriya Hy?
8. Islami Mamlik Ki Azadi Aur Soviet Roos

Thursday, January 14, 2010

Shehre Nigaran - Sibte Hassan

Shehre Nigaran
شہرِ نگاراں
سبطِ حسن
تمہید۔ مرزا ظفرالحسن 1967
دیباچہ سبط۔ 1984




شہرِ نگاراں مطلب حیدرآباد دکن، ۔۔۔ حیدرآباد دکن سبطِ حسن کا وہ شہر تھا جہان سبط حسن عملی طور پر بڑے ہوے تھے۔ یا دوسرے لفظوں میں حیدرآباد نے ہی سبط حسن کو صحیح معنی میں سبطِ حسن بنایا،۔۔ وہیں پر ان کو قاضی عبدالغفار جیسا شفیق استاد ملا، وہیں ان کو مخدوم، ظفر، شہاب، اشفاق، جورالہدیٰ، میر حسن، رفیق الدین، صاحبزادہ میکش، ڈاکٹر راج بہادر گوڑ جیسے اہلِ فکر دوست ملے۔
یہ کتاب سبطِ حسن کی ماضی کی یادیں ہیں حیدرآباد دکن سے منسلک۔۔۔


Summaries:

CH. 1
AAN SAAGAR O AAN SAAQI
.
-Sibte Hassan ka apni naujawani me apne shahar (Azamgarh) se Hyderabad Deccan ka safar krna.
-Molvi Abdul Haq ki marfat Qazi Abdul Ghaffar k liye akhbar PAYAM k liye Kam krna.
-Ye Sibt Sahab ki pehli mulazmat thi.
-Qazi Abdul Ghaffar ki Personality, Ghar, Office waghera ki hiyat bayan krna..
Aur thora buhut us waqt k Hindustan ka adabi political naqsha khenchna..

__________________



Ch. 2
PAYAM AUR QAZI ABDUL GHAFFAR
.
-Qazi Sahab ki Personality aur Ehle Ayyal per mazeed..
-Munshi Sajad Husen Kasmandvi ka novel "NASHTAR", aur Mirza Muhammad Hadi Ruswa ka Shehre Afaq novel "Umrao Jan Ada" aur Payam(Qazi Abdul Gaffar) ke "Laila Ke Khutoot" per tabsara.
-Laila Ke Khutoot me se 2 khutoot b shamil..


__________________


Ch. 3
DECCANI TEHZIB KI JHALKIYAN
.
Kuch Yaden Kuch Baten
-Hyd K Apne Andaze Guftar
-Hyd k Mirch Masale wale aur Khatte Khane
-Chaaoosh (arab jo garebon ko pese sood pe dete the phr poori zindagi tang krte the.)
-Makhdoom, aur uske doston se Dosti
-Jame'a Usmania
-Chaar Minar aur Golkandah Cigarette
-Hyd ka Nazam o Nasaq
-Akhbar, Kitaben aur Talba Tanzemen
-Iqbal, Hafiz Jalandhari, Faani Badayuni, Maulana Abul Kher Maududi (Mulana Maududi k Bare Bhai)
-Mrs. Naido & Ms. Padmaja Naido
. . .

__________________

Ch. 4
KHABARDAR HOSHIYAR

HYD DCN k NAWAB FAMILY ka Tazkira
.
>Asif Jahi, Nizam, Dulhan Pasha
>Aliyah Hazrat, Usman Ali Khan
>Buhliyon, Khaasai Mubarak


__________________

Ch. 5
URDU CONGRESS AUR EELORAH
.
-Qazi Abdul Gaffar ki URDU CONGRESS jo dar asal ANJUMAN TARAQQI URDU ke muqable main bnai gai thi.
-Eeloarah ke Ghaar.

__________________

Ch. 6
AKHRI SALAM
.
KUL HIND KANFIRINS
"Mrs. Sarojni Naido, Qazi Abdul Gaffar Marhoom, Moulana Hasrat Mohani Marhom, Niaz Hydr Nakam, aur Dr Tarchnd se Akhri bar isi kanfirins me mulaqat hui Mujhe Kya Maloom tha ke Sarzameen Deccen ko Ye Mera Akhri Salam Hoga. 110"

__________________

Ch. 7
TEHSEEL-E-ZAAT KA SAFAR
.
Ye chapter MAKHDOOM Muhiyuddin ko Arpiya (credit) gaya hy.
Hyd ka us waqt ka Jageerdarana aur Malukiyatana ravaj, aur is se chhotkara pane k liye Inqalabiyon ka Adab k zariye mahaz arai krna.
"Makhdoom Hyderabad Main Anjuman Taraqqi Pasand Musannafin ke Baniyon Me se the. 122"
.
Dor e Nashad ko Ab Shad Kiya Jayega
Rooh e Insan ko Ab Azad Kiya Jayega
Is Zameen e Maut Parwardah Ko Dhaya Jayega
Ik Nayi Dunya, Naya Adam Banaya Jayega.
-makhdoom

__________________

Ch.8
PEMAAN E WAFAD KI TAJDEED
.
-35 sal baad Sibte Hasan ka apne munh bole watan Hyd Decn ka visit krna. . .
Aur apni purani yadun ko taza krna.
-Shahabuddin
-Urdu Academy
-HASAN NASIR
-Indrani Devi
-Naya Hyd (hulya)

__________________


EXCERPTS - اقتباسات


۔۔ حیدرآباد (دکن) دنیا کا واحد خطہ ہے جس کی سرکاری، عدالتی، دفتری، تعلیمی اور تہذیبی زبان اردو ہے اور جامعہ عثمانیہ میں ایم ۔ اے تک ہر مضمون اردو میں پڑھایا جاتا ہے۔ 16

۔۔ جب ہی تو میں کہتا ہوں کہ ہم لوگوں کو نئی نسل سے بہت کچھہ سیکھنا ہے۔ میں بتاؤں یہ لوگ کیوں کامیاب نہ ہوں گے؟ اس لیے کہ انہوں نے اپنے دماغ کی کھڑکیاں بند کرلی ہیں اور تازہ ہوا اور روشنی کا گزر نہ ہونے کے باعث ان کے ذہنوں میں جالے لگ گئے ہیں (قاضی عبدالغفار)۔ 25-26

۔۔ اردو شارٹ ہینڈ کے موجد بھی مرزا رُسوا ہیں (اُمراؤ جان کے انشا پرداز)

۔۔ دس بارہ سال بعد جب لارڈ ویلزلی گورنر جنرل ہوکر کلکتہ آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جن صاحبانِ والا شان کو "وحشی" ہندوستانیوں کو تہذیب سکھانے بھیجا گیا تھا وہ خود ہندوستانی تہذیب کے دام میں گرفتار ہیں۔ 35

۔۔ مگر مرزا رسوا کا ناول ایک طوائف کی آپ بیتی ہی نہیں بلکہ لکھنو کی زوال آمادہ تہذیب کی عبرت داستاں بھی ہے۔ 35

۔۔ فصلی مہینے قدیم آریاؤں کی تخلیق ہیں اور پارسیوں کی پرانی کتابوں میں خداوندا ہور مزدا کے اوصاف سے وابستہ ہیں۔ 48

۔۔ عورتیں ساڑھی باندھتی تھیں لیکن لڑکیاں تنگ مہری کے رنگین پاجامے اور گھٹنے تک لمبے کُرتے پہنتی تھیں۔ ان کے دوپٹے چھہ گز لمبے ہوتے تھے اور اس انداز سے لپیٹے جاتے تھے کہ کمر تک پورا بدن ڈھک جاتا تھا۔ ان رنگ برنگی گڑیوں کو تو اب آنکھیں ترستی ہیں۔ (سبط)۔ 49

۔۔ ظفر کے بھانجے کو گالیاں مخدوم ہی نے سکھا رکھی تھیں وہ ہر نووارد کا خیر مقدم انہیں گالیوں سے کرتا تھا۔ 53

۔۔ دکنی تہذیب نوابی تہذیب تھی۔ حیدرآباد ہندوستان کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ 57

۔۔ حیدرآباد (دکن) بجا طورناز کرسکتا ہے کہ میرے گھر میں یومِ اقبال علامہ اقبال کی زندگی ہی میں بڑے اہتمام سے منایا گیا۔
علامہ اقبال کو دکن سے بڑی اُلفت تھی وہ حیدرآباد کو اسلامی ریاست تصور کرتے تھے۔
حیدرآباد کے لوگوں کو بھی علامہ اقبال کی ذات اور ساعری سے والہانہ محبت تھی۔ 66

۔۔ فانی یوں تو مشرقی تہذیب کے بڑے دلدادہ تھے لیکن انہیں اردو رسم الخط سے چڑ تھی۔ اس کے برعکس وہ رومن رسم الخط کے بڑے حامی تھے۔ چناچہ اپنی غزلیں انگریزی ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرتے تھے۔ 70-71

۔۔ پرانے زمانے میں شعر کہنا اردو شاعروں کا کُل وقتی مشغلہ تھا۔ 71

۔۔ موجودہ نظام نے دنیا کو ایک عالمگیر بازار میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسا بازار جس میں محنت اورمحبت دونوں کا بیوپار ہوتا ہے۔ 113

۔۔ اردو کا جنم شمالی ہند میں ہوا۔ 144

۔۔ (حسن ناصر) نیشنل عومی پارٹی کے آفس سیکریٹری کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ یہ جماعت مولانا بھاشانی، میاں افتخارالدین، خان عبدالغفار خان، مسٹر جی ایم سید، میاں محمود علی قصوری، محمودالحق عثمان، میر غوث احسن بزنجو اور دوسرے جمہوریت پسند سیاست دانوں نے 1957 میں مل کر بنائی تھی۔ 155

۔۔ اردو شاعر اپنا کلام دوسروں پر مسلط کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ وہ شعر نہ سنائے تو شاید اس کا کھانا ہضم نہ ہو۔ 159

Sunday, January 10, 2010

Sukhan Dar Sukhan - Sibte Hassan

SUKHAN DAR SUKHAN
سُخن در سُخن
سبط حسن
1987






سخن در سخن فیض احمد فیض پر لکھی گئی کتاب ہے۔
فیض صاحب نہ صرف سبط حسن کے اچھے دوست تھے بلکے سیاسی سوشلسٹ ساتھی بھی تھے۔
اور سبط حسن کے نزدیک ہر وہ بندہ "ہیرو" ہے جو انقلابی اور باغی ہو!


-------------------------------------------------------
اقتباسات

۔۔ ان حالات نے دنیا بھر کے روشن خیال ادیبوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ آزادی اور جمہوریت کے دشمنوں کا اگر جم کر مقابلہ نہ کیا گیا تو پرورش لوح و قلم کے امکانات ہی باقی نہ رہیں گے۔ 11

۔۔ ہم کو ایسا ادب درکار ہے جو لوگوں کو جگائے نہ کہ سُلائے۔ (منشی پریم چند)۔ 12

۔۔ سوال کرنا ابراہیم و سقراط کی دیرینہ سُنت ہے۔ سوالوں ہی کے وسیلے سے انسان شعورو عرفان تک پہنچتا ہے۔ چنانچہ فیض صاحب نے بھی حقیقت شناسی کی راہ سوالوں ہی کے ذریعے طے کی۔ اسی دوران وہ سوشلسٹ نظریات سے بھی روشناس ہوئے اور ان کے فکر و احساس کا افق بھی وسیع ہوا۔ یہ حسیں کھیت ، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا کس لیے ان میں فقط بھوک اُگا کرتی ہے

۔۔ فیض صاحب کے نزدیک انقلاب کی راہ حیات بخش اور مرگ آفرین قوتوں کے مابین تصادم سے ہوکر گزرتی ہے۔ 31

۔۔ جیل خانہ بڑی آزمائش کی جگہ ہے ۔۔۔ جیل خانہ بڑی آزمائش کی جگہ ہے۔ وہاں پہنچ کر کھرے کھوٹے کا فرق صاف طاہر ہوجاتا ہے۔ وہ نقاب اُتر جاتی ہے جو ہم اپنی شخصیت پر چڑھائے رہتے ہیں اور دوست احباب، عزیز اقارب کے ادعائے محبت کی قلعی بھی کھل جاتی ہے۔ 34

۔۔ اب کسی لیلٰی کو بھی اقرار محبوبی نہیں اِن دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام ۔ 36

۔۔ جیل میں کوئی نو گرفتار دوست آتا ہے تو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ (سبط)۔ 44

۔۔ فیض صاحب کی طبیعت میں گھبراہٹ یا جلد بازی بالکل نہیں تھی۔ وہ آہستہ چلتے تھے، آہستہ بولتے تھے اور ہر کام سکون اور آرام سے مگر وقت پر کرنے کے قائل تھے۔ جیل میں بھی اُن کے معمولات میں فرق نہیں آیا۔ وہ صبح اُٹھ کر شیو کرتے اور کپڑے بدل کر یوں تیار وہوجاتے گویا دفتر جانا ہے۔ 46

۔۔ ہر فن پارے پر اپنے خالق کی شخصیت کی چھاپ ضرور ہوتی ہے۔ اُس کی انفرادیت ہی اُس کو دوسروں کی فنی تخلیقات سے جُدا یا ممتاز کرتی ہے۔ ۔۔۔ مثلاً تقسیمِ ہند کے وقت ملک میں جو فسادات برپا ہوئے اور جو انسانیت سوز مناظر دیکھنے میں آئے ان سے متاثر ہوکر سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، بیدی، خواجہ احمد عباس اور دوسرے ادیبوں نے کئی بڑی دلدوز کہانیاں لیکھیں مگر فیض صاحب اس موضوع پر کوئی نظم نہ لکھ سکے حالاں کہ وہ لاہور میں کشت و خون کے عینی شاہد تھے۔ البتہ جب مشرقی پاکستان میں خون کی ندیاں بہیں تو فیض صاحب بے قرار ہوگئے، ہر چند کہ وہ ان حادثات کے عینی شاہد نہ تھے۔ 51

۔۔ تخلیق عموماً کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوتی بلکہ نئے یا پرانے واقعے سے متاثرع ہوکر۔۔ 52

۔۔ ہم خستہ تنوں سے محتسبو ، کیا مال منال کا پوچھتے ہو جو عمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں دامن میں ہے مشتِ خاکِ جگر،ساغر میں ہے خونِ حسرتِ مےَ لوہے نے دامن جھاڑ دیا ، لو جام اُلٹائے دیتے ہیں۔ 55

۔۔ (فیض صاحب) کُل وقتی یا پیشہ ور شاعر بھی نہ تھے کہ دن رات تصوّرِ جاناں میں تخیّل کے جام و سبُو لنڈھاتے رہتے۔ 62

۔۔ لیکن محبت زبان سے نہیں دل سے کی جاتی ہے اور دل ملے ہوں تو یار مہرباں کی زبان ترکی ہو یا تازی کوئی فرق نہیں ہوتا۔ 64

۔۔ فیض صاحب کا مروجہ فنونِ لطیفہ کے علاوہ ملک کے لوک ورثے سے بھی بڑا لگاؤ تھا۔ اُن کی دلی خواہش تھی کہ ادب و فن کے اس عوامی ورثے کو جس قدر ممکن ہو محفوظ کرلیا جائے ورنہ یہ قیمتی سرمایہ مشینی مصنوعات کے سیلاب میں بہہ جائے گا اور کچھ عرصے کے بعد کسی کو اُن کے نام بھی یاد نہیں رہیں گے۔ 67

۔۔ مشرقی بنگال میں فوج کے ہاتھوں قتلِ عام کا جو میلہ سجا اُس سے فیض صاحب کو بہت صدمہ پہنچا۔ مشرقی بنگال کی ساتھ ابتداہی سے نوآبادیوں کا سا جو سلوک کیا جاتا تھا وہ اس نا انصافی پر ہمیشہ کڑھا کرتے تھے اور وہاں کی اکثریت کو اُس کے جائز حقوق سے محروم کرنے کی غرض سے جو شاطرانہ چالیں چلی جاتی تھیں، فیض صاحب نے اُن کی برابر مذمت کی۔ [افسوس کہ سندھ کے ساتھ بھی وہ ہی سلوک کیا جارہا ہے، اور وہ ہی شاطرانہ چالیں چلی جا رہی ہیں۔ ابڑو]

۔۔ اسلام آباد کی فضا
۔۔۔ اسلام آباد کی فضا محلّا تی سازشوں کے لیے نہایت موزوں ہے مگر یہ وہ سردخانہ ہے جس میں داخل ہوکر انسان کے ضمیر پر، اس کی روح پر، اُس کے دل و دماغ اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں پر برف کی تہیں جم جاتی ہیں۔
۔۔۔ فیض صاحب کی زندگی کے وہ چار پانچ سال جو انہوں نے اسلام آباد میں گزارے وہ شعر تخلیق کے اعتبار سے بالکل اکارت گئے۔ یوں تو وہاں اُن کو ہر طرح کا آرام نصیب تھا۔ سکار دربار تک رسائی تھی، دعوتیں اور ضیافتیں تھیں۔ مہ وشوں کی جلوہ پاشیاں تھیں اور کاسہ لیسوں کا ہجوم تھا لیکن۔۔۔ اُن کو وہاں ہر وقت اپنے ضمیر سے لڑنا پڑتا تھا اور روحانی برداشت کرنی پڑتیں۔ جیل میں تمام پابندیوں کے باوجود اُن کی فکر آزاد تھی، اُن کی نطق و لَب آزاد تھے، اُن کا آدرش اُن کو روحانی غذا فراہم کرتا تھا اور اُن کو کامل یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں اور حق گوئی کی پاداش میں سزا بھگت رہے ہیں۔
۔۔۔ اُن کی شعری زندگی کے بھی وہی چار سال (جیل والے) سب سے بار آور ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس انہوں نے اسلام آباد میں چار سال گزارے وہ نہ صرف اکارت گئے بلکہ اس سے اُن کی شخصیت اور عزت نفس بہت مجروح ہوئی۔ 79-80

۔۔ ہماری نئی نسل کو شاید معلوم نہ ہو کہ 1948ء میں جب سوویت یونین کی اپیل پر ہل ملک میں امن کیٹیاں بننے لگیں تا کہ سامراجی طاقتوں کی جنگی تیاریوں کا سدِباب کیا جائے تو فیض صاحب پاکستان کی مرکزی کمیٹی کے صدر مقرر ہوئے۔ آج کل تو وہ حکومتیں بھی امن، امن کہتے نہیں تھکتیں جو دن رات ایٹم بم، ایٹمی میزائیل اور دوسرے ہلاکت آفریں ہتھار بنانے میں مصروف ہیں۔ 84

۔۔ اقبال کے وہاں فلسفہ زیست ہے، فکرکی بلندی ہے، سماجی شعور ہے، ظالم اور مظلوم کی واضح تفریق اور نشان دہی ہے ۔ لینن خُدا سے سوال کرتا ہے کہ ۔۔ وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات لیکن اُس کی وحدت تو پارہ پارہ وہچکی ہے ۔۔ مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی مغرب کے خداوند درخسندہ فِلزات رعنائی تعمیر میں، رونق میں، صفا میںگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بینکوں کی عمارت ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات یہ علم ، یہ حکمت ، ہی تدبّر، یہ حکومت پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات 91

۔۔ جن کا دیں پرورئ کذب و ریا ہے اُن کو ہمتِ کفر ملے، جرأت تحقیق ملے جن کے سر منتظر تیغِ جفا ہیں اُن کو دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
۔۔ وطن سے محبت بڑا فطری جذبہ ہے اور بدقسمت ہے وہ شخص جو قدرت کے اس فیض سے محروم ہے۔ 98
لیکن پاکستان کے اربابِ اقتدار کی نظر میں سچا محبِّ وطن وہی ہے جس کا شیوہ حکومت کی اطاعت و بندگی ہو اور اگر کوئی شخص اختلاف یا اعتراض کرے تو وہ وطن کا غدار ہے اور سزاوارِسزا ہے۔۔ نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلےنظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

۔۔ یوں بھی وہ عالمِ فکر و عمل کے شاعر نہ تھے بلکہ محسوسات کے شاعر تھے۔ 105

۔۔ جنگ کی معنی پرانے زمانے کی جنگوں اور آج کل کی جنگوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرانے زمانے میں جب لوگ تلوار، بندوق سے لڑتے تھے تو تباہی ضرور آتی تھی لیکن اس کا دائرہ بہت محدود ہوتا تھا اور آبادی کا بہت ہی مختصر حصّہ اس سے متاثر ہوتا تھا جس فریق نے میدان جنگ میں شکست کھائی وہ تاج و تخت سے محروم ہوا، ملک کی عنانِ اقتدار فاتح کے قبضے میں آگئی اور زندگی بدستور پرانے ڈگر پر چلنے لگی لیکن آج امن کی معنی ہیں بنی نوع انسان کی بقا اور ایٹمی جنگ کے معنی ہیں کہ دنیا ملبے کا ڈھیر ہوجائے گی اور انسان، جانور برگ و شجر کسی کا سِرے سے وجود ہی باقی نہ رہے۔ (فیض احمد فیض)۔ 107



Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...